ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی.

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ.

یدی پورہ پٹن میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح تصادم

   101 Views   |      |   Monday, October, 26, 2020

2جنگجو جاں بحق ،فوجی میجر،2ایس پی او اہلکارزخمی ,بب ہاڑ پلوامہ میں گولیوں کے تبادلہ کے بعد وسیع علاقے کا محاصرہ ،انٹرنیٹ سروس معطل

پٹن ،پلوامہ؍4،ستمبر ؍بارہمولہ کے یدی پورہ پٹن میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح تصادم آرائی میں 2جنگجوجاں بحق ہوئے، جبکہ اس جھڑپ میںایک فوجی میجر اور جموں کشمیر پولیس کے 2 ایس پی او زخمی ہوئے جن کو فوری طورعلاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔دن بھر جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک رہائشی مکان تباہ جبکہ چند ایک کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ادھر پلوامہ کے بب ہاڑ علاقے میں میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ۔ فائرنگ کے بعد فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے کرجنگجوئوں کی تلاش شروع کی ہے۔پلوامہ میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے یدی پورہ پٹن میں فوج کی29آر آر،سی آر پی ایف اورپولیس کے ایس او جی اہلکاروں کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کی صبح جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لایا ۔فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ گائوں میں دو سے تین جنگجو موجود ہیں ،جس کے بعد اس گائوں کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔پولیس ذرائع نے بتایا اس دوران جب تلاشی پارٹی اس گھر کے صحن میں داخل ہوئی جہاں انہیں جنگجوئوں کی موجودگی کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی تھی ۔پولیس ذرائع نے بتایا تلاشی پارٹی صحن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی یہاں موجود جنگجوئوں نے تلاشی پارٹی پر شدید فائرنگ کر کے یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی ہے۔فائرنگ کے دوران یہاں موجود اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور جنگجوئوں کو یہاں سے فرار ہونے کا موقع نہیں دیا ۔شدید فائرنگ کے دوران ابتدائی میں کچھ وقت تک یہاں مکین مکان میں ہی بند رہے جن کو بعد میں صیح سلامت باہر نکالا گیا ۔عام شہریوں کو مکان سے باہر نکالنے کے فورسزبعد جنگجوئوں کو فورسز کے درمیان تصادم شروع ہوا ہے۔ابتدائی گولیوں کے تبادلے میںایک فوجی میجر گولی لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا ،جسکو فوری طوربارہمولہ کے بیس کیمپ منتقل کیا گیا،جہاں زخمی میجر کاعلاج معالجہ جاری ہے۔اس دوران مکان میں موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان سہ پہر تک گولیوں کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس میں جموں کشمیر پولیس کے ایس او جی ونگ میں کام کرنے والے2ایس پی او اہلکار زخمی ہوئے جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک رہائشی مکان مکمل طور تباہ ہوا ہے۔تصادم کی جگہ سے پولیس نے 2جنگجوئوں کی لاشوں کو برآمد کر لیا ہے۔ تاہم ان کی فوری شناخت طاہر نہیں کی گئی ہے۔پولیس نے جائے جھڑپ سے کچھ قابل اعتراض مواد برآمد کر کے ایک کیس درج کر لیا ہے ۔اس دوران جھڑپ میں زخمی ہونے والے فوجی میجر کے حوالے سے یہ افواہ پھیل گئی ہے کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا، جس کے بعد دفاعی ترجمان کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں میجر کی شناخت روہت مہرا کے طور کی گئی ہے ۔ترجمان نے بتایا زخمی میجر کو 92بیس کیمپ سرینگر میں داخل کیا گیا ہے، جہاں وہ زیر علاج ہے اور اسکی حالت مستحکم ہے۔ادھر جنوبی کشمیر کے بب ہار پلوامہ نامی گائوں میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ پارٹی نے جمعہ کے روز بعد سپہر گائوں میں جنگجوئوں کے موجود گی کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعد محاصرے میں لیا اور جنگجوئوں کی تلاش شروع کی ہے۔ ذرائع نے بتایا اس دوران یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی ہے جس دوران فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی اورگولیوں کی گھن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا ابتدائی فائرنگ کے بعد یہاں خاموشی چھائی ہے جبکہ جنگجوئوں کی تلاش آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد تازہ فائرنگ نہیں ہوئی۔ تاہم انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا چاہئے /رویندر رینا
سرینگر24//اکتوبر///.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی اہمیت نہیں ہے /مرکزی وزیر جتندر سنگھ

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ مفتی سرینگر؍24، اکتوبر ؍ ؍ پی.

تنظیمی ڈھانچہ تشکیل ،ڈاکٹر فاروق سربراہ ،سجاد غنی لون ترجمان مقرر ، جموں وکشمیرکا پرچم اتحاد کی علامت ہوگا
عوامی.

افسر شاہی لوگوں کیلئے وبال جان ، انتظامیہ کا زمینی سطح پر کوئی نام و نشان نہیں: ساگر
سرینگر؍23، اکتوبر ؍ ؍ جموں.