ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

ممبئی پولیس نے عدالت کو تحریری طور پر اس بات سے کیا آگاہ سرینگر /20ستمبر/ممبئی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس نے آج عدالت میں تحریری طور پر جواب دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی جماعت ارکان کے خلاف دائر کردہ کیس کو واپس لینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ڈی این نگر پولیس اسٹیشن میں 10 انڈونیشیائی اور کرغستان کے 10 شہریوں کے خلاف اپریل میں دو معاملے درج کئے گئے تھے۔ ان دونوں معاملوں کے خلاف 20 غیر ملکی شہریوں نے ڈنڈوشی کے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ ایڈیشنل چیف جسٹس نے غیر ملکی شہریوں کی عرضی مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے معاملوں کی سماعت کسی دیگر عدالت میں کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔گزشتہ ماہ دونوں الگ الگ معاملوں کو ایک عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس کے سامنے اپنی عرضی میں غیر ملکی شہریوں نے کہا کہ ان کی عرضی پر سماعت کئی بار اس لئے ملتوی کردی تھی، کیونکہ عدالت دیگر ضروری معاملات کی سماعت میں مصروف تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جسٹس ایس ایس ساونت نے کہا، لاک ڈاون کے سبب یہ 20 غیر ملکی شہری ہندوستان میں رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کی جانی چاہئے۔ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش وکیل امین سولکر نے کہا کہ ہندوستان میں جن غیر ملکی شہریوں پر معاملہ درج کیا گیا ہے، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ یہ سبھی غیر ملکی اپنے پیچھے اپنی فیملی کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور کورونا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہیکہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے معاملوں پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے، تو انہیں مستقبل میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا ایک مہینے کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، باندرہ پولیس نے 12 انڈونیشیائی شہریوں کے خلاف دو معاملے درج کئے تھے۔ ان معاملوں میں کہا گیا تھا کہ ملزمین کے خلاف ان دو معاملوں کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت نہیں تھے۔ یہ الزام ان الزامات سے متعلق ہیں، جن کے سبب شہر میں کووڈ -19 کے معاملات میں اضافہ ہوا اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔20 غیر ملکی شہریوں نے عدالت کے سامنے ڈسچارج درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ یہ دفعات ان کے خلاف نہیں بائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذریعہ دائر کئے گئے اپنے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج قتل اور قتل کی کوشش کے معاملوں کو ہٹا دیا جائے گا، لیکن ان پر لاک ڈاون اور ویزا ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فروری اور مارچ میں ہندوستان آئے تبلیغی جماعت کے اراکین کے خلاف خصوصی طور پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف کئی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 29 غیر ملکی شہریوں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ ان کے خلاف خلاف ورزی کی کوئی ثبوت نہیں تھی اور انہیں کووڈ-19 وبا کے دوران حساس برتاو کرنے کے بجائے بلی کا بکرام بنا دیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
تنازعہ کشمیر طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے،مسئلہ ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے / شاہ محمود قریشی سرینگر /20ستمبر/سی این آئی// ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ہمیشہ دیگر ممالک نے اٹھایا ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ہیں، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی ترجیح ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے پر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس کیلئے ایک پُرامن فضاء کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے جب تک نہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکل آئے ۔ہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے، وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے، اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ / آئی جی بی ایس ایف سرینگر /20ستمبر// لائن آف کنٹرو ل پر ڈرون کے ذریعے ہتھیاروںکی سپلائی کو نیا چیلنج قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کیلئے ڈورون کے ذریعے ہتھیاروں کی سپلائی کو بی ایس ایف نے نیا چیلنج قرار دیا ہے ۔ جموں کے آئی جی بی ایس ایف این ایس جموال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو جموں کشمیر میں داخل کرنے کی کوشیں جاری ہے اور اس کے لئے لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بند ی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے نئی حکمت عملی عمل میں لائی ہے اور اب ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے جموں کشمیر میں ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے ہونی والی کوششوں کو نا کام بنایا جا رہا ہے ۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ آج ہی آر ایس پورا سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کا ہیرون ضبط کرنے کے علاوہ کچھ ہتھیار بھی بر آمد کر لیں گئے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں بھی ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور راجوری میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونید یا جائے گا اور سرحدوں پر بی ایس ایف چوکس او ر متحرک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کا مقصد جنگجوئوں کو جموں کشمیر میں دھکیلنا ہوتا ہے تاہم پاکستان گولی باری کو بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے جس دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔

