ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

ممبئی پولیس نے عدالت کو تحریری طور پر اس بات سے کیا آگاہ سرینگر /20ستمبر/ممبئی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس نے آج عدالت میں تحریری طور پر جواب دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی جماعت ارکان کے خلاف دائر کردہ کیس کو واپس لینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ڈی این نگر پولیس اسٹیشن میں 10 انڈونیشیائی اور کرغستان کے 10 شہریوں کے خلاف اپریل میں دو معاملے درج کئے گئے تھے۔ ان دونوں معاملوں کے خلاف 20 غیر ملکی شہریوں نے ڈنڈوشی کے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ ایڈیشنل چیف جسٹس نے غیر ملکی شہریوں کی عرضی مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے معاملوں کی سماعت کسی دیگر عدالت میں کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔گزشتہ ماہ دونوں الگ الگ معاملوں کو ایک عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس کے سامنے اپنی عرضی میں غیر ملکی شہریوں نے کہا کہ ان کی عرضی پر سماعت کئی بار اس لئے ملتوی کردی تھی، کیونکہ عدالت دیگر ضروری معاملات کی سماعت میں مصروف تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جسٹس ایس ایس ساونت نے کہا، لاک ڈاون کے سبب یہ 20 غیر ملکی شہری ہندوستان میں رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کی جانی چاہئے۔ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش وکیل امین سولکر نے کہا کہ ہندوستان میں جن غیر ملکی شہریوں پر معاملہ درج کیا گیا ہے، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ یہ سبھی غیر ملکی اپنے پیچھے اپنی فیملی کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور کورونا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہیکہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے معاملوں پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے، تو انہیں مستقبل میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا ایک مہینے کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، باندرہ پولیس نے 12 انڈونیشیائی شہریوں کے خلاف دو معاملے درج کئے تھے۔ ان معاملوں میں کہا گیا تھا کہ ملزمین کے خلاف ان دو معاملوں کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت نہیں تھے۔ یہ الزام ان الزامات سے متعلق ہیں، جن کے سبب شہر میں کووڈ -19 کے معاملات میں اضافہ ہوا اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔20 غیر ملکی شہریوں نے عدالت کے سامنے ڈسچارج درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ یہ دفعات ان کے خلاف نہیں بائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذریعہ دائر کئے گئے اپنے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج قتل اور قتل کی کوشش کے معاملوں کو ہٹا دیا جائے گا، لیکن ان پر لاک ڈاون اور ویزا ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فروری اور مارچ میں ہندوستان آئے تبلیغی جماعت کے اراکین کے خلاف خصوصی طور پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف کئی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 29 غیر ملکی شہریوں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ ان کے خلاف خلاف ورزی کی کوئی ثبوت نہیں تھی اور انہیں کووڈ-19 وبا کے دوران حساس برتاو کرنے کے بجائے بلی کا بکرام بنا دیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
