ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔
کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا:شاہ محمود قریشی
سرینگر؍18،ستمبر ؍پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاںسمیٹی ہیں، وہیں فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہاہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پربات کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ’وزیر اعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ نے کیسے نظر انداز کیا اس پر بات ہو گی‘۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت نہتے کشمیریوں پر گذشتہ 7 دہائیوں سے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، تاہم طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور حکمت عملی کی ناکامی کی آوازیں بھارت کے اندر سے ہی اٹھ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ قوانین اور بندشوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہا‘۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت وقتی طور پر آواز دبانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے آج کشمیریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے، آج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لایا جا رہا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے سائیڈلائن میں ان کی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر زیربحث آیا۔ان کا کہنا تھا کہ’میں نے یورپین یونین کی سفیر سے اپنی ملاقات کے دوران بھی یہی کہا کہ یورپی یونین تو انسانی حقوق کی علمبردار ہے ان کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانی چاہیے‘۔
’ضوابط کی خلاف ورزی کا انکشاف‘
افسپا کے تحت قواعد کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی:دفاعی ترجمان سرینگر؍18،ستمبر ؍فوج نے امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ کو اس بات کا انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز بر تا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق فوج نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی طرف سے امشی پورہ شوپیان انکاونٹر کی جو تحقیقات شروع کی گئی تھی ،وہ مکمل ہوگئی ہے اور اس کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پانے والوں کیخلاف فوجی قانون کے دائرے میں کارروائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا’امشی پورہ آپریشن کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہے جس کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا)کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے‘۔فوج کے بیان میں مزید بتایا ’متعلقہ حکام نے ہدایت دی ہے کہ مرتکبین کیخلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے‘۔فوج کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جو شواہد ابتدائی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں، اْن کے مطابق امشی پورہ معرکہ آرائی میں امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار نامی تین افراد مارے گئے ہیں جن کا تعلق راجوری سے تھا۔تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار ہے اور ان کی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات پولیس کررہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے’بھارتی فوج ضابطہ اخلاق کی پابندہے اور شوپیان امشی پورہ معرکہ کے بارے میں مزید جانکاری مناسب وقت پر منظر عام پر لائی جائے گی ‘۔خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے امشی پورہ جنگلی علاقے میں 18جولائی کو ایک فوج وفورسز نے ایک آپریشن کے دوران3عدم شناخت جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تاہم سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد راجوری کے3 گھرانوں نے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں کو اپنے لخت جگر قرار دیا ۔جو راجوری سے شوپیان چند روز قبل مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے تھے ۔ادھر سوشل میڈیا میں زیر بحث آئے معاملے پر فوج نے ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے بھی واقعہ سے متعلق علیحدہ تحقیقات شروع کردی ۔حالیہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ معاملے سے متعلق انصاف کو ہر حال میں فوقیت دی جائے گی ۔ادھر جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ چند روز میں ڈی این اے رپورٹ کے نتائج منظر عام پر آئے گی اور اس کیس سے متعلق تمام حقائق سامنے آئیں گے ۔

2016میں وادی مکمل طور بے قابو تھی

جنگجوئوں کوہتھیاروں ورقومات کی فراہمی پرروک لگانے کی ضرورت/قائمہ کمیٹی

   242 Views   |      |   Sunday, September, 20, 2020

