ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

گونگی رات کا کرب

   49 Views   |      |   Wednesday, September, 23, 2020

افسانہ نگار:- پرویز مانوس

لگتا ہے ایک دن ضرور اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔۔ اس بدنصیب نے اس شہر میں کُشت خون دیکھا ہے، تمام شہر کو سخت بندشوں اور کڑے پہرے میں دیکھا ہے ، فضاؤں پر چھایا ہوا خوف و ہراس دیکھا ہے، دھرتی کے سینے پر بھاری بھرکم بوٹوں کی دندناہٹ سُنی ہے، گولیوں کی گھن گرج سُنی ہے، شہر کی جھیل کے شفاف پانی کو سُرخ ہوتے دیکھا ہے،اس کی آغوش میں کتنی ہی معصوم لاشوں کو تیرتے دیکھا ہے، یہاں کے آنگنوں میں ہزاروں میتیں اٹھتی دیکھی ہیں۔ اشکوں کا سیلاب دیکھا ہے، ہزاروں مکانات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ ہزاروں عصمتیں تار تار ہوتے دیکھی ہیں۔ شیرخواروں کو دودھ کی خاطر بلکتے دیکھا ہے۔ بیماروں کو ادویات کے لئے تڑپتے دیکھا ہے۔ بھوکوں کو روٹی کے واسطے ترستے دیکھا ہے۔ ارمان لٹتے دیکھے ہیں۔ حسرتیں مٹتے دیکھی ہیں۔ امیدوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے، خواب چکناچور ہوتے دیکھے ہیں، ماؤں کی دلخراش چیخیں اور بہنوں کے بیّن سُنے لیکن سواے تلملانے اور اشک بہانےکے وہ کچھ نا کرسکی کیونکہ خاِلق کائنات نے اسے وجود تو بخشا تھا لیکن گونگا۔۔۔۔۔،،،،،،،
شاید اسی لئے کہ وہ واحد ایسی تخلیق تھی جو آدم ذاد کے تمام گناہ اور عیوب دیکھنے کے باوجود خاموش رہ سکتی ہے۔ آخر یہ اپنی داستان بیان کرے تو کیسے؟اپنے جذبات،اپنے غم اور کرب کا اظہار کرے تو کیسے؟یہ بیچاری ہر بار اپنے معزور وجود پر آنسو بہاتی اور دل مسوس کر رہ جاتی ۔۔۔۔،،،،،،
آج بھی خاموش لبّوں۔۔۔،سُونی آنکھوں۔۔ ۔۔،افسُردہ چہرے۔۔۔۔۔،
غمزدہ دل اور سوچوں کے خارزار میں الُجھے دماغ سے وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی،،،،،،،،،
بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع چٹیل میدان میں انہوں نے اپنے خیمے گاڑ رکھے تھے۔ ایک جانب بہت بڑی کڑاہی میں سُرخ لہو ابُل رہا تھا۔ دوسری طرف ایک بڑے توے پر انسانی ماس کی بوٹیاں فرائی کی جا رہی تھیں، متعدد جگہوں پر انسانی اعضاء کے الگ الگ انبار لگے ہوئے تھے۔ جس کی عفوُنت دور تک پھیلی ہوئی تھی، دیوذادوں کا مجمع الاو کے اردگرد بیٹھا اپنے آقا کے لئے کی گئی تیاریوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔۔،،،،،
اس رونق بھرے شہر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ خوشیاں رقص کر رہی تھیں،امن کی فضا قائم تھی۔ ہر شخص اپنی زندگی سے مطمئن تھا کہ اچانک ایک دن دیوذادوں کا ایک گروہ سنگتری لباس زیب تن کیے فصِیل شہر عبور کر کے اس راجوڑے کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔۔،
کوشش تو انہوں نے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کی تھی لیکن روحانی بزرگوں کی ایک جماعت نے انہیں فصیل کے اس طرف ہی روک دیا تھا لیکن اب کی بار یہاں کے “امیر” کی خود غرضی اور تاریکی کا فائدہ اٹھا کر وہ راجواڑے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے
منصوبے کے تحت انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ یہاں کے “امیر”کو اپنی شاطرانہ چالوں سے سبز باغ دکھا کر اقتدار کا ایسا نشہ پلایا کہ وہ اپنی سُدھ بُدھ کھو بیٹھا اور پھر انہوں نے اپنے مشن پر کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔،،
وہ دن بھر پورے شہر میں عام انسان کے روپ میں گھومتے رہتے اور اندھیرا ہوتے ہی اپنا شکار اٹھا کر غائب ہو جاتے اور لوگ بےبسی میں دیکھتے رہ جاتے ،،
ان کے آقا کو مسندِ اقتدار پر مستقل براجمان رہنے کے لئے ایسا کرنا لازمی تھا۔ کیونکہ اس مقام پر پہنچنے کے لئے ان کے پیشواؤں نے اقتدار میں بنے رہنے کے لئے پورے ایک سوایک انسانوں کے خون کا تلک لگانے کی روایت قائم کر رکھی تھی۔۔۔ ان کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے وہ طویل عرصہ تک اقتدار میں رہ سکتے تھے۔۔۔،، اس سلسلے ميں ہربار ایک نیا شہر ان کا ہدف ہوتا،،، اس سے قبل وہ یہ کارنامہ اپنے جنگل نُما شہر میں انجام دے چکا تھا۔ لیکن اگلی معیار کے لئے اسے یہ کام پھر سے انجام دینا پڑا ۔۔۔۔۔،،،،
لہذا اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہوں نے راج تلک کے لئے ایک سو ایک انسانوں کا لہو جمع کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔، انہوں نے شہر میں ایسا تانڈو مچایا کہ انسانیت شرمسار ہو اٹھی، دھرتی کانپ اٹھی،آسمان رو پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔،،،
ان کی واہیات حرکتوں سے شہر کے تمام باشندے پریشان ہو اٹھے ،،، روز ایک ماں کی آغوش سُونی ہو جاتی،روز کوئی گھر اپنے کفیل سے محروم ہو جاتا جب ظلم و ستم کا دریا سر کے اوپر بہنے لگا تو رعایا کی انکھیں اپنے بنائے ہوئے “امیر” کی طرف تکنے لگیں…… پھر رعایا “امیر”کو ڈھونڈنے میں لگ گئی ، کیونکہ ان لوگوں نے اسے “امیر”بنانے کے لئے اپنے انگوٹھے کاٹ کر تحفے میں دے دئیے تھے لیکن اس مشکل وقت میں اس کا دور دور تک کوئی اتہ پتہ نا تھا جسے وہ اپنی درد بھری روداد سناتے اور اس کے حواری،وہ تو حالات کی تمازت سے بچنے کیلئے کب سے اپنی کمین گاہوں میں چھپ کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔،،،،
دیکھتے ہی دیکھتے دیوذادوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور ان کی آمد سے راجوڑے کے مکیں خوف وہراس کے مارے اپنے اپنے گھروں میں دُبک کر رہ گئے اگرچہ انہوں نے بہت چلایا مگر ان کی آواز کو راجواڑے سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔۔۔۔،
دیوذادوں نے آج اپنے آقا کے لئے راج تلک کی تیاریاں مکمل کر کے اسُے ہواؤں کے دوش پر یہاں آنے کی پیغام دے دیا تھا۔۔ حالانکہ ابھی تک صرف ایک سو انسانوں کالہو ہی وہ جمع کر پائے تھے لیکن ان کے آقا کا یہ فیصلہ تھا کہ آخری انسان کا انتخاب وہ خود کرےگا۔۔۔۔،،،،پھر جُونہی انُ کے آقا کے اڑنُ کھٹولے نے زمین کو چھوُا تو سارے علاقہ میں ایک بھونچال سا آگیا۔۔۔ چاروں اطراف سائیں سائیں کی صدائیں گونجنے لگیں پھر ایک بہت بڑے گروہ کے ہمراہ اسے میدان میں انسانی ہڈیوں سے بنے ہوئے تخت پر اہتمام سے بٹھایا گیا…..