تنازعہ کشمیر طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے،مسئلہ ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے / شاہ محمود قریشی سرینگر /20ستمبر/سی این آئی// ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ہمیشہ دیگر ممالک نے اٹھایا ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ہیں، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی ترجیح ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے پر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس کیلئے ایک پُرامن فضاء کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے جب تک نہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکل آئے ۔ہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے، وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے، اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ / آئی جی بی ایس ایف سرینگر /20ستمبر// لائن آف کنٹرو ل پر ڈرون کے ذریعے ہتھیاروںکی سپلائی کو نیا چیلنج قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کیلئے ڈورون کے ذریعے ہتھیاروں کی سپلائی کو بی ایس ایف نے نیا چیلنج قرار دیا ہے ۔ جموں کے آئی جی بی ایس ایف این ایس جموال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو جموں کشمیر میں داخل کرنے کی کوشیں جاری ہے اور اس کے لئے لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بند ی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے نئی حکمت عملی عمل میں لائی ہے اور اب ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے جموں کشمیر میں ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے ہونی والی کوششوں کو نا کام بنایا جا رہا ہے ۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ آج ہی آر ایس پورا سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کا ہیرون ضبط کرنے کے علاوہ کچھ ہتھیار بھی بر آمد کر لیں گئے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں بھی ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور راجوری میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونید یا جائے گا اور سرحدوں پر بی ایس ایف چوکس او ر متحرک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کا مقصد جنگجوئوں کو جموں کشمیر میں دھکیلنا ہوتا ہے تاہم پاکستان گولی باری کو بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے جس دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔

آخری گولہ

   145 Views   |      |   Monday, September, 21, 2020

تحریر: پرویز مائوس

شُوں ں ں ں ………ڈم م م ……………… زور دار آواز چاروں طرف فِضاؤں میں گونج گئی اور پھر خاموشی چھا گئی ……،،

لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی، ایک شور کے ساتھ گاؤں کے تمام لوگ یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے، زمیندار کے مکان پر گولہ گرا ۔۔۔۔۔،،
زمیندار کے گھر پر گولہ گرا۔۔۔۔۔،، گلابو جو صُبح سویرے گاؤ خانے سے مویشیوں کا گوبر سمیٹ کر مکان سے تھوڑی دور ڈھیر پر ڈالنے نکلی تھی اُس کے کانوں میں یہ آواز پڑتے ہی وہ قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگی،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا۔۔۔۔۔،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا ۔۔۔۔۔،،وہاں سے گُزرنے والے لوگ اُس کی طرف حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے، اُن کی نظروں میں اس وقت اُس کی حیثیت ایک پاگل کی تھی، ایک نے کہا،، اسی منحوس کی بد دُعا لگ گئی زمیندار کو، ہر وقت کہتی رہتی تھی کہ زمیندار کے گھر پر گولہ گرے۔۔۔۔۔،زمیندار کے گھر پر گولہ گرے۔۔۔۔۔،، یہی کہتے ہوئے گلابو ہاتھ میں خالی ٹوکرا لے کر گھر کی طرف چل پڑی تو گاؤں کے ایک آدمی کو دوسرے سے کہتے سُنا،، بڑا نیک اور ہمدرد تھا بیچارہ شابوخان مر گیا۔۔۔،، تو گلابو کے چلتے قدم اس طرح تھم گئے جیسے اُس کے تلوؤں کے ساتھ کسی نے تارکول لگا دیا ہو،،
