ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جموں کشمیر کا خصوسی درجہ واپس لینے کا فیصلہ صداقت پرمبنی نہیں، جموں کشمیرمتنازعہ خطہ

   47 Views   |      |   Wednesday, September, 23, 2020

بھارت پاکستان کو کشمیرکا مسئلہ حل کرنے کے لئے بات چیت کرنی ہوگی عالمی برادری اپنارول ادا کرے /چین

سرینگر/05اگست /اے پی آئی کشمیر پالسی میں کسی بھی تبدیلی سے صاف انکارکرتے ہوئے چین نے جموں کشمیر کومتنازہ خطہ قرار دیتے ہوئے ایک سال قبل بھارت کی جانب سے خصوصی درجہ واپس لینے کی کاررروائی کوبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جموںو کشمیرکے حقوق صلب کرنے کے مترادف قراردیتے ہوئے کشمیرکا مسئلہ حل کرنے کے لئے بھار ت پاکستان کومذکارات کی میز پرآناچاہئے تاکہ دونوں نیوکلیئر طاقتوں کے مابین جو کشیدگی کاماحول پایاجارہاہے اس سے ختم کیاجاسکے ۔خصوصی درجہ واپس لینے بھارت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ چین نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے اور یہ بھارت کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مزیداُلجھانے کے بجائے اس سے حل کرنے کی طرف سنجیدگی کامظاہراہ کریں ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموںو کشمیرکا خصوصی درجہ واپس لینے کے پہلے برسی پرچینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کئے گے بیان میں کہاکہ چین کی کشمیرپالسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جموں کشمیرایک متنازعہ خچطہ ہے اور لوگوں کوابھی تک اپنامستقبل کافیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں بھارت پاکستان کے مابین دن بدن اضافہ ہو رہاہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ ونگ وین کے مطابق جموں کشمیرکاخصوصی درجہ واپس لے کر بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی کی ہے بلکہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی کوفروغ دینے میں بھی اپنارول ادا کیا۔انہوںنے کہاکہ چین نے ہمیشہ جموں کشمیرکے لوگوں کوانصاف فراہم کرنے اورمسئلے کوحل کرنے کی خا طر اپنی حمایت دینے کا مظاہراہ کیاہے اور اگرجنوب ایشاء کے خطے میں قیام امن لازمی ہے تو بھارت پاکستان کوچاہئے کہ وہ مذاکرات کی میز پرآکر اس مسئلے کوحل کرنے کے لئے بات چیت کاسلسلہ شروع کردے ۔چینی وزارت خارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ کی پاس کی گئی قراردادیں اس بات کی عکاسی ہے کہ جموںو کشمیرایک متنازعہ خطہ ہے اور بھارت کی جانب سے جموںو کشمیرکاخصوصی درجہ واپس لینے اور جمووکشمیرکودوحصوں میں تقسیم کرنے سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلااف ورزی ہوئی ہے بلکہ بھارت نے بین الاقوامی برا دری کی آنکھوں میں دھول جھونک دیاہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیرکے مسئلے کوحل کرنے کی خا طر اپنارول ادا کرے تا کہ جنوب ایشاء کے خطے میں دو نیوکلیئر طاقتوں کے مابین ائیٹمی جنگ کوروکاجاسکے ۔بھارت چین کے مابین سرحدوں کاتعئین کرنے کے سلسلے میں بات چیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اکسائی چین کے علاقہ سے چین کسی بھی صورت میںدسبردار نہیں ہوسکتاہے اور بھارت کے ساتھ ملٹری سطح پرجوبات چیت ہوئی ہے اور بفرزون قائم کرنے پراتفاق رائے قائم کیاہے اور بھارت کی جا نب سے بار بار بین الاقوامی برادری کوچین کے بارے میں گمراہ کیاجارہاہے جوناقابلب رداشت عمل ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہاکہ چین صورتحال پرکڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اورحالت پوری طرح سے قا بو میں ہے ۔

متعلقہ خبریں