گھپ اندھیرے نے ساری کائنات کو اپنی آغوش میں لے لیا ، دیوذاروں نے میدان میں گاڑے ہوئے خیموں کی پیشانی پر ایک ایک مشعل روشن کر کے اندھیرے کو شکست دینے کی بھرپور سعی کی اور پھر اس کے سامنے ہَون کنُڑ میں آگ جلا کر یگیہ شروع کیا گیا.. ارد گرد نجومیوں کی ایک جماعت بیٹھ منتروں کا جاپ کرنے لگی ۔۔۔۔۔،،
زور زور سے نگاڑے بجنے لگے _۔۔ ناچ شروع ہو گیا _،،
چند دیوذادے بھالوں سے انسانی ماس کی بوٹیاں توے سے اٹھا اٹھا کر کھانے لگے۔۔۔۔،آقا کے بھدے چہرے پر یہ فاتحانہ مسکراہٹ اس لئے رقص کر رہی تھی کہ اس نے اپنے اجداد کی اس روایت کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا ۔۔۔،،،
“امیر”نے اپنی نیم وا آنکھیں کھولیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر وہ چونک پڑا ،،،،
یہ خون؟؟؟ یہ خون تو اس کی رعایا کا ہے اسی رعایا کا جس نے اس کے سر پر اقتدار کا تاج سجانے کے لئے اپنے انگوٹھے تک قربان کر دئیے۔۔۔۔اس نے تو اپنی رعایا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی جنات،دیو یا آسیب کا سایہ تک ان پر نہیں پڑنے دے گا اور سابقہ امیروں کے دئیے ہوئے زخموں پر اپنے ہاتھوں سے مرہم لگائے گا،،،، پھر یہ تو انہی کے خون سے تلک کرنے والا ہے۔۔۔،، اس فعل کے خلاف اسُ نے اپنا منہ تو کھولا مگر آواز تو اس کے حلق میں اٹک کر رہ گئی ۔۔۔ اس کی آواز ،اس کے الفاظ، اس کی قوت،،، اس کی سوچ سب کچھ دیوذادوں کے آقا نے اپنے بس میں کر رکھا تھا۔ دفعتًا اس کی آنکھوں کے سامنے بھگوا رنگ کا کپڑا لہرانے لگا اور پھر دو طویل قامت دیوؤں نے اسے اٹھا کر اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دیا جہاں وہ تڑپنے اور کسمسانے لگا۔۔۔۔۔۔ ،،،
دیوذادو کے آقا نے “امیر” کو اپنی جادوئی دھنُ پر نچا نچا کر اسقدر تھکا دیا تھا کہ اس کا سارا جسم چورُ ہو چُکا تھا ۔۔۔۔،،،
وہ نیم بےہوشی کی حالت میں اس کے قدموں کے نیچے تڑپ رہا تھا۔ منتروں کا جاپ بند ہو گیا ۔۔۔۔۔
نگاڑے خاموش ہو گئے ۔۔۔۔۔۔
رقص کرتے قدم تھم گئے ۔۔۔۔۔۔۔
ایک بھاری بھرکم آواز میدان میں گونج گئی ،،،،، مہورت کا سمے نکٹ آگیا ہے۔۔۔۔! راج تلک شروع کیا جائے ،،،،،،، یہ سُنتے ہی سارے دیوذادے ایک دوسرے کی طرف
دُددیدہ نظروں سے دیکھنے لگے
تم لوگ پریشان کیوں ہو؟
اپنے آقا کی آواز پر سب کے سر جھک گئے، پھر نزدیک کھڑے ایک قوی ہیکل دیو نے انکساری سے کہا ،،،،،،
کشما چاہتا ہوں آقا۔۔۔۔۔۔!
اس کڑاہی میں ابھی صرف ایک سو انسانوں کا لہو ابُل رہا ہے جبکہ آپ کے راج تلک کے لئے پورے ایک سو ایک انسانوں کے لہو کی آؤشکتاہے ،،،،
بس اتنی سی بات کے لئے تم پریشان ہو؟
تمہیں یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں نے کہا تھا کہ آخری انسان کا ابتخاب میں خود کروں گا، آقا کی بارعب آواز میدان میں گونج گئی ،،،،،
تم سب اچھی طرح جانتے ہو کہ مکاری ہمارے خون میں ہے۔۔۔۔۔
وعدہ خلافی ہمیں وراثت میں ملی ہے۔۔۔۔۔
بےوفائی ہماری فطرت میں ہے ۔۔۔۔۔
اور فریب کاری ہمارا اصول۔۔۔۔۔
یسے میں جو اپنی رعایا کا نہیں ہو سکا وہ ہمارا کیا ہوگا _ اس لئے اس موقعہ پرست، کٹھ پُتلی “امیر”کو اٹھا کر خون سے ابُلتی ہوئی اس کڑاہی میں ڈال دو۔۔۔۔۔۔،،،،،
یہ الفاظ سُنتے ہی “امیر” پر لرزا طاری ہو گیا اور آنکھوں سے چھم چھم اشک برسنے لگے _ وہ بہت جچھٹ پٹایا مگر اس کی ایک نہ چلی،،، دیوؤں نے اسے اٹھا کر کڑاہی میں ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔،،،،،،،
تمام دیوذادوں نے کڑاہی میں سے لہو کا ایک ایک پیالہ نکال کر اپنے ہاتھوں ميں تھام لیا آخر میں ایک بزرگ دیو نے کڑاہی میں سے ایک کڑمنڈل خون نکال کر اپنے آقا کے ماتھے پر لمبا تلک لگاتے ہوئے کہا ،،،،،، طویل اقتدار مبارک ہو آقا۔۔۔۔۔۔!!!!
اسی کے ساتھ تمام دیوذادوں نے پیالے اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا ،،،،،، بدھائی ہو ۔۔۔۔۔،،،
بدھائی ہو۔۔۔۔۔۔،،،
یہ سب دیکھ کر اندھیری رات کا سینہ پھٹ گیا اور اس کا وجود ریزہ ریزہ ہو کر سورج کی دہلیز پر بھکر گیا ۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے وفد نے گھر جاکر تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا پلوامہ//تنہا ایاز//جواں سال شاعر مجاز راجپوری کے انتقال کے تیسرے روز بھی آج مسلسل اُن کے گھر تعذیت پرسی کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔وادی کی کئی ادبی ،دینی اور سماجی تنظیموں نے آج بھی اپنے تعذیتی پیغامات بھیجے اور اُن کے گھر واقع راجپورہ پلوامہ جاکر بھی تعذیت اور دکھ کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کا ایک وفد صدر غلام رسول مشکور کی صدارت میں راجپورہ پلوامہ گیا جہاں اُنہوں نے مرحوم کے لواحقین سے تعذیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔مرحوم کے لیے دعایہ مجلس کا اہتمام بھی کیا گیا۔بعد میں لواحقین سے استدعا کی گئی کی وہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری سے رابطہ کریں تاکہ مرحوم کے غیر مطبوعہ کلام کو شا ئع کرنے کا اہتمام کیا جاسکے۔وفد میں صدر غلام رسول مشکور کے علاوہ جلال الدین دلنواز،،غلام محمد دلشاد،دردباز،شمس سلیم ،رفیقہ منگہامی،غلام محمد جنگل ناڑی،عبد الرحمٰن جنگل ناڑی،شیخ گلزار شامل تھے۔
تحریر: پرویز مائوس شُوں ں ں ں ………ڈم م م ……………… زور دار آواز چاروں طرف فِضاؤں میں گونج گئی اور پھر خاموشی چھا گئی ……،، لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی، ایک شور کے ساتھ گاؤں کے تمام لوگ یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے، زمیندار کے مکان پر گولہ گرا ۔۔۔۔۔،،
