ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کشمیر: جب مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کی آخری رسومات ادا کیں

   76 Views   |      |   Wednesday, September, 23, 2020

تحریر : ریاض ملک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے 70 کلو میٹر جنوب میں واقع بوچھو ترال نامی مسلم بستی میں اپنی اہلیہ اور جواں سال بیٹی کے ساتھ رہائش پذیرواحد کشمیری پنڈت (ہندو) موتی لعل بٹ کو اطمینان حاصل ہے کہ انہوں نے نوے کی دہائی میں دیگر کشمیری پنڈتوں کی طرح آبائی نقل مکانی کرکے جموں کے تپتے ریگ زاروں کو اپنا مسکن نہیں بنایا۔
مسلم پڑوسیوں کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھنے والے سبکدوش سرکاری استاد موتی لعل اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخرکرتے ہیں۔ سینکڑوں کنبوں پر مشتمل اس بڑے گاؤں میں واحد ہندو گھرانہ ہونے کے باوجود موتی لعل، ان کی اہلیہ رتنا بٹ اور بیٹی دشا بٹ یونہی مسرور نہیں ہیں۔
دراصل کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے دوران جہاں ان کے مسلم پڑوسیوں نے کبھی انہیں عدم تحفظ یا تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا، وہیں تحفظ اور اپنائیت کا یہ احساس گذشتہ دنوں اُس وقت کامل ہوگیا جب موتی لعل کے 92سالہ معمر ترین والد جگن ناتھ بٹ کا انتقال ہوگیا تو مسلم پڑوسیوں نے کرونا وائرس کی پرواہ کیے بغیر اُن کی آخری رسومات ادا کیں۔
حالتِ ماتم میں خوشگوار احساس
موتی لعل اُس احساس کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہیں جو اُنہیں اُسی غمی کے ماحول میں مسلم پڑوسیوں کی جانب سے ہوا کے خوشگوار جھونکوں کی طرح ملا۔
97 برس قدیم کشمیر ی فنِ تعمیرکے نایاب نمونے کی حیثیت رکھنے والے اپنے گھر کے ایک کمرے میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے موتی لعل نے کہا: ‘ میرے والد کچھ عرصے سے علیل تھے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی فوت ہوسکتے ہیں۔ چونکہ کرونا وائرس عروج پر تھا تو میری بیٹی اپنی والدہ سے کہتی تھی کہ جب دادا کا انتقال ہوگا تو رونا نہیں کیونکہ یہاں کوئی چپ کرانے بھی نہیں آئے گا لیکن پھر جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو چشمِ فلک نے دیکھ لیا کہ کس طرح سینکڑوں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے کوئی خطرہ کھائے بغیراپنی جان خطرے میں ڈال کراُن کی آخری رسومات ادا کرنے میں ہماری مدد کی۔
اپنوں کی بے اعتنائی
اُن کا کہنا تھا: ‘انہی دنوں کشمیر سے ہجرت کرچکے ایک بزرگ پنڈت کی کرونا سے جموں میں موت واقع ہوئی ۔اُن کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تو دور کی بات، اُن کی لاش کو اپنی ہندوبرادری کے لوگوں نے شمشان گھاٹ میں جلانے نہیں دیااور مجبوراً ان کے اہل خانہ کو لاش کسی ویرانے میں لے جانا پڑی، جہاں بے سرو سامانی کی حالت میں آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران دم گھٹنے سے ان کے دو بھتیجوں کی موت واقع ہوئی جبکہ اُن کا اپنا بیٹا ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
مذکورہ مہاجر کشمیری پنڈت وہ اکیلے آدمی نہیں تھے جن کی لاش کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا بلکہ جموں صوبے کے ہی پہاڑی ضلع ڈوڈہ کے ایک ہندو جب گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں کرونا کی وجہ سے فوت ہوئے تو سرکار کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود بھی ان کی لاش کو نہ صرف یہ کہ شمشان گھاٹ پر جلانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُن پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
واقعے کے عینی شاہد ایک ہندو نوجوان رضاکار امت کٹوچ کا اس ضمن میں کہناتھا کہ حکومت نے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے دمانہ(جموں) میں شمشان گھاٹ دیالیکن جونہی ہم لاش لے کر وہاں پہنچے تو وہاں دو تین سو لوگ جمع ہوگئے، جنہوں نے ہمیں مارنا شروع کردیاجس کی وجہ سے ہم نے جلتی ہوئی لاش کو دوبارہ پیک کیے بغیر ایمبولینس میں ڈالا اور میڈیکل کالج واپس لے آئے۔ ‘
کرونا وبا سے پیدا ہوئی کچھ غلط فہمیوں اور خوف کی وجہ سے اپنی ہی برادری کے لوگوں کے ایسے سلوک سے متوفی کے رشتہ دار اتنے دل برداشتہ ہوگئے کہ انہوں نے لاش ہی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے سرکار کے سپرد کردی ۔
مذکورہ فوت شدہ ہندو کے ایک قریبی رشتہ دار سرکشت پٹیل کا کہناتھا کہ شمشان گھاٹ میں لاش جل رہی تھی کہ لوگ ہمیں پتھر مارنے لگے اور ہمیں جان کی امان پانے کےلیے جلتی ہوئی آگ سے لاش واپس اٹھانی پڑی۔ہم نے ایک کمبل میں لاش کولپیٹا اور ایمبولینس میں ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔
کشمیریت زندہ ہے، دھرم کی سیاست نہ کریں!