’’غبار ‘‘میں عبدالرحمان آزاد کی جلوہ فشانیاں

   57 Views   |      |   Sunday, September, 20, 2020

رشید راشد
درسو پلوامہ9906925007
فطرت پرست شاعری رنگین خیالی کو ایک اہم خوبی تصور کرتی ہے۔ یہ رنگین خیالی رنگین بیانی سے متصل ہے۔ اس طرح سیہ خوب رنگ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری شاعری میں جہاں روسل میر اور مہجور کے بعد اس رومانی شاعری کا کارواں روادواں ہے۔ وہاں  عبدالرحمان آزاد اس کا اس کاران میں اپنی انفرادیت مختص کئے ہوئے ہیں۔ اس نے حسن و عشق کی جامہ پیرائی میں زندگی کے کہر باکُن گوشوں کا نظارہ کرایا ہے۔ دراصل یہ نظارے اُن فکری معاملات کی شناسائی ہے جو شناسائی آزاد کا قاری اُس کے نثری پاروں میں دیکھتا ہےہمہ پہلو موضوعات کی قلم روی اُس کے مطالعات زندگی کی بصیرت کا تقاضا کرتی ہے۔ جب اُس کی شاعری کے رنگین پہلو کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں پہ آزاد خود کو مہجور اور رسل میر کے بہت قریب دیکھتا ہے۔
جس طرح کشمیری شاعر میں آزاد کی ایک مخصوص شناخت ہے اُسی طرح نثر میں بھی اُسے ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ صحافت کی تاریخ میں اُس کا جرت مندانہ قلم کبھی سوکھے کی لغزش کا شکار نہیں ہوا۔ اُس نے زندگی میں مشکلات و مصائب کہُن بار پوشاک کی زیبائی خوشی خوشی قبول کی مگر قلم کی رفتار و بے باکی کو تھکنے نہ دیا۔ کشمیر ی نثری ادب میں عبدالرحمان آزاد کی خطوط نگاری سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اردو ادب میں ’’غبارِ خاطر‘‘ پر مغز موضوع اور انداز تکلُم کی وجہد سے انتہائی منفرد ومقام رکھتی ہے۔ اُسے ابوالکلام آزاد کی ہمہ جہت شخصیت بن کر قاری کے سامنے آئے ہیں۔ شاید ۔ شاید وہی جرس غیب عبدالرحمان آزاد کے ضمیر میں بجتی ہوگی تو مجموعہ خطوط’’غبار‘‘ کے نام سے کشمیری ادب کے منظر نامے میں نمودار ہوا۔
کشمیری زبان میں خطوط پر مبنی یہ کتاب ادب میں ایک نئی صنف کو متعارف کرتی ہے۔ آزاد نے یہ صنف صرف متعارف ہی نہیں کیا بلکہ اپنےدور کے سماجی ، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور ادبی تاریخ کو رقم کیا ہے۔ عبدالرحمان آزاد کو یہ صنف خالص متعارف کرانے کا ارادہ ہی نہیں تھا بلکہ کشمیری میں ادیبوںکو اس صنف کی طرف رغبت دلانا بھی مقصود تھا تاکہ مختلف انواع کے موضوعات پر بات ہو۔ جس کا برملا اظہار آزاد نے خود کیا ہے۔’’
ہماری کشمیری زبان ابھی دفاتر، کاروباری اداروں اور دیگر شعبہ جات تک نہیں پہنچی ہے۔ جس وجہ سے اس کے اندر خط و کتابت کا نام و نشان دیکھنے میں آئے۔ کشمیری زبان و ادب سے وابستہ لوگ بھی کشمیری میں خطوط نویسی کی طرف شعوری یا غیر شعوری طور متوجہ نہ ہوئے ہیں‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ جس صورت حال کی عکاسی عبدالرحمان آزاد نے کی ہے وہی صورت حال آج بھی دکھائی دے رہی ہے۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ محدود میگزینوں میں تاثرات کالم کے نام خطوط دکھائی دیتے ہیں اُن کی وسیع زندگی کے معاملات و موضوعات دیکھ کر صرف شعرو ادب کے موضوع کی یک رنگی کی لپائی لبادہ کئے ہوئے ہیں۔ اگر کہیں اخبارات میں کشمیری زبان میں خطوط دکھائی دیں اُن کا بھی ایک ہی رنگ ہے۔ یعنی ادبی ۔ اپنے دور میں بھی صحافی کے طور عبدالرحمان آزاد نے اسے محسوس کیا اور اس طرف قائل کرنے کی کوشش بھی کی۔
عبدالرحمان آزاد نے اپنے خطوط کے ذریعے مسائل و معاملات کی مضوعی وسعت کو منظر قرطاس پر لانے کا بہت بڑا کام کیا ہے۔ اپنی کتاب مختلف مسائل کو اُجاگر کیا ہے اور اُجاگر کرنے کے بعد اپنی بصیرت کے مطابق اُس پر سیر حاصل رائے بھی دی ہے۔ اپنی رائے پیش کرنے میں اُس علمی اور فکری استفادہ سے باز نہیں رہے جس سے اُس کی رائے یا نقطہ نظر کو تقویت ملتی ہو۔ انسان۔ انسان کا ذات الہی کے ساتھ رشتہ۔ الہامی کُتب میں ان رشتوں کا ذکر ، وراثت، لین دین کی پختگی، شرعی زندگی کی اہمیت اور ضرورت ، شعری اصناف میں غزل کی اہمیت و وکالت، مادری زبان کے ساتھ جذباتی اور احساساتی رشتہ ایسے موضوعات ہیں جو عبدالرھمان آزاد کے خطوط میں زیر بحث آئے ہیں۔ غبار کتاب کا ہر ایک خط موضوع کے اعتبار سے یہاں تک اسلوب کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جُداگانہ ہیں اور ہر ایک خط کا اشتیاقانہ انداز بحث کے شروعات کی گُدگدی اُجاگر کرتا ہے۔ ابھی تک ان کے خطوط کے پس منظر میں آیا ہوا کوئی بھی بحث دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ نا ہی خطوط نویسی میں کشمیری ادب میں کوئی ایسا خط نظروں میں آتا ہے۔ ناہی تدریسی نظام میں نصاب سازوں نے خطوط کی کوئی تمثیل دی ہے۔ البتہ کشمیری گرائمر لکھنے والوں نے طور کشمیری میں خطوط نگاری کے اصولوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں دیکر اس راستے پر دھول دھلائی کی ہے۔ جن میں ڈاکٹر آفاقعزیز ، رشید راشد، اور ڈاکٹر گلزار کے نام آتے ہیں لیکن وہ بھی اُن کے گرائمر اصولوں کو بیان کرنے کی مجبوری تھی۔ بہر حال جن موضوعات پر عبدالرحمان آزاد نے اپنے خطوط میں بات کی ہے۔ اُن کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عبدالرحمان آزاد کی شخصیت ایک عریض بوس شخصیت تھی۔