زمیندار کے گھر پر گولہ گرا۔۔۔۔۔،، گلابو جو صُبح سویرے گاؤ خانے سے مویشیوں کا گوبر سمیٹ کر مکان سے تھوڑی دور ڈھیر پر ڈالنے نکلی تھی اُس کے کانوں میں یہ آواز پڑتے ہی وہ قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگی،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا۔۔۔۔۔،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا ۔۔۔۔۔،،وہاں سے گُزرنے والے لوگ اُس کی طرف حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے، اُن کی نظروں میں اس وقت اُس کی حیثیت ایک پاگل کی تھی، ایک نے کہا،، اسی منحوس کی بد دُعا لگ گئی زمیندار کو، ہر وقت کہتی رہتی تھی کہ زمیندار کے گھر پر گولہ گرے۔۔۔۔۔،زمیندار کے گھر پر گولہ گرے۔۔۔۔۔،، یہی کہتے ہوئے گلابو ہاتھ میں خالی ٹوکرا لے کر گھر کی طرف چل پڑی تو گاؤں کے ایک آدمی کو دوسرے سے کہتے سُنا،، بڑا نیک اور ہمدرد تھا بیچارہ شابوخان مر گیا۔۔۔،، تو گلابو کے چلتے قدم اس طرح تھم گئے جیسے اُس کے تلوؤں کے ساتھ کسی نے تارکول لگا دیا ہو،،
زمیندار مرگیا اچھا ہوا ۔۔۔۔۔،، زمیندار مر گیا اچھا ہوا۔۔۔۔۔،،زمیندار مرگیا ۔۔۔۔۔،، گلابو کیا ہو گیا تجھے؟ تمام گاؤں زمین دار صاحب کے غم میں رنجیدہ ہے اور تُو ہے کہ خوشیاں منارہی ہے! احسان فراموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کے دوران کئی مرتبہ اُنہوں نے تجھے اپنے یہاں پناہ دی، یاد ہے تجھے کہ بھول گئی؟ احسان فراموش کہیں کی! لا حول ولا قوة کہہ کر امام صاحب آگے بڑھ گئے تو گلابو نے آسمان کی طرف گردن اُٹھا کر کہا،، تُو اگر رحیم ہے تو قہار بھی ہے! مجرم کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ہی سزا دیتا ہے، جو کسی کو نظر نہیں آتا وہ سب تُو دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔جو لوگ مجھے پاگل سمجھ رہے ہیں انہیں زمیندار کی دی ہوئی پناہ تو دکھائی دی لیکن اُس کے دئیے ہوئے زخم کسی کو نظر نہیں آئے، آتے بھی کیونکر؟ وہ زخم تو میرے جسم پر نہیں میری روح پر لگے ہوئے تھے، سب کے لبوّں پر بس ایک ہی جُملہ رقص کر رہا ہے، بیچارہ زمیندار بڑا نیک اور ہمدرد تھا،،،،، زمیندار کے چمچے! اچھا ہوا زمیندار مرگیا،، میں آزاد ہو گئی ۔۔۔۔۔،،زمیندارکے مکان پر گرنے والے گولے نے گلابو کی روح پر لگے ہوئے زخم تازہ کر دئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آٹھ سال قبل میر محمد سے بیاہ کر وہ اس گاؤں میں آئی تھی جو حدِ متارکہ پر واقع تھا تقسیم وطن کے وقت دریا کے آرپار یہ ایک بہت بڑا گاؤں جو آٹھ سو چُولہوں پر مشتمل تھا اُن کا مکان بھی دریا کے پار تھا ،جب وہ فقط تین برس کا تھا اپنی دادی زُلیخا کے ساتھ شادی کی خوشیوں میں شریک ہونے دریا کے اس پار آیا تھا رات کو اچانک شور مچا کہ قبائلی حملہ ہوگیا ہے، چاروں طرف افرا تفری مچ گئی لوگ ادِھر اُھر بھاگنے لگے، حملہ آور ہر چیز کو روندتے ہوئے آندھی کی طرح آگے بڑھتے ہوئے شہر تک پہنچ گئے کہ دریں اثنا اس ملک کی فوج بھی تمام علاقے میں پہنچ گئی پھر معلوم نہیں کس بد بخت کے حکم سے اس گاؤں کے بیچوں بیچ ایک لکیر کھینچ دی گئی جس نے آٹھ سو چُولہوں والے گاؤں کو ڈیڑھ سو چولہوں میں تبدیل کر کے کئی کنبوں کے سینوں میں تقسیم کا خنجر اتار دیا ۔۔۔۔۔،،کئی دنوں تک رونے دھونے کے بعد زُلیخا نے اِسے خُدا کی مرضی سمجھ کر میرو کو اپنے بوڑھاپے کا سہارا سمجھ کر پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا لیکن خُدا کی منشا کے آگے کس کی چلی ہے جو زُلیخا کی چلتی،، وہ اکثر پہروں دریا کے کنارے بیٹھ کر حسرت بھری نظروں سے اُس پار دیکھتی رہتی اُس کے چہرے کی جُھریوں میں اپنوں سے جُدائی کا غم صاف جھلکتا تھا،سامنے اپنا پشتنی مکان دیکھ کر اُس کا کلیجہ کٹ جاتا وہ سوچتی کاش! وہ کوّا بن کر اُس پار جائے اور اپنے مکان کے دالان کا ایک پھیرا لگا کر آئے لیکن پھر بے بسی میں آنسو بہاتے ہوئے دریا کی طرف دیکھتی ، دریا میں اُچھل اُچھل کر بہتا پانی اُسے اپنے ارمانوں اور رشتوں کا خون لگ رہا تھا، پھر ایک دن یہی حسرت لے کر وہ مرگئی کہ آج نہیں تو کل اس گاؤں کے درمیان کھینچی ہوئی یہ خونی لکیر مٹ جائے جسے دونوں ممالک نے ایل او سی (L.O.C)کا نام دے رکھا تھا اور بچھڑے ہوئے رشتے ایک بار پھر یکجا ہو جائیں۔۔۔۔۔،،،
میرو جوکہ ملٹری میں بطور قُلیPorterکام کرتا تھا شادی کے چھ سال بعد ہند پاک افواج کے درمیان ہونے والی گولہ باری میں ایک مورٹر شل کا شکار ہو گیا اور اپنے پیچھے تین معصوم بچے اور ایک خوبصورت بیوی چھوڑ گیا،، چونکہ گلابو ابھی جوان اور خوبصورت تھی اُس کی زمین جائیداد کو دیکھتے ہوئے کافی جگہوں سے شادی کی پیشکش آئی لیکن اُس نے بچوں کے سہارے زندگی گُزارنے کو ترجیح دی پھر وہ اپنے تین بچوں کی پرورش میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ اُسے اپنی جوانی ڈھلنے کا احساس ہی نہیں ہوا ۔۔۔۔۔،،
دونوں ممالک کے درمیان جب بھی کوئی اشتعال انگیز بیان بازی ہوتی تو اُس کا نزلہ گولہ باری کی صورت میں حدِ متارکہ پر واقع اس گاؤ ں کے دونوں اطراف بالخصوص پڑتا تو کچھ لوگ اپنا گھر بار اور مال مویشی چھوڑ کر اپنی زمین میں کھودے ہوئے مورچوں میں گُھس جاتے اور کچھ اپنی جان بچانے کے لئے زمیندار کے یہاں پناہ لینے چلے جاتے ،کیونکہ زمیندار شابو خان کابہت وسیع مکان پہاڑ کی اوٹ میں تھا جہاں گولہ باری کا کوئی احتمال نہیں تھا اور نہ آج تک کوئی گولہ اس طرف گرا تھا اُس کا باپ گابو خان جوکہ نہایت ہی رحمدل اور ہمدرد انسان تھا نے گولہ باری ہونے کی صورت میں لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا ہال تعمیر کیا تھا جس میں کم از کم تیس چالیس لوگ آرام سے پناہ لے سکتے تھے،،
اُس روز بھی دونوں ممالک کے لیڈران کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد سرحد کے دونوں اطراف افواج کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا، لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے، بچوں کے اسکول چھوٹ گئے، مال مویشی پیاس اور بھوک سے بلکنے لگے، اب کی مرتبہ گولہ باری میں کافی شدت تھی اور سرحد پار کی افواج کا ہدف کنٹرول لائن کے متصل رہائشی علاقے کے وہ کوٹھے تھے جنہیں لوگوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ایک اینٹ جوڑ کر بنایا تھا، اس علاقے میں پہاڑ کے عقب میں ایٹلری کا ایک اسلحہ ڈپو تھا، اور یہ جوان اس علاقے کی حفاظت پر مامور تھے، اس لئے اُس پار کی فوج اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانے کی تاک میںرہتی تھی لیکن اسلحہ ڈپو پہاڑ کے درے میں ہونے کی وجہ سے توپوں سے نکلنے والے گولے