ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

ممبئی پولیس نے عدالت کو تحریری طور پر اس بات سے کیا آگاہ سرینگر /20ستمبر/ممبئی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس نے آج عدالت میں تحریری طور پر جواب دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی جماعت ارکان کے خلاف دائر کردہ کیس کو واپس لینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ڈی این نگر پولیس اسٹیشن میں 10 انڈونیشیائی اور کرغستان کے 10 شہریوں کے خلاف اپریل میں دو معاملے درج کئے گئے تھے۔ ان دونوں معاملوں کے خلاف 20 غیر ملکی شہریوں نے ڈنڈوشی کے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ ایڈیشنل چیف جسٹس نے غیر ملکی شہریوں کی عرضی مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے معاملوں کی سماعت کسی دیگر عدالت میں کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔گزشتہ ماہ دونوں الگ الگ معاملوں کو ایک عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس کے سامنے اپنی عرضی میں غیر ملکی شہریوں نے کہا کہ ان کی عرضی پر سماعت کئی بار اس لئے ملتوی کردی تھی، کیونکہ عدالت دیگر ضروری معاملات کی سماعت میں مصروف تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جسٹس ایس ایس ساونت نے کہا، لاک ڈاون کے سبب یہ 20 غیر ملکی شہری ہندوستان میں رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کی جانی چاہئے۔ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش وکیل امین سولکر نے کہا کہ ہندوستان میں جن غیر ملکی شہریوں پر معاملہ درج کیا گیا ہے، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ یہ سبھی غیر ملکی اپنے پیچھے اپنی فیملی کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور کورونا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہیکہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے معاملوں پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے، تو انہیں مستقبل میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا ایک مہینے کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، باندرہ پولیس نے 12 انڈونیشیائی شہریوں کے خلاف دو معاملے درج کئے تھے۔ ان معاملوں میں کہا گیا تھا کہ ملزمین کے خلاف ان دو معاملوں کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت نہیں تھے۔ یہ الزام ان الزامات سے متعلق ہیں، جن کے سبب شہر میں کووڈ -19 کے معاملات میں اضافہ ہوا اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔20 غیر ملکی شہریوں نے عدالت کے سامنے ڈسچارج درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ یہ دفعات ان کے خلاف نہیں بائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذریعہ دائر کئے گئے اپنے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج قتل اور قتل کی کوشش کے معاملوں کو ہٹا دیا جائے گا، لیکن ان پر لاک ڈاون اور ویزا ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فروری اور مارچ میں ہندوستان آئے تبلیغی جماعت کے اراکین کے خلاف خصوصی طور پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف کئی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 29 غیر ملکی شہریوں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ ان کے خلاف خلاف ورزی کی کوئی ثبوت نہیں تھی اور انہیں کووڈ-19 وبا کے دوران حساس برتاو کرنے کے بجائے بلی کا بکرام بنا دیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
تنازعہ کشمیر طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے،مسئلہ ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے / شاہ محمود قریشی سرینگر /20ستمبر/سی این آئی// ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ہمیشہ دیگر ممالک نے اٹھایا ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ہیں، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی ترجیح ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے پر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس کیلئے ایک پُرامن فضاء کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے جب تک نہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکل آئے ۔ہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے، وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے، اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ / آئی جی بی ایس ایف سرینگر /20ستمبر// لائن آف کنٹرو ل پر ڈرون کے ذریعے ہتھیاروںکی سپلائی کو نیا چیلنج قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کیلئے ڈورون کے ذریعے ہتھیاروں کی سپلائی کو بی ایس ایف نے نیا چیلنج قرار دیا ہے ۔ جموں کے آئی جی بی ایس ایف این ایس جموال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو جموں کشمیر میں داخل کرنے کی کوشیں جاری ہے اور اس کے لئے لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بند ی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے نئی حکمت عملی عمل میں لائی ہے اور اب ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے جموں کشمیر میں ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے ہونی والی کوششوں کو نا کام بنایا جا رہا ہے ۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ آج ہی آر ایس پورا سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کا ہیرون ضبط کرنے کے علاوہ کچھ ہتھیار بھی بر آمد کر لیں گئے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں بھی ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور راجوری میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونید یا جائے گا اور سرحدوں پر بی ایس ایف چوکس او ر متحرک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کا مقصد جنگجوئوں کو جموں کشمیر میں دھکیلنا ہوتا ہے تاہم پاکستان گولی باری کو بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے جس دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔

جموں وکشمیر میں’ نار ملسی اور ترقی ‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا

   45 Views   |      |   Sunday, September, 20, 2020

’مرکز نے ایک یا دو نہیں 50تاریخی فیصلے لئے‘
لوگوں تک پہنچنے کیلئے بات چیت کا عمل عنقریب شروع ہوگا،یہاں جمہوریت مفاد پرست ہاتھوں متاثر ہوئی :لیفٹیننٹ گورنر

سرینگر؍15 ،اگست ؍ ؍ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے سنیچر کے روزکہا ہے کہ جموں وکشمیر میں ’نار ملسی اور ترقی ‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔یوم آزادی کی مرکزی تقریب سے قریب آدھے گھنٹے تک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام تک پہنچنے کیلئے بہت جلد بات چیت کا عمل بھی شروع کیا جائیگا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سرینگر میں منعقدہ74ویں یوم آزادی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گو رنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں وکشمیر میں گزشتہ ایک سال کے دوران ’نار ملسی اور ترقی ‘ کا ایک نیا سفر اور نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمی میں شامل ہوجائیں ، جس سے قوم کو ترقی کرنے میں مدد ملے۔منوج سنہا نے زور دے کر کہا کہ حکومت جموں وکشمیر کے عوام کے لئے ترقی ، فلاح و بہبود اور معاشرتی تبدیلی پانے کا ایک بہتر متبادل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ان کا کہناتھا ’سال2019میں آئینی تبدیلی نافذ کرنے کے بعد ، مرکزی حکومت نے خطے کا چہرہ بدلنے کے لئے ایک یا دو نہیں ، بلکہ 50تاریخی فیصلے کیے۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے’نارملسی اور ترقی‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گور نر نے پچھلے سال اگست میں دفعہ370 اور آرٹیکل 35(اے) کو منسوخ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک نیا سفر شروع کیا گیا ہے۔7اگست کو اپنے عہدے کی ذمہ دارایاں سنبھالنے والے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے کہا کہ نوجوانوں اور طلباء کی زندگی کومثبت سرگرمیوں کے ذریعہ سے تبدیل کیا جائیگا جبکہ نوجوانوں کی طاقت ہر طرح کی تبدیلیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔لیفٹیننٹ گور نر نے نوجوانوں کو مستقبل کا لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی طاقت کو قوم کی ترقی کیلئے استعمال کیا جائیگا ۔انہوں نے نوجوانوں سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا ’یہ ملک آپ کا ہے اور آپ ہی اس ملک کے مستقبل کے رہنما ہیں ‘۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کیلئے نئے مواقعے پیدا کئے جائیں گے ۔آدھے گھنٹے کی تقریر کے دوران جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے کہا ’حکومت کے پاس 5 اہم رہنما اصول ہیں۔ ایک منصفانہ اور شفاف نظام حکمرانی کو قائم کرنا ، نچلی سطح کی ترقی کی منازل طے کرنا ، سرکاری فلاحی منصوبوں کی زیادہ سے زیادہ حد تک رسائی ، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ آزادی کے بعد بد قسمتی سے کچگ ’غلط فیصلے ‘ لئے گئے جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں ناراضگی پھیل گئی اور انہیں باقی لوگوں سے دور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آہستہ آہستہ مساوات اور انصاف کو بحال کیا جارہا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ ان کی انتظامیہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ انتظامیہ اُنکے ساتھ کھڑی ہے ،جو جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے پر عزم ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ جن مقامی عوامی نمائندوں کو خطرہ لاحق ہے ،کو25لاکھ روپے زندگی کا بیمہ فراہم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیسنگ کو مزید موثر بنانے کے لئے ضروری اصلاحات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس ،حالیہ دنوں سیاسی کارکنوں پر ہوئے حملوں کے پس منظر میں دیئے۔ ان کا کہناتھا’ہم جموں و کشمیر کے عوام کے لئے ایک بہتر متبادل کی فراہمی کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک متبادل جس میں ترقی ، فلاح و بہبود اور معاشرتی تبدیل ہیاور اس مقصد کیلئے لوگوں تک پہنچنے کیلئے بات کا چیت کا سلسلہ بھی عنقریب شروع کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا ’ ہم جموں و کشمیر سے متعلق بیانیہ بدل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کی بنیاد امن، ترقی اور سماجی مساوات پر ہو‘۔ان کا کہناتھا یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ثقافتی ہم آہنگی کی وراثت کو فرقہ واریت کی شیطانی کہانی نے کھڑا کردیا ہے لیکن ، ہم اس بیانیہ کو ایک بار پھر تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘۔منوج سنہا نے کہا کہ ہم ترقی ، امن ، خوشحالی اور معاشرتی ہم آہنگی کو جموں و کشمیر کے بیانیہ کا سب سے لازمی حصہ بنانا چاہتے ہیں۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے نظریہ’انسانیت ، جموریت اور کشمیریت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے افسوس مقام یہ ہے کہ انسانیت نے کشمیر میں کئی دہائیوں تک دہشت گردی کی شکست قبول کی ، جمہوریت مفاد پرست ہاتھوں متاثر ہوئی اور اس سے پیدا ہونے والی نفرت کو ختم کرنے کے لئے کشمیریت کا قتل عام کیا گیا۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ جموں و کشمیر سے باہر شادی کرنے والی کشمیری خواتین کے حقوق اب محفوظ ہیں۔ان کا کہناتھا ’مغربی پاکستان سے آنے والے مہاجرین ، بے گھر ہوئے مہاجرین ، پہاڑی بولنے والے لوگ ، دیگر پسماندہ طبقات اور صفائی کرمچاریوں کو بالآخر طویل عرصے کے بعد انصاف ملا ہے، اب وہ جمہوری ، روزگار اور جائیداد کے حقوق کے مالک ہیں‘۔انہوں نے کہا’تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں اب غیر جانبدارانہ مخصوص پالیسی رکھی جارہی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر میں آئین کی 73 ویں اور74 ویں ترامیم کا مکمل اطلاق سے مضبوط نچلی جمہوریت کی بنیاد رکھی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پنچایتوں اور بلدیات کو فروغ دینے سے اہم اور جوابدہ نچلی سطح کی جمہوریت کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے کہا ’ ترقی کو یقینی بنانے کے لئے 960 کونسلرز نیز27ہزار سے زائد سرپنچوں اور پنچوں کے ذریعہ زمینی سطح پر بے مثال توانائی کو متحرک کیا جارہا ہے۔انہوں نے جموں وکشمیر پولیس ، مرکزی نیم فوجی دستوں اور فوج کے جوانوں کے رول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے(فورسز) قوم کی سالمیت اور آزادی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ملک کے شہری ایک محفوظ اور پر امن زندگی گزاریں۔منوج سنہا نے کہا کہ حکومت کا مقصد جموں وکشمیر میں انتہائی جدید اور عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔انہوں نے کہا ،’ہمیں جموں و کشمیر کو عالمی سطح کی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ہے، ہمیں یہاں پرامن ماحول قائم کرنا ہے، مجھے یہاں کے لوگوں کے مکمل تعاون اورحمایت کی توقع ہے تا کہ ہم ایک نیا جموں و کشمیر تشکیل دے سکیں‘۔منوج سنہا نے کہا کہ یہ سردار پٹیل کا خواب تھا کہ پورے ہندوستان کو صرف ایک سیاسی نقشہ کے طور پر موجود نہیں ہونا چاہئے بلکہ ساتھ ہی ساتھ آگے بڑھنا چاہئے اور ترقی اور خوشحالی کے نئے سنگ میل طے کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