آزاد کا دور کشمیر کے مخصوص سیاسی خلفشاری کا دور تھا۔سیاسی گتھم گتھی سے سماجی توازن تبدیل ہورہا تھا اور نیاسماج وجود میں آنے کا دور شروع ہورہا تھا۔ اس طرح کشمیری ادب بھی ترقی پسندی شعرو ادب سے نئے پڑھائو کی طرف گامزن تھا۔ اس تبدیلی میں آنےو الے سماجی ٹوٹ پھوٹ اقدار کے الٹ پلٹ کو عبدالرحمان آزاد انتہائی حسیت کے ساتھ محسوس کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کا حسی پارہ اس زمہریری اور حُری جہد میں متحرک تھا۔ سرچشمہ حیات اخبار بار بار اسی وجہ نزع کا شکار ہورہا تھا۔ حالانکہ معاشرتی مسائل اور سماجی اصلاحاجاگر کرنا صحافت کے اس دور میں اسی بے قراری کا نتیجہ تھی۔
اپنے معاشرے کے کینواس کو لیکر اصلاح کے بُرش میں اُس نے اسلامی شرعیت کے رنگ کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی ہم آہنگی کی ۔ شام لعل پردیسی ، عامر عثمانی اور سعد الدین کے نام خطوط میں بے دھڑک بُرش کاری کی ہے۔ جناب سعد الدین کے نام خط میں آزاد نے مسلمانوں کی غیر اسلامی طریقہ زندگی پر واویلا کیا جو اُس کی کرب کا غماز ہے۔ ’’ کیا آپ اس بات کو ہضم کر پائوگے یا نہیں کہ موجودہ مسلمانوں کے سوا دیگر اقوام اور اُمتوں کے پاس انسانی ذات کی خاطر کام کرنے کے عمل کا حجم زیادہ ہے۔ اور اس کے برعکس آج کے مسلمان کے پاس منطق اولیٰ اور خدمت خلق کیعمل کے باوجود فقدان اور ناپیدگی ہے‘‘۔
یہ ایک اور اہم بات ہے کہ آزاد جس ماحول میں پلے بڑے وہ دہی تنگ ذہنی اور جہالت کا ماحول تھا۔ جبکہ آزاد کا خواب پاک ، سچا، شفاف ماحول تھا۔ اس خواب کا ذکر اُس کے خطوط میں گشت کردوں دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں کہیں آزاد اظہار کو شدت سے بیان کرنا چاہتا یا اپنے نقطہ نظر کی طرف مایل کرانا چاہتا تو شعری اسلوب سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح اپنی والدہ کو بعد از مرگ لکھے خط میں تابعداری اور وفاداری کے جذبات کی نمایندگی کسی بھی حالت یا ماحول یا رکاوٹ سے قطع نظر رہ کر کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک مضبوط ترین اعصابی رشتہ ہے۔ جس میں اخلاقی اقدار کا لحاظ رکھ کرجوڑا جاتا ہے۔
اخلاقی اقدار کی پاسداری استوار کرنے سے ہی سماجی برائیوں کو رفع کیا جاسکتا ہے۔ اس خط میں اولاد کے حقوق کو عبدالرحمان آزاد نے اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ کر آسان بیانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
’’ میری با ادب اور باہمت والدہ! آپ مجھے اکثر قرآن مجید کے سورہ زبانی یاد کرواتی تھی۔ رسول کریمﷺ کی سیرت طیبہ سے اور حضرت پیر رضی اللہ عنہ کی حالات زندگی سے کوئی نہ کوئی واقعہ سناتی تھی۔ علاوہ ازیں حضرت اویس قرنیؓ کے ورد للہ واکۃ اور شیخہ شرک بڑے اہتمام کے ساتھ سناتی اور بار بار آپ کی زبان سے جلوت و خلوت میں نعت شریف جاری و ساری تھے۔
ہزار شکر وثناداور چھُ میون یاور نبیؐ حجازی
اس غیر شعوری تربیت سے میرے ذہن کے کینواس پہ اسلام ، رسول کریم ﷺ، حضرت اولیا کرام کی محبت کا نقش متصور ہوا تھا۔ جس کا بیان میرے الفاظِ بیان سے بالا تر ہے‘‘۔
آگے چل کر عبدلرحمان آزاد چند ایک خطوط میں فلسفہ حیات کے نازک مسائل کو چھیڑتا ہے۔ یہان پر عبدالرحمان آزاد قاری کو ایک وسیع فکری کینواس پر بکھراو کی صورت پھیلا دیتا ہے۔ اور جس انتشاری عالم میں مذہبی افکار کا ظاہری ٹکرائو قابل ذکر ہے ان مسائل پر آزاد بات کرنے سے آزاد کی بصیرت و آگہی کا اندازِ گماں بھی آگے جاتاہے۔ مختلف مذاہب کے بنیادی عقائد کی ہم آہنگی کا ذکر اُس نے خوش اسلوبی کے ساتھ کیا ہے۔
خطوط جن جن اصحاب و اشخاص کے نام آزاد نے قلمبند کئے اُن میںمخاطب ذہنی استواریت کو مد نظر رکھ کر آزاد کے اسلوب میں لچک، الفاظ کی سادگی و روانی، شدت بیان و لُبنی بیان برتا گیا ہے۔ یہی عبدالرحمان آزاد کے خطوط نگاری کی کرامت ہے۔ حالانکہ شروع سے آخر تک اسلوب کی چاشنی و تیکھاوٹ گُھلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس اسلوب کے تعریف میں حامدی کاشمیری رقم طراز ہیں۔
یہ (عبدالرحمان آزاد) کشمیری نثر میں ایک رومانی، شیرین طرح دار اور خوب صورت اسلوب متعارف کرتے ہیں۔ اور کشمیری نثر کو نئے باب کا اضافہ کرتے ہیں۔
نوٹ:۔۔۔۔رشید راشد کے مضمون میں عبدالرحمان آزاد کے چند اقتباسات آزاد کی غبار کے چند خطوط سے لئے گئے ہیں۔ اور اُن کا ترجمہ راشد صاحب نے کیاہے اور آخر پر حامدی کشمیری کی چند ستور کو بھی انہوں نے کشمیری لیکر اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
����
������

متعلقہ خبریں

تحریر : ریاض ملک بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے 70 کلو میٹر جنوب میں واقع بوچھو ترال نامی مسلم بستی میں اپنی اہلیہ اور جواں سال بیٹی کے ساتھ رہائش پذیرواحد کشمیری پنڈت (ہندو) موتی لعل بٹ کو اطمینان حاصل ہے کہ انہوں نے نوے کی دہائی میں دیگر کشمیری پنڈتوں کی طرح آبائی نقل مکانی کرکے جموں کے تپتے ریگ زاروں کو اپنا مسکن نہیں بنایا۔
مسلم پڑوسیوں کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھنے والے سبکدوش سرکاری استاد موتی لعل اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخرکرتے ہیں۔ سینکڑوں کنبوں پر مشتمل اس بڑے گاؤں میں واحد ہندو گھرانہ ہونے کے باوجود موتی لعل، ان کی اہلیہ رتنا بٹ اور بیٹی دشا بٹ یونہی مسرور نہیں ہیں۔
دراصل کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے دوران جہاں ان کے مسلم پڑوسیوں نے کبھی انہیں عدم تحفظ یا تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا، وہیں تحفظ اور اپنائیت کا یہ احساس گذشتہ دنوں اُس وقت کامل ہوگیا جب موتی لعل کے 92سالہ معمر ترین والد جگن ناتھ بٹ کا انتقال ہوگیا تو مسلم پڑوسیوں نے کرونا وائرس کی پرواہ کیے بغیر اُن کی آخری رسومات ادا کیں۔
حالتِ ماتم میں خوشگوار احساس
موتی لعل اُس احساس کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہیں جو اُنہیں اُسی غمی کے ماحول میں مسلم پڑوسیوں کی جانب سے ہوا کے خوشگوار جھونکوں کی طرح ملا۔