آدھے راستے میں ہی رہائشی علاقوں پر گرتے جس سے ہر بار دو چار لوگوں کو بغیر کسی تقصیر کے نگل جاتے، نہ جانے ان گولوں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کوئی چِپ یا خُفیہ کیمرہ نصب کیا گیا تھا کہ ہر بار یہ کسی نہ کسی غریب کے کوٹھے پر ہی گرتا، پچھلے ستر برس سے یہ گولہ باری ان لوگوں کا مقدر بن چکی تھی، تب سے ہی ان لوگوں کی مانگ رہی کہ یہاں کے لوگوں کی حفاظت کے لئے زمین دوز بینکر بنائے جائیں، ویسے تو ہر الیکشن میں پارٹیوں نے اپنے مینی فیسٹو میں اس مطالبے کو سر فہرست جگہ دی ہوتی لیکن الیکشن کی بعد یہ مطالبہ دبیز فائلوں کے نیچے دب جاتا یا پھر سیاست اور پارٹی بازی کا شکار ہو جاتا اور سرحدوں پر بسنے والے یہ لوگ اپنے وطن عزیز کے لئے بتدریج قربان ہوتے رہتے، ان کے ووٹوں پر جیتنے والے نیتا لوگ شہر کی بڑی بڑی عالیشان کوٹھیوں میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے۔۔۔۔۔،، اُن کے لئے ان لوگوں کی قیمت ایک ووٹ سے زیادہ کچھ نہیں تھی اور آئے دن مرنے والوں کے لواحقین کو آٹے میں نمک کے برابر معاوضہ دے کر حُکام اپنا فرض ادا کر دیتے، انگریز کی مکاری اور سفاکی کی بدولت ہوئی اس وطن کی تقسیم کا سب سے زیادہ خمیازہ انہی لوگوں کو بھُگتنا پڑا جو حدِ متارکہ کے ارد گرد بستے تھے،،، شام تک جب گولہ باری میں کوئی کمی نہ آئی تو تمام گاؤں والوں کی طرح گلابو بھی اپنی اور بچوں کی جان بچانے کے جتن کرنے لگی، بے سہارا، اوپر سے عورت ذات ساتھ میں معصوم بچے، جائے تو جائے کہاں؟ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ اتنے میں اس کی نظر قیصر چاچی پر پڑی تو گلابو نے پوچھا، چاچی گٹھڑی اُٹھا کر کہاں بھاگ رہی ہو، چاروں طرف گولے ہی گولے برس رہے ہیں،، ارے بیٹی! جان بچائے تو اور کہاں، آج تو انہوں نے حد ہی کر دی، دس مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور پانچ موتیں بھی ہو گئی ہیں جن میں دولت رام اور کرتار سنگھ کی بیوی ستبیر بھی شامل ہے وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ گولہ باری رُکے تو سسکار کریں، بس جان بچ جائے مکان تو پھر بن جائیں گے، چل توُ بھی میرے ساتھ!
لیکن چاچی کہاں؟ گلابو نے اپنے تینوں بچوں کو اس طرح بانہوں میں سمیٹتے ہوئے کہا جیسے مرغی پرُو ں کے نیچے چُوزوں کو چھُپا لیتی ہے،، ارے زمیندار کے گھر کے بغیر یہاں کونسی جگہ محفوظ ہے ؟وہیں جاؤں گی، میری مان تُو بھی چل میرے ساتھ، چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں پھر تی رہے گی ماری ماری اسکول اور اسپتال تو پہلے ہی بھر چُکے ہیں، گلابو سوچ میں پڑ گئی تو قیصر چاچی نے کہا،، اری چل سوچ کیا رہی ہے، زمیندار صاحب بہت نیک اور ہمدرد انسان ہیں ،کہتے ہوئے اس نے گلابو کے چھوٹے بچے کو گود میں اُٹھالیا اور پھر گلابو کے قدم بے اختیار چاچی کے پیچھے پیچھے اُٹھ گئے،، یہ پہلا موقعہ تھا جب وہ پناہ لینے کے لئے زمیندار کے ہاں جارہی تھی کیونکہ اُس کا اپنابنایا ہوا مورچہ بھی گزشتہ دنوں گولے کا نشانہ بن گیا تھا، شیلنگ کی آواز بدستور فضاؤں میں گونج رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ آج رات کو ہی جنگ شروع ہو جائے گی، زمیندار کے گھر پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی _گلابو نے دیکھا پناہ گاہ میں صرف عورتیں اور بچے تھے، مرد تو گھر کی رکھوالی پر مامور تھے، کھانا کھانے کے بعد تمام عورتیں اور بچے کئی دنوں کے بعد سکون کی نیند سوگئے ، زمیندار کا اپنی بیوی کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا اسی سلسلے میں وہ عدالت میں پیشی کے لئے حاضر ہونے شہر گیا ہوا تھا اور پھر شہر سے دیر سے لوٹا تھا اپنے ایک وفادار ملازم کے ساتھ پناہ گزینوں کی خبر گیری کے لئے ہال میں پہنچ گیا،، ہال میں گُھپ اندھیرا تھا، گولہ باری کے دوران اکثر یہاں کی بجلی لائن کاٹ دی جاتی تھی، اُس نے ساتھ لائی ہوئی ٹارچ اُن کے چہروں پر ڈالی تو کئیوں نے تیز روشنی پڑنے کی وجہ سے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور کچھ نے کروٹ بدل لی، اچانک اُس کی نظر گلابو پر پڑی جو شاید بچے کو دُودھ پلاتے ہوئے گہری نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی اور اُس کی ایک چھاتی کُرتی سے باہر نکلی ہوئی تھی اُس کا جوبن اور خوبصورتی دیکھ کر شابو خان کا دل بے قابو ہو گیا اور اُس کے مُنہ سے رال ٹپکنے لگی،، اُس نے اپنے ملازم سے اس عورت کی بابت دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ وہ میر محمد کی بیوہ ہے تو اتنے میں زمیندار کے اندر کا وحشی جانور جاگ اُٹھا اُس نے ملازم کو اشارہ کیا تو ملازم نے اُس کا مُنہ دبوچ کر کاندھے پر اُٹھا لیاوہ نیند میں کسمسا کر رہ گئی لیکن اُس کی پکڑ بہت مضبوط تھی اور اگلے ہی لمحے وہ زمیندار کے عالیشان کمرے میں تھی ، زور زبردستی میں اُس نے مزاحمت کی لیکن زمیندار نے اُس کو بچے یاد دلائے تو اس کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ گئے تھوڑی دیر بعد ایک معصوم ہرنی وحشی درندے کے پنجوں میں تھی، سرحد پار سے گولے برسنے تو بند ہو چُکے تھے لیکن گلابو کے جسم پر ساری رات گولے برستے رہے جس سے اُس کی روح تک زخمی ہوگئی،، بچوں کا خیال آتے وہ تڑپ اُٹھی ،صُبح ہوتے ہی وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگوں سے اپنے بچوں کے پاس پہنچی انہیں سلامت دیکھ کر اُس نے اطمینان کا سانس لیا اور سوچنے لگی نہ معلوم میری طرح کتنی ہی گلابو زمیندار کی ہوس کا شکار ہوئی ہونگی ، پھر کتنی مرتبہ وہ زمیندار کے بستر کی زینت بنی اُسے خود بھی یاد نہیں گلابو یادوں کی تلخ گہری جھیل میں نہ معلوم کب تک ڈوبی رہتی اگر سائرن کی آواز اُس کی کانوں سے نہ ٹکراتی،، اُس نے نظریں اُٹھا کر دیکھا تو لوگ بغل میں پوٹلیاں دبائے اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور دُور سرحد پر دونوں ملکوں کے سفید جھنڈے لہرا کر سیز فائر کا اعلان کر رہے تھے،،،،،،، ۔
