ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

ہند ۔پاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری اور فائرنگ ،3فوجی اہلکار ،5دیگر زخمی سرینگر؍یکم،.

اڈوانی، جوشی ، اوما بھارتی سمیت تمام ملزمان کوبری کردیا سرینگر/30ستمبر28 سال.

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منظر عام پر لانا چاہا تو انہیں توبھارت نے دفاتر بند.

کورونا وائرس کے بغیر علامات والے مریضوں کے بارے میں نیا انکشاف

   78 Views   |      |   Thursday, October, 1, 2020

علامات ظاہر نہ ہونے والے کورونا مریض وائرس کو زیادہ پھیلا سکتے ہیں /محققین
سرینگر///جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے بارے میں اس خیال کو درست ثابت کردیتا ہے جس کے بارے میں متعدد طبی ماہرین خیال ظاہر اور خدشہ ظاہر کیا تھا۔طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع تحقیق میں تصدیق کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس وائرس کو اتنا زیادہ آگے پھیلا سکتے ہیں جتنا علامات والے مریض۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کی تمام تر خصوصیات میں سب سے حیران کن خاصیت یہی ہے کہ بظاہر صحت مند افراد بھی اسے آگے تک پھیلا دیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کی روک تھام بہت مشکل جبکہ ایسے افراد کی شناخت اور الگ تھلگ کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔اب تک بغیر علامات والے مریضوں کی جانب سے کورونا وائرس کو آگے پھیلانے کے حوالے سے شواہد مشاہداتی تھے۔مگر جنوبی کوریا میں ہونے والی اس تحقیق میں زیادہ ٹھوس ثبوت پیش کیے گئے کہ بغیر علامات والے مریضوں کی ناک، حلق اور پھیپھڑوں میں اتنا ہی وائرل لوڈ ہوتا ہے جتنا علامات والے مریضوں میں اور دونوں میں اس کادورانیہ بھی لگ بھگ ایک جتنا ہی ہوتا ہے۔یہ نئی تحقیق اس طرح کی اولین تحقیق ہے جس میں مریضوں کے دونوں اقسام میں واضح فرق کیا گیا۔اس نئی تحقیق میں مریضوں میں جینیاتی مواد کی جانچ پڑتال کی گئی اور محققین کی جانب سے وائرس کی منتقلی کی چین یا زندہ وائرسز کی نشوونما کو نہیں دیکھا گیا۔مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ٹھوس عندیہ ملتا ہے کہ بغیر علامات والے مریض غیر دانستہ طور پر وائرس کو پھیلادیتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران محققین نے 6 سے 26 مارچ کے دوران بغیر علامات والے 193 مریضوں اور 110 علامات والے مریضوں کے لیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ابتدائی طور پر 89 میں سے 30 فیصد کبھی بیمار نہیں ہوئے جبکہ 21 فیصد میں علامات نظر آئیں۔تحقیق میں شامل بیشتر افراد نوجوان تھے اور اوسط عمر 25 سال تھی۔تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ 30 فیصد متاثرہ افراد میں کبھی بھی علامات پیدا نہیں ہوتیں جو کہ دیگر تحقیقی رپورٹس کے نتائج سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔اس سے قبل امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خیال ظاہر کیا تھا کہ یہ شرح 40 فیصد ہے۔انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ کووڈ 19 کے 40 فیصد مریضوں میں وائرس کا شکار ہونے پر کسی قسم کی علامات پیدا نہیں ہووتیں، مگر علامات نہ ہونے کے باوجود بھی وہ کسی کو یہ وائرس منتقل کرکے بیمار کرسکتے ہیں جس کو سنگین نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔جنوبی کورین تحقیق میں شامل افراد کو وائرس کی تشخیص کے ساتھ ہی الگ کردیاگیا تھا اور دیگر کو بیمار نہیں کرسکے تھے۔ڈاکٹروں اور نرسوں نے ان کے درجہ حرارت اور دیگر علامات پرنظر رکھی جبکہ بلغم کا تجزیہ کیا جس سے پھیپھڑوں، ناک اور حلق میں وائرس کی موجودگی کا عندیہ ملا۔محققین کا کہنا تھا کہ دونوں گروپس میں وائرس کی مقدار بیماری کے مکمل دورانیے کے دوران ملتی جلتی تھی، بس بغیر علامات والے افراد 17 ویں دن وائرس سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے جبکہ علامات والے گروپ میں یہ اوسط 19 سے 20 دن تھی۔دونوں میں یہ دورانیہ بیشتر ممالک میں قرنطینہ کے لیے طے کیے گئے دورانیے سے طویل تھا۔متعدد تحقیقی رپورٹس میں بھی یہ عندیہ دیا جاچکا ہے کہ متاثرہ افراد سے وائرس کے جھڑنے کا دورانیہ بمشکل ایک ہفتہ ہوتا ہے۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو جون میں اس وقت دنیا بھر کے طبی ماہرین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب یہ بیان جاری کیا گیا کہ کووڈ 19 کے ایسے مریض، جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، وہ بہت کم اس وائرس کو آگے پھیلاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ووڈ بال اور منی گولف نامی کھیلوں کو پہلی بار ضلع میں متعاف کیا گیا پلوامہ // تنہا ایاز// یوتھ سروسز اور سپورٹس کی جانب.

ہند ۔پاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری اور فائرنگ ،3فوجی اہلکار ،5دیگر زخمی سرینگر؍یکم، اکتوبر ؍؍ مشرقی لداخ میں.

اڈوانی، جوشی ، اوما بھارتی سمیت تمام ملزمان کوبری کردیا سرینگر/30ستمبر28 سال پرانے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی.

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منظر عام پر لانا چاہا تو انہیں توبھارت نے دفاتر بند کردیئے / قریشی سرینگر/30ستمبر/پاکستان کے.

ضروری قانونی کارروائی کے بعد نعشیں لواحقین کو سونپ دی جائے گی/ آئی جی کشمیر ، لواحقین مشاورات کیلئے طلب سرینگر/30ستمبر/امشی.