موتی لعل بٹ کہتے ہیں کہ اس کے برعکس یہاں مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ ‘ ہم (میں ،میری اہلیہ اور بیٹی)والد کی لاش کے پہلو میں ماتم منا رہے تھے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کس طرح مسلم پڑوسیوں نے تمام انتظامات ہم سے پوچھے بغیر ہی مکمل کیے اور نہ صرف دور کے ایک گاؤں سے ہندو پجاری کو لے آئے بلکہ لاش کو کندھا دیکر شمشان گھاٹ تک پہنچایا اور اُسے سپردِ آتش کرنے میں ہماری مدد کی۔
موتی لعل کہتے ہیں کہ یہ سب کشمیر میں ہی ممکن ہے کیونکہ یہاں انسانیت اور کشمیریت زندہ ہے اور اُنہیں اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخر ہے۔ ‘ہم مٹھی بھرپنڈت (ہندو ) جنہوں نے رواں نامساعد حالات کے آغاز میں ہجرت کرنے کی بجائے کشمیر میں ہی اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، یہاں بنا کسی ڈر اور پابندی کے مندروں میں جاکر پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں اور اپنے طریقے سے تہوار بھی مناتے ہیں۔
موتی لعل مذہب کی سیاست کرنے والوں سے نالاں نظر آئے ۔’دھرم کی سیاست کرکے منافرت پھیلانے والوں کو کشمیری مسلمانوں کی انسانیت اور کشمیریت سے سبق سیکھنا چاہیے اور کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ کشمیری انسانیت اور اخوت کے علم بردار ہیں۔
احسان نہیں، بس انسانی فریضہ
موتی لعل کی طرح ہی جون کے دوسرے ہفتے میں سرینگر سے 70کلو دور میٹر دور شمالی ضلع بانڈی پورہ کے کلوسہ گاؤں میں بھی ایک بزرگ کشمیری پنڈت خاتون رانی بٹ کا انتقال ہوا۔مذکورہ گاؤں میں چونکہ اب گنتی کے چند ہندو گھرانے رہائش پذیر ہیں تو مقامی مسلم برادری نے کرونا کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہندو پڑوسی کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
خاموشیوں میں ڈوبی کشمیر کی ڈل جھیل
فوت شدہ خاتون کے فرزندڈاکٹر روی کمار بٹ، جو کشمیر یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار بھی ہیں اورنوکری کے سلسلے میں سرینگر میں مقیم ہیں ، والدہ کی موت کے وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔جب تک روی کمار بٹ سرینگر سے کلوسہ پہنچتے، اس دوران مسلم پڑوسیوں نے سارے انتظامات کر دیےتھے جس کا اعتراف خود روی کماربھی کرتے ہیں۔اُن کا کہناتھا ‘میری ڈیوٹی سرینگر میں ہے ۔میری والدہ کے انتقال کے وقت سب سے پہلے ہمارے مسلم پڑوسی پہنچے۔انہوں نے سب کچھ کرکے رکھا تھا،ہمیں کچھ نہیں کرناپڑا۔
تاہم گاؤں کے مسلم رہائشی اس کو کوئی احسان نہیں مانتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک انہوں نے بس حق ادا کیا۔ پیشے سے ایک کمپیوٹر ٹیچر کلوسہ گاؤں کے ایک مقامی مسلم نوجوان وسیم احمد آہنگر سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ کرونا وبا میں بھی انہیں کون سی چیز ہندو خاتون کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے آمادہ کرگئی تو اُن کا کہنا تھا کہ’ ہم نے اپنا جان کران کی مدد کی،جیسے ہمارے گھروں میں کسی کی موت ہوجاتی ہے تو ہم سب مل جاتے ہیں،اسی طرح یہاں بھی ہم کرونا کا سوچے بغیر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
وسیم کہتے ہیں کہ ’اسلام ہمیں غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور ہم اسی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہوتے ہیں۔
کشمیر سے دنیا کے لیے اخوت کا پیغام
یہ محض ان دو اموات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے بعد مزید دو کشمیری ہندو فوت ہوگئے اور ان کی آخری رسومات میں بھی مقامی مسلم برادری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ کشمیری مسلم لاکھ اشتعال انگیزیوں کے باوجود اسلام کے آفاقی پیغام پر نہ صرف عمل پیرا ہیں بلکہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔
مقامی سماجی کارکن اور قلم کارشیخ قوام الدین شلوتھی کہتے ہیں کہ کشمیر ی مسلمانوں نے مقامی ہندؤں کی آخری رسومات میں شرکت کرکے بھائی چارے ،انسانیت اور اخوت کامظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کردیاکہ کشمیری انسان دوستی میں یقین رکھتے ہیں۔
ایک ایسے وقت جب امریکہ میں ایک افریقی نژاد سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کا سفید فام امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے، بھارت کے مختلف شہروں میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیاجارہا ہے،جموں میں ہندو برادری کے لوگ کرونا سے فوت ہوچکے اپنے ہندو بھائیوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں،کشمیری مسلمانوں نے اپنے ہندو پڑوسیوں کی آخری رسومات ادا کرکے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ انسانیت کے رشتے میں ہم سب بھائی بھائی ہیں اور ہمیں رنگ و نسل اورمذہب کی بنیاد پر انسانوں کو باہم لڑانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کے ابدی رشتے میں بندھنا چاہیے تاکہ یہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔
(بشکریہ انڈپنڈنٹ اردو)

متعلقہ خبریں

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی ماں لفظ سنتے ہی دنیا بھر کی محبت، ہمدردی، اخوت مٹھاس اور چاشنی سے دل بھر آتا ہے دنیا کی محبت، قربانی، ایثار اور الفت ماں کے آگے یہچ ہے ماں ایسی ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ماں اپنی اچھی اور نیک تربیت سے ایک نئی صدی کا آغاز کر سکتی ہے قوموں کے بننے اور بگڑنے کا دارومدار ماؤں کی تربیت پر ہی منحصر ہوتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ماؤں کی تربیت سے دنیا میں بڑے عالم، عابد، شاعر، مفکر، ادیب اور قلمکار پیدا ہوئے ہیں اللہ کے بعد ماں ہی ایسی ہستی جو اپنے بچے کے دل کا حال سمجھ سکتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ ماں نے اپنے بچے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا ماں محبت اور ایثار کا ایسا سر چشمہ ہے جہاں سے محبت، ایثار اور ہمدردی کے لاتعداد چشمے پھوٹتے ہیں ماں باپ کی اہمیت اور عظمت کو قرآن کریم نے واضح طور پر بیان کیا ہے اللہ رب العزت نے والدین کا ذکر اپنی ذکر کے ساتھ فرمایا
وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِی اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِاالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔
’’اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا کہ) نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔‘‘(البقرہ83)۔
دوسری جگہ ارشادہے:
وَعْبُدُواللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْ بِہٖ شَیْئاً وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً ۔
’’اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کونہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔ ‘‘(النساء36)۔
قرآن مجید میں اللہ پاک نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارے ماں باپ میں سے کسی ایک کو تم پڑھاپے میں پاؤ تو انہیں اُف تک مت کہو اس بات سے بھی ماں باپ کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جہاں ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت انسان کو جنت تک لے جا سکتی ہے وہاں والدین کی نافرمانی جہنم کا ذریعہ بن سکتی ہے ماں باپ کی عظمت اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی شان کے ساتھ والدین کی شان کو بیان کیا ہے دنیا میں وہی لوگ کامیاب اور کامران ہوتے ہیں جو ماں باپ کی خدمت اور عزت و احترام کرتے ہیں اور جو لوگ ماں باپ کی قدرو منزلت نہیں سمجھتے ہیں وہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا ہے ماں ایک ایسی ہستی جس کی دعا بچوں کے حق میں رد نہیں ہوتی اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقع ہے کہ
حضرت موسٰی علیہ السلام کو الله تعالیٰ نے فرمایا کے پہاڑ پر احتیاط سے چڑھا کرو حضرت موسٰی علیہ السلام نے کہا میں اکثر کوہ طور پر چڑھتا ہوں، اللہ تعالی نے کہا کہ پہلے تمہاری ماں زندہ تھی جو تمہارے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے رکھتی تھی جو اب نہیں ہے اس واقعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ماں کہ دعاؤں میں کتنا اثر ہوتا ہے لہزا ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی گھر سے کسی کام کے لیے نکلیں ماں باپ سے اجازت لے کر ہی نکلیں تاکہ ماں کے دل سے ہمارے لیے دعا نکلے بقول شاعر
ابھی ماں میری زندہ ہے مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے حضور  کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا :یا رسول اللہ !سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت (خیر خواہی) کروں؟ فرمایا: تیری ماں ۔عرض کیا پھر؟فرمایا :تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیرا باپ(امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اسے روایت کیا ہے)
ایک اور حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں
ایک صحابی نے نبی کریم  سے پوچھا:کیا میں بھی جہاد میں شریک ہوجاؤں ؟ نبی کریم  نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں نبی کریم نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کرو(یعنی ان کی خدمت کرو)(صحیح بخاری)۔. افسوس کہ بات ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کو mothers day پر ماں یاد آتی ہے جب کہ ماں کی محبت کسی ایک دن کی محتاج نہیں ہے جس ماں کا ذکر اللہ نے اپنی ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے کیا اس ماں کی محبت کا کوئی ایک دن مخصوص کیا جا سکتا ہے جس دین نے ماں باپ کو شفقت کی نظر سے دیکھنے کو حج مبرور کے برابر قرار دیا ہے کیا اس ماں کے لیے کو ایک دن مخصوص کیا جاسکتا ہے کوئی اگر عمر بھر اپنی ماں کی خدمت کرتا رہے تب بھی ماں کی دی ہوئی قربانی کا عشر اشیر بھی ادا نہیں ہو سکتا ہے ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں کی ذرا بھر تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتی خود اگر بھوک سے مر بھی جاے لیکن بچے کی بھوک برداشت نہیں کر سکتی اتنا ہی نہیں ماں ایک ایسا سمندر ہے جو اپنے بچوں کے ہزاروں راز اپنے سینے میں دفن کرتی ہے ماں کا غصہ وقتی ہوتا ہے یہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا ہے ماں بہت جلد پگل جاتی ہے منور رانا
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے
لیکن آجکل کے معاشرے میں ماں باپ کی وہ عزت نہیں کی جاتی ہے جو کرنی چاہئے آجکل کے بھائیوں میں جب بٹوارہ ہوتا ہے تو دنیاوی دولت کے لیے لڑ پڑتے ہیں لیکن جب ماں باپ کی باری آتی ہے تو آجکل کے بیٹے خاموش ہو جاتے ہیں کوئ ایک ماں باپ کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں دراصل اس لافانی اور نایاب دولت کی قدر ہی نہیں ہے اتنا ہی نہیں آجکل کے بچے والدین خاص کے اپنی ماؤں کی فرمانبرداری سے کتراتے ہیں یہاں تک کہ اپنی ماؤں کو بات تک نہیں کرنے دیتے ہیں آجکل کے بچے جہاں گھروں کے باہر اور لوگوں سے بہت ہی ادب سے پیش آتے ہیں وہیں اپنے والدین کی ناقدری کرتے ہیں لیکن جو بچے اپنے والدین کی قدر اور فرمانبرداری نہیں کریں گے معاشرے کو ان سے کوئی امید نہیں رکھنی ہمیں کسی بھی قیمت پر اپنے ماں باپ کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑنا چاہیے خاص کر بڑھاپے میں جب قدم قدم پر انہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے جب یہ جسمانی طور کمزور ہو چکے ہوتے ہیں ایسے وقت میں ان سے آنکھیں پھیر لینا ہمارے لیے شرم اور بے حد افسوس کی بات ہے ہمیں ماں باپ کی خدمت کرنے کو اپنے لیے سعادت مندی کا کا سمجھ لینا چاہیے نہ کہ بوجھ بقول منور رانا
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