  تحریر: ش م احمد۔۔۔ کورونا پوری دنیا میں بلا روک ٹوک اپنے آ ہنی پنجے گاڑے آگے ہی بڑھتا جا رہاہے۔ ہیبت ، خوف اور بھیانک موت کے ہتھیاروں سے لیس انسانی آنکھ کو نظر نہ آنے والا یہ جان لیوا جرثومہ کتنا سفاک اور بے رحم ہے، اس کی ڈراؤنی مثالیں ہم اٹلی ، سپین ،امریکہ ، فرانس، جرمنی میں ہی نہیں بلکہ دلی اور اسلام آباد میں بھی مایوسی اور بے بسی کے ساتھ دیکھتے جا رہے ہیں ۔ ہلاکت آفرین کووڈ ــ۱۹/ کی یہی کیا کم قیامت ہے کہ جہاں بھی قدم جماتا ،سب سے پہلے تمام انسانی رشتوں ناطوں کو روندھتا ہوا محبت، تعلق داری، اظہارِ ہمدردی جیسے زندگی بخش اقدارکو بھولی بسری داستان بنا کر دم لیتاہے ۔ من وتُو، امیرغریب ، مذہب، رنگ ،ذات ، نسل جغرافیہ ،زبان کا کوئی امتیاز کئے بغیر جس کم نصیب انسان کویہ بیماری اپنے لپیٹ میں لے ، وہ اپنے ہی بھائی بند ، اہل ِ خانہ اور پورے سماج میں خود کویکہ و تنہا پاتا ہے جیسے وہ اپنوں کے درمیان کوئی راندہ ٔ درگاہ یا عضوئے معطل ہو کہ جس سے دوری بنانا ہر فرد بشر کے لئے ازحدضروری ہے۔ صاف ہے جب ایسے موذی مرض کے سامنے لوگ اس قدربے دست وپا ہوں کہ مریض کے گھروالے تک اس سے قطعِ تعلق پر مجبور ہو ں بلکہ اس مرض کی بھینٹ چڑھنے والے کی موت کی صورت میں تدفین وتکفین یا انتم سنسکار تک میں سگے سمبندھی شرکت سے کتراتے ہوں، حتیٰ کہ مرے ہوئے مریض کو قبر ستان میں دفنانے یا شمشان گھاٹ میں اس کا داسنکار کر نے سے لوگ گریز اں ہوں ، تو روگی کا کیا حالِ بدہو تاہو گا ،یہ وہم وگمان میںبھی نہیں آ سکتا۔ ان معنوں میںکورونا جریدہ ٔعالم پر آپادھاپی اور نفسانفسی جیسی غیرا نسانی روش کی ایک انوکھی تاریخ رقم کر تا جارہا ہے۔
ا س سوال کا فی الحال کسی کے پاس جواب نہیں کہ کورونا وبا کے چلتے
کب تک انسانی دنیا کا گلا دبتا رہے گا، کب تک مہاماری بے لگام ہوکر انسانوں کوتابوتوں اور اَرتھیوں میں سوار کرتی رہے گی، کب تک ہسپتالوں میں آہ وبکا کے ناقابل برداشت مناظر کی صورت گری کرتی رہے گی، اس کے زیر اثر انسانی زندگیاں کب تک اجیرن ہوتی رہیں گی، ا س سے بچنے کی تدبیر کے طور سماجی دوری(جسمانی طور صحیح لفظ ہے ) کب تک انسانی روابط اور تعلقات پر ہمہ وقت کوڑابرستار رہے گی، کب تک یہ بلائے ناگہانی ہر کسان ، محنت کش ، یومیہ مزدور، کاریگر ، صنعت کار، غیر سرکاری ملازم، ٹرانسپورٹر ، ٹھیلے والے اور خوانچہ فروش جیسوں کے لئے آذوقہ کمانے کا پہیہ جام کرتی رہے گی، لاک ڈاؤن اور بندشوں کا بھوت کب تلک انسانی بستیوں میں ویرانیوں کاڈیرا جماتا رہے گا۔ نہ اس سوالات کے بارے میں کچھ وثوق سے کہا جاسکتا ہے اور نہ اعتماد کے ساتھ اندازہ لگایا جاسکتاکہ آگے گھمبیر وبائی حالات دنیا میں کیا رُخ اختیار کر تے ہیں۔ البتہ اس عالمی المیے کی دُھوم کے بیچوں بیچ ایک خوش آئند امر بس یہ ہے کہ چین سمیت جس یورپ میں کورونا موت اور معیشی تبا ہیوں کی بھیانک رُوداد لکھتا جارہاہے، وہاں سائنس دان اور ماہرین ِ طب دواساز لیبارٹریوں میں اپنی نیندیں حرام کر رہے ہیں تاکہ کووڈ ۱۹/ کے تدراک کے لئے ٹیکہ تیار کر کے انسانوں کو مہاماری سے نجات دلا سکیں۔ یہ دفاعی ویکسین کب ایک حقیقت کا روپ دھارن کر ے گا، کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم تجربات کی شروعات آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں کی جاچکی ہے جو عالم ِ انسانیت کے لئے ایک مژ دہ ٔ جانفزاہے ۔
کشمیر میں کورونا کی دستک مارچ کے اوائل میں ہی پورے زور وشور سے سنی گئی ، تادم ِ تحریر اس نحوست آمیز مرض کا شکار بننے والے لوگوں کی روز بہ روز تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ تادم تحریر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں کشمیر میں پازیٹو مر یضوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے جب کہ 170کے قریب مر یض پہلے ہی خطے میں اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں ۔
دنیائے انسانیت کے لئے لاک ڈاؤن کی صورت میں گھروں میں محصور ہونا بھلے ہی ایک انہونی اور ناقابل برداشت بات ہو مگر وادی بھرمیںبندشوں اور حصاروں کے درمیان ہونے کی کہانی گزشتہ تیس سال سے شد ومد سے جاری ہے۔ لہٰذا کشمیر یوں کے لئے بہ حیثیت مجموعی لاک ڈاؤن کی سختیاں اور محدودیتیں سہنے اور جھیلنے کی قوت بھی ناقابل تسخیر بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے ایسے کڑے سے کڑے حالات میں بھی جینے اور معمولات ِ زندگی چلانے کا منفرد فن اَزبر کیا ہوا ہے ۔ پازیٹیو مریضوں اور قرنطینہ میں رکھے جارہے افراد کی تعداد میں متواتر بڑھوتری ہورہی ہے۔ حالات کا یہ پہلو فکرو تشویش سے لبریز ہے۔ اس پس منظر میںبلاشبہ انتظامیہ مشنری کے ہاتھوں پھر سے لاک ڈاؤن کا زوردارنفاذ مفادِ عامہ میں ہے ۔ یہی زمینی حالات کاتقاضائے اول ہے ، اور اس میں بلاوجہ کوئی نرمی ، سہل انگاری یا ڈھیلا پن سیدھے طور پہلے سے ہی ناگفتہ بہ حالات کی چکی میں پسے جارہے اہل ِکشمیر کے لئے ہر اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ۔ مقام ِ شکر ہے کہ کم ازکم اس ضمن میں باشعور لوگ ایڈمنسٹریشن کو بھر پورتعاون دے رہے ہیں۔ ڈزاسٹر منیجمنٹ کے حوالے سے گرمائی راجد ھانی سری نگر کے ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال چوہدری کی اس بابت غیر معمولی فعالیت کی خاص طور پر عوام میں بہت پذیرائی ہورہی ہے ۔ عام تاثر یہی ہے کہ موصوف کورونا کے پھیلاؤ کو مزیدروکنے میں انتہائی سنجیدگی سے اپنے منصبی فرائض ا یک انتظامی ضرورت سے زیادہ ایک انسانی مشن کے طورانجام دے رہے ہیں ۔ تاہم شفاخانوں میں بالخصوص وبا ئی آفت سے دودوہاتھ کر نے کے لئے درکار ضروری وسائل کی کم یابی کی شکایات عام ہیں ، جب کہ قر نطینہ کے لئے مخصوص جگہوں میں لازمی ضروریات کے حوالے سے بھی لوگ بالعموم شاکی ہیں۔ میونسپل عملہ اس حوصلہ شکن فضا میں اپنے فرائض انجام دینے میں کو ئی تساہل نہیں برت رہا ہے۔ یہ ایک اُمید افزاء حقیقت ہے جس کے لئے ایک واجبی مشاہرے پر کام کر نے والے خاکروبوں کی خدمات کو سلام پیش کیا جانا چاہیے۔ بنک ، اے ٹی ایم اور امور ِ صارفین (خوراک ورسدات) کا محکمہ بھی موجودہ صبر آزما حالات میں قابل تحسین کام کر رہے ہیں۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جب دنیا بھر میں مہلک وبا کے سبب معاشی میدان پر ۱۸۲۹ء کے گریٹ ڈیپرشن کی مانند نقطہ ٔ انجماد چھایا ہو اور اقتصادی سر گر میاں اتنی تلپٹ چلتی ہوں کہ عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں گردو غبار سے کم تر سطح پر آجائیں، تو کشمیر کی تن ِ مردہ والی معیشت کس شمار وقطار میں ! اس میں دورائے نہیں کہ یہاں گزشتہ تیس سال سے نامساعد سیاسی حالات کے سبب معاشی سرگرمیاں ویسے بھی نام کی تھیں، سیاحت، زراعت اور دیگر ترقیاتی شعبوں کو پہلے ہی مکمل گہن لگ چکا تھا ، رہی سہی کسر گزشتہ سال دفعہ ۳۷۰ /کی آئینی عمارت دھڑام گرائے جانے سے نکا لی گئی کہ ابھی یہ نڈھال سرزمین سکتے کی حالت سے کاملاًباہر نہیں آچکی ہے ۔ مرکزی حکومت کے ا س تاریخی اقدام کے ردعمل میںاگست ۱۹ء کے اوائل سے دسمبر کے اواخر تک کشمیر گویا ایک شہر خموشاں بنارہا، نظامِ ہست وبود منجمد ، طویل کرفیو اور ہڑتال کا دور دورہ، مواصلاتی سسٹم ٹھپ، تعلم وتعلم نابود۔ اس صورت حال سے کشمیر کی نیم مردہ معیشت کامزید جاں بلب ہو نا ظاہر سی بات ہے مگر جوں ہی جنوری ۲۰ء سے رفتہ رفتہ حالات میں کچھ ٹھہراؤ پید ہوا،فون اور دیگر سرکاری سہولیات جزوی طور بحالی ہو نے لگیں تو ایک موہوم سی اُمید پیدا ہو چکی تھی کہ آمد ِبہار بشمول دربار مو کے ساتھ یہاں کا روبار ِ زندگی کی سکڑی نسیں ممکنہ طور پھر سے حرکت میں آنے لگیں گی ۔ یہ خوش اُمیدیاں ابھی قیاسوں کے بطن میں کروٹیں ہی بدل رہی تھیں کہ کورونا نے ان پر یک بارپانی پھیرا۔ اب حالات کیا ہیں ،اسے لفظوں میں شاید ہی بیان کیا جاسکے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ کشمیر ایک وسیع وعریض بے حس وحرکت قبرستان بناہواہے جہاں کورونا اپنے خوف ، وسوسوں، اندیشوں کی گھٹاؤں کے ساتھ چہار سُو حکمران ہے۔لاک ڈاؤن نے پوری آبادی کو گھرکی چار دیواری میں مقید و محصور کیا ہوا ہے ،اس لئے قافلہ ٔ حیات درماندہ پڑا ہوا ہے ۔ معمول کے کام دھندے سب چوپٹ ہیں ۔ مساجد سے زیادہ سے زیادہ صرف اذانیں بلند ہورہی ہیں جب کہ ترک ِ جماعت کے مذہبی فتوؤں اور سرکاری فرامین پر من وعن عمل درآمد ہورہاہے ۔ مساجد میں نمازِ باجماعت سے کنارہ کشی کا اعلان سب سے اول جمعیۃ اہلحدیث جموں کشمیر نے کیاتو اس پر مذہبی حلقوں میں سراسیمگی پھیلی مگر آہستہ آہستہ کورونا سے بچنے کی تدبیر کے طور تمام مذہبی علماء نے بھی اسی اعلان کے پلڑے میں چار وناچار اپنا وزن ڈال دیا ۔
عمومی طور رواں سیزن وادی میںشادیوں کی تقاریب، مکانات کی تعمیر ومرمت اور دوسری دیگر سماجی مشغولیات کے لحاظ سے مصروف رہتاہے ۔اس سے اور باتوں کے علاوہ سماجی روابط کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیاں بھی اگلے کئی ماہ تک اپنے عروج کی طرف گامزن رہتی ہیں ۔ اس بار کورونا کے قہر نے وادی ٔ کشمیر میں اب ان روایات اور مصروفیات کو عملاً ناسیاً منسیا اور ناقابل عمل کیا ہوا ہے ۔ گو مارچ کی ابتداء سے ہی ایک قلیل تعداد میں بہار ، بنگال ، اوڑیسہ اور پنجاب وغیرہ ریاستوں سے مزدور، کاریگر ، ریڑھی بان وغیرہ محنت مزدوری کے لئے واردِکشمیر ہوئے تھے مگر یک بہ یک وبا کا بگل بجتے ہی یہ غیر آبائی محنت کش طبقہ گروپوں کی صورت میں کرایہ پر لئے گئے اپنے کمروں میں محدود ہو کر رہ گیا۔ ان لوگوں کے پاس نہ کام کاج ہے اور نہ گزرِ اوقات کے لئے پیسہ مگر بھلا ہو اہل ِکشمیر کے جذبہ ٔ انسانیت اور غیر معمولی احساسِ ذمہ داری کا کہ حسب ِ سابق مقامی محتاجوں اور غرباء سمیت غیر ریاستی محنت کشوں کے لئے بھی بلا تمیز مذہب وملت رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے جگہ جگہ متحرک وفعال تھیں ۔ یہ پہلی بار نہیں دیکھا جارہاہے بلکہ ہنگامی حالات میں اہل ِکشمیر نے ہمیشہ اپنی انسان دوستی کی زریں مثالیں قائم کی ہوئی ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔ بنابریں یہاںکوئی ایک بھی کشمیری یا غیر ریاستی کہیں بھوکا سوتا ہے نہ دوادارُو کے لئے پر یشان ہے ۔ ۲۰۰۸، ۲۰۱۴، ۲۰۱۶ اور ۲۰۱۹ کے عہدہائے پُر آشوب کی طرح بے پناہ مشکلات اور دشواریوں کے باوجود ہر بستی میں ان دنوںرضاکار نوجوان ، مساجد کمیٹیاں اور کئی ایک مذہبی انجمنیں محتاج ِ امداد لوگوں کی بلا کسی بھید بھاؤ کے نقد و جنس سے امداد کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں عام لوگ اپنی مدد آپ کے سنہری اصول کے تحت رضاکاروں کی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خوشی خوشی مالی امداد کر رہے ہیں ، خاص کر صیام الکریم کے ان مقدس ایام میں لوگ اسے خیرات وصدقات اور زکوٰۃ کا ایک بہترین مصرف سمجھتے ہیں ۔ البتہ اس سال وہ تمام مدارس، خیراتی ادارے، رفاہی تنظیمیں ، یتیم خانے اور عام غرباء ان متبرک ایام میں مالی امداد کے لئے دردِ دل رکھنے والے اصحابِ ثروت سے رابطہ کر نے کی پوزیشن میں نہ ہوں گے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینے والے ہاتھ لینے والے ان ہاتھوں کی ضروریات اور مصارف قطعی فراموش کر بیٹھیں، ہرگز نہیں ، ہماری انفردای اوراجتماعی امداد و اعانت امتحان کی ان گھڑیوں میں ا ن لوگوںکے لئے رگ ِ جان کے مترادف ہے ۔
کشمیر میں کورونا کی قدرتی بلاسے عوام الناس کو نجات دلانے والے تمام مخلص وبے لوث سرکاری وغیر سرکاری ادارے شاباشی وآفرین کے مستحق ہیں ۔
������
