ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

22 ؍اکتوبر 1947کی یادوں پر مبنی قومی سمپوزیم اور نمائش سری نگر میں منعقد

   181 Views   |      |   Thursday, January, 21, 2021

ترہتر(73) برس بعد بھی گلمرگ کی دہشت اور درد ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر/22؍اکتوبر//22 ؍ اکتوبر ہمیشہ ایک یوم سیاہ رہے گا تاہم یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ہمیں اَپنے بزرگوں اور نوجوان نسل کو یہ جانکاری دینی لازمی ہے کہ پاکستان نے نہ صرف لوگوں کا بلکہ کشمیر یت کا بھی خون بہایا ہے ۔اس نے ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جس کو ہم نے اَپنے اِتحاد سے شکست فاش دی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اِس کا اِظہا رآج22؍ اکتوبر 1947ء کی یادوں پر مبنی ایس کے آئی سی سی سری نگر میں قومی سمپوزیم اور نمائش کا افتتاح کرنے کے دوران کیا۔اُنہو ںنے کہا کہ یہ دو روزہ سمپو زیشم اور نمائش پاکستانی حکومت کی فوج کی جانب سے جموں وکشمیر کے مردو زن اور بچوں پر ڈھائی ظلم کو عیان کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ 73برسوں کے بعد بھی پاکستان کے اوپریشن گلمرگ کی تقلید او ردہشت ہماری یادوں میں تازہ ہے۔دو روزہ تقریب 22 اور 23؍اکتوبر نیشنل میوزیم انسٹی چیوٹ آف ہسٹری آف آرٹ ، کنزرویشن اینڈ میوزولوجی کی جانب سے ایس کے آئی سی سی میں منعقد کیا جارہا ہے ۔’’22؍ اکتوبر 1947ء کی یادوں‘‘ پر مبنی ایک کتاب بھی اِس موقعہ پر جاری کی گئی ۔مرکزی وزیر مملکت برائے ثقافت و سیاحت پر ہلاد سنگھ پٹیل نے تقریب کی صدارت بذریعہ ورچیول طریقۂ کار کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے مرکزی وزیر مملکت برائے ثقافت و سیاحت اور نیشنل میوزیم کے رگھویندر سنگھ کو 22؍اکتوبر کے یوم سیاہ کا سچ نہ صرف جموںوکشمیر کے لوگوں بلکہ پورے ملک اور پوری دنیا کے سامنے عیان کرنے کے لئے شکریہ اَداکیا۔دہشت گردی کو اِنسانیت کی اِجتماعی دشمن قررا دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دہشت گردی میں حقیقی طور ملوث قوتوں کو تمام دنیا جانتی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مذہبی یگانگت اور محبت کو پھیلا کر منفی قوتوں کو شکست فاش دیں۔اُنہوںنے کہا کہ ہم نے اَپنی نئی نسل کویہ بتانے کا فیصلہ کیا ہے کہ آفاقی بھائی چارے کرنے والی اس سر زمین کو کیسے پاکستان او راس کے فوج نے 22؍اکتوبر 1947ء کو روند ڈالا تھا۔یہ ان کا مشن تھا کہ وہ امن پسند لوگوں کے دلوں میں مذہبی منافرت کے بیج بھوئیں۔ پاکستان یہ کہتا آرہا ہے کہ قبائلی حملے پشتونوں نے کئے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج نے قبائیلوں کا لباس پہن رکھا تھا۔آج کے دِن ہم مہاویر چکر ایوارڈ یافتہ بریگیڈیئرراجندر سنگھ اور اس کے دستوں کو یاد کررہے ہیں جنہوں نے ہماری سرحدو ںکی اَپنی جانیں دے کر حفاظت کی۔جموں وکشمیر کے ایک سو زائد معروف اَفراد کی جانب سے ثقافتی ورثے کی اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ اور بحالی جیسے مبارک منڈی جموں ،شیخ گڈھی سری نگر کے ضمن میں لیفٹیننٹ گورنرنے جموںوکشمیر کی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حکومت کے عز م کا اعادہ کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے اور جموںوکشمیر چیف سیکرٹری کے تبادلہ خیال کے بعد مرکزی وزارتِ ثقافت نے شیر گڈھی سری نگر اور مبارک منڈی جموں کی بحالی کا یقین دِلایا ہے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے پاکستانی فوج اور اِنتظامیہ کی جانب سے قتل عام اور لوٹ مار پر روشنی ڈالی ۔ سیکرٹری وزارتِ ثقافت رگھویندر سنگھ، سی ای او ، ڈی ایم سی ایس ، ڈی جی نیشنل میوزیم اور وی سی نے خطبہ اَستقبالیہ پیش کیا ۔پروفیسر ( ڈاکٹر )مانوی سیٹھ ڈین ، نیشنل میوزیم اِنسٹی چیوٹ نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔ چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ،پرنسپل سیکرٹری بجلی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ اطلاعات روہت کنسل ، سیکرٹری امور نوجوان و کھیل کود ، سیاحت و دثقافت سرمد حفیظ ، سیکرٹری جموںوکشمیر آر ٹ ، ثقات اور لسانیات ( جے کے اے اے سی ایل ) او ردیگر سینئر اَفسران کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ اِس موقعہ پر موجود تھے۔(انفو)

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.