ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت نے اٹھائے دواہم اقدام:کیجریوال

   61 Views   |      |   Wednesday, September, 23, 2020

نئی دہلی 26جون/دہلی میں کورونا انفکشن کی خطرناک صورت حال کے درمیان وزیراعلیٰ اروندکیجریوال نے جمعہ کو کہا کہ حکومت نے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے دو اہم اقدام اٹھائے ہیں اور لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔مسٹر کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میڈیا سے کہا کہ ایک تو پلازمہ تھراپی اور دوسرے آکسیجن کی سطح بنائے رکھنے پر خاص زوردیا جارہا ہے ۔پلازمہ تھراپی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سے کورونا مریضوں کے علاج میں بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔پلازمہ تھراپی کا 29مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا،جو ٹھیک ہوگئے ہیں۔اب حکومت کو 200مریضوں کا علاج اس طریقے سے کرنے کی اجازت ملی ہے ۔ایل این جے پی اور راجیو گاندھی اسپتال میں پلازمہ تھراپی کی جارہی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ دہلی کے وزیرصحت کی حالت سنگین ہونے پر انہیں پلازمہ تھراپی دی گئی تھی۔مسٹر کیجریوال نے کہا کہ جس متاثرین کی حالت سنگین ہے ،وہ وینٹیلیٹر پر ہوں اور ان کے مختلف اعضاء نے کام کرنا بند کردیا ہو تو ان پر اس تھراپی کا اثر غالباً نہ ہو لیکن جن کی حالت تھوڑی بہتر ہے ان پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔آکسیجن لیول سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ عام حالات میں آکسیجن کی سطح 95ہونی چاہئے ۔اگریہ 90 سے کم ہوجائے تو یہ خطرہ اور 85سے کم ہوجائے بہت ہی سنگین حالت مانی جاتی ہے ۔آکسیجن سطح کم ہونے پر سانس لینے میں دقت ہوتی ہے ۔کئی مریضوں میں دیکھا گیا ہے کہ آکسیجن لیول کم ہے ،لیکن علامت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن مریضوں میں آکسیجن سطح کم ہونے کی علامت نہیں ہوتی ہے ،ان کا آکسیجن لیول اچانک کم ہوجاتاہے اور موت ہوجاتی ہے ۔ہوم آئیسولیشن کے سبھی مریضوں کو آکسیمیٹر دے دیا گیا ہے ۔آکسیمیٹر ان کے لئے حفاظتی ڈھال ہے ۔مریض کو ہر گھنٹے دو گھنٹے پر آکسیجن لیول چیک کرتے رہنا چاہئے ۔مسٹر کیجریوال نے کہا کہ ،مریض کا آکسیجن لیول 94سے نیچے آنے پر فون کردینا چاہئے ۔اس کے گھر پر آکسیجن کا انتظام کیا جائے گا اور اسپتال میں داخل کرایاجائے گا۔ملک میں کورونا معاملے میں دہلی دوسرے مقام پر ہے ۔دہلی میں اب ممبئی سے زیادہ معاملے ہیں۔یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 73780 ہے ،جبکہ 2429 کی موت ہوچکی ہے ۔یواین آئی

متعلقہ خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان کے فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دے کر نہ صرف ٹرافی جیت لی بلکہ وہاں کے لوگوں کے دل بھی جیت لئے۔ فائنل میچ کے تقریب پر بی ڈی او شوپیان، وادی معروف ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ اس موقعے پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نوجوان کھیل کود کے ساتھ ساتھ تعلیم پر زیادہ توجہ دے۔ ادھر فائنل میچ دیکھنے کیلئے پہاڑی ضلع شوپیان کے کثیر تعدادلوگ اُمڈ آئے اور تالیاں بجا کر میچ کا لطف اٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق لانتھورہ پرائمرلیگ شوپیان کا فائنل میچ شاندار طریقے سے کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں پلوامہ جم خانہ نے روٹ ٹور فروٹ شوپیان کے ٹیم کو شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کر تے ہوئے شوپیان کی ٹیم نے183رنز بنائیں وہ انکی تمام کھلاڑی اوٹ ہوئے ۔ شوپیان ٹیم کی جانب سے موزم نے69رنز بنائیں۔ عادل کاچروں نے32رنز کی اننگز کھیلی۔ بولنگ میں پلوامہ جم خانہ کی جانب سے ثاقب نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کر تے ہوئے4وکٹیں حاصل کیں جبکہ عادل، عرفان اور الطاف ٹھاکر نے ایک ایک کھلاڑی کو اوٹ کیا۔ جواب میں پلوامہ جم خانہ نے میچ کے آخری اور میں جیت درج کی۔ پلوامہ جم خانہ کی جانب سے آکاش ایوب نے جارحانہ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی۔ انہوں نے 81رنز بنائیں۔ اختر حسین گونگو نے30رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان شبیر لیفٹی نے35رنز بنائیں۔ آکاش ایوب کو مین آف دی میچ جبکہ مین آف دی سریز کا ایوارڈ شوپیان ٹائٹین ٹیم کے کھلاڑی یامن کو دیا گیا۔ ادھر میچ دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ اسٹیڈیم میں آئے تھے اور پورا دن میچ کا لطف اٹھایا۔ تالیاں بجاکر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو داد دی۔ تقریب پر ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق جو کہ پلوامہ جم خانہ کے چیرمین اور آش نامی کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی نے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھائی میں بھی زیادہ دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری سریز کے دوران لانتھورہ کے گردو نوح کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت اور اپنا جذبہ دکھایا ہے اُسے سے کا فی متاثر ہوا ہو۔ انہوں نے اس موقعے پر مزید کہا کہ آش کوچنگ سینٹر یہاں کے غریب، یتیم اور جسمانی طور معذور طالب علموں کو مفت کونسلنگ فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر لوگوں نے پلوامہ جم خانہ کرکٹ ٹیم کے حق میں زبردست نعرے لگائیں۔ تقریب پر پلوامہ جم خانہ کے منیجر ڈرایوڈ، ناصر، سیکریٹری محمد ایوب ڈار اور ٹیم کے کوچ شوکت ناصر بھی موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق بی ڈی او شوپیان تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے جبکہ ماہر ماحولیات کے ڈاکٹر روف الرفیق نے ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میچ اس قدر دلچسپ رہا کہ لانتھورہ کے آس پاس رہ رہے لوگوں نے کھیت کھلانوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ اور دیر گئے شام تک میچ کا لطف اٹھاتے رہے ۔
شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ یامیوہ صنعت کے بعدٹوارزم سیکٹر صرف وادی کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں وکشمیر کادوسرااہم ترین شعبہ یاصنعت رہاہے ،کیونکہ شعبہ سیاحت کیساتھ لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرجڑے ہوئے ہیں ،مطلب سیاحتی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول شکارہ والوں ،ہائوس بوٹ وہوٹل مالکان وورکروں ،ٹرانسپورٹروں ،گائیڈوں ،دستکاروں اوردیگربہت سارے لوگوں کیلئے ذرائع آمدن یاروزگار کاذریعہ ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ سیاحتی صنعت خزانہ عامرہ کیلئے بھی مختلف ٹیکسوں وغیرہ کی صورت میں آمدن کاایک اہم ترین وسیلہ ہے ۔لیکن میوہ صنعت وہینڈی کرافٹس صنعت کی طرح ہی سیاحتی صنعت کوبھی مشکل ترین دور یاصورتحال کاسامنا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے کنارے سیاحوں کے آنے کاانتظار کرنے والے شکارہ والوں کے چہرے اس صورتحال کوبغیر الفاظ کے بیان کرتے ہیں ۔بلیو وارڈ روڑ پر واقع ہوٹلوں کے ملازمین اورمالکان کی نظریں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں ۔20ستمبربروز اتوار دن کے اڑھائی بجے جب موسم خوشگوار تھا،اوردھوپ بھی نکلی تھی توجھیل ڈل کامنظر بھی بڑا دلکش تھا۔ڈل کے کنارے کم وبیش ایک درجن مقامات پر شکارہ والے سیاحوں کے آنے کاانتظار کررہے تھے ۔