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی ماں لفظ سنتے ہی دنیا بھر کی محبت، ہمدردی، اخوت مٹھاس اور چاشنی سے دل بھر آتا ہے دنیا کی محبت، قربانی، ایثار اور الفت ماں کے آگے یہچ ہے ماں ایسی ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ماں اپنی اچھی اور نیک تربیت سے ایک نئی صدی کا آغاز کر سکتی ہے قوموں کے بننے اور بگڑنے کا دارومدار ماؤں کی تربیت پر ہی منحصر ہوتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ماؤں کی تربیت سے دنیا میں بڑے عالم، عابد، شاعر، مفکر، ادیب اور قلمکار پیدا ہوئے ہیں اللہ کے بعد ماں ہی ایسی ہستی جو اپنے بچے کے دل کا حال سمجھ سکتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ ماں نے اپنے بچے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا ماں محبت اور ایثار کا ایسا سر چشمہ ہے جہاں سے محبت، ایثار اور ہمدردی کے لاتعداد چشمے پھوٹتے ہیں ماں باپ کی اہمیت اور عظمت کو قرآن کریم نے واضح طور پر بیان کیا ہے اللہ رب العزت نے والدین کا ذکر اپنی ذکر کے ساتھ فرمایا
وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِی اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِاالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔
’’اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا کہ) نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔‘‘(البقرہ83)۔
دوسری جگہ ارشادہے:
وَعْبُدُواللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْ بِہٖ شَیْئاً وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً ۔
’’اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کونہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔ ‘‘(النساء36)۔
قرآن مجید میں اللہ پاک نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارے ماں باپ میں سے کسی ایک کو تم پڑھاپے میں پاؤ تو انہیں اُف تک مت کہو اس بات سے بھی ماں باپ کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جہاں ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت انسان کو جنت تک لے جا سکتی ہے وہاں والدین کی نافرمانی جہنم کا ذریعہ بن سکتی ہے ماں باپ کی عظمت اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی شان کے ساتھ والدین کی شان کو بیان کیا ہے دنیا میں وہی لوگ کامیاب اور کامران ہوتے ہیں جو ماں باپ کی خدمت اور عزت و احترام کرتے ہیں اور جو لوگ ماں باپ کی قدرو منزلت نہیں سمجھتے ہیں وہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا ہے ماں ایک ایسی ہستی جس کی دعا بچوں کے حق میں رد نہیں ہوتی اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقع ہے کہ
حضرت موسٰی علیہ السلام کو الله تعالیٰ نے فرمایا کے پہاڑ پر احتیاط سے چڑھا کرو حضرت موسٰی علیہ السلام نے کہا میں اکثر کوہ طور پر چڑھتا ہوں، اللہ تعالی نے کہا کہ پہلے تمہاری ماں زندہ تھی جو تمہارے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے رکھتی تھی جو اب نہیں ہے اس واقعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ماں کہ دعاؤں میں کتنا اثر ہوتا ہے لہزا ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی گھر سے کسی کام کے لیے نکلیں ماں باپ سے اجازت لے کر ہی نکلیں تاکہ ماں کے دل سے ہمارے لیے دعا نکلے بقول شاعر
ابھی ماں میری زندہ ہے مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے حضور  کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا :یا رسول اللہ !سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت (خیر خواہی) کروں؟ فرمایا: تیری ماں ۔عرض کیا پھر؟فرمایا :تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیرا باپ(امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اسے روایت کیا ہے)