ممبئی پولیس نے عدالت کو تحریری طور پر اس بات سے کیا آگاہ سرینگر /20ستمبر/ممبئی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس نے آج عدالت میں تحریری طور پر جواب دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی جماعت ارکان کے خلاف دائر کردہ کیس کو واپس لینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ڈی این نگر پولیس اسٹیشن میں 10 انڈونیشیائی اور کرغستان کے 10 شہریوں کے خلاف اپریل میں دو معاملے درج کئے گئے تھے۔ ان دونوں معاملوں کے خلاف 20 غیر ملکی شہریوں نے ڈنڈوشی کے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ ایڈیشنل چیف جسٹس نے غیر ملکی شہریوں کی عرضی مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے معاملوں کی سماعت کسی دیگر عدالت میں کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔گزشتہ ماہ دونوں الگ الگ معاملوں کو ایک عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس کے سامنے اپنی عرضی میں غیر ملکی شہریوں نے کہا کہ ان کی عرضی پر سماعت کئی بار اس لئے ملتوی کردی تھی، کیونکہ عدالت دیگر ضروری معاملات کی سماعت میں مصروف تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جسٹس ایس ایس ساونت نے کہا، لاک ڈاون کے سبب یہ 20 غیر ملکی شہری ہندوستان میں رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کی جانی چاہئے۔ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش وکیل امین سولکر نے کہا کہ ہندوستان میں جن غیر ملکی شہریوں پر معاملہ درج کیا گیا ہے، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ یہ سبھی غیر ملکی اپنے پیچھے اپنی فیملی کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور کورونا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہیکہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے معاملوں پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے، تو انہیں مستقبل میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا ایک مہینے کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، باندرہ پولیس نے 12 انڈونیشیائی شہریوں کے خلاف دو معاملے درج کئے تھے۔ ان معاملوں میں کہا گیا تھا کہ ملزمین کے خلاف ان دو معاملوں کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت نہیں تھے۔ یہ الزام ان الزامات سے متعلق ہیں، جن کے سبب شہر میں کووڈ -19 کے معاملات میں اضافہ ہوا اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔20 غیر ملکی شہریوں نے عدالت کے سامنے ڈسچارج درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ یہ دفعات ان کے خلاف نہیں بائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذریعہ دائر کئے گئے اپنے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج قتل اور قتل کی کوشش کے معاملوں کو ہٹا دیا جائے گا، لیکن ان پر لاک ڈاون اور ویزا ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فروری اور مارچ میں ہندوستان آئے تبلیغی جماعت کے اراکین کے خلاف خصوصی طور پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف کئی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 29 غیر ملکی شہریوں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ ان کے خلاف خلاف ورزی کی کوئی ثبوت نہیں تھی اور انہیں کووڈ-19 وبا کے دوران حساس برتاو کرنے کے بجائے بلی کا بکرام بنا دیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
تنازعہ کشمیر طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے،مسئلہ ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے / شاہ محمود قریشی سرینگر /20ستمبر/سی این آئی// ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ہمیشہ دیگر ممالک نے اٹھایا ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ہیں، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی ترجیح ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے پر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس کیلئے ایک پُرامن فضاء کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے جب تک نہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکل آئے ۔ہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے، وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے، اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ / آئی جی بی ایس ایف سرینگر /20ستمبر// لائن آف کنٹرو ل پر ڈرون کے ذریعے ہتھیاروںکی سپلائی کو نیا چیلنج قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کیلئے ڈورون کے ذریعے ہتھیاروں کی سپلائی کو بی ایس ایف نے نیا چیلنج قرار دیا ہے ۔ جموں کے آئی جی بی ایس ایف این ایس جموال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو جموں کشمیر میں داخل کرنے کی کوشیں جاری ہے اور اس کے لئے لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بند ی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے نئی حکمت عملی عمل میں لائی ہے اور اب ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے جموں کشمیر میں ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے ہونی والی کوششوں کو نا کام بنایا جا رہا ہے ۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ آج ہی آر ایس پورا سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کا ہیرون ضبط کرنے کے علاوہ کچھ ہتھیار بھی بر آمد کر لیں گئے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں بھی ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور راجوری میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونید یا جائے گا اور سرحدوں پر بی ایس ایف چوکس او ر متحرک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کا مقصد جنگجوئوں کو جموں کشمیر میں دھکیلنا ہوتا ہے تاہم پاکستان گولی باری کو بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے جس دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔
کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام کنٹرول علاقے پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی /صدر ہند
سرینگر /20ستمبر/صدر ہند رام ناتھ کوند نے اتوار کے روز کہا ہے کہ بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی سے جموں کشمیر میں مادری زبان کو تقویت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے بچے ذہین اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی پسند بھی ہے ۔صدر ہند رام ناتھ کوند نے کہا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے جموں کشمیر کو جدید تعلیم کا مرکز بنانے کیلئے کوشش ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ذہین ، باصلاحیت اور ترقی پسند بچوں کا ذخیرہ ہے جنہیں جدید تعلیم کی ضرور ت ہے تاہم نئی تعلیمی پالیسی میں ’’مادری زبان کو تقویت دیکر اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق نئی قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرکے جموں وکشمیر کو علم ، جدت اور تعلیم کا مرکز بنانے کے لئے پرعزم کوششیں کی جانی چاہئیں۔صدر رام ناتھ کووند نے اتوار کے روز کہ جموں و کشمیر انتہائی ذہین ، باصلاحیت اور جدید بچوں کا ذخیرہ ہے اور نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے طالب علم کو زہنی صلاحیت میں فروغ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جنت کو علم ، جدت اور تعلیم کا مرکز بنانے کے لئے طے شدہ کوششیں کی جائیںکووند نے کہا کہ ان اقدامات سے جموں و کشمیر کو ایک بار پھر اگر فردوس زمین بروئے است ’’اگر زمین پر کہیں جنت ہے‘‘ کہلائے گا ۔جیسا کہ قرون وسطی کے زمانے میں اس کا حوالہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کوہندوستان کے تاج کا ایک روشن زیور بنادیا جائے گا ۔ جموں وکشمیر میں بھارت کو ایک بے مثال آبادیاتی فائدہ ہے لیکن اس کا مثبت اندازہ تب ہی ہوسکتا ہے جب آبادی کا ایک خاص طبقہ تیار کرنے والے نوجوان ہنر مند ، پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل اور سب سے بڑھ کر حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ ہوجائیں۔ کلہنہ کی راجٹرنگینی اور مہیانہ بدھ مت کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، جن کے آثار کشمیر میں مقبول تھے ، صدر نے رائے دی کہ ہندوستان کی ثقافتی روایات کی تاریخ ان کو دھیان میں لائے بغیر نامکمل رہے گی۔ یہ ہماری روایت اور بھرپور ثقافتی ورثے کو سمجھنا ضروری ہے جو صرف ہماری مادری زبان میں ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مادری زبان ہی نئی تعلیمی پالیسی میں حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کیونکہ یہ ہمارے ملک کے ثقافتی اخلاق پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں مرکزی کابینہ کے ذریعہ منظور شدہ نیپ 1986 میں وضع کردہ تعلیم سے متعلق قومی پالیسی کی جگہ لے لی ہے اور اسکولوں اور اعلی تعلیم کے نظام میں “تبدیلی کی اصلاحات” کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہندوستان کو “عالمی علمی سپر پاور” بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس پالیسی میں جن تین زبانوں کے فارمولے کا تصور کیا گیا ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ کثیر لسانی کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد کو بھی فروغ دے سکتا ہے لیکن صدر نے کہا کہ اسی وقت کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر کنٹرول علاقے پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی۔
پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