ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔
کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا:شاہ محمود قریشی
سرینگر؍18،ستمبر ؍پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاںسمیٹی ہیں، وہیں فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہاہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پربات کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ’وزیر اعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ نے کیسے نظر انداز کیا اس پر بات ہو گی‘۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت نہتے کشمیریوں پر گذشتہ 7 دہائیوں سے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، تاہم طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور حکمت عملی کی ناکامی کی آوازیں بھارت کے اندر سے ہی اٹھ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ قوانین اور بندشوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہا‘۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت وقتی طور پر آواز دبانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے آج کشمیریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے، آج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لایا جا رہا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے سائیڈلائن میں ان کی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر زیربحث آیا۔ان کا کہنا تھا کہ’میں نے یورپین یونین کی سفیر سے اپنی ملاقات کے دوران بھی یہی کہا کہ یورپی یونین تو انسانی حقوق کی علمبردار ہے ان کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانی چاہیے‘۔
’ضوابط کی خلاف ورزی کا انکشاف‘
افسپا کے تحت قواعد کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی:دفاعی ترجمان سرینگر؍18،ستمبر ؍فوج نے امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ کو اس بات کا انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز بر تا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق فوج نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی طرف سے امشی پورہ شوپیان انکاونٹر کی جو تحقیقات شروع کی گئی تھی ،وہ مکمل ہوگئی ہے اور اس کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پانے والوں کیخلاف فوجی قانون کے دائرے میں کارروائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا’امشی پورہ آپریشن کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہے جس کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا)کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے‘۔فوج کے بیان میں مزید بتایا ’متعلقہ حکام نے ہدایت دی ہے کہ مرتکبین کیخلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے‘۔فوج کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جو شواہد ابتدائی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں، اْن کے مطابق امشی پورہ معرکہ آرائی میں امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار نامی تین افراد مارے گئے ہیں جن کا تعلق راجوری سے تھا۔تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار ہے اور ان کی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات پولیس کررہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے’بھارتی فوج ضابطہ اخلاق کی پابندہے اور شوپیان امشی پورہ معرکہ کے بارے میں مزید جانکاری مناسب وقت پر منظر عام پر لائی جائے گی ‘۔خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے امشی پورہ جنگلی علاقے میں 18جولائی کو ایک فوج وفورسز نے ایک آپریشن کے دوران3عدم شناخت جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تاہم سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد راجوری کے3 گھرانوں نے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں کو اپنے لخت جگر قرار دیا ۔جو راجوری سے شوپیان چند روز قبل مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے تھے ۔ادھر سوشل میڈیا میں زیر بحث آئے معاملے پر فوج نے ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے بھی واقعہ سے متعلق علیحدہ تحقیقات شروع کردی ۔حالیہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ معاملے سے متعلق انصاف کو ہر حال میں فوقیت دی جائے گی ۔ادھر جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ چند روز میں ڈی این اے رپورٹ کے نتائج منظر عام پر آئے گی اور اس کیس سے متعلق تمام حقائق سامنے آئیں گے ۔

انتظامیہ کامحرم جلو سوں پر پابندی کا فیصلہ یکطرفہ

   28 Views   |      |   Sunday, September, 20, 2020

جلوسوں کو بند کرنے کے اعلانات سمجھ سے باہر، کوئی مذہبی اور اخلاقی جواز نہیں تھا: انصاری