ایک اور حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں
ایک صحابی نے نبی کریم  سے پوچھا:کیا میں بھی جہاد میں شریک ہوجاؤں ؟ نبی کریم  نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں نبی کریم نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کرو(یعنی ان کی خدمت کرو)(صحیح بخاری)۔. افسوس کہ بات ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کو mothers day پر ماں یاد آتی ہے جب کہ ماں کی محبت کسی ایک دن کی محتاج نہیں ہے جس ماں کا ذکر اللہ نے اپنی ذکر کے ساتھ بیان کیا ہے کیا اس ماں کی محبت کا کوئی ایک دن مخصوص کیا جا سکتا ہے جس دین نے ماں باپ کو شفقت کی نظر سے دیکھنے کو حج مبرور کے برابر قرار دیا ہے کیا اس ماں کے لیے کو ایک دن مخصوص کیا جاسکتا ہے کوئی اگر عمر بھر اپنی ماں کی خدمت کرتا رہے تب بھی ماں کی دی ہوئی قربانی کا عشر اشیر بھی ادا نہیں ہو سکتا ہے ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں کی ذرا بھر تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتی خود اگر بھوک سے مر بھی جاے لیکن بچے کی بھوک برداشت نہیں کر سکتی اتنا ہی نہیں ماں ایک ایسا سمندر ہے جو اپنے بچوں کے ہزاروں راز اپنے سینے میں دفن کرتی ہے ماں کا غصہ وقتی ہوتا ہے یہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا ہے ماں بہت جلد پگل جاتی ہے منور رانا
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے
لیکن آجکل کے معاشرے میں ماں باپ کی وہ عزت نہیں کی جاتی ہے جو کرنی چاہئے آجکل کے بھائیوں میں جب بٹوارہ ہوتا ہے تو دنیاوی دولت کے لیے لڑ پڑتے ہیں لیکن جب ماں باپ کی باری آتی ہے تو آجکل کے بیٹے خاموش ہو جاتے ہیں کوئ ایک ماں باپ کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں دراصل اس لافانی اور نایاب دولت کی قدر ہی نہیں ہے اتنا ہی نہیں آجکل کے بچے والدین خاص کے اپنی ماؤں کی فرمانبرداری سے کتراتے ہیں یہاں تک کہ اپنی ماؤں کو بات تک نہیں کرنے دیتے ہیں آجکل کے بچے جہاں گھروں کے باہر اور لوگوں سے بہت ہی ادب سے پیش آتے ہیں وہیں اپنے والدین کی ناقدری کرتے ہیں لیکن جو بچے اپنے والدین کی قدر اور فرمانبرداری نہیں کریں گے معاشرے کو ان سے کوئی امید نہیں رکھنی ہمیں کسی بھی قیمت پر اپنے ماں باپ کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑنا چاہیے خاص کر بڑھاپے میں جب قدم قدم پر انہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے جب یہ جسمانی طور کمزور ہو چکے ہوتے ہیں ایسے وقت میں ان سے آنکھیں پھیر لینا ہمارے لیے شرم اور بے حد افسوس کی بات ہے ہمیں ماں باپ کی خدمت کرنے کو اپنے لیے سعادت مندی کا کا سمجھ لینا چاہیے نہ کہ بوجھ بقول منور رانا
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
آئے دن مختلف ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف جگہوں پر ماں باپ کی توہین اور بے قدری کئ جاتی ہے اور ہزاروں ایسے واقعات ہونگے جو منظر عام پر ہی نہیں آتے ہونگے آجکل کے نوجوان ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ والدین کی نافرمانی انسان کو جہنم تک لے جا سکتی ہے چاہے پھر انسان نے کتنی ہی عبادات کیوں نہ کیں ہوں. ماں کی عظمت کو دنیا کے بڑے سے بڑے قلمکاروں، شاعروں اور ادیبوں بے بیان کیا ہے لیکن اس موضوع پر جتنا بھی لکھا اور کہا جائے کم ہو گا کیونکہ اس موضوع کی وسعت اور گہرائی سمندروں سے بھی زیادہ ہے ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا چاہے کوئی کتنی بھی خدمت کرے لہزا ہمیں اپنے ماں باپ کی خدمت دل و جان سے کرنی چاہئے شاعر مشرق حکیم الامت حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ سخت سے سخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے اتنا ہی نہیں حکیم لقمان کا فرمان ہے کہ اگر مجھے ماں سے جدا کر دیا جائے تو میں پاگل ہو جاؤں گا