سرینگر// کشمیرکی صورتحال سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کی منطق کومستردکرتے ہوئے پارلیمان کی قائمہ کمیٹی نے واضح کیاہے کہ سال2016میں وادی کی صورتحال کنٹرول نہیں بلکہ مکمل طورپربے قابوتھی۔سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم کی سربراہی والی قائمہ کمیٹی نے پارلیمان کوبتایاہے کہ2016میں ایک توپورا کشمیر اُبل پڑاتھا،اوراسکے ساتھ ساتھ سرحدپارسے دراندازی کے واقعات میں3گنا اضافہ ہوا۔کمیٹی نے جنگجوئیانہ سرگرمیوں اورفدائین حملوں کے واقعات کوتشویشناک قراردیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ سے دراندازی کی روکتھام اورجنگجوئوں کوہتھیاروں ورقومات کی فراہمی پرروک لگانے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کوکہاہے ۔مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق کشمیراورشمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال سے متعلق پارلیمان کی قائمہ کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ کے مزیدکچھ اقباسات ذرائع ابلاغ میں آئے ہیں ۔مذکورہ کمیٹی نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے سال2016میں کشمیرکی صورتحال سے متعلق اختیارکردہ موقف کویکسرکستردکرتے ہوئے یہ واضح کیاہے کہ سال2016میں کشمیراُبل پڑاتھا،وہاں حالات قابومیں نہیں تھے بلکہ صورتحال کنٹرول سے باہرتھی ۔قائمہ کمیٹی نے پارلیمان کوپیش کردہ اپنی رپورٹ میں بتایاہے کہ کمیٹی کومرکزی وزارت داخلہ کے اُس موقف یامنطق سے بالکل اتفاق نہیں جس میں یہ دعویٰ کیاگیاتھاکہ سال 2016میں کشمیرکی صورتحال یاوہاں پیداہوئے حالات قابومیں تھے ۔کمیٹی کے مطابق اسکے برعکس پورے کشمیرمیں لاقانونیت کاعالم تھااورحالات مکمل طورپرانتظامیہ کے کنٹرول سے باہرہوئی تھی ۔پارلیمان کی قائمہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزیدبتایاہے کہ کشمیرمیں تب اوراب سیکورٹی صورتحال کسی بھی طورٹھیک نہیں ہے کیونکہ جنگجوئیانہ سرگرمیوں اورفدائین حملوں کے ساتھ ساتھ سرحدپارسے دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہواہے ۔کمیٹی کے مطابق دراندازی میں صرف ایک سال کے دوران تین گنااضافہ ہواکیونکہ جہاں سال 2015میں سرحدپارسے دراندازی کی 121کوششیں ہوئی تھیں ،وہیں سال 2016میں دراندازی کے 364واقعات پیش آئے ۔پارلیمان کی قائمہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزیدکہاہے کہ گزشتہ برس کشمیرمیں 82سیکورٹی اہلکارجنگجوئوں کے حملوں اورلائن آف کنٹرول کے نزدیک ہوئی جھڑپوں کے دوران مارے گئے ۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2جنوری 2016کوپٹھانکوٹ میں ایک فوجی کیمپ پرفدائین حملہ ہونے کے بعدکوئی چوکسی نہیں برتی گئی ،اوریہی وجہ ہے کہ بعدازاں پانپور،اوڑی ،بارہمولہ ،ہندوارہ اورنگروٹہ میں بھی ایسے ہی فدائین حملے ہوئے ۔پارلیمان کی قائمہ کمیٹی نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں پارلیمان کوبتایاہے کہ کشمیروادی میں پولیس تھانوں کے نزدیک احتجاجی مظاہروں ،سنگباری ،فائرنگ اورپولیس وفورسزاہلکاروں کے دوران ڈیوٹی ہتھیارچھین لینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہواہے ،جوپریشان کن صورتحال اوررُجحانات کامظہرہے۔کمیٹی نے خبردارکیاہے کہ سیکورٹی اہلکاروں سے چھینے جانے والے یہی ہتھیاربعدازاں حملوں کے دوران استعمال میں لائے جاتے ہیں ،اوراس طرح سے جنگجوئوں کیلئے یہ طریقہ ہتھیارحاصل کرنے کاایک ذریعہ بھی بن گیاہے۔ نیوزرپورٹ کے مطابق سابق مرکزی وزیرداخلہ پی چدمبرم کی سربراہی والی پارلیمان کی ایک قائمہ کمیٹی نے کہاہے کہ جب پولیس اورفورسزکے دستے امن وقانون کی صورتحال کوبنائے رکھنے میں مصروف رہتے ہیں توجنگجوئوںکوسرنومنظم ہوجانے اوراپنی کارروائیاں انجام دینے کاموقعہ اوروقت مل جاتاہے۔قائمہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کشمیرمیں بحالی امن اورملی ٹنسی کی سرگرمیوں میں کمی لانے کے حوالے سے کچھ ایک سفارشات اورتجاویزبھی پیش کی ہیں ۔کمیٹی نے مرکزی وزارت داخلہ کومشورہ دیاہے کہ کشمیرمیں سنگباری کے واقعات اورنوجوانوں کے ملی ٹنٹ گروپوں میں شامل ہونے کے خطرناک اورپریشان کن رُجحانات پرقابوپانے کیلئے ایک کثیرالمقاصدحکمت عملی مرتب کی جائے۔جبکہ قائمہ کمیٹی نے پارلیمان کے توسط سے مرکزی وزارت داخلہ پرزوردیاہے کہ کشمیرمیں سرگرم جنگجوگروپوں اوراُن سے وابستہ جنگجوئوں کیلئے ہتھیاروں اوررقومات حاصل کرنے کی سپلائی لائن کاپتہ لگاکراس سے ناکارہ بنادیاجائے جبکہ کمیٹی نے اسکے ساتھ ہی فوج کی جانب سے شروع کردہ جنگجومخالف آپریشن آل آئوٹ کی دبے الفاظ میں حمایت کرتے ہوئے اسبات کی سفارش بھی کی ہے کہ جنگجومخالف کارروائیوں کادائرہ پورے کشمیرتک بڑھاکرسرگرم جنگجوئوں کی نشاندہی کرنے کے بعداُن کیخلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جائے ۔

متعلقہ خبریں

پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔
کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا:شاہ محمود قریشی
سرینگر؍18،ستمبر ؍پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاںسمیٹی ہیں، وہیں فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہاہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پربات کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ’وزیر اعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ نے کیسے نظر انداز کیا اس پر بات ہو گی‘۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت نہتے کشمیریوں پر گذشتہ 7 دہائیوں سے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، تاہم طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور حکمت عملی کی ناکامی کی آوازیں بھارت کے اندر سے ہی اٹھ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ قوانین اور بندشوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہا‘۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت وقتی طور پر آواز دبانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے آج کشمیریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے، آج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لایا جا رہا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے سائیڈلائن میں ان کی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر زیربحث آیا۔ان کا کہنا تھا کہ’میں نے یورپین یونین کی سفیر سے اپنی ملاقات کے دوران بھی یہی کہا کہ یورپی یونین تو انسانی حقوق کی علمبردار ہے ان کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانی چاہیے‘۔