زمیندار مرگیا اچھا ہوا ۔۔۔۔۔،، زمیندار مر گیا اچھا ہوا۔۔۔۔۔،،زمیندار مرگیا ۔۔۔۔۔،، گلابو کیا ہو گیا تجھے؟ تمام گاؤں زمین دار صاحب کے غم میں رنجیدہ ہے اور تُو ہے کہ خوشیاں منارہی ہے! احسان فراموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کے دوران کئی مرتبہ اُنہوں نے تجھے اپنے یہاں پناہ دی، یاد ہے تجھے کہ بھول گئی؟ احسان فراموش کہیں کی! لا حول ولا قوة کہہ کر امام صاحب آگے بڑھ گئے تو گلابو نے آسمان کی طرف گردن اُٹھا کر کہا،، تُو اگر رحیم ہے تو قہار بھی ہے! مجرم کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ہی سزا دیتا ہے، جو کسی کو نظر نہیں آتا وہ سب تُو دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔جو لوگ مجھے پاگل سمجھ رہے ہیں انہیں زمیندار کی دی ہوئی پناہ تو دکھائی دی لیکن اُس کے دئیے ہوئے زخم کسی کو نظر نہیں آئے، آتے بھی کیونکر؟ وہ زخم تو میرے جسم پر نہیں میری روح پر لگے ہوئے تھے، سب کے لبوّں پر بس ایک ہی جُملہ رقص کر رہا ہے، بیچارہ زمیندار بڑا نیک اور ہمدرد تھا،،،،، زمیندار کے چمچے! اچھا ہوا زمیندار مرگیا،، میں آزاد ہو گئی ۔۔۔۔۔،،زمیندارکے مکان پر گرنے والے گولے نے گلابو کی روح پر لگے ہوئے زخم تازہ کر دئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آٹھ سال قبل میر محمد سے بیاہ کر وہ اس گاؤں میں آئی تھی جو حدِ متارکہ پر واقع تھا تقسیم وطن کے وقت دریا کے آرپار یہ ایک بہت بڑا گاؤں جو آٹھ سو چُولہوں پر مشتمل تھا اُن کا مکان بھی دریا کے پار تھا ،جب وہ فقط تین برس کا تھا اپنی دادی زُلیخا کے ساتھ شادی کی خوشیوں میں شریک ہونے دریا کے اس پار آیا تھا رات کو اچانک شور مچا کہ قبائلی حملہ ہوگیا ہے، چاروں طرف افرا تفری مچ گئی لوگ ادِھر اُھر بھاگنے لگے، حملہ آور ہر چیز کو روندتے ہوئے آندھی کی طرح آگے بڑھتے ہوئے شہر تک پہنچ گئے کہ دریں اثنا اس ملک کی فوج بھی تمام علاقے میں پہنچ گئی پھر معلوم نہیں کس بد بخت کے حکم سے اس گاؤں کے بیچوں بیچ ایک لکیر کھینچ دی گئی جس نے آٹھ سو چُولہوں والے گاؤں کو ڈیڑھ سو چولہوں میں تبدیل کر کے کئی کنبوں کے سینوں میں تقسیم کا خنجر اتار دیا ۔۔۔۔۔،،کئی دنوں تک رونے دھونے کے بعد زُلیخا نے اِسے خُدا کی مرضی سمجھ کر میرو کو اپنے بوڑھاپے کا سہارا سمجھ کر پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا لیکن خُدا کی منشا کے آگے کس کی چلی ہے جو زُلیخا کی چلتی،، وہ اکثر پہروں دریا کے کنارے بیٹھ کر حسرت بھری نظروں سے اُس پار دیکھتی رہتی اُس کے چہرے کی جُھریوں میں اپنوں سے جُدائی کا غم صاف جھلکتا تھا،سامنے اپنا پشتنی مکان دیکھ کر اُس کا کلیجہ کٹ جاتا وہ سوچتی کاش! وہ کوّا بن کر اُس پار جائے اور اپنے مکان کے دالان کا ایک پھیرا لگا کر آئے لیکن پھر بے بسی میں آنسو بہاتے ہوئے دریا کی طرف دیکھتی ، دریا میں اُچھل اُچھل کر بہتا پانی اُسے اپنے ارمانوں اور رشتوں کا خون لگ رہا تھا، پھر ایک دن یہی حسرت لے کر وہ مرگئی کہ آج نہیں تو کل اس گاؤں کے درمیان کھینچی ہوئی یہ خونی لکیر مٹ جائے جسے دونوں ممالک نے ایل او سی (L.O.C)کا نام دے رکھا تھا اور بچھڑے ہوئے رشتے ایک بار پھر یکجا ہو جائیں۔۔۔۔۔،،،
میرو جوکہ ملٹری میں بطور قُلیPorterکام کرتا تھا شادی کے چھ سال بعد ہند پاک افواج کے درمیان ہونے والی گولہ باری میں ایک مورٹر شل کا شکار ہو گیا اور اپنے پیچھے تین معصوم بچے اور ایک خوبصورت بیوی چھوڑ گیا،، چونکہ گلابو ابھی جوان اور خوبصورت تھی اُس کی زمین جائیداد کو دیکھتے ہوئے کافی جگہوں سے شادی کی پیشکش آئی لیکن اُس نے بچوں کے سہارے زندگی گُزارنے کو ترجیح دی پھر وہ اپنے تین بچوں کی پرورش میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ اُسے اپنی جوانی ڈھلنے کا احساس ہی نہیں ہوا ۔۔۔۔۔،،