آئے دن مختلف ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف جگہوں پر ماں باپ کی توہین اور بے قدری کئ جاتی ہے اور ہزاروں ایسے واقعات ہونگے جو منظر عام پر ہی نہیں آتے ہونگے آجکل کے نوجوان ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ والدین کی نافرمانی انسان کو جہنم تک لے جا سکتی ہے چاہے پھر انسان نے کتنی ہی عبادات کیوں نہ کیں ہوں. ماں کی عظمت کو دنیا کے بڑے سے بڑے قلمکاروں، شاعروں اور ادیبوں بے بیان کیا ہے لیکن اس موضوع پر جتنا بھی لکھا اور کہا جائے کم ہو گا کیونکہ اس موضوع کی وسعت اور گہرائی سمندروں سے بھی زیادہ ہے ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا چاہے کوئی کتنی بھی خدمت کرے لہزا ہمیں اپنے ماں باپ کی خدمت دل و جان سے کرنی چاہئے شاعر مشرق حکیم الامت حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ سخت سے سخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے اتنا ہی نہیں حکیم لقمان کا فرمان ہے کہ اگر مجھے ماں سے جدا کر دیا جائے تو میں پاگل ہو جاؤں گا
ایسا نہیں ہے کہ آجکل کے بچے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتے ہیں الحمدللہ ہمارے معاشرے میں ایسے نوجوانوں کی کمی نہیں ہے جو اپنے والدین خاص کر اپنی ماں کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں اور اپنے آپ پر جنت واجب کرتے ہیں ایسے نوجوان ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں اور ایسے نوجوان پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم میں سے اگر کسی نے بھی اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ہو تو ہمیں فوراً اللہ کے حضور سر بہ سجود ہو کر اللہ اور ماں باپ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر لینی چاہیے اور بناہ مزید دیر کیے اپنے ماں باپ کی خدمت میں لگ جانا چاہیے تاکہ اللہ رب العزت ہمارے گناہوں کو بخش دے ہمارے درجات بلند فرمائے اور ہماری عمر، علم، اور عقل میں برکت عطا فرمائے بقولِ منور رانا
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجیے روشنی بڑھ جائے گی
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد
رشید راشد
درسو پلوامہ9906925007
فطرت پرست شاعری رنگین خیالی کو ایک اہم خوبی تصور کرتی ہے۔ یہ رنگین خیالی رنگین بیانی سے متصل ہے۔ اس طرح سیہ خوب رنگ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری شاعری میں جہاں روسل میر اور مہجور کے بعد اس رومانی شاعری کا کارواں روادواں ہے۔ وہاں  عبدالرحمان آزاد اس کا اس کاران میں اپنی انفرادیت مختص کئے ہوئے ہیں۔ اس نے حسن و عشق کی جامہ پیرائی میں زندگی کے کہر باکُن گوشوں کا نظارہ کرایا ہے۔ دراصل یہ نظارے اُن فکری معاملات کی شناسائی ہے جو شناسائی آزاد کا قاری اُس کے نثری پاروں میں دیکھتا ہےہمہ پہلو موضوعات کی قلم روی اُس کے مطالعات زندگی کی بصیرت کا تقاضا کرتی ہے۔ جب اُس کی شاعری کے رنگین پہلو کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں پہ آزاد خود کو مہجور اور رسل میر کے بہت قریب دیکھتا ہے۔
جس طرح کشمیری شاعر میں آزاد کی ایک مخصوص شناخت ہے اُسی طرح نثر میں بھی اُسے ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ صحافت کی تاریخ میں اُس کا جرت مندانہ قلم کبھی سوکھے کی لغزش کا شکار نہیں ہوا۔ اُس نے زندگی میں مشکلات و مصائب کہُن بار پوشاک کی زیبائی خوشی خوشی قبول کی مگر قلم کی رفتار و بے باکی کو تھکنے نہ دیا۔ کشمیر ی نثری ادب میں عبدالرحمان آزاد کی خطوط نگاری سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اردو ادب میں ’’غبارِ خاطر‘‘ پر مغز موضوع اور انداز تکلُم کی وجہد سے انتہائی منفرد ومقام رکھتی ہے۔ اُسے ابوالکلام آزاد کی ہمہ جہت شخصیت بن کر قاری کے سامنے آئے ہیں۔ شاید ۔ شاید وہی جرس غیب عبدالرحمان آزاد کے ضمیر میں بجتی ہوگی تو مجموعہ خطوط’’غبار‘‘ کے نام سے کشمیری ادب کے منظر نامے میں نمودار ہوا۔
کشمیری زبان میں خطوط پر مبنی یہ کتاب ادب میں ایک نئی صنف کو متعارف کرتی ہے۔ آزاد نے یہ صنف صرف متعارف ہی نہیں کیا بلکہ اپنےدور کے سماجی ، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور ادبی تاریخ کو رقم کیا ہے۔ عبدالرحمان آزاد کو یہ صنف خالص متعارف کرانے کا ارادہ ہی نہیں تھا بلکہ کشمیری میں ادیبوںکو اس صنف کی طرف رغبت دلانا بھی مقصود تھا تاکہ مختلف انواع کے موضوعات پر بات ہو۔ جس کا برملا اظہار آزاد نے خود کیا ہے۔’’
ہماری کشمیری زبان ابھی دفاتر، کاروباری اداروں اور دیگر شعبہ جات تک نہیں پہنچی ہے۔ جس وجہ سے اس کے اندر خط و کتابت کا نام و نشان دیکھنے میں آئے۔ کشمیری زبان و ادب سے وابستہ لوگ بھی کشمیری میں خطوط نویسی کی طرف شعوری یا غیر شعوری طور متوجہ نہ ہوئے ہیں‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ جس صورت حال کی عکاسی عبدالرحمان آزاد نے کی ہے وہی صورت حال آج بھی دکھائی دے رہی ہے۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ محدود میگزینوں میں تاثرات کالم کے نام خطوط دکھائی دیتے ہیں اُن کی وسیع زندگی کے معاملات و موضوعات دیکھ کر صرف شعرو ادب کے موضوع کی یک رنگی کی لپائی لبادہ کئے ہوئے ہیں۔ اگر کہیں اخبارات میں کشمیری زبان میں خطوط دکھائی دیں اُن کا بھی ایک ہی رنگ ہے۔ یعنی ادبی ۔ اپنے دور میں بھی صحافی کے طور عبدالرحمان آزاد نے اسے محسوس کیا اور اس طرف قائل کرنے کی کوشش بھی کی۔