  تحریر :سبزار احمد بٹ دنیا کے شاید ہی کسی خطے یا ملک کا کوئی شخص ہو گا جو جموں و کشمیر کے حالات سے واقف نہ ہو ۔کئی دہائیوں سے یہاں کے نامساعد حلات نے یہاں کی ہر چیز کو متاثر کیا تعلیم، سیاحت، سیاست، اقتصادیات غرض وہ کون سا شعبہ ہے جو حالات کی زد میں نہ آیا ہو ہر سال تقریباً تین چار مہینے ہڑتال کی نذر ہو جاتے ہیں اور تین چار مہینے سرما کی نذر جب برفباری کی وجہ سے سب کچھ ٹھپ ہو جاتا ہے اور زندگی تھم سی جاتی ہے اس دوران لوگ وہی کچھ کھاتے اور خرچ کرتے ہیں جو گرما میں کمایا ہو اور اس دوران ریاست کی آمدنی صفر کے برابر ہوتی ہے اس پر طرہ یہ کہ ہر سال کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے جب لوگ گرما میں بھی کچھ نہیں کر پاتے ہیں سال 2014 کی بات کریں گے تو سیلاب نے زبردست تباہی مچا دی اور عربوں کا نقصان ہو گیا پوری وادی پانی میں ڈوب گئی اور ہر طرف سے ہاہا کر مچ گئی اتنا مالی نقصان ہوا کہ لوگ قرض کے بوجھ تلے دب گئے ۔ابھی ان حالات سے پوری طرح ابھرے بھی نہیں تھے کہ2016 میں حالات اس قدر بگڑ گئے کہ تقریباً چھ مہینے مکمل بند رہا اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا اور اقتصادی حالات مزید بگڑ گئے کاروباری اداروں کا دیوالیہ پٹ گیا ۔مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ۔تعلیم کو اس قدر دھچکہ لگا کہ سرکار کو ماس پروموشن کا اعلان کرنا پڑا ،اور نجی گاڑی مالکان کا کچھ مت کہیے انہوں نے تو بنکوں سے قرضہ حاصل کر کے گاڑیاں لائی تھیں ۔ہر مہینے سود بھرنا پڑتا تھا وہ تو بالکل ہی سڑک پر آگے اور یہاں کی سیاحت تباہ و برباد ہو گئ ۔ایسا لگتا ہے کہ یہ مصیبتیں کشمیر کا پتہ پوچھ کے آتی ہیں ۔ابھی اس مصیبت سے نمٹنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ 5 اگست 2019 کو سرکار نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست جموں و کشمیر کو مرکزی زیر انتظام خطہ بنانے کا فیصلہ لیا ۔ ان ایام کے دوران سرکار نے کرفیو نافذ کردیاتمام کاروباری، سرگرمیاں، تعلیمی ادارے، اور سیاحتی مقامات سنسان نظر آئے ابھی یہ ذہنی انتشار ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ کرونا نے دستک دی اور ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی لاک ڈاون نافذالعمل رہا اور ابھی تک لاک ڈاون جاری ہے اس صورتحال نے ہر چیز کو متاثر کیا سب سے زیادہ نقصان تعلیم اور نجی گاڑی مالکان (پرائیویٹ ٹرانسپورٹ) کو اٹھانا پڑا اور جموں و کشمیر اقتصادی طور پر بچھڑ گیا اب کشمیر کے زمیندار طبقے کی بنیاد سیب کی صنعت پر ٹکی ہوئی تھیں سیب کی صنعت کو جموں و کشمیر کی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڑی جیسی اہمیت حاصل ہے ۔تاہم یہ صنعت بھی موسم کی بدحالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے کیونکہ پچھلے پانچ سالوں سے ہو رہی ژالہ باری نے اس صنعت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا اور جو قصر رہ گئی اسے نقلی ادریات کا کاروبار کرنے والوں نے پورا کیا کیونکہ جموں و کشمیر میں انسانی ادویات کی ساتھ ساتھ فصلوں کی نقلی ادویات کا کاروبار عروج پر ہے جس سے سیب کی صنعت مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے اور سیب مالکان ان ادویات کی خریداری سے قرضداری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور حاصل کچھ نہیں ہوتا ہر سال محکمہ باغبانی کی طرف سے advisery کے ساتھ ساتھ ادویات کی لمبی فہرست جاری کر دی جاتی ہے کہ ان ادویات کا استعمال نا کریں اور جعلی دوا فروشوں سے ہوشیار رہیں لیکن عام لوگ کہاں اس حکمنامے کا پالن کرتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اس سال بھی ژالہ باری نے اس صنعت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
جموں و کشمیر کے باشندوں کی اچھی خاصی تعداد ریاست سے باہر ملک کی مختلف ریاستوں میں مزدوری کر کے اپنا گزارا کرتے ہیں لیکن اس سال کووڑ19 کی وجہ سے ان سب کو قبل از وقت ہی واپس لوٹنا پڑا اور گھر کے بجائے کورنٹیں سینٹرز کا رخ کرنا پڑا، جتنا کمایا تھا وہ سب خرچ کیا اور خدا خدا کر کے اپنے اپنے گھروں کو پہنچے ۔خطے کے چھاپڑی فروشوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے وہ بھی قسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ خطے کے لوگ اقتصادی بہران سے گزر رہے ہیں اللہ نے چاہا تو کرونا وایرس ختم ہو گا لیکن اس کے بعد والے حالات کیا ہونگے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اقتصادی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اس سارے صورتحال کو دیکھتے ہوئے عوام اسی انتظار میں تھی کی سرکار کی اور سے کسی ایسے پیکیج کا اعلان کیا جائے گا کہ یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے کی کوئی امید نظر آئے اور لوگ راحت کی سانس لیں لیکن ہوا اس کے برعکس سرکار نے ڈومیسائل قانون نافذ کر دیا جو جموں و کشمیر کی شہریت کے حوالے سے ایک نیا قانون ہے اس قانون کے نفاذ سے وہ سارے لوگ جموں و کشمیر کے باشندے تصور کیے جائیں گے جو پچھلے دس سالوں سے یہاں نوکری کے سلسلے میں رہ رہے ہیں وہ سارے طالب علم جو پچھلے سات سالوں سے یہاں زیر تعلیم ہیں یا جو دسویں یا بارویں جماعت کے امتحان میں شامل ہوئے ہوں وہ سب بھی جموں و کشمیر کے باشندے گردانے جائیں گے اور نوکریوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جموں و کشمیر کے مہاجر (مائگرنٹس) جو اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں وہ سب بھی جموں و کشمیر کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں اس طرح سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے ملازمت حاصل کرنا اگر چہ ناممکن نہیں تاہم مشکل ضرور بن گیا ہے جموں و کشمیر پہلے ہی بے روزگاری کا مارا ہے کیونکہ یہاں کے نوجوانوں کو نجی حلقے (پرائیویٹ سیکٹر) میں بھی روشن مستقبل کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ہے ایسے میں صاحب ثروت لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ غریب اور حالات کر مارے طبقے کا خیال رکھا جائے سرکار کے لیے بھی لازم ہے کہ جموں کشمیر کو اس اقتصادی دلدل سے نکالنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو بڑھاوا دیا جائے اتنا ہی نہیں سرکار کو جموں و کشمیر کی اقتصادی حالت کا لحاظ کرتے ہوئے ڈومیسائل قانون پر نظرثانی کر لینی چاہیے کیونکہ بھارتی آئین میں کسی بھی قانون پر نظرثانی کی گنجائش موجود ہے مزید یہ کہ جو لوگ قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں مثلاً نجی گاڑی مالکان وغیرہ کے لیے بھی کسی رعایت کا اعلان کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سب لوگ جی سکیں اور خدا نخواستہ کسی کو کوئی سخت اقدام اٹھانے کی نوبت نہ آئے