سرینگر؍3،ستمبر ؍جموں وکشمیر اتحادالمسلمین کے رہنمامسرور عباس انصاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے رواں برس یکطرفہ فیصلہ کرکے محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کردی ۔کے این ایس کے مطابق ایوان صحافت کشمیر (کشمیر پریس کلب) میں جموں وکشمیر اتحادالمسلمین کے رہنمامسرور عباس انصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں بتایا کہ ماضی کے حالات گواہ ہیں کہ محرم الحرام شروع ہونے سے پہلے ہی ریاستی انتظامیہ اپنے متعلقہ اداروں اور شیعہ فرقے سے وابستہ تمام تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس بلاتی رہی ہے لیکن اس سال کروناوبا کے پیش نظر انتظامیہ نے یہ اجلاس بلانے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اور یکطرفہ طور فیصلہ لیا کہ وہ محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کررہی ہے، حالانکہ جموں وکشمیر اتحادلمسلمین نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ محرم کے عزاداری کے بڑے اور مرکزی مجالس اور جلوس اگرچہ اس سال منسوخ کئے جائیں گے لیکن مقامی سطح کے چھوٹے چھوٹے جلوس اور مجالس بند نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اس بارے میںدنیائے شیعت کے معتد د مجتہدین کرام نے پہلے ہی حکم جاری کیا تھا کہ اگر جلوسوں کے دوران متعلقہ(ایس او پیز) کا خیال رکھا جائے تو جلوس اور مجالس بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا’ ہم نے 6محرم کو عجلت میں بلائی گئی صوبائی کمشنر اور دیگرسرکاری میٹنگوں میں بھی اس بات کو واضح کیا کہ عزاداری کے یہ مقامی جلوس بند نہیں ہونگے لیکن طبی ماہرین کے مشورے پر عمل کرکے(ایس او پیز) کا خیال رکھا جائے گا۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کی چند مذہبی جماعتوں نے اپنے بیانات کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ عزاداری کے جلوس نہیں نکالے جائیں گے جس کا اظہار ان جماعتوں کے ذمہ داروں نے ذرائع ابلاغ ، سوشل میڈیا اور اشتہارات چھپواکر کیااور اس طرح ان جماعتوں نے ایک طرف امام حسین ؑ کے تئیں مسلمانوں کی جذبات و محبت کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف حکومت کی ان پالیسیوں کی تائید کی جن کے تحت وہ یہاں عزادری کے جلوسوں اور مجالس کو کسی نہ کسی بہانے بند کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے‘۔مسرور عباس انصاری نے کہا کہ انتظامیہ نے گذشتہ تیس(30) برسوں سے کشمیر میں آٹھ (8) محر م اور عاشورہ کے تاریخی جلوسوں پر بلا جواز پابندی کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں مختلف ادوار میں مختلف بہانے تراشے جاتے ہیں، کبھی ملٹینسی، کبھی یہاں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہونے اور کبھی ٹریفک بند ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ حالانکہ حکومت امر ناتھ یاترا اور دیگر مذہبی و سیاسی پروگراموں کو باضابطہ تحفظ فراہم کررہی ہے اور ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کشمیر میں ہر طرح کی سرگرمیوں کی اجازت تو ہے مگر محرم الحرام کے عزاداری کے خالصتاً مذہبی جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ جب یہاں کے عوام اور ہمارے نوجوانوں نے اس برس مجتہدین کرام اور طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق SOP’s کا خیال رکھتے ہوئے پرامن طور عزاداری کے جلوس نکالے تو ان پر طاقت کا بے تحاشہ اور وحشیانہ استعمال کیا گیا۔ ٹئیر گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے ذریعے سینکڑوں عزاداروں کو شدید زخمی کیا گیا جن میں کچھ نوجوانوں کی حالت نازک ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ انتظامیہ بیان بازی کررہی ہے کہ کرونا وبا سے بچانے کیلئے ایسا کیا جارہا ہے جو کہ سراسر جھوٹ، من گھڑت، عوام کُش اور حد درجہ قابل مذمت ہے۔جموںوکشمیر اتحادالمسلمین واضح کرنا چاہتی ہے کہ آٹھ (8) اور دس (10) محرم کے جلوسوں پر حکومتی پابندی بلا جواز اور ہماری مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی طاقت عزاداری کے جلوسوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی اور حالات جیسے بھی ہوں تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ جلوس برآمد ہوتے رہینگے۔ عزاداروں پرطاقت کا استعمال، پلیٹ گن اور لاٹھی چارج جیسے آمرانہ حربے ہر لحاظ سے قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے جن کی تحقیقات ہونی چاہئے اور جن عزاداروں کو بلا وجہ حراست میں رکھا گیا یا ان پر ایکٹ عائد کئے گئے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کو فوری طور رہا کیا جائے اور ان مراسم میں شمولیت پر لوگوں کو ہراسان اور تنگ طلب کرنے کی کاروائیاں بند کی جائیں۔ اتحادالمسلمین واضح کرتی ہے کہ عزاداری کے جلوس اور مجالس کے سلسلے میں ہمارے متعدد مجتہدین کرام اور طبی ماہرین کی وضع کردہ ہر بات پرعمل پیرا ہوکر اور(ایس او پیز) کا خیال رکھ کر یہ پرامن جلوس نکالے جاسکتے تھے اور اس ضمن میں کشمیر کی چند مذہبی جماعتوں کے بیانات اور جلوسوں کو بند کرنے کے اعلانات سمجھ سے باہر ہیں اور ان کا کوئی مذہبی اور اخلاقی جواز نہیں تھا اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں عوام میں ایک انتشاری کیفیت پیدا ہوئی وہاں حکومت کو بھی ایک بہانہ میسر کیا گیا کہ وہ جلوسوں پر پابندی عائد کردے اورعزاداروں کے خلاف طاقت اور تشدد کے استعمال کو ایک طرح سے جواز عطا کیا گیا۔ اتحادالمسلمین قوم سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے حلقوں میں اتحاد قائم رکھیں اور شر پسند عناصر اور عزاداری کے خلاف کئے جارہے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں۔ امام حسین ؑ سے عقیدت اور مودت کا اظہار ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس جذبے کو کسی بھی صورت میں کم کرنے اور عزاداری کو محدود کرنے کی کوششوں کا بہرصورت مقابلہ کیا جائے گا۔ ہم یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ لوگ آیندہ ایام میں منعقد ہونے والی مجالس کے دوران مجتہدین اور مراجع کرام کے احکامات کومدنظر رکھیں۔ ساتھ ہی ہم انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پلیٹ متاثرین کے بہتر علاج کو یقینی بنائے اور غیور عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ افراد کی ہر طرح سے مدد اور تعاون کریں۔ ہم ملت کے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام اور اسلامی شعائر کے خلاف ہورہی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے آگے آئیں اور ملتِ اسلامیہ کے صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔

متعلقہ خبریں

پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔
کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا:شاہ محمود قریشی
سرینگر؍18،ستمبر ؍پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاںسمیٹی ہیں، وہیں فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہاہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پربات کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ’وزیر اعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ نے کیسے نظر انداز کیا اس پر بات ہو گی‘۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت نہتے کشمیریوں پر گذشتہ 7 دہائیوں سے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، تاہم طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور حکمت عملی کی ناکامی کی آوازیں بھارت کے اندر سے ہی اٹھ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ قوانین اور بندشوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہا‘۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت وقتی طور پر آواز دبانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے آج کشمیریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے، آج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لایا جا رہا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے سائیڈلائن میں ان کی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر زیربحث آیا۔ان کا کہنا تھا کہ’میں نے یورپین یونین کی سفیر سے اپنی ملاقات کے دوران بھی یہی کہا کہ یورپی یونین تو انسانی حقوق کی علمبردار ہے ان کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانی چاہیے‘۔
’ضوابط کی خلاف ورزی کا انکشاف‘
افسپا کے تحت قواعد کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی:دفاعی ترجمان سرینگر؍18،ستمبر ؍فوج نے امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ کو اس بات کا انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز بر تا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق فوج نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی طرف سے امشی پورہ شوپیان انکاونٹر کی جو تحقیقات شروع کی گئی تھی ،وہ مکمل ہوگئی ہے اور اس کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پانے والوں کیخلاف فوجی قانون کے دائرے میں کارروائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا’امشی پورہ آپریشن کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہے جس کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ (افسپا)کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے‘۔فوج کے بیان میں مزید بتایا ’متعلقہ حکام نے ہدایت دی ہے کہ مرتکبین کیخلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے‘۔