ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

کشمیری فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف6ماہ بعد رہا

   643 Views   |      |   Wednesday, January, 27, 2021

سرینگر// 6ماہ کی طویل اسیری کے بعدنوجوان فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف کورہائی ملی ۔پٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کی ہدایت پرکامران کوبدھ کی صبح تہاڑجیل سے رہاکیاگیا۔خیال رہے اس نوجوان فوٹوجرنلسٹ کواین آئی اے نے گزشتہ برس 4ستمبرکوپلوامہ میں گرفتارکیاتھا،اوردلی کی عدالت میں پیش کردہ چالان میں قومی تفتیشی ایجنسی نے یہ الزام لگایاکہ کامران یوسف2016کی ایجی ٹیشن کے دوران نعرے بازی اورسنگباری جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔غورطلب ہے کہ سوموارکوپٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کی جانب سے ضمانتی عرضی کومنظورکئے جانے کے ایک روزقبل ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ کامران کامعاملہ اُٹھاتے ہوئے اُن سے اپیل کی تھی کہ اس نوجوان کی زندگی کوتباہ ہونے سے بچانے کیلئے وہ مداخلت کریں ۔نمائندے کے مطابق دلی کی پٹیالہ ہائوس کورٹ کی جانب سے سوموارکوضمانتی عرضی منظورکئے جانے کے بعدنوجوان کشمیری فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف کوبدھ کی صبح نئی دہلی کی تہاڑجیل سے رہاکیاگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کامران یوسف کوعدالتی ضمانت ملنے کے بعدرہاکیاگیاجبکہ تہاڑجیل کے باہراُسکے کچھ رشتہ دارموجودتھے ۔بتایاجاتاہے کہ جب کامران نے تہاڑجیل سے باہرقدم رکھاتواُسکے چہرے پرمسکراہٹ تھی اوروہ اپنی اس خوشی کاخاموشی سے اظہارکررہاتھا۔خیال رہے گزشتہ برس یعنی سال2017میں 4ستمبرکوپولیس تھانہ پلوامہ نے کامران یوسف کوبلاوابھیجاتھا،اورجب وہ یہاں پہنچاتواُسکو قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے اپنی تحویل میں لینے کے فوراًبعدنئی دہلی پہنچادیا۔جہاں کچھ روزتک پوچھ تاچھ کے بعداین آئی اے نے کامران کیخلاف ایک کیس درج کیا،جس میں یہ بتایاگیاکہ کامران یوسف نے 2016 کی گرمائی ایجی ٹیشن میں سرگرم طورپرحصہ لیا۔این آئی اے کاکامران یوسف پرالزام ہے کہ وہ نعرے بازی کیساتھ ساتھ سنگباری کے واقعات میں بھی ملوث رہا،اوران ہی الزامات کے تحت این آئی اے نے اس نوجوان فوٹوجرنلسٹ کیخلاف پٹیالہ ہائوس کورٹ میں چالان پیش کرکے فردجرم بھی عائدکیا۔تاہم کچھ ہفتے قبل کامران یوسف نے ایک وکیل کے ذریعے اسی عدالت میں ضمانتی عرضی دائرکروائی جسکو عدالت نے زیرسماعت لایا۔کچھ ہی سماعتوں کے بعددلی کی عدالت نے کامران کی ضمانتی عرضی کومنظورکرتے ہوئے اُسکوپچاس پچاس ہزارکے دومچلکوں یاضمانتی رقم جمع کرنے کے بعدرہاکرنے کے احکامات بھی صادرکردئیے ،اوراسی عدالت حکمنامے کے تحت بدھ کی صبح کامران کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔غوطلب ہے کہ سوموارکوپٹیالہ ہائوس کورٹ نئی دہلی کی جانب سے ضمانتی عرضی کومنظورکئے جانے کے ایک روزقبل ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ کامران کامعاملہ اُٹھاتے ہوئے اُن سے اپیل کی تھی کہ اس نوجوان کی زندگی کوتباہ ہونے سے بچانے کیلئے وہ مداخلت کریں ۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.