تحریر۔۔     ڈاکٹر نذیر مشتاق ‏میں ایک وائرس ہوں مطلب زھر ہوں سم قاتل ہوں ۔انسان کا دشمن ہوں ہم وائرس بھی آدم زاد کی طرح قبیلوں اور خاندانوں میں بٹے ہیں دنیا میں ہماری تعداد اتنی ہے کہ اگر ہم کو قطار میں کھڑا کیا جائے تو نظام شمسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک قطار پوری ہوگی شاید پھر بھی کچھ بچ جایں ۔ہم روز ازل سے کائنات میں موجود ہیں ہم کو بھی خالق کائنات نے پیدا کیا اور وہی کام دیا ہے جو ہم انجام دے رہے ہیں ہماری اربوں کھربوں اقسام ہیں ہم میں سے اکثر طفیلی ہیں یعنی ہم زندگی آدم زاد پرند چرند درند کے جسم کے اندر گزارتے ہیں اپنا آپ زندہ رکھنے کے لئے ہم اپنے مہمان یعنیhostکو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے وہ بھی ہماری موجودگی کو محسوس نہیں کرتا ہاں اگر کسی وجہ سے وہ کمزور ہو جائے تو ہم اس پر حملہ کرتے ہیں ۔
‏ہم کائنات میں ہر جگہ رہتے ہیں سمندر ،دشت ،ریگستان ۔ندی نالہ ، دریا جھیل یا تالاب ہر جگہ رہتے ہیں اور ہر وقت جانداروں کی تاک میں رہتے ہیں ہم جانداروں پر حملہ کرنے کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتے ہیں ہم میں سے کچھ انسانوں میں معمولی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جیسے زکام ،کھانسی، دست ،الٹی، بخار وغیرہ ۔مگر کینسر جیسی مہلک اور خطرناک بیماریاں بھی اپنی مرضی سے وجود میں لاتے ہیں ۔
‏جیسےکہ لیمفوما بلڈ کینسر عورتوں میں بچہ دانی کے دھن کا کینسر وغیرہ ‏مزے کی بات یہ ہےکہ مجھ پر کوئی اینٹی بویاٹیک دوائی اثر نہیں کرتی ہے لاعلم طبیب حضرات مجھ پر بنا سوچے سمجھے مریض کےلئے دوائیاں تجویز کرتے ہیں اور مریض کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں چونکہ ہم پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ابھی تک انسانوں نے ہم میں سے صرف ایک ہزار قبیلوں کو دریافت کیا ہے باقی ابھی اس کی نظروں سے دور ہیں ۔ہم میں سے بہت سارے خاندان بہت مشہور و معروف ہوئے اگر میں نام گنوانے لگوں تو آپ کو بہت وقت صرف کرنا پڑے گا ۔ میں جانتا ہوں آپ بےصبر ہیں آپ کے پاس وقت نہیں ہے پھر بھی چند مشہور وایرسی خاندانوں کا نام لینا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔پوکسی وائرس جس نے چیچک وجود میں لایا ۔ریبیڑو وائرس کتا کاٹتا ہے تو رےبیز نام کا وائرس آپ کے جسم کے اندر چلا جاتا ہے پولیو وائرس تو یاد ہی ہوگا ایچ آئی وی ایڈز وائرس کو تو آپ سب جانتے ہیں ۔ایڈینو پیپو رییو، ایرینا اربو، اکینو ایکو پیپو میکسو ریٹرو کو کس سیکی راینو چیکنگونیا ہرپیس۔ اب کتنے نام لوں بس آپ کو یہ سمجھانا تھا کہ ہم ستاروں کی طرح ان گنت ہیں آپ کو پتہ ہے کہ سائنس دانوں نے 1967 میں پہلی بار لیبارٹری میں وائرس بنایا آپ کو ان کے بارےمیں کہاں پتہ ہوگا وہ میدان میں چوکے چھکے لگانے والا کھلاڑی تو نہیں وہ فلموں میں کام کرنے والا کوئی ہیرو تو نہیں وہ کوئی گول کرنے والا تو نہیں وہ کوئی ارب پتی کھرب پتی تو نہیں آپ کو ان ہیروز کا نام ہی پتہ نہیں جنہوں نے آپ کو ہم سے بچایا یا بچاتے ہیں یا بچاتے رہیں گے ۔
‏خیر میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا میں اپنے بارے میں یعنی کرونا فیملی کے بارےمیں بتانا چاہتا ہوں اس وقت پوری دنیا پر ہماری حکومت ہے آج پوری دنیاکی آدم ذات چینٹیوں کی طرح سوراخوں میں چھپ گئ ہے اور ہم برابر اس کا پیچھا کر رہے ہیں لاو نیوکلیئر اور ایٹم بم لاو گولیاں بارود آر ڈی ایکس وہ سب ہتھیار لاو جس سے تم انسان ایک دوسرے کو مارتے ہو لاو سب کچھ مگر میرا مقابلہ نہیں کرسکوگے ۔کیوں کہ میں کرونا فیملی ہوں اس وقت وائرسوں کی سب سے بڑی سلطنت کرونا کی ہے ۔مجھے تم لوگ دیکھ نہیں سکوگے میں صرف ایلکٹرانک مایکروسکوپ میں نظر آتا ہوں میں اکیلا آر این اے وائرس ہوں گول متول اور میرے ہر طرف بھالو کے پیروں جیسےprojections ہیں میری کئ قسمین ہیں الفا بیٹا گاما ڈیلٹا اور اس کے بعد پھر سے منقسم ہوں oc43.229 Eدونوں انسانوں پر حملہآور ہوتے ہیں جب کہ باقی اقسام حیوانوں میں پائے جاتے ہیں ۔
میں کرونا وائرس چھینک کھانسی تھوک کے ذریعہ ایک سے دوسرے میں چلا جاتا ہوں اور ناک کے راستے ونڈ پایپ اور پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہوں یہ میری بقا کے لئے میری من پسند جگہیں ہیں اس لئے ایک دوسرے سے دور رہو ۔اپنے اپنے گھروں میں رہو باہر میں کسی بھی جگہ حملہ آور ہو سکتا ہوں میرے خلاف ابھی تک سائنس دانوں نے کوئی دوائی نہیں بنائی ہے اور نہ کوئی حفاظتی ٹیکہ ہی بنا ہے اس لیے مجھ سے بچنے کا واحد طریقہ ہے مجھ سے دور رہو جب مجھے تمہارے جسم میں پناہ نہیں ملے گی میں خود بخود بھوکا پیاسا مر جاؤں گا ارے یہ کیا میں اپنے خلاف بول رہا ہوں کوئی بات نہیں ۔ ۔میں آپ انسانوں کے علاوہ چمگادڑوں وہیل مچھلی سوروں پرندوں بلیوں کتوں اور چوہوں میں بھی موجود رہتا ہوں آپ کے لیے میں نیا ہوں مگر مجھے 1960میںسیمپل کرونا وایرس یا فلیو وائرس کےنام سے دریافت کیا گیا پھر میں2002 2003 میں چین میں نمودار ہوا مگر میری طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ پھر میں2012میں سعودی عرب میں نمودار ہوا مگر میری اہمیت اور میری بےپناہ طاقت کو نظرانداز کیا گیا ۔اور اب اس بار ہم نے پھر سے پوری دنیا کے آدم زادوں کو اپنی لپیٹ میں لیلیا اور اس وقت مجھ سے منسوب بیماری کا نامcovid 19رکھا گیا ہے ۔
‏آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ہم بلا لحاظ مزہب و ملت کسی پر بھی حملہ کرتے ہیں ہم تم لوگوں کی طرح دین دھرم اور مذہب و مسلک کے نام پر ایک دوسرے کا خون نہیں بہاتے ہیں ہمارا کوئی مذہب نہیں ہمارا مقصد صرف انسان کو ختم کرنا ہے کیوں کہ وہ آب انسان نہیں جانور اور درندہ بن گیا ہے اب اس کے کارناموں سے انسانیت شرماتی ہے ہمیں ان کے حالات دیکھ کر بہت غصہ آیا اور ہم نے خالق کائنات کے حکم سے دنیا کے انسانوں پر حملہ کیا ہے تمہارے پاس ہم سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے دنیا بنانے والے کے آگے جھک جاواور اس سے مدد مانگو وہ حکم کرے تو ہم پلک جھپکتے ہی نیست و نابود ہوجائیں گے اور تم لوگ چین کی سانس لے کر پھر سے زندگی کو گلے لگاو گے ۔۔۔۔۔