ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

کسانوں کا پیغام ارباب اقتدار کے نام

   21 Views   |      |   Tuesday, January, 26, 2021

کسانوں کا پیغام ارباب اقتدار کے نام

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی

عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

کسان و مزدور معیشت کی ریڑھ کی ہڑھی ہوتے ہیں۔ ریاست و ملک کی ترقی کے پیچھے سب سے زیادہ کردار ایک کسان کا ہوتا ہے۔ کسان جب محنت کرتا ہے تبھی پورا ملک دو وقت کی روٹی کھا پاتا ہے۔ کسان جب اپنے لیل و نہار کھیتی باڑی میں صرف کرتا ہے تبھی ملک کے رئیس افراد عیش و عشرت کی زندگی گزار پاتے ہیں۔ کسان جب اپنا خون پسینہ ایک کرکے فصل و ثمرات کی کاشت کاری کرتا ہے تبھی ارباب اقتدار ملک و ریاست چلا پاتے ہیں۔ کسانوں اور مذدوروں کا طبقہ ہی ملک کی ترقی و پسماندگی کے راہی ہیں۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسانوں اور مزدوروں کا طبقہ ہی وہ عظیم طبقہ ہے جو آج کے اس پرفتن اور پر آشوب دور میں اپنی محنت کا کھاتے ہیں اور حلال کھاتے ہیں۔ جبکہ عوام الناس کا خون چوس کر ان کے پیسوں پر عیش و آرام کی زندگی بسر کرنا ارباب اقتدار کا کام ہے۔ارباب اقتدار بڑے ہی ظالمانہ طریقے سے کسانوں کی محنت کا پھل کھا رہے ہیں جبکہ اپنی پوری حیات اس کھیت کے حوالے کرنے والا کسان سیدھے طریقے سے دو وقت کی روٹی بھی حاصل نہیں کر پاتا۔ کبھی سیاسی بحران تو کبھی فضائی آزمائش، کبھی موسمی تبدیلی تو کبھی زمینی تنازعات نے کسان کی زندگی کو کافی دشوار بنا دیا ہے۔
محنت کیا ہوتی ہے؟ کسان سے پوچھو۔۔۔ حلال روزی کیا ہوتی ہے؟ کسان سے پوچھو۔۔۔۔ ایمانداری کیا ہوتی ہے؟ کسان سے پوچھو۔۔۔ پورا سال کھیتی باڑی کرنے والے کسان سال کے اختتام پر اپنی جدوجہد کا پھل حاصل کرنے کے انتظار میں ہوتے ہیں لیکن تبھی اچانک ژالہ باری کی آزمائش انہیں اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ گندم کے خوشوں پر جب ژالہ باری ہوتی ہے تو کسان کا جگر کس طرح شق ہوجاتا ہے، اسے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں صرف احساس کی ضرورت ہے۔ جو ہمارے حکمرانوں کے پاس نہیں۔کسانوں کی روزی روٹی، بچوں کی پڑھائی اور دیگر اخراجات زندگی کا انحصار کھیت پر ہی ہوتا ہے لیکن جب قدرتی آفتوں کے ساتھ ساتھ ملک کے امراء قانون کے نام پر ان کا استحصال کریں تو یہ ان کے ارمانوں کا سرعام قتل ہوتا ہے لیکن اسے سمجھنے کے لئے شعور کی ضرورت ہے۔خود بڑے بڑے محلات میں اپنے شب و روز بسر کرنے والے کیوں کچے مکانوں میں رہنے والوں کی زندگی کو ناسور بنا رہے ہیں؟ آخر کیوں؟ جواب شاید یہی ہوگا کہ مذہب کے نام پر، تعصب اور جذباتی نعروں کے نام پر حکومت قائم کرنے والے فرعون کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں اور اب اپنی فرعونی خصلت کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔لیکن ظلم و بربریت کے پیر نہیں ہوتے اور نہ اسے دوام حاصل ہوتی ہے۔