’ضوابط کی خلاف ورزی کا انکشاف‘
افسپا کے تحت قواعد کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی:دفاعی ترجمان سرینگر؍18،ستمبر ؍فوج نے امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ کو اس بات کا انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز بر تا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق فوج نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی طرف سے امشی پورہ شوپیان انکاونٹر کی جو تحقیقات شروع کی گئی تھی ،وہ مکمل ہوگئی ہے اور اس کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پانے والوں کیخلاف فوجی قانون کے دائرے میں کارروائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا’امشی پورہ آپریشن کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہے جس کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا)کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے‘۔فوج کے بیان میں مزید بتایا ’متعلقہ حکام نے ہدایت دی ہے کہ مرتکبین کیخلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے‘۔فوج کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جو شواہد ابتدائی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں، اْن کے مطابق امشی پورہ معرکہ آرائی میں امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار نامی تین افراد مارے گئے ہیں جن کا تعلق راجوری سے تھا۔تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار ہے اور ان کی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات پولیس کررہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے’بھارتی فوج ضابطہ اخلاق کی پابندہے اور شوپیان امشی پورہ معرکہ کے بارے میں مزید جانکاری مناسب وقت پر منظر عام پر لائی جائے گی ‘۔خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے امشی پورہ جنگلی علاقے میں 18جولائی کو ایک فوج وفورسز نے ایک آپریشن کے دوران3عدم شناخت جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تاہم سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد راجوری کے3 گھرانوں نے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں کو اپنے لخت جگر قرار دیا ۔جو راجوری سے شوپیان چند روز قبل مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے تھے ۔ادھر سوشل میڈیا میں زیر بحث آئے معاملے پر فوج نے ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے بھی واقعہ سے متعلق علیحدہ تحقیقات شروع کردی ۔حالیہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ معاملے سے متعلق انصاف کو ہر حال میں فوقیت دی جائے گی ۔ادھر جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ چند روز میں ڈی این اے رپورٹ کے نتائج منظر عام پر آئے گی اور اس کیس سے متعلق تمام حقائق سامنے آئیں گے ۔
ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے وفد نے گھر جاکر تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا پلوامہ//تنہا ایاز//جواں سال شاعر مجاز راجپوری کے انتقال کے تیسرے روز بھی آج مسلسل اُن کے گھر تعذیت پرسی کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔وادی کی کئی ادبی ،دینی اور سماجی تنظیموں نے آج بھی اپنے تعذیتی پیغامات بھیجے اور اُن کے گھر واقع راجپورہ پلوامہ جاکر بھی تعذیت اور دکھ کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کا ایک وفد صدر غلام رسول مشکور کی صدارت میں راجپورہ پلوامہ گیا جہاں اُنہوں نے مرحوم کے لواحقین سے تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔مرحوم کے لیے دعایہ مجلس کا اہتمام بھی کیا گیا۔بعد میں لواحقین سے استدعا کی گئی کی وہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری سے رابطہ کریں تاکہ مرحوم کے غیر مطبوعہ کلام کو شا ئع کرنے کا اہتمام کیا جاسکے۔وفد میں صدر غلام رسول مشکور کے علاوہ جلال الدین دلنواز،،غلام محمد دلشاد،دردباز،شمس سلیم ،رفیقہ منگہامی،غلام محمد جنگل ناڑی،عبد الرحمٰن جنگل ناڑی،شیخ گلزار شامل تھے۔
’بھارت بڑے اور سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ‘:راج ناتھ سنگھ
سرینگر؍17،ستمبر ؍وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں چاہے کتنے بھی بڑے یا سخت اقدامات اٹھانے پڑیں بھارت پیچھے نہیں ہٹے گا۔کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’بھارت نہ تو اپنے سر کو جھکنے دے گا اور نہ ہی کسی کا سر جھکانا چاہتا ہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت ہر قسم کا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور فوج بھی پوری طرح تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’ہمارے فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔‘ان کا کہنا تھا ’یہ سچ ہے کہ لداخ میں ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے، لیکن ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اپنے ملک کا سر نہیں جھکنے دیں گے۔ ہمارے جوان چینی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں اور ان کی اس حوصلہ افزائی کے لیے ایوان کی طرف سے پیغام دیا جانا چاہیے۔‘وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ باہمی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا ’ہم یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایل اے سی پر امن کی کسی بھی سنگین صورتحال کا دو طرفہ تعلقات پر یقینی طور پر اثر پڑے گا۔ دونوں فریق کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔‘موجودہ صورتحال پر وزیر دفاع نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ سنہ1993 اور سنہ1996 کے معاہدے میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کم از کم ایل اے سی کے پاس اپنی افواج کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ معاہدے میں یہ بھی ہے کہ جب تک سرحدی تنازع کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جاتا تب تک ایل اے سی کا سختی سے احترام کیا جائے گا اور کسی بھی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس کی بنیاد پر سنہ1990 سے سنہ2003 تک دونوں ممالک نے ایل اے سی کے بارے میں مشترکہ تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بعد چین اس اقدام کو مزید آگے بڑھانے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے چین اور بھارت کے درمیان بہت سی جگہوں پر ایل اے سی کے خیال پر مسلسل اوورلیپ رہتا ہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ اپریل کے مہینے سے چین نے لداخ کی سرحد پر فوج اور فوجی ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے جو واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔انھوں نے کہا ’مئی کے آغاز میں چین نے وادی گلوان میں ہمارے فوجیوں کے معمول کی گشت میں خلل ڈالنا شروع کیا۔ جس سے فیس آف کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ گراؤنڈ کمانڈر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت بات کر رہے ہیں۔‘’چین کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا‘:وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا کہ مئی کے وسط میں چین نے مغربی سیکٹر میں متعدد مقامات پر ایل اے سی میں دراندازی کی کوشش کی ہے ’لیکن یہ کوششیں ہماری فوج نے وقت پر نوٹس کر لیں اور ضروری جوابی کارروائی بھی کی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سفارتی اور فوجی چینلز کے توسط سے چین کو آگاہ کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ ہمیں کسی بھی طرح سے اس کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ بات دوٹوک الفاظ میں چین کو بتا دی گئی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایل اے سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین کے فوجی کمانڈروں نے 6جون2020 کو ایک میٹنگ کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی کارروائی کی بنیاد پر ڈس انگیجمینٹ ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایل اے سی کو مانا جائے گا اور اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جو صورتحال کو بدل دے۔‘بھارت چین تنازع:راج ناتھ کا تھا کہ ’اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے 15 جون کو گلوان میں پْرتشدد حالات پیدا کر دیے۔ ہمارے جوان ہلاک ہوئے اور چین کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ہم اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جہاں بہادری کی ضرورت تھی وہاں بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔‘راج ناتھ سنگھ نے ایوان سے درخواست کی کہ فوجیوں کی بہادری کی تعریف کی جائے۔’ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے‘:انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی سرحد کی سلامتی کے ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف بھارت یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات میں بھی باہمی احترام اور حساسیت ہونی چاہیے۔ چونکہ ہم اس موجودہ صورتحال کا بات چیت سیحل تلاش کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے چین کے ساتھ سفارتی اور فوجی رابطے برقرار رکھے ہیں۔‘راج ناتھ سنگھ نے کہا ’اس بات چیت میں تین اصول ہمارے نقطہ نظر کا تعین کرتے ہیں۔ پہلے دونوں فریقین ایل اے سی کا سختی سے احترام کریں اور ان کی پابندی کریں دوسری بات کسی بھی فریق کو اپنی طرف سے جمود کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور تیسرا دونوں فریق کے درمیان تمام معاہدوں اور افہام و تفہیم پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے۔‘’چین کے قول و فعل میں فرق‘:انھوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ یہ چین کا موقف ہے کہ صورتحال کو ذمہ دارانہ انداز میں نبھایا جائے اور دوطرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے ذریعہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔’اس کے باوجود چین کی سرگرمیوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کے بیانات اور اقدامات میں فرق ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت جاری تھی، چین کی جانب سے29 اور30اگست کی درمیانی رات کو اشتعال انگیز فوجی کارروائی کی گئی تھی۔‘وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ چین دو طرفہ معاہدوں کو نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ’چین کی جانب سے بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی 1993 اور1996 کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ چین نے ابھی بھی ایل اے سی اور اس کے داخلی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوج اور گولہ بارود جمع کیا ہے۔ ’چین کی کارروائی کے جواب میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے علاقوں میں مناسب طور پر کاؤنٹر تعینات کیا ہے تاکہ بھارت کی سرحد مکمل طور پر محفوظ رہے۔‘