ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی.

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ.

وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

آصفہ کے قاتلوں سزا دینے اور شوپیان ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

   393 Views   |      |   Monday, October, 26, 2020

سرینگر// کٹھوعہ کی 8سالہ معصوم آصفہ کو انصاف دلانے کے حق میں نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر نوائے صبح سے ایک احتجاجی ریلی برآمد ہوئی ، ریلی کے شرکاء نے گپکار پر واقعہ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ تک مارچ کیا اور وہاں احتجاج درج کیا۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں برآمد ہوئی ریلی میں پارٹی کے سرکردہ لیڈران، عہدیداران ، یوتھ ، خواتین اور لیگل سیل کے اراکین نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے، جن پر آصفہ کے قاتلوں کو سزا دینے کے مطالبے کے علاوہ شوپیان قتل عام کی عدالتی تحقیقات کی مانگ اور نوجوانوں کی نسل کشی، خون خرابہ، کریک ڈائو ن اور چھاپہ مارکارروائیاں بند کرنے کے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ احتجاج کے دوران حکومت اور حکومتی فیصلوں اور اقدامات کیخلاف فلک شگاف نعرے بازی کی گئی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، چودھری محمد رمضان ، ناصر اسلم وانی اور این سی لیگل سیل کے چیئرمین اسحاق قادری نے خطاب کرتے ہوئے معصوم آصفہ کے قاتلوں کو فوری طرف پر سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اس بات کی بھی مانگ کی گئی کہ اس وحشیانہ اور سفاکانہ فعل کے پیچھے کارفرما مقاصد بھی بے نقاب کئے جائیں۔ لیڈران نے کہا کہ اگر اپوزیشن نے اسمبلی میں زور دار مہم شروع نہ کی ہوتی تو حکومت نے اس کیس کو کب کا گول کردیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قاتل کے حق میں دو وزراء کی شمولیت شرمناک اور افسوسناک بات ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر اس گھنوانے جرم کی پشت پناہی ہورہی ہے۔ لیڈران نے کہا کہ جو انکشاف کرائم برانچ نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں پیش کئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں اور اگر حکومتی سطح پر اس کا سنجیدہ نوٹس نہیں لیا گیا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں ہندو ایکتا منچ کی طرف سے احتجاجی ریلیاں منعقدکرانے میں کلیدی رول ادا کرنے والے سجنی رام کے بارے میں جو سنگین نوعیت کے انکشافات کئے گئے ہیں، موصوف محکمہ مال کا ریٹائر آفیسر ہے اور اِس وقت آر ایس ایس کا سرگرم کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ اُس جگہ کا نگران بھی ہے جس جگہ مقتول آصفہ کیساتھ 7دن تک زیادتی کی گئی اور پھر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ لیڈران نے کہا کہ یہ بات اب صاف ہوگئی ہے کہ معصوم آصفہ کے قاتلوں کو بچانے کیلئے نہ صرف ہندو ایکتا منچ میدان میں ہے بلکہ بھاجپا، ریاستی حکومت کے وزراء اور آر ایس ایس بھی ایڈی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بے شرمی اور گھنوانے پن کی حدیں پار کرکے اس معصوم کے ساتھ ہوئے دردناک اور انسانیت سوز سانحہ کو مذہبی رنگت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ جموں ریاست کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ناقابل قبول ہے۔ شوپیان گذشتہ2ماہ میں ہوئے معصوموں کی خونریزی کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے لیڈران نے کہا کہ شوپیان معاملے میں بھی حکومت کا رول منفی رہاہے۔ پہلے پی ڈی پی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دو بار اسمبلی میں شوپیان معاملے میں تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ سے بھی اجازت طلب کی ہے اور 20روز کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن دو ماہ گذر گئے اور قتل عام کا دوسرا واقعہ بھی پیش آیا ، جس میں 4بے گناہ نوجوان جان سے ہاتھ دو بیٹھے، ابھی تک وزیر اعلیٰ کے اعلان کا کچھ نہیں ہوا۔ الٹا ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ دلیل پیش کی کہ قتل عام میں درج کئے گئے ایف آئی آر میں کسی بھی فوجی افسر کا نام درج نہیں ہے۔ لیڈران نے شوپیان میں 27جنوری اور 4مارچ کو شہری ہلاکتوں کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق کہا کہ حقائق کو منظر عام پر لایا جانا چاہے۔انہوں نے کہا ہم نے صرف اتنا کہا کہ ا س واقعے کی معقول انداز میں تحقیقات ہونی چاہے،کیونکہ سرکار اور ریاستی سرکار کے بیانات کے درمیان تضاد ہے،اور دونوں اطراف کے تاثرات میں اختلاف بھی ہے،اور لوگ چاہتے ہے کہ حقیقت سامنے آئے۔ احتجاجی ریلی میں پارٹی کے ممبرانِ قانون سازیہ ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، علی محمد ڈار، قیصر جمشید لون، شیخ اشفاق جبار، شوکت حسین گنائی، پارٹی لیڈران عرفان احمد شاہ، پیر آفاق احمد، جاوید احمد ڈار، تنویر صادق، جنید عظیم متو، سلمان علی ساگر، مشتاق احمد گورو، غلام محی الدین میر، جگدیش سنگھ آزاد، حاجی عبدالاحد ڈار، میر غلام رسول ناز، ناصر خان، منظور احمد وانی، غلام حسن راہی، ایڈوکیٹ محمد عباس، ایڈوکیٹ شاہد علی ، صبیہ قادری اور نیلوفر مسعود کے علاوہ کئی سرکردہ عہدیداران اور کارکنان بھی شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا چاہئے /رویندر رینا
سرینگر24//اکتوبر///.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی اہمیت نہیں ہے /مرکزی وزیر جتندر سنگھ

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ مفتی سرینگر؍24، اکتوبر ؍ ؍ پی.

تنظیمی ڈھانچہ تشکیل ،ڈاکٹر فاروق سربراہ ،سجاد غنی لون ترجمان مقرر ، جموں وکشمیرکا پرچم اتحاد کی علامت ہوگا
عوامی.

افسر شاہی لوگوں کیلئے وبال جان ، انتظامیہ کا زمینی سطح پر کوئی نام و نشان نہیں: ساگر
سرینگر؍23، اکتوبر ؍ ؍ جموں.