مقامی لوگ اکیلے یاجوڑوں نیز کنبوں کی صورت میں یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے تھے ۔شکارہ والے ایک ایک کرکے یعنی باری باری کسی نہ کسی جوڑے کوشکارے میں بٹھا کر جھیل ڈل کی سیرکیلئے نکل رہے تھے ۔دوگھنٹے یہاں شکارہ والوں کے باری باری مقامی سیلانیوں کولیکر جاتے دیکھا،لیکن ان سیلانیوں میں کوئی ایک بھی غیرمقامی یاکسی دوسری ریاست یاکسی بیرون ملک کانہیں تھا۔کچھ شکارہ والوں سے بات کی تواُن کاکہناتھاکہ ہم روزی روٹی اب مقامی لوگوں کی وجہ سے ہی چلتی ہے ،ہم اتوارکوکام کرتے ہیں اورباقی 6دن شاذونادر ہی کوئی جھیل ڈل کی سیروتفریح کیلئے آتا ہے ۔بلیو وارڈ روڑ اورڈل کے کنارے مقامی سیلانیوں کی اچھی تعدادنظرآرہی تھی ،جو سماجی یاجسمانی دوری کاخیال رکھتے ہوئے یہاں اُس جھیل (ڈل) کانظار کررہے تھے ،جس کودیکھنے کیلئے یورپ ،مغرب ،عرب اورشمالی مشرقی ایشیاء کے ممالک سے لوگ (سیاح ) ہرسال آیاکرتے تھے۔اُن کیلئے شکارے میں بیٹھ کر جھیل ڈل کانظارہ کرناایک خواب ہواکرتا تھا،اورپھروہ دلکش ہائوس بوٹوں میں ٹھہرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔لیکن آج شکارے اورہائوس بوٹ اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے ترس رہے ہیں ۔شکارہ والے اورہائوس بوٹ مالکان کہتے ہیں کہ پانچ اگست 2019کے بعدہم نے کبھی خوشی یاراحت تودُور کی بات ،سکون بھی نہیں پایا،کیونکہ ہماری روزی روٹی نہیں چل پارہی ہے ،ہم دن بھریہاں ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔ایک ہائوس بوٹ مالک نے افسردہ لہجے میں کہاکہ ہم کبھی غیرملکی سیاحوں کیساتھ ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں بات کیاکرتے تھے ،آج ہمارے پاس وہ زبان بھی نہیں کہ کسی کواپنادردسناسکیں ۔ایک شکارہ والے کاکہناتھاکہ میں چار بچوں کاباپ ہوں ،سوچا تھاکہ بچوں کواعلیٰ تعلیم دلاکراُن کامستقبل بہتر بنائوں لیکن5،اگست2019سے جاری صورتحال نے اتنی تنگدستی پیداکردی کہ اب ٹیوشن تودورکی بات اسکول کافیس اداکرنابھی مشکل بن چکاہے ۔نہرئو پارک کے بالکل سامنے مین چوک میں چاردہائیوں سے پرویز احمد اورمحمداکبر نامی دوبھائی ایک ٹی اسٹال چلارہے ہیں ،جہاں اب چائے نہیں بلکہ Cofeeدستیاب رہتی ہے ۔شاہ کیفٹیریا نامی اس ٹی اسٹال یاکیفے کے مالک محمداکبر نے اپنے اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں شیشے کاایک فریم آویزاں رکھا ہے ،جس میں کم وبیش ایک درجن سے زیادہ ملکوں کے کرنسی نوٹ چسپاں کئے گئے ہیں ۔محمداکبر نے بتایاکہ جب بھی کوئی غیرملکی یاملکی سیاح آتاتھا تووہ اپنے ملک کاکرنسی نوٹ ہمیں بطوریادگار دیاکرتاتھا،اورہم نے ان سبھی کرنسی نوٹوں کوجمع کرکے اس فریم میں بطورایک یادگارکے چسپاں کیا ،تاکہ جب بھی کوئی ملکی یاغیرملکی سیاح یہاں آئے تووہ یہ جان سکے کہ مجھ سے پہلے بھی میرے ملک کے لوگ کشمیرآتے رہے ہیں ۔محمداکبرکاکہناتھاکہ اب ہم کبھی کبھارہی کسی ملکی یاغیرملکی سیاح کودیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ2،اگست2019کوجب مقامی حکومت کی جانب سے تمام سیاحوں اوریاتریوں کوکشمیر سے چلے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ،تو میرے اس کیفے میں اُس شام خاصا رش تھا،اورہمیں اسبارے میں کوئی اطلاع یاخبر نہیں تھی کہ کوئی آرڈرجاری ہواہے ۔محمداکبرنے بتایاکہ خبرپھیلتے ہی توبلیو وارڈ روڑپرافراتفری کی صورتحال پیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ 3،اگست2019کوصبح سے ہی یہاں بھاگم بھاگ کی صورتحال رہی اورسبھی ہوٹل اورہائوس بوٹ شام تک خالی ہوگئے تھے ۔محمداکبر نے کہاکہ تب سے ابتک ہم نے سیاحتی صنعت کومرتے دیکھاہے ۔محمداکبر نے جھیل ڈل ،اس میں موجودہائوس بوٹوں اورکنارے کھڑے شکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھاکہ یہاں کبھی بہارہی بہار ہواکرتی تھی ۔ شاہ کیفٹیریاکے شریک مالک محمداکبر کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مقامی لوگ یہاں سیروتفریح کیلئے آرہے ہیں ،اورہماری روزی روٹی ان ہی مقامی سیلانیوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔
کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اکھنور میں حد متارکہ کے نزدیک اسلحہ وگولی بارود برآمد کیا گیا :فوج
سرینگر؍22،ستمبر ؍ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے مبینہ طور پر ڈرون طیاروں کے استعمال کے بیچ فورسز نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران اکھنور میں حد متارکہ کے نزدیک اسلحہ وگولی بارود برآمد کیا ۔فورسز کا دعویٰ ہے کہ اسلحہ کو جموں وکشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹوں تک پہنچا نے کے لئے ڈرون کے ذریعے یہاں گرایا گیا تھا ،جسکی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کو ملی تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جموں کے مضافاتی علاقہ اکھنور میں منگل کے روز لائن آف کنٹرول کے نزدیک اسلحہ و گولہ باردو برآمد کیا ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سامان ڈرون کے ذریعے ڈالا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے اکھنور علاقے میں لائن آف کنٹرول تلاشی کارروائی عمل میں لائی ،جس دوران یہاں پارسل نما ایک بہت بڑا بند پیکٹ برآمد کیاگیا اور کھولنے پر اس میں بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود برآمد کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے ۔اسی طرح20جون کو بی ایس ایف نے رتھو کٹھوعہ میں اسلحہ وگولہ بارود ضبط کیا ۔یہ واقعہ ہیرا نگر سیکٹر میں پیش آیا تھا ۔فورسز کو اندیشہ ہے کہ پڑوسی ملک جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی کو ہوا دینے کے لئے ڈرون کا استعمال کررہا ہے تاکہ ملی ٹنٹوں تک ہتھیار پہنچایا جاسکے ۔پولیس حکام نے بتایا ہے کہ تازہ واقعہ میں ڈرون کے ذریعے پالن والا علاقے میں ہتھیار گرائے گئے جو اکھنور سیکٹر سے12کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے ۔انہوں نے کارروائی کے دوران2اے کے47رایفلیں ،تین میگزین ،90اے کے47گولیاں ،7.62ایم ایم دو پستول اور پستول میگزین اور دیگر گولیاں ضبط کی گئیں ۔19ستمبر کو راجوری میں تین جنگجوئوں کو ہتھیار سمیت گرفتار کیا گیا ۔ڈی جی پی کے مطابق گرفتار جنگجوئوں نے ایل او سی ڈرون کے ذریعے ہتھیار حاصل کئے تھے ۔گرفتار جنگجوئوں کی شناخت پولیس نے راحل بشیر عرف ایان بھائی ساکنہ ٹکن پلوامہ ،عامر جان عرف حمزہ ساکنہ کاکا پورہ پلوامہ اور حافظ یونس وانی عرف زبیر ساکنہ شوپیان کے بطور کی تھی ۔
کئی جنگجو فورسز محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ،تلاش جاری ،عنقریب دھر لیا جائیگا :پولیس چرار شریف؍22،ستمبر ؍وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں سوموار کی شام کو جنگجوئوں اور فورسز کے مابین شروع ہوئی جھڑپ جیش محمد نامی عسکری تنظیم سے وابستہ ایک مقامی جنگجو نوجوان کے جاں بحق اور ایک فوجی اہلکار کے زخمی ہونے پر اختتام پذیر ہوئی جبکہ جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران جاں بحق کئے گئے جنگجو کے اُن ساتھیوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں جاری ہیں ،جو جھڑپ کے دوران فرار ہوئے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے نوہارڑ چرار شریف علاقے میں سوموار کی شام کو جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد بڈگام پولیس ،فوجکی53آر آر اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران سوموار شب کو ہی علاقے میں موجود جنگجوئوں اورفوج و فورسز کے مابین آمنا سامنا ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جسکے ساتھ ہی جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے تبادلے میں 53آر آر سے وابستہ ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا ،جسے 92بیس فوجی اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔رات دیر گئے یہ آپریشن منگلوار کی صبح تک ملتوی کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران رات بھر علاقہ فورسز محاصرے میں رہا اور جنگجوئوں کے فرار ہونے کے سبھی راستے سیل کئے ۔