97 برس قدیم کشمیر ی فنِ تعمیرکے نایاب نمونے کی حیثیت رکھنے والے اپنے گھر کے ایک کمرے میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے موتی لعل نے کہا: ‘ میرے والد کچھ عرصے سے علیل تھے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی فوت ہوسکتے ہیں۔ چونکہ کرونا وائرس عروج پر تھا تو میری بیٹی اپنی والدہ سے کہتی تھی کہ جب دادا کا انتقال ہوگا تو رونا نہیں کیونکہ یہاں کوئی چپ کرانے بھی نہیں آئے گا لیکن پھر جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو چشمِ فلک نے دیکھ لیا کہ کس طرح سینکڑوں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے کوئی خطرہ کھائے بغیراپنی جان خطرے میں ڈال کراُن کی آخری رسومات ادا کرنے میں ہماری مدد کی۔
اپنوں کی بے اعتنائی
اُن کا کہنا تھا: ‘انہی دنوں کشمیر سے ہجرت کرچکے ایک بزرگ پنڈت کی کرونا سے جموں میں موت واقع ہوئی ۔اُن کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تو دور کی بات، اُن کی لاش کو اپنی ہندوبرادری کے لوگوں نے شمشان گھاٹ میں جلانے نہیں دیااور مجبوراً ان کے اہل خانہ کو لاش کسی ویرانے میں لے جانا پڑی، جہاں بے سرو سامانی کی حالت میں آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران دم گھٹنے سے ان کے دو بھتیجوں کی موت واقع ہوئی جبکہ اُن کا اپنا بیٹا ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
مذکورہ مہاجر کشمیری پنڈت وہ اکیلے آدمی نہیں تھے جن کی لاش کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا بلکہ جموں صوبے کے ہی پہاڑی ضلع ڈوڈہ کے ایک ہندو جب گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں کرونا کی وجہ سے فوت ہوئے تو سرکار کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود بھی ان کی لاش کو نہ صرف یہ کہ شمشان گھاٹ پر جلانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُن پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
واقعے کے عینی شاہد ایک ہندو نوجوان رضاکار امت کٹوچ کا اس ضمن میں کہناتھا کہ حکومت نے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے دمانہ(جموں) میں شمشان گھاٹ دیالیکن جونہی ہم لاش لے کر وہاں پہنچے تو وہاں دو تین سو لوگ جمع ہوگئے، جنہوں نے ہمیں مارنا شروع کردیاجس کی وجہ سے ہم نے جلتی ہوئی لاش کو دوبارہ پیک کیے بغیر ایمبولینس میں ڈالا اور میڈیکل کالج واپس لے آئے۔ ‘
کرونا وبا سے پیدا ہوئی کچھ غلط فہمیوں اور خوف کی وجہ سے اپنی ہی برادری کے لوگوں کے ایسے سلوک سے متوفی کے رشتہ دار اتنے دل برداشتہ ہوگئے کہ انہوں نے لاش ہی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے سرکار کے سپرد کردی ۔
مذکورہ فوت شدہ ہندو کے ایک قریبی رشتہ دار سرکشت پٹیل کا کہناتھا کہ شمشان گھاٹ میں لاش جل رہی تھی کہ لوگ ہمیں پتھر مارنے لگے اور ہمیں جان کی امان پانے کےلیے جلتی ہوئی آگ سے لاش واپس اٹھانی پڑی۔ہم نے ایک کمبل میں لاش کولپیٹا اور ایمبولینس میں ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔
کشمیریت زندہ ہے، دھرم کی سیاست نہ کریں!
موتی لعل بٹ کہتے ہیں کہ اس کے برعکس یہاں مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ ‘ ہم (میں ،میری اہلیہ اور بیٹی)والد کی لاش کے پہلو میں ماتم منا رہے تھے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کس طرح مسلم پڑوسیوں نے تمام انتظامات ہم سے پوچھے بغیر ہی مکمل کیے اور نہ صرف دور کے ایک گاؤں سے ہندو پجاری کو لے آئے بلکہ لاش کو کندھا دیکر شمشان گھاٹ تک پہنچایا اور اُسے سپردِ آتش کرنے میں ہماری مدد کی۔
موتی لعل کہتے ہیں کہ یہ سب کشمیر میں ہی ممکن ہے کیونکہ یہاں انسانیت اور کشمیریت زندہ ہے اور اُنہیں اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخر ہے۔ ‘ہم مٹھی بھرپنڈت (ہندو ) جنہوں نے رواں نامساعد حالات کے آغاز میں ہجرت کرنے کی بجائے کشمیر میں ہی اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، یہاں بنا کسی ڈر اور پابندی کے مندروں میں جاکر پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں اور اپنے طریقے سے تہوار بھی مناتے ہیں۔
موتی لعل مذہب کی سیاست کرنے والوں سے نالاں نظر آئے ۔’دھرم کی سیاست کرکے منافرت پھیلانے والوں کو کشمیری مسلمانوں کی انسانیت اور کشمیریت سے سبق سیکھنا چاہیے اور کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ کشمیری انسانیت اور اخوت کے علم بردار ہیں۔
احسان نہیں، بس انسانی فریضہ
موتی لعل کی طرح ہی جون کے دوسرے ہفتے میں سرینگر سے 70کلو دور میٹر دور شمالی ضلع بانڈی پورہ کے کلوسہ گاؤں میں بھی ایک بزرگ کشمیری پنڈت خاتون رانی بٹ کا انتقال ہوا۔مذکورہ گاؤں میں چونکہ اب گنتی کے چند ہندو گھرانے رہائش پذیر ہیں تو مقامی مسلم برادری نے کرونا کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہندو پڑوسی کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
خاموشیوں میں ڈوبی کشمیر کی ڈل جھیل
فوت شدہ خاتون کے فرزندڈاکٹر روی کمار بٹ، جو کشمیر یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار بھی ہیں اورنوکری کے سلسلے میں سرینگر میں مقیم ہیں ، والدہ کی موت کے وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔جب تک روی کمار بٹ سرینگر سے کلوسہ پہنچتے، اس دوران مسلم پڑوسیوں نے سارے انتظامات کر دیےتھے جس کا اعتراف خود روی کماربھی کرتے ہیں۔اُن کا کہناتھا ‘میری ڈیوٹی سرینگر میں ہے ۔میری والدہ کے انتقال کے وقت سب سے پہلے ہمارے مسلم پڑوسی پہنچے۔انہوں نے سب کچھ کرکے رکھا تھا،ہمیں کچھ نہیں کرناپڑا۔
تاہم گاؤں کے مسلم رہائشی اس کو کوئی احسان نہیں مانتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک انہوں نے بس حق ادا کیا۔ پیشے سے ایک کمپیوٹر ٹیچر کلوسہ گاؤں کے ایک مقامی مسلم نوجوان وسیم احمد آہنگر سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ کرونا وبا میں بھی انہیں کون سی چیز ہندو خاتون کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے آمادہ کرگئی تو اُن کا کہنا تھا کہ’ ہم نے اپنا جان کران کی مدد کی،جیسے ہمارے گھروں میں کسی کی موت ہوجاتی ہے تو ہم سب مل جاتے ہیں،اسی طرح یہاں بھی ہم کرونا کا سوچے بغیر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