دونوں ممالک کے درمیان جب بھی کوئی اشتعال انگیز بیان بازی ہوتی تو اُس کا نزلہ گولہ باری کی صورت میں حدِ متارکہ پر واقع اس گاؤ ں کے دونوں اطراف بالخصوص پڑتا تو کچھ لوگ اپنا گھر بار اور مال مویشی چھوڑ کر اپنی زمین میں کھودے ہوئے مورچوں میں گُھس جاتے اور کچھ اپنی جان بچانے کے لئے زمیندار کے یہاں پناہ لینے چلے جاتے ،کیونکہ زمیندار شابو خان کابہت وسیع مکان پہاڑ کی اوٹ میں تھا جہاں گولہ باری کا کوئی احتمال نہیں تھا اور نہ آج تک کوئی گولہ اس طرف گرا تھا اُس کا باپ گابو خان جوکہ نہایت ہی رحمدل اور ہمدرد انسان تھا نے گولہ باری ہونے کی صورت میں لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا ہال تعمیر کیا تھا جس میں کم از کم تیس چالیس لوگ آرام سے پناہ لے سکتے تھے،،
اُس روز بھی دونوں ممالک کے لیڈران کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد سرحد کے دونوں اطراف افواج کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا، لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے، بچوں کے اسکول چھوٹ گئے، مال مویشی پیاس اور بھوک سے بلکنے لگے، اب کی مرتبہ گولہ باری میں کافی شدت تھی اور سرحد پار کی افواج کا ہدف کنٹرول لائن کے متصل رہائشی علاقے کے وہ کوٹھے تھے جنہیں لوگوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ایک اینٹ جوڑ کر بنایا تھا، اس علاقے میں پہاڑ کے عقب میں ایٹلری کا ایک اسلحہ ڈپو تھا، اور یہ جوان اس علاقے کی حفاظت پر مامور تھے، اس لئے اُس پار کی فوج اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانے کی تاک میںرہتی تھی لیکن اسلحہ ڈپو پہاڑ کے درے میں ہونے کی وجہ سے توپوں سے نکلنے والے گولے آدھے راستے میں ہی رہائشی علاقوں پر گرتے جس سے ہر بار دو چار لوگوں کو بغیر کسی تقصیر کے نگل جاتے، نہ جانے ان گولوں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کوئی چِپ یا خُفیہ کیمرہ نصب کیا گیا تھا کہ ہر بار یہ کسی نہ کسی غریب کے کوٹھے پر ہی گرتا، پچھلے ستر برس سے یہ گولہ باری ان لوگوں کا مقدر بن چکی تھی، تب سے ہی ان لوگوں کی مانگ رہی کہ یہاں کے لوگوں کی حفاظت کے لئے زمین دوز بینکر بنائے جائیں، ویسے تو ہر الیکشن میں پارٹیوں نے اپنے مینی فیسٹو میں اس مطالبے کو سر فہرست جگہ دی ہوتی لیکن الیکشن کی بعد یہ مطالبہ دبیز فائلوں کے نیچے دب جاتا یا پھر سیاست اور پارٹی بازی کا شکار ہو جاتا اور سرحدوں پر بسنے والے یہ لوگ اپنے وطن عزیز کے لئے بتدریج قربان ہوتے رہتے، ان کے ووٹوں پر جیتنے والے نیتا لوگ شہر کی بڑی بڑی عالیشان کوٹھیوں میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے۔۔۔۔۔،، اُن کے لئے ان لوگوں کی قیمت ایک ووٹ سے زیادہ کچھ نہیں تھی اور آئے دن مرنے والوں کے لواحقین کو آٹے میں نمک کے برابر معاوضہ دے کر حُکام اپنا فرض ادا کر دیتے، انگریز کی مکاری اور سفاکی کی بدولت ہوئی اس وطن کی تقسیم کا سب سے زیادہ خمیازہ انہی لوگوں کو بھُگتنا پڑا جو حدِ متارکہ کے ارد گرد بستے تھے،،، شام تک جب گولہ باری میں کوئی کمی نہ آئی تو تمام گاؤں والوں کی طرح گلابو بھی اپنی اور بچوں کی جان بچانے کے جتن کرنے لگی، بے سہارا، اوپر سے عورت ذات ساتھ میں معصوم بچے، جائے تو جائے کہاں؟ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ اتنے میں اس کی نظر قیصر چاچی پر پڑی تو گلابو نے پوچھا، چاچی گٹھڑی اُٹھا کر کہاں بھاگ رہی ہو، چاروں طرف گولے ہی گولے برس رہے ہیں،، ارے بیٹی! جان بچائے تو اور کہاں، آج تو انہوں نے حد ہی کر دی، دس مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور پانچ موتیں بھی ہو گئی ہیں جن میں دولت رام اور کرتار سنگھ کی بیوی ستبیر بھی شامل ہے وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ گولہ باری رُکے تو سسکار کریں، بس جان بچ جائے مکان تو پھر بن جائیں گے، چل توُ بھی میرے ساتھ!