ذرائع کے مطابق منگلوار کی صبح روشنی کی پہلی کرن زمین پر پڑنے کیساتھ ہی یہ آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا ،جس دوران جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس جھڑپ میں جیش محمد سے وابستہ ایک جنگجو جاں بحق ہوا ۔ کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ چرار شریف تصادم میں ایک ملی ٹنٹ مارا گیا ہے۔ادھر انتظامیہ نے مسلح تصادم کے پیش نظر پورے ضلع بڈگام میں موبائل انٹرنیٹ خدمات منقطع کر دی گئیں جس کی وجہ سے طلبہ اور پیشہ ور افراد کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایس ایس پی بڈگام امود ناگپور کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام یہ جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ نوہال چرار شریف علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی ایک خفیہ اور مصدقہ اطلاع ملنے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود جنگجوئوں نے اندھادھند فا ئرنگ کی اور گرینیڈ بھی داغے ۔ان کا کہناتھا کہ جوابی کارروائی میں ایک جنگجو مارا گیا جسکی تحویل سے ہتھیار اور گولی بارود ضبط کیا گیا جبکہ جاں بحق جنگجو کی نعش بھی جائے جھڑپ سے برآمد کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے جنگجو کا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد سے ہے ۔انہوں نے فورسز کے لئے اس آپریشن کو کامیاب ترین قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ مارے گئے جنگجو کے کئی ساتھی اب بھی علاقے میں سر گرم ہیں ،جنہیں عنقریب دھر لیا جائیگا ۔جھڑپ میں ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچا ۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق ہوا واحد جنگجو کے دیگر کئی ساتھی فورسز محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ،جنکی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔پولیس کا ردِ عمل :پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نو ہارڑ چرارشریف میں پولیس ،53آر آر اور سی آر پی ایف نے مشترکہ تلاشی آپریشن کی کارروائی عمل میں لائی ،جس دوران علاقے میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ کی ۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے قبل ہی جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی لیکن اُنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور فائرنگ کیساتھ ساتھ گرینیڈ بھی داغے جسکے نتیجے میں جھڑپ شروع ہوئی ۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں53آر آر کا ایک اہلکار زخمی ہوا ،جسے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ معرکہ آرائی کے دوران ایک جنگجو بھی مارا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق جنگجو کی شناخت آصف شاہ ساکنہ سانبورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ۔پولیس کے مطابق جاں بحق جنگجو کا تعلق جیش محمد سے تھا ۔پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ سء ہتھیار کے علاوہ نا قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا ۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ چرارشریف میں ایک کیس بھی درج کیا گیا ۔