کسانوں کی راتیں دن کے مترادف ہوتی ہیں۔ کیونکہ کھیت میں پانی بھرنے کا عمل اکثر و بیشتر رات کے وقت ہی انجام دیا جاتا ہے۔ بعض کسان تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی کھیتوں میں مستقل جھونپڑیاں بناکر ملک کے پیٹ کی خاطر اپنے آپ کو وحشی درندوں و دیگر خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔اب اندازہ کیجئے! فرش مخمل پر سونے والے کہاں آپ کا یہ درد سمجھیں گے؟ اگر کسان اپنی قدر و منزلت سے باخبر ہوجائیں، ملک کے ان لٹیروں کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوگی۔کسانوں کی پوری کائنات یہی کھیت ہوتی ہے جسے حکومت وقت آگ لگانے کے در پر ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ ہے کہ میڈیا بھی ظالم کے ظلم میں اپنا تعاون پیش کرکے مزدوروں کی آواز کو دبوچ رہے ہیں۔کسان کو اپنا غم سنانے کا بھی موقع میسر نہیں آتا۔آج کسان پریشان ہے اور حیران بھی ہے کہ شہریوں کی ایسی کون سی خوراک ہے جس میں کسان کا ہاتھ نہیں مگرپھربھی ان کاکسی کواحساس نہیں،اگروہ گندم ،چاول اور سبزی اگانابندکردے توشہرمیں بسنے والے لوگ کیاکھاسکیں گے؟ اس ملک کی زینت گاؤں والوں اور کسانوں سے قائم ہے، اس ملک کی زینت مزدوروں اور محنت کش افراد کی وجہ سے قائم ہے جس کا اہل شعور انکار نہیں کرسکتے۔ زراعت کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے اورزراعت اگراہم ہے توپھرکسان کسی صورت غیراہم نہیں ہوسکتا،اسے نظراندازکرنانہ صرف اس کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ملک کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔
کاشت کاروں کی فلاح و بہبودی کی خاطر قدم اٹھانا تو دور کی بات، اب وقت کے نمرود کسانوں کا وجود ہی اس دھرتی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ لیکن دوسروں کے لئے گڑھا کھود نے والے خود اس میں زمین بوس ہوجاتے ہیں۔قانون بنانے والاخود بھی اسی قبیل سے ہے لیکن طاقت آنے کے بعد اکثر لوگ اپنا وجود بھول جاتے ہیں۔خوشحال بھارت کے کھوکھلے نعروں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں کیونکہ جب ملک کے چلانے والوں پر زمینی قہر برپا کیا جائے تو خوشحالی ممکن نہیں۔ پردھان منتری کرشی سنچائی یو جنا، پرمپرا گت کرشی وکاس یوجنا،’’گرام جیوتی یو جنا فیڈرس وغیرہ ایسی تحریکیں تھیں جو کاشت کاروں کی فلاح و بہبودی کے لئے عمل میں لائی گئی تھیں لیکن اب زرعی بل کی آمد سے ان تمام جھوٹے وعدوں کی حقیقت کھل گئی۔مہنگائی نے پہلے سے ہی غریب عوام، کسانوں، کاشت کاروں، مزدوروں کی زندگی کو قید کر دیا تھا لیکن اب زرعی بل کے طلوع ہوتے ہی ارباب اقتدار نے زمن پر نمک چھڑکنے کا کام بخوبی انجام دیا۔ جو حضرات کھیتی باڑی کی ابجد بھی نہیں جانتے وہ اس بل کو نفع بخش بتلا رہے ہیں لیکن اگر یہ ناطق ایک دن کے لئے کھیت میں آجائیں، انہیں پتہ چلے گا کہ کسان کسے کہتے ہیں۔ بی جے پی کے حیران کن فیصلوں سے اس ملک کے باشعور اور اصحاب فہم و عقل پہلے ہی نالاں ہیں ، اور اب یہ قہر برپا کرکے غریب عوام کے ساتھ علانیہ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی سرحد پر ملک کی کئی ریاستوں سے آنے والے کسان گذشتہ کچھ دنوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔اور اب یہ ایک مستحکم تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انھوں نے ستمبر میں مرکزی حکومت کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے زرعی قانون کی مخالفت میں ’دہلی چلو‘ نعرے کے ساتھ دارالحکومت کا رُخ کیا۔ وہ مختلف مقامات پر ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز کا راشن ساتھ لائے ہیں اور اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔حکومت کی جانب سے انھیں دلی میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ زراعت کا نیا قانون ان کی بھلائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن حکومت کا دعویٰ دجل و فریب پر مبنی نظر آرہا ہے۔ سرحد پر روکے جانے کی وجہ سے کسانوں اور پولیس میں مختلف جگہ تصادم بھی ہوئے ہیں۔ کسانوں کے خلاف ہریانہ دہلی سرحد پر واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے گئے۔اور ایسا لگتا ہے کہ اب ملک کے کسانوں کو بھی “دیش درھوہی”، ” وطن غدار ” کا خطاب دیا جائے گا۔ فرض تو یہ ہے کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر زراعت ان کے پاس جاتے اور ان سے ملتے۔ ان کے پاس میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لیے وقت ہے ان کے لیے نہیں۔ اس سے ان کی نیت کا پتا چلتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کسان اپنے دیرینہ مطالبات منوانے کے لیے ان کاشتکاروں کی کھوپڑیوں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں جو خود کشی کر چکے ہیں۔کیونکہ ملک کے کسان پہلے سے ہی قرض کے بوجھ کے نیچے دب چکے ہیں۔
خدارا انصاف سے کام لیا جائے۔غریب بیٹیوں کا مفلس باپ کدھر جائے؟ مسکین بہنوں کا بھائی کدھر جائے۔؟ کیوں نہتے شہریوں پر ظلم و جبر کی داستان رقم ہورہی ہے؟ ایک طرف ملک میں جرائم کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے، دوسری طرف کورونا وائرس کی آفت سے کسان و کاشت کار پہلے سے ہی آسمان سے گر چکے ہیں اور اب زرعی بل کے نام پر عدل کا خون کرکے آخر ہمارے امراء چاہتے کیا ہیں؟ تاریخ لکھی جارہی ہے! ارباب اقتدار ہوش کے ناخن لیں! کہیں آنے والی نسلیں آپ پر لعن و طعن نہ کرے۔۔۔۔آسمان والا بھی انہیں پر رحم کرتا ہے جو اہل ارض پر مہربان ہوتا ہے۔مظلوم کی بددعا اور عرش والے رب کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ ظلم اخروی زندگی میں ظلمات کا باعث ہوگا۔عرش والے نے تو اعلان کروایا تھا کہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدور کو اس کی اجرت دی جائے لیکن یہاں تو الٹی گنگا ہی بہتی ہے۔ہم بھی کسانوں کی اولاد ہیں۔ اور ہم پر فرض بنتا ہے کہ آج ہم بلا لحاظ مسلک و مذھب اپنے کسان بھائیوں کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔یہاں نہ ہندو مسلم کی لڑائی ہے اور نہ شیعہ سنی کی۔۔یہاں اہل وطن متحد و متفق ہیں۔ وطن عزیز کا دہقان عموماً ان پڑھ، بے زبان، غریب، بے کس، کمزور اور لاچار ہے۔ ہماری کمزوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا، جائے۔۔۔۔۔۔
دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ارباب اقتدار کو شعور عطا کرے تاکہ ملک کے دہقان خسارے سے محفوظ رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔
بتا کیا تیری زندگی کا ہے راز
ہزاروں برس سے تو ہے خاکباز
اسی خاک میں دب گئی تیری آگ
سحر کی اذاں ہو گئی اب تو جاگ

متعلقہ خبریں

تحریر:سیفی سرونجی
(بشکریہ استوتی اگروال) صلاح الدین پرویز اور حقانی القاسمی کی دوستی سے کون واقف نہیں ہے ۔ حقانی.

تحریر: سبزار احمد بٹ۔۔اویل نورآباد نوید کا باپ سبحان کھڑکی پر بیٹھ کر زور زور سے حقہ پی رہا تھا اور دھواں اس قدر.

اردو کی 16 سالہ قلمکار اور”انتساب عالمی“کی نائب مدیرہ   تحریر: انیس جاوید اردو زبان وہ زبان ہے جو اپنی سلاست،.

تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں تاریخ کے.

افسانہ نگار:الف عاجزؔ کلسٹر یونیورسٹی سرینگر  امی جان میں نکل رہا ہوں ، واپسی پر وہ ساری چیزیں لے کر آؤں گا جن.