ایسا نہیں ہے کہ آجکل کے بچے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتے ہیں الحمدللہ ہمارے معاشرے میں ایسے نوجوانوں کی کمی نہیں ہے جو اپنے والدین خاص کر اپنی ماں کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں اور اپنے آپ پر جنت واجب کرتے ہیں ایسے نوجوان ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں اور ایسے نوجوان پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم میں سے اگر کسی نے بھی اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ہو تو ہمیں فوراً اللہ کے حضور سر بہ سجود ہو کر اللہ اور ماں باپ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر لینی چاہیے اور بناہ مزید دیر کیے اپنے ماں باپ کی خدمت میں لگ جانا چاہیے تاکہ اللہ رب العزت ہمارے گناہوں کو بخش دے ہمارے درجات بلند فرمائے اور ہماری عمر، علم، اور عقل میں برکت عطا فرمائے بقولِ منور رانا
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجیے روشنی بڑھ جائے گی
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد
پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اکھنور میں حد متارکہ کے نزدیک اسلحہ وگولی بارود برآمد کیا گیا :فوج
سرینگر؍22،ستمبر ؍ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے مبینہ طور پر ڈرون طیاروں کے استعمال کے بیچ فورسز نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران اکھنور میں حد متارکہ کے نزدیک اسلحہ وگولی بارود برآمد کیا ۔فورسز کا دعویٰ ہے کہ اسلحہ کو جموں وکشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹوں تک پہنچا نے کے لئے ڈرون کے ذریعے یہاں گرایا گیا تھا ،جسکی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کو ملی تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جموں کے مضافاتی علاقہ اکھنور میں منگل کے روز لائن آف کنٹرول کے نزدیک اسلحہ و گولہ باردو برآمد کیا ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سامان ڈرون کے ذریعے ڈالا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے اکھنور علاقے میں لائن آف کنٹرول تلاشی کارروائی عمل میں لائی ،جس دوران یہاں پارسل نما ایک بہت بڑا بند پیکٹ برآمد کیاگیا اور کھولنے پر اس میں بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود برآمد کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے ۔اسی طرح20جون کو بی ایس ایف نے رتھو کٹھوعہ میں اسلحہ وگولہ بارود ضبط کیا ۔یہ واقعہ ہیرا نگر سیکٹر میں پیش آیا تھا ۔فورسز کو اندیشہ ہے کہ پڑوسی ملک جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی کو ہوا دینے کے لئے ڈرون کا استعمال کررہا ہے تاکہ ملی ٹنٹوں تک ہتھیار پہنچایا جاسکے ۔پولیس حکام نے بتایا ہے کہ تازہ واقعہ میں ڈرون کے ذریعے پالن والا علاقے میں ہتھیار گرائے گئے جو اکھنور سیکٹر سے12کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے ۔انہوں نے کارروائی کے دوران2اے کے47رایفلیں ،تین میگزین ،90اے کے47گولیاں ،7.62ایم ایم دو پستول اور پستول میگزین اور دیگر گولیاں ضبط کی گئیں ۔19ستمبر کو راجوری میں تین جنگجوئوں کو ہتھیار سمیت گرفتار کیا گیا ۔ڈی جی پی کے مطابق گرفتار جنگجوئوں نے ایل او سی ڈرون کے ذریعے ہتھیار حاصل کئے تھے ۔گرفتار جنگجوئوں کی شناخت پولیس نے راحل بشیر عرف ایان بھائی ساکنہ ٹکن پلوامہ ،عامر جان عرف حمزہ ساکنہ کاکا پورہ پلوامہ اور حافظ یونس وانی عرف زبیر ساکنہ شوپیان کے بطور کی تھی ۔