وسیم کہتے ہیں کہ ’اسلام ہمیں غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور ہم اسی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہوتے ہیں۔
کشمیر سے دنیا کے لیے اخوت کا پیغام
یہ محض ان دو اموات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے بعد مزید دو کشمیری ہندو فوت ہوگئے اور ان کی آخری رسومات میں بھی مقامی مسلم برادری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ کشمیری مسلم لاکھ اشتعال انگیزیوں کے باوجود اسلام کے آفاقی پیغام پر نہ صرف عمل پیرا ہیں بلکہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔
مقامی سماجی کارکن اور قلم کارشیخ قوام الدین شلوتھی کہتے ہیں کہ کشمیر ی مسلمانوں نے مقامی ہندؤں کی آخری رسومات میں شرکت کرکے بھائی چارے ،انسانیت اور اخوت کامظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کردیاکہ کشمیری انسان دوستی میں یقین رکھتے ہیں۔
ایک ایسے وقت جب امریکہ میں ایک افریقی نژاد سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کا سفید فام امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے، بھارت کے مختلف شہروں میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیاجارہا ہے،جموں میں ہندو برادری کے لوگ کرونا سے فوت ہوچکے اپنے ہندو بھائیوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں،کشمیری مسلمانوں نے اپنے ہندو پڑوسیوں کی آخری رسومات ادا کرکے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ انسانیت کے رشتے میں ہم سب بھائی بھائی ہیں اور ہمیں رنگ و نسل اورمذہب کی بنیاد پر انسانوں کو باہم لڑانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کے ابدی رشتے میں بندھنا چاہیے تاکہ یہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔
(بشکریہ انڈپنڈنٹ اردو)
سبزار احمد بٹ۔اویل نورآباد ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت زاغ وادئ کشمیر کو اولیائے کرام سر زمین کہا جاتا ہے جہاں پر بڑے بڑے ریشیوں، ولیوں اور سنتوں نے جنم دیا ہے اس سر زمین سے برائی کو ختم کرنے کے لیے بے شمار قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا گیا اور ان اولیائے کرام نے اس کشمیر میں اعلیٰ اقدار اور انسانی قدروں کو بازیافت کرنے کے لیے کوئی قصر باقی نہیں چھوڑی نہ جانے ارباب اقتدار کیوں ان سب برائیوں کو پھر سے وارد کشمیر کرنا چاہتے ہیں خاص کر شراب جیسی بری اور ناکارہ شئےکو شراب کو دنیا کے تقریباً تمام مذاہب نے حرام قرار دیا ہے مذہبِ اسلام نے تو ہر نشہ دلانے والی شئے کو حرام قرار دیا ہے اسلام اپنے ماننے والوں کو پاک باز، راست باز، با حیا اور نیک صفات سے لبریز دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شراب انسان کو بے حیا، بزدل بے عقل اور رزیل بنا دیتا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں شراب پر مکمل پابندی عائد ہے شراب کو عربی میں خمر کہتے ہیں جس کے معنی ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ ڈالنا شراب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کے حوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں اور انسان بالکل حواس باختہ ہو جاتا ہے ایسے میں انسان سچ اور جھوٹ، حق اور باطل یہاں تک کہ رشتوں کی پہچان کھو دیتا ہے شراب سے انسان اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے اور اللہ کے احکام کی تکمیل کے بجائے اللہ رب العزت سے روگردانی کرتا ہے اور اللہ رب العزت کا باغی بن بیٹھتا ہے اسلام نے شراب پینے اور پلانے والے کے ساتھ ساتھ شراب سے منسلک دس لوگوں پر لعنت کی ہے چاہیے وہ کسی بھی طرح سے اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہوں یا کسی بھی طرح سے اس کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہوں اس کا کاروبار کرنے والوں کی کمائی بھی حرام ہے شراب کی بہت کم مقدار چاہے دوا کے لیے ہی کیوں نہ استعمال ہو حرام اور قطعاً حرام ہے سائنس کی مانیں تو شراب بہت بری اور خطرناک شئےہے اس سے انسان کے گردے اور پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان بزدل بن جاتا ہے لیکن نہ جانے ملک کے اربابِ اقتدار کو اس بری شئےسے محبت کیوں ہے حیرت کی بات ہے کہ جب پوری دنیا میں لاک ڈاون نافذالعمل تھا ملک کی تمام عبادت گاہیں، کاروباری ادارے اور ملک کے تمام تر تعلیمی ادارے کورونا کی وجہ سے بند تھے ایسے میں ملک کی مختلف ریاستوں میں شراب کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جو کسی بھی اعتبار سے صحیح فیصلہ نہیں تھا کیونکہ شراب کو فروغ دینا ملک کے نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا اور ذہنی مریض بنانے کے مترادف ہوگا کوئی انسان چاہیے کسی بھی مذہب کو ماننے والا ہو شراب سے دور رہنے میں ہی اس کی عافیت اور بھلائی ہے شراب کسی مرض کی دوا نہیں ہے بلکہ شراب کے صرف نقصانات ہی نقصانات ہیں قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں
اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت؛کے تیر) ناپاک ہی ہیں،شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔(سورۂ مآئدہ:آیت۹۰
حدیث شریف میں فرمایا گیا ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔
ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلاۃوالسلام نے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے
مذکورہ آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب مکمل طور پر حرام ہے اس لیے پوری دنیا خصوصاً مسلمان نوجوانوں کو شراب سے پرہیز کرنا چاہیے اور سرکار کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی باقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے اور ملک کو شراب جیسی بدعت سے آزاد کرنا چاہیےلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جموں کشمیر انتظامیہ خطے میں شراب پر پابندی عائد کرنے کے بجائے شراب کی دکانیں کھولنے کے لیے اجازت نامے (لائسنز) اجرا کرنے میں لگی ہوئی ہے وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایسا ریاست کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن ایسا نوجوان نسل کو داؤ پر لگا کر اور انہیں ذہنی مریض بنا کر نہیں کیا جا سکتا ہے ایسا کرنا اس مسلم اکثریت والے علاقے کے لوگوں کے لیے سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اسے مذہبی معملات میں مداخلت سے تعبیر کیا جائے گا اولیاؤں کی اس وادی کو کیوں شراب جیسی گندی چیز سے ناپاک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس فیصلے پر کشمیر کے علما اور سول سوسائٹی نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر ایسا فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس کے بیانک نتائج نکلیں گے جموں کشمیر کو جدید ہسپتالوں، تعلیم اداروں، بجلی پانی اور سڑکوں کی ضرورت ہے نہ کہ شراب خانوں کی. جموں و کشمیر کے لوگ انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عوام مخالف فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہیے اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو لوگوں کا انتظامیہ پر سے اعتبار ختم ہو جائے گا آخر کیا ضرورت ہے ایسا کرنے کی وہ بھی ایسے نازک موقع پر جب پوری دنیا کورونا سے نمٹنے میں لگی ہے
میں جموں و کشمیر کے عوام سے خاص کر نوجوانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ اس چیز سے دور رہیں کیونکہ جس چیز کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے حرام اور بیماری قرار دیا وہ کسی بھی صورت میں دوا نہیں ہو سکتی ہے لہذا ہمیں اس بیماری سے دور رہنا چاہیے تاکہ ہماری نئی پود بھی اس لعنت سے دور رہے والدین سے بھی استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو اس دلدل سے بچائیں اور والدین ہونے کا حق ادا کریں ورہ ہم اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہو جائیں گے اور اللہ ہم سے ناراض ہو جائیں گے وہ ناراضگی پھر عزاب الٰہی کی وجہ بن جائے گی اگر کسی نوجوان سے ایسی حماقت ہوئی ہو کہ اس نے خدانخواستہ شراب پی ہو تو فوراً اللہ کے حضور معافی طلب کر لینی چاہیے اللہ بے شک رحیم اور معاف کرنے والا ہے یہ ہمارے لیے امتحان کا وقت ہے ہمیں ثابت قدم رہنا ہے اور اپنے اللہ اور اس کے رسول اکرم کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس بدعت سے دور رہنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ہم پر ناز ہو کہ ان کے اجداد اس امتحان میں سرخرو ہو گیے ایسے موقع پر ہمیں ڈگمگانا نہیں ہے ورنہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہماری نئی پود کو بھگتنا پڑے گا بقولِ شاعر یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی
افتخار گیلانی جموں و کشمیر کا دور افتادوہ اور پسماندہ لداخ خطہ ، جہاں اسوقت چینی اور بھارتی فوج برسرپیکار ہے۔ ایک صدی قبل تک خاصا متمول اور متحدہ ہندوستان ، تبت، چین ، ترکستان و وسط ایشیا کی ایک اہم گذرگاہ تھا۔ خوبصورت ارضیاتی خدو خال، حد نگاہ تک رنگ برنگے اونچے پہاڑ، بنجر اور ویران لمبے چوڑے میدان، خاصی حد تک پاکستانی صوبہ بلوچستان سے مماثل ہیں۔ پچھلے سال اگست میں بھارت نے اس خطہ کو جموں و کشمیرسے الگ کرکے ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام کر دیا۔ دو ضلعوں لہیہ اور کرگل پر مشتمل اس خطے کا رقبہ نقشہ پر 97,872مربع کلومیٹر ہے۔ مگر اکسائی چن علاقہ کے چین کے زیر تصرف ہونے کی وجہ سے اصل رقبہ صرف 58,321مربع کلومیٹر ہی ہے۔ اکثر لکھاری اس خطے کو بدھ اکثریتی علاقہ گردانتے ہیں جبکہ 2011ءکی مردم شماری کے مطابق اس خطے کی دو لاکھ 74ہزار کی آبادی میں 46.40فیصد مسلمان اور 39.65فیصدبدھ مت کے پیروکار ہیں۔ اس خطے کی نامور شخصیت اور تاریخ دان عبدالغنی شیخ کے مطابق یہ علاقہ ایک صدی قبل تک دنیا سے اس قدر جڑا تھا ، کہ ترکی یہاں کی دوسری زبان تھی۔ 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل تک یہ علاقہ برطانیہ، چین اور روس کی چپقلش کا مرکز رہا۔ تاجروں، سیاحوں، جاسوسوں اور سپاہیوں کیلئے ترکستان یعنی سنکیانگ کے شہروں یارقند، خوتان اور کاشغر کے سفر کیلئے لداخ ایک اہم زمینی رابط تھا۔ لیہہ شہر میں بدھ خانقاہ نمگیال سیمو گمپا اور اس سے کچھ فاصلے پر تاریخی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے معمر افراد ترکستان کو یاد کرتے رہتے ہیں۔لداخی محقق ریچن ڈولما کے مطابق کشمیر کی طرح لداخ بھی 20 ویں صدی میں وقوع پذیر سیاسی واقعات کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خطے کی بقا ،ترقی ، اور عظمت رفتہ کی بحالی کا دارومدار قراقرم کے بند دروں کو دوبارہ تجارت اور راہداری کیلئے کھولنے میں ہی مضمر ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ اس خطے کے بلند و بالا پہاڑوں سے ہوکر گذرتی تھی۔ چین کے ذریعے 1949ءمیں مشرقی ترکستان یعنی سنکیانگ پر اور پھر 1950ءمیں تبت پر قبضہ کے بعد آہنی دیوار کھڑا کرنے سے راہداریاں بند ہوگئیں۔ مگر سب سے زیادہ نقصان 1947ءمیں تقسیم ہند اور تنازع کشمیر کی وجہ سے خطے میں پیدا ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہوا۔ 1962ءکی بھارت چین جنگ سمیت، یہ خطہ پانچ جنگیں جھیل چکا ہے۔بھارت کی پاکستان اور چین کے ساتھ چپقلش نے اس پورے خطے کے تاریخی روابط منقطع کروا کے اسکو غریبی اور افلاس میں دھکیل کر رکھ دیا ہے۔ نویں صدی کی ایک فارسی قلمی دستاویز حدود عالم کے بقول وسط ایشیاءکے جو لوگ حج پر جاتے تھے ،لداخ ان کیلئے ایک اہم پڑاؤ ہوتا تھا، ان روابط کی وجہ سے ترک زبان رابطہ کے ایک ذریعہ کے بطور رائج ہوگئی تھی۔ خود لداخی زبان میں کئی ترک الفاظ داخل ہوگئے۔ ترک تاجروں نے لداخ میں سکونت اختیار کرکے کشمیری اور لداخی عورتوں سے شادیا ں کی۔ ان کی نسل کو ارغون کہتے ہیں۔ دیگر نسلوں میں یہاں مون، منگول اور درد قابل ذکر ہیں۔ 90ءکی دہائی تک لداخ میں مسلم اور بدھ آبادی میں خاصا باہمی میل جول تھا۔ فرقہ وارانہ منافرت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔مغل دور میں لداخ کے باج گذار نمگیال خاندان کے فرمانروا خطوط و سکوں پر محمود شاہ یا اسی طرح کے مسلمان ناموں سے اپنے آپ کو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ لداخی بدھ البتہ ڈوگرہ ہندوؤں کے تئیں خلش رکھتے تھے۔ وہ یہ بھول نہیں پار ہے تھے کہ جب 1841ءمیں ڈوگرہ جنرل زور آور سنگھ نے لداخ پر فوج کشی کی تو ان کی عبادت گاہوں کو اصطبل بناکر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ مگر جو ں جوں بھارتی سیاست کے عنصر لداخ میں پروان چڑھتے گئے، دونوں فرقوں کے درمیان محاذ آرائی بھی شروع ہوگئی۔ بدھ فرقہ کو بتایا گیا کہ ان کی پسماندگی کی وجہ سرینگر کے حکمران ہیں۔ چونکہ پوری ریاست میں ان کی آبادی سکھوں سے بھی کم یعنی 0.89فیصد تھی، تو ان کا مجموعی سیاسی وزن بھی کم تھا۔ اسلئے 90ءکے اوائل میں یہاں کی بد ھ آبادی نے اس خطے کو کشمیر سے الگ کرنے اور مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنانے کیلئے ایجی ٹیشن شروع کی۔ مسلمانوں نے اسکی جم کر مخالفت کی۔ اس کے رد عمل میں بد ھ تنظیموں نے مسلمانوں کے سوشل بائیکاٹ کی کال دی ، جو 1994ءتک جاری رہا۔یہ شاید دنیا کی تاریخ میں کسی بھی فرقہ کے خلاف طویل ترین بائیکاٹ ہوگا۔
لداخ کا خطہ کئی عجیب و غریب رسم و رواج کی وجہ سے بھی خاصا مشہور ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اب معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ پورے خطے میں زرعی زمین کا رقبہ محض 620مربع کلومیٹر ہے۔کئی دیگر رسوم بدھ کلچر کا حصہ ہیں۔ خطے کے روابط منقطع ہونے کا سب سے زیادہ نقصان مسلم اکثریتی کرگل ضلع کو اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بھارت پاکستان جنگوں میں اس ضلع کے کئی دیہات کبھی ادھر تو کبھی ادھر چلے آتے تھے۔ 1999ءکی کرگل جنگ کے بعد جب دیہاتوں کی سرکاری طور پر پیمائش وغیرہ کی گئی، تو معلوم ہوا کہ ترتک علاقے کے کئی دیہات تو سرکاری ریکارڈ میں ہی نہیں ہیں۔ اس لیے2001کی مردم شماری میں پہلی بار معلوم ہوا کہ لداخ خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 47فیصد ہے اور بدھ آبادی سے زیاد ہ ہے۔ورنہ اس سے قبل اس خطے کو بدھ اکثریتی علاقہ مانا جاتا تھا اور اکثر لکھاری ابھی بھی پرانے اعداد شمار کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ کرگل اسکردو تحصیل کا حصہ ہوتا تھا۔ اس لیے یہاں کی زمینوں و جائیداد کے ریکارڈ ابھی بھی اسکردو کے محافظ خانے میں موجود ہیں۔ لداخ کو باقی دنیا سے ملانے والے دو راستے سرینگر کی طرف زوجیلا درہ اور ہماچل پردیش کی طرف روہتانگ درہ چھ ماہ کےلئے بند ہوجاتے ہیں۔ کرگل اسکردو کے درمیان 192کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور یہ پورا سال کھلا رہتا تھا۔ نوبرہ میں کھردنگلہ کے مقام سے کاشغر، خوتان اور یارقند کو جانے والے راستے بھی مسافروں اور قافلوں کا پچھلی کئی دہائیوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ نوبرا وادی میں وسط ایشیا اور دشت گوبی کی پہچان یعنی دو اونٹ والے کوہان ملتے ہیں، گو کہ ان کی آبادی اب خاصی کم ہو گئی ہے چند برس قبل سلیم بیگ، عبدالغنی شیخ اور لیہہ میں مقیم کئی احباب نے تاریخی سا سوما مسجد کی تجدید و تزوین کرکے اس کے متصل تین منزلہ میوزم بنایا۔ یہ میوزیم اس خطے کے ترکستان اور وسط ایشیاءکے درمیان تاریخی روابط کا شاہکار ہے۔ترک ارغون خاندانوں نے نوادرات و مخطوطات کا ایک خاصا بڑا ذخیرہ اس میوزیم کی نذر کیا۔ قدیمی یارقندی قالین، اور کئی مخطوطات جامع مسجد سے یہاں منتقل کئے گئے۔ 17ویں صدی میں جب اس مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔ مسجد کا فرش ترک تاجروں نے فراہم کیاتھا۔فی الوقت چینی اور ہندوستانی فوجوں کے کشمکش کا مرکز گلوان وادی بھی ایک ترک ارغون غلام رسول گلوان کے نام سے موسوم ہے، جو ایڈونچر کے شوقین برطانوی سیاحوں کےلئے گائیڈ کا کام کرتے تھے۔ 1892ءمیں ایرل آف ڈیمور کی قیادت میں سیاحوں کے قافلہ کو جب و ہ گائیڈ کر رہے تھے، تو یہ قافلہ برفانی طوفان میں گھر کر بھٹک گیا۔ اپنی کتاب ”لداخ کی تہذیب و ثقافت“میں عبدالغنی شیخ لکھتے ہیں کہ گلوان نے متبادل راستے کو دریافت کرکے اس قافلہ کو صحیح وسلامت منزل تک پہنچایا۔ایرل آف ڈیمور نے اس وادی، جس کو انہوں نے دریافت کیا تھا، گلوان کے نام سے موسوم کیا۔ اسی طرح دولت بیگ الدائی کا وسیع و عریض میدان ترک سردار سلطا ن سعید خان المعروف دولت بیگ کے نام سے موسوم ہے۔
افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔ پوری آبادی اب ایک الگ تھلگ اور ایک کونے میں زندگی گذارنے سے عاجز آچکی ہے۔جب لداخ کو کشمیر سے الگ کیا گیا، تو سرکاری ملازمت اور پولیس میں لداخ کے مکینوں کو لیہہ اور کرگل پوسٹنگ کے لیے بھیجا گیا، تو تقریباً سبھی نے جانے سے انکار کردیا۔ زور زبردستی سے ان کو اس مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے کیڈر میں شامل کیا گیا۔ لداخی محقق ڈولما کے مطابق ہندوستان، چین اور پاکستان لداخ کی تزویراتی افادیت کو تسلیم تو کرتے ہیں، مگر فوجی نقطہ نظر سے آگے نہیں دیکھ پاتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ خط ایک بار پھر تجارت، روابط اور تہذیبوں کے ملن کا مرکزبن سکے۔ اس کےلئے اشد ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی پر امن حل تلاش کیا جائے تاکہ اس خطے کو کشیدگی سے نجات حاصل ہو اور یہ ایک بار پھر مسکراہٹوں اور آسودگی کا گہوارہ بنے۔
