ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

ڈاکٹر شوکت شفاؔ کے شعری مجموعے ’’کانہ والَے‘‘کی ادبی حلقوں میں پذیرائی

   206 Views   |      |   Thursday, January, 21, 2021

ڈاکٹر شوکت شفاؔ کے شعری مجموعے ’’کانہ والَے‘‘کی ادبی حلقوں میں پذیرائی

کتاب کے سرورق نے بچپن کی یاد تازہ کی/ پریم ناتھ شاد
پلوامہ// تنہا ایاز
تاریخی ٹائیگور ہال سرینگر میں حال ہی میں ڈاکٹر شوکت شفاؔ کا شاعری مجموعہ کانہ￿ والَے کتاب کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ ادبی حلقوں میں اس کتاب کی کا فی پذیرائی ہو رہی ہے۔ دریں اثناء جموں و کشمیر صوبے سے تعلق رکھنے والے کئی ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں نے ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو کتاب شائع کرنے پر مبارکباد پیش کر تے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق ٹائیگور ہال سرینگر میں حال ہی میں کلچرل اکیڈیمی اور ادبی تنظیم مراز ادبی سنگم کے باہمی اشتراک سے ایک پُر وقار تقریب منعقد ہوئی۔ کئی نامور شخصیات جن میں معروف شاعر اور سابق ڈائریکٹر ریڈیو کشمیر رفیق راز، سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی منیر الا سلام، معروف براڈ کاسٹر آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ستیش وِمل کی موجودگی میں نوجوان شاعر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کی کتاب ــ’’کانہ￿ والَے’’ کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ تقریب پر ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کی خاصی تعداد موجود تھیں۔ ادھر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کی کتاب ’’کانہ￿ والَے’’جو کشمیری زبان میں لکھی گئی ہے ، کو ادبی حلقوں میں کا فی پذیرائی ہو رمل رہی ہے اور انکی شاعری کو کا فی سراہایا جا رہا ہے۔ نامور شاعر ، ادیب اور قلمکار عبدالرحمان فدا نے نوجوان شاعر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو کتاب شائع کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کو ادبی حلقوں میں جو پذیرائی حاصل ہوئی ہے وہ مصنف کی پیچیدگی اور فنی صلاحیتوں کا ٹھوس ثبوت ہے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو مزید زور قلم عطا کرے تاکہ کشمیری زبان کو عزت و آبرو کی بلندیوں پر اپنا وہ مقام ملے۔ جسکی وہ حق دار ہے اور جس کے لئے کشمیری زبان سے وابستہ ادیبوں، شاعروںاور استادوں کو کام کرنا ہو گا۔ رائٹر اور شاعر شکیل آزاد نے ایک آڈیو پیغام میں ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو مبارکباد پیش کر تے ہوئے انہیں ایک بہترین شاعر قرار دیا اور انکی شاعری کو خوب سراہایا۔ ادھر ڈسڑکٹ کلچرل سو سائٹی پلوامہ کے صدر غلام رسول مشکور نے ایک تحریری پیغام میں جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے شاعر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو شعری مجموعہ’’کانہ￿ والَے’’ شائع کرنے پر سو سائٹی کے تمام ممبروں کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کر تے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس دوران جموں سے معروف شاعر پریم نا تھ شاد نے ایک پیغام کے ذریعے شاعر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کی کتاب کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کتاب کے مصنف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کتاب کے سرورق سے مجھے بچپن یاد آیا۔ پہاڑی ضلع شوپیان سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اشرف راوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ شوکت شفا کے حال ہی میں شا ئع ہوئی کانہ￿ والَے شعری مجموعہ :کانہ واے :میں شامل شاعری میں شعری جمالیات کو کشمیری تہذیب وثقافت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا جوہر نمایاں ہے۔ عام استعمال کی زبان کو شعری پیرایہ میں سمو کر معنوی وسعت اور تہہ داری پیدا ہوئی ہے۔ شاعر نے کامیاب شعرا کے اسالیب کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنا اسلوب تعمیر کرنے کی سعی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجرباتی بیانیہ اسالیب کی آمیزش کا اثبات ہے۔ تجربات کے عمل نے کہیں کہیں پر شعر اور غیر شعر کے فرق کو جانچنے کا موقعہ نہیں دیا ہے۔امید ہے کہ شاعر اپنی اسلوبی شناخت تعمیر کرنے میں کامیاب ہونگے۔ نمائندے تنہا ایاز کے مطابق وادی کے کئی ادبی تنظیموںجن میں ڈسڑکٹ کلچرل سو سائٹی پلوامہ، نو ادبی کاروان پلوامہ، مراز ادبی سنگم، گلشن کلچرل فورم بڈگام کے علاوہ ادبی تنظموں کے سربراہوں نے شاعر ڈاکٹر شوکت شفاؔ کو کتاب شائع کرنے پر انہیں مبارکباد دی۔

متعلقہ خبریں

شیخ محمد امان زمان ونان چھی بس چھُے خدائی تنہا
کانسہ ما وُن ونکتام چھِ انسان رایہِ تنہا
کانہہ حسین دلکش دعوتھ.

شوکت بڈھ نمبل کشمیری   کیا تخلیق ہم کو انسانوں میں اور پھر مُسلماں
یہ ہم پہ کرم ہے مالک کا یہ اُن کی رفاقت ہے

اہد جمال بانڈے پوشونی سہل چھا یتھ زمانس منزٔ گذارنژیوہ زمانس ستی
کراں یتی کتھ سخنور تاپ زژٔ منزٔ آسمانس ستیٔ

خالد قمر اس گلستان چمن میں
ہوتی تھی اک فضا حسین و جمیل
رہتے تھے جس میں پادشاہ و پارسا
اور آباد تھی اک مخلوق.

نادِم شوقیہ میں اِک قبر ہوں
مجھ میں دفن ہیں
چشمِ نم کی آرزو
بےتہاشہ جستجو
کچھ منَتیں
کچھ حسرتیں