فوج کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جو شواہد ابتدائی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں، اْن کے مطابق امشی پورہ معرکہ آرائی میں امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار نامی تین افراد مارے گئے ہیں جن کا تعلق راجوری سے تھا۔تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار ہے اور ان کی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات پولیس کررہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے’بھارتی فوج ضابطہ اخلاق کی پابندہے اور شوپیان امشی پورہ معرکہ کے بارے میں مزید جانکاری مناسب وقت پر منظر عام پر لائی جائے گی ‘۔خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے امشی پورہ جنگلی علاقے میں 18جولائی کو ایک فوج وفورسز نے ایک آپریشن کے دوران3عدم شناخت جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تاہم سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد راجوری کے3 گھرانوں نے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں کو اپنے لخت جگر قرار دیا ۔جو راجوری سے شوپیان چند روز قبل مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے تھے ۔ادھر سوشل میڈیا میں زیر بحث آئے معاملے پر فوج نے ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے بھی واقعہ سے متعلق علیحدہ تحقیقات شروع کردی ۔حالیہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ معاملے سے متعلق انصاف کو ہر حال میں فوقیت دی جائے گی ۔ادھر جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ چند روز میں ڈی این اے رپورٹ کے نتائج منظر عام پر آئے گی اور اس کیس سے متعلق تمام حقائق سامنے آئیں گے ۔
ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے وفد نے گھر جاکر تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا پلوامہ//تنہا ایاز//جواں سال شاعر مجاز راجپوری کے انتقال کے تیسرے روز بھی آج مسلسل اُن کے گھر تعذیت پرسی کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔وادی کی کئی ادبی ،دینی اور سماجی تنظیموں نے آج بھی اپنے تعذیتی پیغامات بھیجے اور اُن کے گھر واقع راجپورہ پلوامہ جاکر بھی تعذیت اور دکھ کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کا ایک وفد صدر غلام رسول مشکور کی صدارت میں راجپورہ پلوامہ گیا جہاں اُنہوں نے مرحوم کے لواحقین سے تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔مرحوم کے لیے دعایہ مجلس کا اہتمام بھی کیا گیا۔بعد میں لواحقین سے استدعا کی گئی کی وہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری سے رابطہ کریں تاکہ مرحوم کے غیر مطبوعہ کلام کو شا ئع کرنے کا اہتمام کیا جاسکے۔وفد میں صدر غلام رسول مشکور کے علاوہ جلال الدین دلنواز،،غلام محمد دلشاد،دردباز،شمس سلیم ،رفیقہ منگہامی،غلام محمد جنگل ناڑی،عبد الرحمٰن جنگل ناڑی،شیخ گلزار شامل تھے۔
’بھارت بڑے اور سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ‘:راج ناتھ سنگھ
سرینگر؍17،ستمبر ؍وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں چاہے کتنے بھی بڑے یا سخت اقدامات اٹھانے پڑیں بھارت پیچھے نہیں ہٹے گا۔کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’بھارت نہ تو اپنے سر کو جھکنے دے گا اور نہ ہی کسی کا سر جھکانا چاہتا ہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت ہر قسم کا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور فوج بھی پوری طرح تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’ہمارے فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔‘ان کا کہنا تھا ’یہ سچ ہے کہ لداخ میں ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے، لیکن ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اپنے ملک کا سر نہیں جھکنے دیں گے۔ ہمارے جوان چینی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں اور ان کی اس حوصلہ افزائی کے لیے ایوان کی طرف سے پیغام دیا جانا چاہیے۔‘وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ باہمی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا ’ہم یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایل اے سی پر امن کی کسی بھی سنگین صورتحال کا دو طرفہ تعلقات پر یقینی طور پر اثر پڑے گا۔ دونوں فریق کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔‘موجودہ صورتحال پر وزیر دفاع نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ سنہ1993 اور سنہ1996 کے معاہدے میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کم از کم ایل اے سی کے پاس اپنی افواج کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ معاہدے میں یہ بھی ہے کہ جب تک سرحدی تنازع کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جاتا تب تک ایل اے سی کا سختی سے احترام کیا جائے گا اور کسی بھی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس کی بنیاد پر سنہ1990 سے سنہ2003 تک دونوں ممالک نے ایل اے سی کے بارے میں مشترکہ تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بعد چین اس اقدام کو مزید آگے بڑھانے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے چین اور بھارت کے درمیان بہت سی جگہوں پر ایل اے سی کے خیال پر مسلسل اوورلیپ رہتا ہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ اپریل کے مہینے سے چین نے لداخ کی سرحد پر فوج اور فوجی ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے جو واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔انھوں نے کہا ’مئی کے آغاز میں چین نے وادی گلوان میں ہمارے فوجیوں کے معمول کی گشت میں خلل ڈالنا شروع کیا۔ جس سے فیس آف کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ گراؤنڈ کمانڈر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت بات کر رہے ہیں۔‘’چین کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا‘:وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا کہ مئی کے وسط میں چین نے مغربی سیکٹر میں متعدد مقامات پر ایل اے سی میں دراندازی کی کوشش کی ہے ’لیکن یہ کوششیں ہماری فوج نے وقت پر نوٹس کر لیں اور ضروری جوابی کارروائی بھی کی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سفارتی اور فوجی چینلز کے توسط سے چین کو آگاہ کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ ہمیں کسی بھی طرح سے اس کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ بات دوٹوک الفاظ میں چین کو بتا دی گئی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایل اے سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین کے فوجی کمانڈروں نے 6جون2020 کو ایک میٹنگ کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی کارروائی کی بنیاد پر ڈس انگیجمینٹ ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایل اے سی کو مانا جائے گا اور اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جو صورتحال کو بدل دے۔‘بھارت چین تنازع:راج ناتھ کا تھا کہ ’اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے 15 جون کو گلوان میں پْرتشدد حالات پیدا کر دیے۔ ہمارے جوان ہلاک ہوئے اور چین کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ہم اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جہاں بہادری کی ضرورت تھی وہاں بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔‘راج ناتھ سنگھ نے ایوان سے درخواست کی کہ فوجیوں کی بہادری کی تعریف کی جائے۔’ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے‘:انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی سرحد کی سلامتی کے ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف بھارت یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات میں بھی باہمی احترام اور حساسیت ہونی چاہیے۔ چونکہ ہم اس موجودہ صورتحال کا بات چیت سیحل تلاش کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے چین کے ساتھ سفارتی اور فوجی رابطے برقرار رکھے ہیں۔‘راج ناتھ سنگھ نے کہا ’اس بات چیت میں تین اصول ہمارے نقطہ نظر کا تعین کرتے ہیں۔ پہلے دونوں فریقین ایل اے سی کا سختی سے احترام کریں اور ان کی پابندی کریں دوسری بات کسی بھی فریق کو اپنی طرف سے جمود کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور تیسرا دونوں فریق کے درمیان تمام معاہدوں اور افہام و تفہیم پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے۔‘’چین کے قول و فعل میں فرق‘:انھوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ یہ چین کا موقف ہے کہ صورتحال کو ذمہ دارانہ انداز میں نبھایا جائے اور دوطرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے ذریعہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔’اس کے باوجود چین کی سرگرمیوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کے بیانات اور اقدامات میں فرق ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت جاری تھی، چین کی جانب سے29 اور30اگست کی درمیانی رات کو اشتعال انگیز فوجی کارروائی کی گئی تھی۔‘وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ چین دو طرفہ معاہدوں کو نظرانداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ’چین کی جانب سے بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی 1993 اور1996 کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ چین نے ابھی بھی ایل اے سی اور اس کے داخلی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوج اور گولہ بارود جمع کیا ہے۔ ’چین کی کارروائی کے جواب میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے علاقوں میں مناسب طور پر کاؤنٹر تعینات کیا ہے تاکہ بھارت کی سرحد مکمل طور پر محفوظ رہے۔‘