لیکن چاچی کہاں؟ گلابو نے اپنے تینوں بچوں کو اس طرح بانہوں میں سمیٹتے ہوئے کہا جیسے مرغی پرُو ں کے نیچے چُوزوں کو چھُپا لیتی ہے،، ارے زمیندار کے گھر کے بغیر یہاں کونسی جگہ محفوظ ہے ؟وہیں جاؤں گی، میری مان تُو بھی چل میرے ساتھ، چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں پھر تی رہے گی ماری ماری اسکول اور اسپتال تو پہلے ہی بھر چُکے ہیں، گلابو سوچ میں پڑ گئی تو قیصر چاچی نے کہا،، اری چل سوچ کیا رہی ہے، زمیندار صاحب بہت نیک اور ہمدرد انسان ہیں ،کہتے ہوئے اس نے گلابو کے چھوٹے بچے کو گود میں اُٹھالیا اور پھر گلابو کے قدم بے اختیار چاچی کے پیچھے پیچھے اُٹھ گئے،، یہ پہلا موقعہ تھا جب وہ پناہ لینے کے لئے زمیندار کے ہاں جارہی تھی کیونکہ اُس کا اپنابنایا ہوا مورچہ بھی گزشتہ دنوں گولے کا نشانہ بن گیا تھا، شیلنگ کی آواز بدستور فضاؤں میں گونج رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ آج رات کو ہی جنگ شروع ہو جائے گی، زمیندار کے گھر پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی _گلابو نے دیکھا پناہ گاہ میں صرف عورتیں اور بچے تھے، مرد تو گھر کی رکھوالی پر مامور تھے، کھانا کھانے کے بعد تمام عورتیں اور بچے کئی دنوں کے بعد سکون کی نیند سوگئے ، زمیندار کا اپنی بیوی کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا اسی سلسلے میں وہ عدالت میں پیشی کے لئے حاضر ہونے شہر گیا ہوا تھا اور پھر شہر سے دیر سے لوٹا تھا اپنے ایک وفادار ملازم کے ساتھ پناہ گزینوں کی خبر گیری کے لئے ہال میں پہنچ گیا،، ہال میں گُھپ اندھیرا تھا، گولہ باری کے دوران اکثر یہاں کی بجلی لائن کاٹ دی جاتی تھی، اُس نے ساتھ لائی ہوئی ٹارچ اُن کے چہروں پر ڈالی تو کئیوں نے تیز روشنی پڑنے کی وجہ سے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور کچھ نے کروٹ بدل لی، اچانک اُس کی نظر گلابو پر پڑی جو شاید بچے کو دُودھ پلاتے ہوئے گہری نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی اور اُس کی ایک چھاتی کُرتی سے باہر نکلی ہوئی تھی اُس کا جوبن اور خوبصورتی دیکھ کر شابو خان کا دل بے قابو ہو گیا اور اُس کے مُنہ سے رال ٹپکنے لگی،، اُس نے اپنے ملازم سے اس عورت کی بابت دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ وہ میر محمد کی بیوہ ہے تو اتنے میں زمیندار کے اندر کا وحشی جانور جاگ اُٹھا اُس نے ملازم کو اشارہ کیا تو ملازم نے اُس کا مُنہ دبوچ کر کاندھے پر اُٹھا لیاوہ نیند میں کسمسا کر رہ گئی لیکن اُس کی پکڑ بہت مضبوط تھی اور اگلے ہی لمحے وہ زمیندار کے عالیشان کمرے میں تھی ، زور زبردستی میں اُس نے مزاحمت کی لیکن زمیندار نے اُس کو بچے یاد دلائے تو اس کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ گئے تھوڑی دیر بعد ایک معصوم ہرنی وحشی درندے کے پنجوں میں تھی، سرحد پار سے گولے برسنے تو بند ہو چُکے تھے لیکن گلابو کے جسم پر ساری رات گولے برستے رہے جس سے اُس کی روح تک زخمی ہوگئی،، بچوں کا خیال آتے وہ تڑپ اُٹھی ،صُبح ہوتے ہی وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگوں سے اپنے بچوں کے پاس پہنچی انہیں سلامت دیکھ کر اُس نے اطمینان کا سانس لیا اور سوچنے لگی نہ معلوم میری طرح کتنی ہی گلابو زمیندار کی ہوس کا شکار ہوئی ہونگی ، پھر کتنی مرتبہ وہ زمیندار کے بستر کی زینت بنی اُسے خود بھی یاد نہیں گلابو یادوں کی تلخ گہری جھیل میں نہ معلوم کب تک ڈوبی رہتی اگر سائرن کی آواز اُس کی کانوں سے نہ ٹکراتی،، اُس نے نظریں اُٹھا کر دیکھا تو لوگ بغل میں پوٹلیاں دبائے اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور دُور سرحد پر دونوں ملکوں کے سفید جھنڈے لہرا کر سیز فائر کا اعلان کر رہے تھے،،،،،،، ۔

متعلقہ خبریں

ممبئی پولیس نے عدالت کو تحریری طور پر اس بات سے کیا آگاہ سرینگر /20ستمبر/ممبئی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس نے آج عدالت میں تحریری طور پر جواب دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی جماعت ارکان کے خلاف دائر کردہ کیس کو واپس لینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ڈی این نگر پولیس اسٹیشن میں 10 انڈونیشیائی اور کرغستان کے 10 شہریوں کے خلاف اپریل میں دو معاملے درج کئے گئے تھے۔ ان دونوں معاملوں کے خلاف 20 غیر ملکی شہریوں نے ڈنڈوشی کے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ ایڈیشنل چیف جسٹس نے غیر ملکی شہریوں کی عرضی مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے معاملوں کی سماعت کسی دیگر عدالت میں کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔گزشتہ ماہ دونوں الگ الگ معاملوں کو ایک عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس کے سامنے اپنی عرضی میں غیر ملکی شہریوں نے کہا کہ ان کی عرضی پر سماعت کئی بار اس لئے ملتوی کردی تھی، کیونکہ عدالت دیگر ضروری معاملات کی سماعت میں مصروف تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جسٹس ایس ایس ساونت نے کہا، لاک ڈاون کے سبب یہ 20 غیر ملکی شہری ہندوستان میں رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کی جانی چاہئے۔ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش وکیل امین سولکر نے کہا کہ ہندوستان میں جن غیر ملکی شہریوں پر معاملہ درج کیا گیا ہے، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ یہ سبھی غیر ملکی اپنے پیچھے اپنی فیملی کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور کورونا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔ممبئی پولیس میں تبلیغی جماعت سے منسلک ایک معاملے میں ممبئی پولیس نے مقامی عدالت کو بتایا ہیکہ اندھیری میں 20 غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج قتل اورقتل کی کوشش کا معاملہ واپس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے معاملوں پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے، تو انہیں مستقبل میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا ایک مہینے کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، باندرہ پولیس نے 12 انڈونیشیائی شہریوں کے خلاف دو معاملے درج کئے تھے۔ ان معاملوں میں کہا گیا تھا کہ ملزمین کے خلاف ان دو معاملوں کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت نہیں تھے۔ یہ الزام ان الزامات سے متعلق ہیں، جن کے سبب شہر میں کووڈ -19 کے معاملات میں اضافہ ہوا اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔20 غیر ملکی شہریوں نے عدالت کے سامنے ڈسچارج درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ یہ دفعات ان کے خلاف نہیں بائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذریعہ دائر کئے گئے اپنے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج قتل اور قتل کی کوشش کے معاملوں کو ہٹا دیا جائے گا، لیکن ان پر لاک ڈاون اور ویزا ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فروری اور مارچ میں ہندوستان آئے تبلیغی جماعت کے اراکین کے خلاف خصوصی طور پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف کئی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے 29 غیر ملکی شہریوں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ ان کے خلاف خلاف ورزی کی کوئی ثبوت نہیں تھی اور انہیں کووڈ-19 وبا کے دوران حساس برتاو کرنے کے بجائے بلی کا بکرام بنا دیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
تنازعہ کشمیر طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے،مسئلہ ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے / شاہ محمود قریشی سرینگر /20ستمبر/سی این آئی// ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ہمیشہ دیگر ممالک نے اٹھایا ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں بڑا طبقہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر تنقید کررہا ہے، بھارتی دانشوروں کے مطابق حکومتی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ہیں، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی ترجیح ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے پر حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس کیلئے ایک پُرامن فضاء کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اُٹھاتے رہیں گے جب تک نہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکل آئے ۔ہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے، وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے، اقوام متحدہ نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ / آئی جی بی ایس ایف سرینگر /20ستمبر// لائن آف کنٹرو ل پر ڈرون کے ذریعے ہتھیاروںکی سپلائی کو نیا چیلنج قرار دیتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدوں پر بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کیلئے ڈورون کے ذریعے ہتھیاروں کی سپلائی کو بی ایس ایف نے نیا چیلنج قرار دیا ہے ۔ جموں کے آئی جی بی ایس ایف این ایس جموال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو جموں کشمیر میں داخل کرنے کی کوشیں جاری ہے اور اس کے لئے لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بند ی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے نئی حکمت عملی عمل میں لائی ہے اور اب ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے جموں کشمیر میں ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوںنے کہا کہ سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے ہونی والی کوششوں کو نا کام بنایا جا رہا ہے ۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ آج ہی آر ایس پورا سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کا ہیرون ضبط کرنے کے علاوہ کچھ ہتھیار بھی بر آمد کر لیں گئے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں بھی ڈرون کے ذریعے ہتھیار پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور راجوری میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونید یا جائے گا اور سرحدوں پر بی ایس ایف چوکس او ر متحرک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس کا مقصد جنگجوئوں کو جموں کشمیر میں دھکیلنا ہوتا ہے تاہم پاکستان گولی باری کو بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے جس دوران پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔
کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام کنٹرول علاقے پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی /صدر ہند
سرینگر /20ستمبر/صدر ہند رام ناتھ کوند نے اتوار کے روز کہا ہے کہ بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی سے جموں کشمیر میں مادری زبان کو تقویت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے بچے ذہین اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی پسند بھی ہے ۔صدر ہند رام ناتھ کوند نے کہا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے جموں کشمیر کو جدید تعلیم کا مرکز بنانے کیلئے کوشش ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ذہین ، باصلاحیت اور ترقی پسند بچوں کا ذخیرہ ہے جنہیں جدید تعلیم کی ضرور ت ہے تاہم نئی تعلیمی پالیسی میں ’’مادری زبان کو تقویت دیکر اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق نئی قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرکے جموں وکشمیر کو علم ، جدت اور تعلیم کا مرکز بنانے کے لئے پرعزم کوششیں کی جانی چاہئیں۔صدر رام ناتھ کووند نے اتوار کے روز کہ جموں و کشمیر انتہائی ذہین ، باصلاحیت اور جدید بچوں کا ذخیرہ ہے اور نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے طالب علم کو زہنی صلاحیت میں فروغ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جنت کو علم ، جدت اور تعلیم کا مرکز بنانے کے لئے طے شدہ کوششیں کی جائیںکووند نے کہا کہ ان اقدامات سے جموں و کشمیر کو ایک بار پھر اگر فردوس زمین بروئے است ’’اگر زمین پر کہیں جنت ہے‘‘ کہلائے گا ۔جیسا کہ قرون وسطی کے زمانے میں اس کا حوالہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کوہندوستان کے تاج کا ایک روشن زیور بنادیا جائے گا ۔ جموں وکشمیر میں بھارت کو ایک بے مثال آبادیاتی فائدہ ہے لیکن اس کا مثبت اندازہ تب ہی ہوسکتا ہے جب آبادی کا ایک خاص طبقہ تیار کرنے والے نوجوان ہنر مند ، پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل اور سب سے بڑھ کر حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ ہوجائیں۔ کلہنہ کی راجٹرنگینی اور مہیانہ بدھ مت کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، جن کے آثار کشمیر میں مقبول تھے ، صدر نے رائے دی کہ ہندوستان کی ثقافتی روایات کی تاریخ ان کو دھیان میں لائے بغیر نامکمل رہے گی۔ یہ ہماری روایت اور بھرپور ثقافتی ورثے کو سمجھنا ضروری ہے جو صرف ہماری مادری زبان میں ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مادری زبان ہی نئی تعلیمی پالیسی میں حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کیونکہ یہ ہمارے ملک کے ثقافتی اخلاق پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں مرکزی کابینہ کے ذریعہ منظور شدہ نیپ 1986 میں وضع کردہ تعلیم سے متعلق قومی پالیسی کی جگہ لے لی ہے اور اسکولوں اور اعلی تعلیم کے نظام میں “تبدیلی کی اصلاحات” کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہندوستان کو “عالمی علمی سپر پاور” بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس پالیسی میں جن تین زبانوں کے فارمولے کا تصور کیا گیا ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ کثیر لسانی کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد کو بھی فروغ دے سکتا ہے لیکن صدر نے کہا کہ اسی وقت کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر کنٹرول علاقے پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی۔
پونچھ میں بھی گولہ باری سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ چار موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا گیا سرینگر18//ستمبر//گریز کے بکتور سیکٹر اور پونچھ میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت افواج کے درمیان ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے کئی سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس وجہ سے کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی افواج پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ ضلع کے گریز سیکٹر میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔یہ واقعہ بگتور علاقے میں پیش آیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کا سلسلہ صبح سوا گیارہ بجے اْس وقت شروع ہواجب پاکستانی افواج نے ترابل گاوں کے نزدیک بھارت کے لوسر پوسٹ اور درمٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق آر پار شیلنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رواں مہینے کے دوران اس علاقے میں اپنی نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ادھر فوج نے بالا کوٹ پونچھ میں چھ موٹر شیلوں کو ناکارہ بنایا۔