(بشکریہ: دی وائر اردو)
سرینگر22جون/چین کی جانب سے فنگر چار سے فنگر آٹھ تک فوجی جماؤ میں اضافہ اور ہتھیار پہنچانے کے بعدبھارت کی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جہاں ہوائی فوج کی جانب سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹروں جہازوں کے ذریعے سرحدوں کی نگرانی کی جارہی ہے وہی اس بات کاانکشاف بھی ہوا ہے کہ آ نے والے 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کے فوجی سربراہ لداخ کادورہ کرینگے اور اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ میٹنگ کے دوران صورتحال پرتبادلہ خیال کرینگے فوجی سربراہ کے دورہ لداخ کوانتہائی اہمت کاحامل قراردیاجارہے ا ور وزارت داخلہ کی بھی لداخ کے معاملے پرمیٹنگ منعقد ہوئی جس میں کئی طرح کے فیصلے لئے گئے ۔اطلاعات کے مطابق بھارت چین کے مابین کشیدگی اور تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے اور ہر آنے والالمحہ نازک سے نازک ہوتاجارہاہے ۔لداخ سے جواطلاعات موصول ہورہی ہے ان کے مطابق فنگرفور سے فنگر آٹھ تک چینی لبریشن آرمی کی جانب سے جنگی ماحول قائم کیاجا رہاہے اورچین نے نہ صرف مزیدفوج گلوان وادی منتقل کیاہے بلکہ جدید ہتھیار ٹوپ خانے لڑاکہ طیارے جنگی ہیلی کاپٹر اورجدیدٹینک بھی علاقے میںپہنچادیئے ہے چین کی اس تیاری کودیکھ کر بھارت کی فوجی سرگرمیوں میںبھی اچھاخاصہ اضا فہ ہوا ہے ہوائی فوج کی جانب سے سفوئی جہازوں امریکہ سے حاصل کی گئی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چین کے ساتھ لگنے والی ایکچول لائن آف کنٹرو ل کی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ بوفورس اورجن ٹینک اوردوسراسازوسامان بھی لداح کی گلوان وادی میںپہنچایاجارہاہے ۔بھار ت چین کے درمیان ہرلمحہ نازک سے نازک ہوتا جارہاے تزبزب کی کیفیت بدستورجاری ہے۔ ادھراس بات کاانکشاف ہو اہے کہ فوجی سربراہ اگلے 24گھنٹوں کے دوران لداخ کادورہ کر رہے ہے جہاں وہ فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کے دوران صورتحال کاجائزہ اور چینی لبریشن آرمی سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گیئے ا قدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کرینگے ۔ دریں اثناء وزیرداخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں بھی نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جسکے دوران لداخ کی موجودہ صورتحال کاجائزہ لیاگیااور آئیندہ اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میںجانکاری حاصل کرنے کے علاوہ فورسز کودرپیش مشکلات کے ازالے کے خاطر اٹھائے جانے والے اقدامات کوبھی آخری شکل دئے دی گئی وزارت دااخلہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین بھار ت کے درمیان کشیدگی کے معاملے پروزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جس میںمختلف معاملات زیرغور لائیگے اور کئی اہم نوعیت کے فیصلے بھی لئے گئے جنہیں منظرعام پرلانا قوائدوضوابط کی خلاف ورزی ہے ۔اے پی آئی
سرینگر ؍22،جون؍چین کے شہر ووہان سے پُراسرار طور نمو دار ہوئے پوشیدہ قاتل وائرس نے پوری طرح سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جبکہ جموں وکشمیر بھی اس عالمگیر وبا سے کافی متاثر ہے ۔اس دوران پلوامہ کا 65سالہ شہری اور کوکرناگ کا 58سالہ شہری کی کورونا وائر س سے موت ہوگئی ،جس کے ساتھ ہی اس وائر س سے مرنے والے افراد کی85ہوگئی جن میں 75ہلاکتیں وادی میں ہوئیں ۔ادھر سرینگر کے65سالہ شہری کی دہلی میں کورونا سے موت ہوئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ کا ایک65سالہ شہری ،جو کورونا وائرس میں مبتلاء تھا، سوموار کے روز جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق کاکا پورہ، پلوامہ کا رہنے والا شہری صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری کے مطابق نمونیا میں مبتلاء تھا جسے21جون کو اسپتال میں داخل کرایا گیاجہاں وہ جاں بحق ہوگیا اور اس کا کورونا ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگیا۔جموں کشمیر میں ابھی تک کورونا سے54افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں75وادی کشمیر جبکہ10صوبہ جموں میں جاں بحق ہوئے ہیں۔اس دوران کوکرناگ کا 58سالہ شہری کی سی ڈی اسپتال سرینگر میں کورو نا وائرس سے موت ہوگئی ۔سی ڈی اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے بتایا کہ58سالہ شہری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا جسے جی ایم سی اننت ناگ سے19جون کو بعد دوپہر منتقل کیا گیا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا اور وہ تھائی رائیڈ اور نمونیا میں مبتلاء تھا ۔وادی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع سرینگر میں ہوئیں جن کی تعداد19ہے۔بارہمولہ ضلع دوسرے نمبر پرہے ،یہاں13ہلاکتیں ہوئیں ،شوپیان اور کولگام میں 10،10،جموں میں 7،بڈگام میں6،، اننت ناگ میں6، کپوارہ میں5ہلاکتیں ہوئیں ،پلوامہ میں 4،بانڈی پورہ ،ڈوڈہ،ادھمپور اور راجوری میںایک ،ایک ہلاکت ہوئی۔ ادھر ایک میڈیا رپورٹ سرینگر سے تعلق رکھنے والا 65سالہ شہری کی دہلی میں موت ہوئی ۔رپورٹ کے مطابق سرینگر کے مذکورہ شہری کی کووڈ ۔19سے موت ہوگئی ہے ۔اہلخانہ کے مطابق مذکورہ شہری امرتسر طبی معائینہ کیلئے گئے ہوئے تھے ،جہاں اُس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ۔وہاں سے وہ دہلی مزید علاج ومعالجہ کیلئے پہنچے ،جہاں اُس نے سینے میں درد کی شکایت کی ۔مذکورہ شہری کی نریندر ا موہن اسپتال واقع غازی آباد میں موت ہوگئی ۔( کے این ایس)