عبدالرحمان آزاد نے اپنے خطوط کے ذریعے مسائل و معاملات کی مضوعی وسعت کو منظر قرطاس پر لانے کا بہت بڑا کام کیا ہے۔ اپنی کتاب مختلف مسائل کو اُجاگر کیا ہے اور اُجاگر کرنے کے بعد اپنی بصیرت کے مطابق اُس پر سیر حاصل رائے بھی دی ہے۔ اپنی رائے پیش کرنے میں اُس علمی اور فکری استفادہ سے باز نہیں رہے جس سے اُس کی رائے یا نقطہ نظر کو تقویت ملتی ہو۔ انسان۔ انسان کا ذات الہی کے ساتھ رشتہ۔ الہامی کُتب میں ان رشتوں کا ذکر ، وراثت، لین دین کی پختگی، شرعی زندگی کی اہمیت اور ضرورت ، شعری اصناف میں غزل کی اہمیت و وکالت، مادری زبان کے ساتھ جذباتی اور احساساتی رشتہ ایسے موضوعات ہیں جو عبدالرھمان آزاد کے خطوط میں زیر بحث آئے ہیں۔ غبار کتاب کا ہر ایک خط موضوع کے اعتبار سے یہاں تک اسلوب کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جُداگانہ ہیں اور ہر ایک خط کا اشتیاقانہ انداز بحث کے شروعات کی گُدگدی اُجاگر کرتا ہے۔ ابھی تک ان کے خطوط کے پس منظر میں آیا ہوا کوئی بھی بحث دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ نا ہی خطوط نویسی میں کشمیری ادب میں کوئی ایسا خط نظروں میں آتا ہے۔ ناہی تدریسی نظام میں نصاب سازوں نے خطوط کی کوئی تمثیل دی ہے۔ البتہ کشمیری گرائمر لکھنے والوں نے طور کشمیری میں خطوط نگاری کے اصولوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں دیکر اس راستے پر دھول دھلائی کی ہے۔ جن میں ڈاکٹر آفاقعزیز ، رشید راشد، اور ڈاکٹر گلزار کے نام آتے ہیں لیکن وہ بھی اُن کے گرائمر اصولوں کو بیان کرنے کی مجبوری تھی۔ بہر حال جن موضوعات پر عبدالرحمان آزاد نے اپنے خطوط میں بات کی ہے۔ اُن کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عبدالرحمان آزاد کی شخصیت ایک عریض بوس شخصیت تھی۔
آزاد کا دور کشمیر کے مخصوص سیاسی خلفشاری کا دور تھا۔سیاسی گتھم گتھی سے سماجی توازن تبدیل ہورہا تھا اور نیاسماج وجود میں آنے کا دور شروع ہورہا تھا۔ اس طرح کشمیری ادب بھی ترقی پسندی شعرو ادب سے نئے پڑھائو کی طرف گامزن تھا۔ اس تبدیلی میں آنےو الے سماجی ٹوٹ پھوٹ اقدار کے الٹ پلٹ کو عبدالرحمان آزاد انتہائی حسیت کے ساتھ محسوس کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کا حسی پارہ اس زمہریری اور حُری جہد میں متحرک تھا۔ سرچشمہ حیات اخبار بار بار اسی وجہ نزع کا شکار ہورہا تھا۔ حالانکہ معاشرتی مسائل اور سماجی اصلاحاجاگر کرنا صحافت کے اس دور میں اسی بے قراری کا نتیجہ تھی۔
اپنے معاشرے کے کینواس کو لیکر اصلاح کے بُرش میں اُس نے اسلامی شرعیت کے رنگ کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی ہم آہنگی کی ۔ شام لعل پردیسی ، عامر عثمانی اور سعد الدین کے نام خطوط میں بے دھڑک بُرش کاری کی ہے۔ جناب سعد الدین کے نام خط میں آزاد نے مسلمانوں کی غیر اسلامی طریقہ زندگی پر واویلا کیا جو اُس کی کرب کا غماز ہے۔ ’’ کیا آپ اس بات کو ہضم کر پائوگے یا نہیں کہ موجودہ مسلمانوں کے سوا دیگر اقوام اور اُمتوں کے پاس انسانی ذات کی خاطر کام کرنے کے عمل کا حجم زیادہ ہے۔ اور اس کے برعکس آج کے مسلمان کے پاس منطق اولیٰ اور خدمت خلق کیعمل کے باوجود فقدان اور ناپیدگی ہے‘‘۔
یہ ایک اور اہم بات ہے کہ آزاد جس ماحول میں پلے بڑے وہ دہی تنگ ذہنی اور جہالت کا ماحول تھا۔ جبکہ آزاد کا خواب پاک ، سچا، شفاف ماحول تھا۔ اس خواب کا ذکر اُس کے خطوط میں گشت کردوں دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں کہیں آزاد اظہار کو شدت سے بیان کرنا چاہتا یا اپنے نقطہ نظر کی طرف مایل کرانا چاہتا تو شعری اسلوب سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح اپنی والدہ کو بعد از مرگ لکھے خط میں تابعداری اور وفاداری کے جذبات کی نمایندگی کسی بھی حالت یا ماحول یا رکاوٹ سے قطع نظر رہ کر کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک مضبوط ترین اعصابی رشتہ ہے۔ جس میں اخلاقی اقدار کا لحاظ رکھ کرجوڑا جاتا ہے۔
اخلاقی اقدار کی پاسداری استوار کرنے سے ہی سماجی برائیوں کو رفع کیا جاسکتا ہے۔ اس خط میں اولاد کے حقوق کو عبدالرحمان آزاد نے اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ کر آسان بیانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
’’ میری با ادب اور باہمت والدہ! آپ مجھے اکثر قرآن مجید کے سورہ زبانی یاد کرواتی تھی۔ رسول کریمﷺ کی سیرت طیبہ سے اور حضرت پیر رضی اللہ عنہ کی حالات زندگی سے کوئی نہ کوئی واقعہ سناتی تھی۔ علاوہ ازیں حضرت اویس قرنیؓ کے ورد للہ واکۃ اور شیخہ شرک بڑے اہتمام کے ساتھ سناتی اور بار بار آپ کی زبان سے جلوت و خلوت میں نعت شریف جاری و ساری تھے۔
ہزار شکر وثناداور چھُ میون یاور نبیؐ حجازی
اس غیر شعوری تربیت سے میرے ذہن کے کینواس پہ اسلام ، رسول کریم ﷺ، حضرت اولیا کرام کی محبت کا نقش متصور ہوا تھا۔ جس کا بیان میرے الفاظِ بیان سے بالا تر ہے‘‘۔
آگے چل کر عبدلرحمان آزاد چند ایک خطوط میں فلسفہ حیات کے نازک مسائل کو چھیڑتا ہے۔ یہان پر عبدالرحمان آزاد قاری کو ایک وسیع فکری کینواس پر بکھراو کی صورت پھیلا دیتا ہے۔ اور جس انتشاری عالم میں مذہبی افکار کا ظاہری ٹکرائو قابل ذکر ہے ان مسائل پر آزاد بات کرنے سے آزاد کی بصیرت و آگہی کا اندازِ گماں بھی آگے جاتاہے۔ مختلف مذاہب کے بنیادی عقائد کی ہم آہنگی کا ذکر اُس نے خوش اسلوبی کے ساتھ کیا ہے۔
خطوط جن جن اصحاب و اشخاص کے نام آزاد نے قلمبند کئے اُن میںمخاطب ذہنی استواریت کو مد نظر رکھ کر آزاد کے اسلوب میں لچک، الفاظ کی سادگی و روانی، شدت بیان و لُبنی بیان برتا گیا ہے۔ یہی عبدالرحمان آزاد کے خطوط نگاری کی کرامت ہے۔ حالانکہ شروع سے آخر تک اسلوب کی چاشنی و تیکھاوٹ گُھلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس اسلوب کے تعریف میں حامدی کاشمیری رقم طراز ہیں۔
یہ (عبدالرحمان آزاد) کشمیری نثر میں ایک رومانی، شیرین طرح دار اور خوب صورت اسلوب متعارف کرتے ہیں۔ اور کشمیری نثر کو نئے باب کا اضافہ کرتے ہیں۔
نوٹ:۔۔۔۔رشید راشد کے مضمون میں عبدالرحمان آزاد کے چند اقتباسات آزاد کی غبار کے چند خطوط سے لئے گئے ہیں۔ اور اُن کا ترجمہ راشد صاحب نے کیاہے اور آخر پر حامدی کشمیری کی چند ستور کو بھی انہوں نے کشمیری لیکر اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
����
������
سبزار احمد بٹ۔اویل نورآباد ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت زاغ وادئ کشمیر کو اولیائے کرام سر زمین کہا جاتا ہے جہاں پر بڑے بڑے ریشیوں، ولیوں اور سنتوں نے جنم دیا ہے اس سر زمین سے برائی کو ختم کرنے کے لیے بے شمار قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا گیا اور ان اولیائے کرام نے اس کشمیر میں اعلیٰ اقدار اور انسانی قدروں کو بازیافت کرنے کے لیے کوئی قصر باقی نہیں چھوڑی نہ جانے ارباب اقتدار کیوں ان سب برائیوں کو پھر سے وارد کشمیر کرنا چاہتے ہیں خاص کر شراب جیسی بری اور ناکارہ شئےکو شراب کو دنیا کے تقریباً تمام مذاہب نے حرام قرار دیا ہے مذہبِ اسلام نے تو ہر نشہ دلانے والی شئے کو حرام قرار دیا ہے اسلام اپنے ماننے والوں کو پاک باز، راست باز، با حیا اور نیک صفات سے لبریز دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شراب انسان کو بے حیا، بزدل بے عقل اور رزیل بنا دیتا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں شراب پر مکمل پابندی عائد ہے شراب کو عربی میں خمر کہتے ہیں جس کے معنی ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ ڈالنا شراب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کے حوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں اور انسان بالکل حواس باختہ ہو جاتا ہے ایسے میں انسان سچ اور جھوٹ، حق اور باطل یہاں تک کہ رشتوں کی پہچان کھو دیتا ہے شراب سے انسان اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے اور اللہ کے احکام کی تکمیل کے بجائے اللہ رب العزت سے روگردانی کرتا ہے اور اللہ رب العزت کا باغی بن بیٹھتا ہے اسلام نے شراب پینے اور پلانے والے کے ساتھ ساتھ شراب سے منسلک دس لوگوں پر لعنت کی ہے چاہیے وہ کسی بھی طرح سے اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہوں یا کسی بھی طرح سے اس کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہوں اس کا کاروبار کرنے والوں کی کمائی بھی حرام ہے شراب کی بہت کم مقدار چاہے دوا کے لیے ہی کیوں نہ استعمال ہو حرام اور قطعاً حرام ہے سائنس کی مانیں تو شراب بہت بری اور خطرناک شئےہے اس سے انسان کے گردے اور پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان بزدل بن جاتا ہے لیکن نہ جانے ملک کے اربابِ اقتدار کو اس بری شئےسے محبت کیوں ہے حیرت کی بات ہے کہ جب پوری دنیا میں لاک ڈاون نافذالعمل تھا ملک کی تمام عبادت گاہیں، کاروباری ادارے اور ملک کے تمام تر تعلیمی ادارے کورونا کی وجہ سے بند تھے ایسے میں ملک کی مختلف ریاستوں میں شراب کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جو کسی بھی اعتبار سے صحیح فیصلہ نہیں تھا کیونکہ شراب کو فروغ دینا ملک کے نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا اور ذہنی مریض بنانے کے مترادف ہوگا کوئی انسان چاہیے کسی بھی مذہب کو ماننے والا ہو شراب سے دور رہنے میں ہی اس کی عافیت اور بھلائی ہے شراب کسی مرض کی دوا نہیں ہے بلکہ شراب کے صرف نقصانات ہی نقصانات ہیں قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں
اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت؛کے تیر) ناپاک ہی ہیں،شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔(سورۂ مآئدہ:آیت۹۰
حدیث شریف میں فرمایا گیا ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔
ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلاۃوالسلام نے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے
مذکورہ آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب مکمل طور پر حرام ہے اس لیے پوری دنیا خصوصاً مسلمان نوجوانوں کو شراب سے پرہیز کرنا چاہیے اور سرکار کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی باقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے اور ملک کو شراب جیسی بدعت سے آزاد کرنا چاہیےلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جموں کشمیر انتظامیہ خطے میں شراب پر پابندی عائد کرنے کے بجائے شراب کی دکانیں کھولنے کے لیے اجازت نامے (لائسنز) اجرا کرنے میں لگی ہوئی ہے وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایسا ریاست کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن ایسا نوجوان نسل کو داؤ پر لگا کر اور انہیں ذہنی مریض بنا کر نہیں کیا جا سکتا ہے ایسا کرنا اس مسلم اکثریت والے علاقے کے لوگوں کے لیے سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اسے مذہبی معملات میں مداخلت سے تعبیر کیا جائے گا اولیاؤں کی اس وادی کو کیوں شراب جیسی گندی چیز سے ناپاک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس فیصلے پر کشمیر کے علما اور سول سوسائٹی نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر ایسا فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس کے بیانک نتائج نکلیں گے جموں کشمیر کو جدید ہسپتالوں، تعلیم اداروں، بجلی پانی اور سڑکوں کی ضرورت ہے نہ کہ شراب خانوں کی. جموں و کشمیر کے لوگ انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عوام مخالف فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہیے اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو لوگوں کا انتظامیہ پر سے اعتبار ختم ہو جائے گا آخر کیا ضرورت ہے ایسا کرنے کی وہ بھی ایسے نازک موقع پر جب پوری دنیا کورونا سے نمٹنے میں لگی ہے
میں جموں و کشمیر کے عوام سے خاص کر نوجوانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ اس چیز سے دور رہیں کیونکہ جس چیز کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے حرام اور بیماری قرار دیا وہ کسی بھی صورت میں دوا نہیں ہو سکتی ہے لہذا ہمیں اس بیماری سے دور رہنا چاہیے تاکہ ہماری نئی پود بھی اس لعنت سے دور رہے والدین سے بھی استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو اس دلدل سے بچائیں اور والدین ہونے کا حق ادا کریں ورہ ہم اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہو جائیں گے اور اللہ ہم سے ناراض ہو جائیں گے وہ ناراضگی پھر عزاب الٰہی کی وجہ بن جائے گی اگر کسی نوجوان سے ایسی حماقت ہوئی ہو کہ اس نے خدانخواستہ شراب پی ہو تو فوراً اللہ کے حضور معافی طلب کر لینی چاہیے اللہ بے شک رحیم اور معاف کرنے والا ہے یہ ہمارے لیے امتحان کا وقت ہے ہمیں ثابت قدم رہنا ہے اور اپنے اللہ اور اس کے رسول اکرم کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس بدعت سے دور رہنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ہم پر ناز ہو کہ ان کے اجداد اس امتحان میں سرخرو ہو گیے ایسے موقع پر ہمیں ڈگمگانا نہیں ہے ورنہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہماری نئی پود کو بھگتنا پڑے گا بقولِ شاعر یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی
افتخار گیلانی جموں و کشمیر کا دور افتادوہ اور پسماندہ لداخ خطہ ، جہاں اسوقت چینی اور بھارتی فوج برسرپیکار ہے۔ ایک صدی قبل تک خاصا متمول اور متحدہ ہندوستان ، تبت، چین ، ترکستان و وسط ایشیا کی ایک اہم گذرگاہ تھا۔ خوبصورت ارضیاتی خدو خال، حد نگاہ تک رنگ برنگے اونچے پہاڑ، بنجر اور ویران لمبے چوڑے میدان، خاصی حد تک پاکستانی صوبہ بلوچستان سے مماثل ہیں۔ پچھلے سال اگست میں بھارت نے اس خطہ کو جموں و کشمیرسے الگ کرکے ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام کر دیا۔ دو ضلعوں لہیہ اور کرگل پر مشتمل اس خطے کا رقبہ نقشہ پر 97,872مربع کلومیٹر ہے۔ مگر اکسائی چن علاقہ کے چین کے زیر تصرف ہونے کی وجہ سے اصل رقبہ صرف 58,321مربع کلومیٹر ہی ہے۔ اکثر لکھاری اس خطے کو بدھ اکثریتی علاقہ گردانتے ہیں جبکہ 2011ءکی مردم شماری کے مطابق اس خطے کی دو لاکھ 74ہزار کی آبادی میں 46.40فیصد مسلمان اور 39.65فیصدبدھ مت کے پیروکار ہیں۔ اس خطے کی نامور شخصیت اور تاریخ دان عبدالغنی شیخ کے مطابق یہ علاقہ ایک صدی قبل تک دنیا سے اس قدر جڑا تھا ، کہ ترکی یہاں کی دوسری زبان تھی۔ 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل تک یہ علاقہ برطانیہ، چین اور روس کی چپقلش کا مرکز رہا۔ تاجروں، سیاحوں، جاسوسوں اور سپاہیوں کیلئے ترکستان یعنی سنکیانگ کے شہروں یارقند، خوتان اور کاشغر کے سفر کیلئے لداخ ایک اہم زمینی رابط تھا۔ لیہہ شہر میں بدھ خانقاہ نمگیال سیمو گمپا اور اس سے کچھ فاصلے پر تاریخی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے معمر افراد ترکستان کو یاد کرتے رہتے ہیں۔لداخی محقق ریچن ڈولما کے مطابق کشمیر کی طرح لداخ بھی 20 ویں صدی میں وقوع پذیر سیاسی واقعات کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خطے کی بقا ،ترقی ، اور عظمت رفتہ کی بحالی کا دارومدار قراقرم کے بند دروں کو دوبارہ تجارت اور راہداری کیلئے کھولنے میں ہی مضمر ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ اس خطے کے بلند و بالا پہاڑوں سے ہوکر گذرتی تھی۔ چین کے ذریعے 1949ءمیں مشرقی ترکستان یعنی سنکیانگ پر اور پھر 1950ءمیں تبت پر قبضہ کے بعد آہنی دیوار کھڑا کرنے سے راہداریاں بند ہوگئیں۔ مگر سب سے زیادہ نقصان 1947ءمیں تقسیم ہند اور تنازع کشمیر کی وجہ سے خطے میں پیدا ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہوا۔ 1962ءکی بھارت چین جنگ سمیت، یہ خطہ پانچ جنگیں جھیل چکا ہے۔بھارت کی پاکستان اور چین کے ساتھ چپقلش نے اس پورے خطے کے تاریخی روابط منقطع کروا کے اسکو غریبی اور افلاس میں دھکیل کر رکھ دیا ہے۔ نویں صدی کی ایک فارسی قلمی دستاویز حدود عالم کے بقول وسط ایشیاءکے جو لوگ حج پر جاتے تھے ،لداخ ان کیلئے ایک اہم پڑاؤ ہوتا تھا، ان روابط کی وجہ سے ترک زبان رابطہ کے ایک ذریعہ کے بطور رائج ہوگئی تھی۔ خود لداخی زبان میں کئی ترک الفاظ داخل ہوگئے۔ ترک تاجروں نے لداخ میں سکونت اختیار کرکے کشمیری اور لداخی عورتوں سے شادیا ں کی۔ ان کی نسل کو ارغون کہتے ہیں۔ دیگر نسلوں میں یہاں مون، منگول اور درد قابل ذکر ہیں۔ 90ءکی دہائی تک لداخ میں مسلم اور بدھ آبادی میں خاصا باہمی میل جول تھا۔ فرقہ وارانہ منافرت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔مغل دور میں لداخ کے باج گذار نمگیال خاندان کے فرمانروا خطوط و سکوں پر محمود شاہ یا اسی طرح کے مسلمان ناموں سے اپنے آپ کو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ لداخی بدھ البتہ ڈوگرہ ہندوؤں کے تئیں خلش رکھتے تھے۔ وہ یہ بھول نہیں پار ہے تھے کہ جب 1841ءمیں ڈوگرہ جنرل زور آور سنگھ نے لداخ پر فوج کشی کی تو ان کی عبادت گاہوں کو اصطبل بناکر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ مگر جو ں جوں بھارتی سیاست کے عنصر لداخ میں پروان چڑھتے گئے، دونوں فرقوں کے درمیان محاذ آرائی بھی شروع ہوگئی۔ بدھ فرقہ کو بتایا گیا کہ ان کی پسماندگی کی وجہ سرینگر کے حکمران ہیں۔ چونکہ پوری ریاست میں ان کی آبادی سکھوں سے بھی کم یعنی 0.89فیصد تھی، تو ان کا مجموعی سیاسی وزن بھی کم تھا۔ اسلئے 90ءکے اوائل میں یہاں کی بد ھ آبادی نے اس خطے کو کشمیر سے الگ کرنے اور مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنانے کیلئے ایجی ٹیشن شروع کی۔ مسلمانوں نے اسکی جم کر مخالفت کی۔ اس کے رد عمل میں بد ھ تنظیموں نے مسلمانوں کے سوشل بائیکاٹ کی کال دی ، جو 1994ءتک جاری رہا۔یہ شاید دنیا کی تاریخ میں کسی بھی فرقہ کے خلاف طویل ترین بائیکاٹ ہوگا۔
لداخ کا خطہ کئی عجیب و غریب رسم و رواج کی وجہ سے بھی خاصا مشہور ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اب معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ پورے خطے میں زرعی زمین کا رقبہ محض 620مربع کلومیٹر ہے۔کئی دیگر رسوم بدھ کلچر کا حصہ ہیں۔ خطے کے روابط منقطع ہونے کا سب سے زیادہ نقصان مسلم اکثریتی کرگل ضلع کو اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بھارت پاکستان جنگوں میں اس ضلع کے کئی دیہات کبھی ادھر تو کبھی ادھر چلے آتے تھے۔ 1999ءکی کرگل جنگ کے بعد جب دیہاتوں کی سرکاری طور پر پیمائش وغیرہ کی گئی، تو معلوم ہوا کہ ترتک علاقے کے کئی دیہات تو سرکاری ریکارڈ میں ہی نہیں ہیں۔ اس لیے2001کی مردم شماری میں پہلی بار معلوم ہوا کہ لداخ خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 47فیصد ہے اور بدھ آبادی سے زیاد ہ ہے۔ورنہ اس سے قبل اس خطے کو بدھ اکثریتی علاقہ مانا جاتا تھا اور اکثر لکھاری ابھی بھی پرانے اعداد شمار کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ کرگل اسکردو تحصیل کا حصہ ہوتا تھا۔ اس لیے یہاں کی زمینوں و جائیداد کے ریکارڈ ابھی بھی اسکردو کے محافظ خانے میں موجود ہیں۔ لداخ کو باقی دنیا سے ملانے والے دو راستے سرینگر کی طرف زوجیلا درہ اور ہماچل پردیش کی طرف روہتانگ درہ چھ ماہ کےلئے بند ہوجاتے ہیں۔ کرگل اسکردو کے درمیان 192کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور یہ پورا سال کھلا رہتا تھا۔ نوبرہ میں کھردنگلہ کے مقام سے کاشغر، خوتان اور یارقند کو جانے والے راستے بھی مسافروں اور قافلوں کا پچھلی کئی دہائیوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ نوبرا وادی میں وسط ایشیا اور دشت گوبی کی پہچان یعنی دو اونٹ والے کوہان ملتے ہیں، گو کہ ان کی آبادی اب خاصی کم ہو گئی ہے چند برس قبل سلیم بیگ، عبدالغنی شیخ اور لیہہ میں مقیم کئی احباب نے تاریخی سا سوما مسجد کی تجدید و تزوین کرکے اس کے متصل تین منزلہ میوزم بنایا۔ یہ میوزیم اس خطے کے ترکستان اور وسط ایشیاءکے درمیان تاریخی روابط کا شاہکار ہے۔ترک ارغون خاندانوں نے نوادرات و مخطوطات کا ایک خاصا بڑا ذخیرہ اس میوزیم کی نذر کیا۔ قدیمی یارقندی قالین، اور کئی مخطوطات جامع مسجد سے یہاں منتقل کئے گئے۔ 17ویں صدی میں جب اس مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔ مسجد کا فرش ترک تاجروں نے فراہم کیاتھا۔فی الوقت چینی اور ہندوستانی فوجوں کے کشمکش کا مرکز گلوان وادی بھی ایک ترک ارغون غلام رسول گلوان کے نام سے موسوم ہے، جو ایڈونچر کے شوقین برطانوی سیاحوں کےلئے گائیڈ کا کام کرتے تھے۔ 1892ءمیں ایرل آف ڈیمور کی قیادت میں سیاحوں کے قافلہ کو جب و ہ گائیڈ کر رہے تھے، تو یہ قافلہ برفانی طوفان میں گھر کر بھٹک گیا۔ اپنی کتاب ”لداخ کی تہذیب و ثقافت“میں عبدالغنی شیخ لکھتے ہیں کہ گلوان نے متبادل راستے کو دریافت کرکے اس قافلہ کو صحیح وسلامت منزل تک پہنچایا۔ایرل آف ڈیمور نے اس وادی، جس کو انہوں نے دریافت کیا تھا، گلوان کے نام سے موسوم کیا۔ اسی طرح دولت بیگ الدائی کا وسیع و عریض میدان ترک سردار سلطا ن سعید خان المعروف دولت بیگ کے نام سے موسوم ہے۔
افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔ پوری آبادی اب ایک الگ تھلگ اور ایک کونے میں زندگی گذارنے سے عاجز آچکی ہے۔جب لداخ کو کشمیر سے الگ کیا گیا، تو سرکاری ملازمت اور پولیس میں لداخ کے مکینوں کو لیہہ اور کرگل پوسٹنگ کے لیے بھیجا گیا، تو تقریباً سبھی نے جانے سے انکار کردیا۔ زور زبردستی سے ان کو اس مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے کیڈر میں شامل کیا گیا۔ لداخی محقق ڈولما کے مطابق ہندوستان، چین اور پاکستان لداخ کی تزویراتی افادیت کو تسلیم تو کرتے ہیں، مگر فوجی نقطہ نظر سے آگے نہیں دیکھ پاتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ خط ایک بار پھر تجارت، روابط اور تہذیبوں کے ملن کا مرکزبن سکے۔ اس کےلئے اشد ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی پر امن حل تلاش کیا جائے تاکہ اس خطے کو کشیدگی سے نجات حاصل ہو اور یہ ایک بار پھر مسکراہٹوں اور آسودگی کا گہوارہ بنے۔
(بشکریہ: دی وائر اردو)
سرینگر22جون/چین کی جانب سے فنگر چار سے فنگر آٹھ تک فوجی جماؤ میں اضافہ اور ہتھیار پہنچانے کے بعدبھارت کی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جہاں ہوائی فوج کی جانب سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹروں جہازوں کے ذریعے سرحدوں کی نگرانی کی جارہی ہے وہی اس بات کاانکشاف بھی ہوا ہے کہ آ نے والے 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کے فوجی سربراہ لداخ کادورہ کرینگے اور اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ میٹنگ کے دوران صورتحال پرتبادلہ خیال کرینگے فوجی سربراہ کے دورہ لداخ کوانتہائی اہمت کاحامل قراردیاجارہے ا ور وزارت داخلہ کی بھی لداخ کے معاملے پرمیٹنگ منعقد ہوئی جس میں کئی طرح کے فیصلے لئے گئے ۔اطلاعات کے مطابق بھارت چین کے مابین کشیدگی اور تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے اور ہر آنے والالمحہ نازک سے نازک ہوتاجارہاہے ۔لداخ سے جواطلاعات موصول ہورہی ہے ان کے مطابق فنگرفور سے فنگر آٹھ تک چینی لبریشن آرمی کی جانب سے جنگی ماحول قائم کیاجا رہاہے اورچین نے نہ صرف مزیدفوج گلوان وادی منتقل کیاہے بلکہ جدید ہتھیار ٹوپ خانے لڑاکہ طیارے جنگی ہیلی کاپٹر اورجدیدٹینک بھی علاقے میںپہنچادیئے ہے چین کی اس تیاری کودیکھ کر بھارت کی فوجی سرگرمیوں میںبھی اچھاخاصہ اضا فہ ہوا ہے ہوائی فوج کی جانب سے سفوئی جہازوں امریکہ سے حاصل کی گئی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چین کے ساتھ لگنے والی ایکچول لائن آف کنٹرو ل کی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ بوفورس اورجن ٹینک اوردوسراسازوسامان بھی لداح کی گلوان وادی میںپہنچایاجارہاہے ۔بھار ت چین کے درمیان ہرلمحہ نازک سے نازک ہوتا جارہاے تزبزب کی کیفیت بدستورجاری ہے۔ ادھراس بات کاانکشاف ہو اہے کہ فوجی سربراہ اگلے 24گھنٹوں کے دوران لداخ کادورہ کر رہے ہے جہاں وہ فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کے دوران صورتحال کاجائزہ اور چینی لبریشن آرمی سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گیئے ا قدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کرینگے ۔ دریں اثناء وزیرداخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں بھی نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جسکے دوران لداخ کی موجودہ صورتحال کاجائزہ لیاگیااور آئیندہ اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میںجانکاری حاصل کرنے کے علاوہ فورسز کودرپیش مشکلات کے ازالے کے خاطر اٹھائے جانے والے اقدامات کوبھی آخری شکل دئے دی گئی وزارت دااخلہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین بھار ت کے درمیان کشیدگی کے معاملے پروزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جس میںمختلف معاملات زیرغور لائیگے اور کئی اہم نوعیت کے فیصلے بھی لئے گئے جنہیں منظرعام پرلانا قوائدوضوابط کی خلاف ورزی ہے ۔اے پی آئی