ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

وادی کشمیر میں چنار کے درخت تیزی کے ساتھ نابود

ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کیلئے انتظامیہ غیر سنجیدہ

   571 Views   |      |   Friday, January, 15, 2021

سرینگر// کشمیر وادی کے قدرتی مناظر ، صحت افزا مقامات ، آبی پناہگاہیں ، جھیل ، چشمے ، نہریں ، ندی نالے پہلے ہی خستہ حالت میں پہنچ گئے ہیں اب چنار کے درخت بھی آہستہ آہستہ نابود ہوتے جار ہے ہیں ، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے انتظامیہ کے دعوئے اس وقت کھوکھلے ثابت ہو گئے جب ریاست میں ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے نہ تو شجر کاری اور نہ ہی جنگلوں کو بھر پور تحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی خاص تجویز کو سامنے رکھا گیا ۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے صرف خانہ پوری کی گئی اور اس طرح سرکار خود جنت بے نظیر کو ریگستان میں تبدیل کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے۔نمائندے کے مطابق گزشتہ پچیس برسوں کے ساتھ ساتھ پچھلے چھ دہائیوں سے حکومتوںنے جنگلوں سے عمارتی لکڑی اور جڑی بوٹیوں کو نکالنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ دی ہے ہر سال مختلف کمپارٹمنٹوںمیں درختوں کی کٹائی کیلئے مارکنگ کی جاتی ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق صرف سوکھے درختوں کو ہی جنگلوں سے کاٹنے کی اجازت ہے تاہم ریاست خاص کرو ادی کشمیر کا باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں ایس ایف سی کے علاوہ پرائیوٹ ٹھیکیداروں کو ایک کمپارٹمنٹ میں درختوں کا گران اور عمارتی لکڑی سیل ڈیپوئوں تک پہنچانے کیلئے ایک یا دو سال کی مدت دی جاتی ہے تاہم ایسے ٹھیکیدار اب بھی دس برسوں سے ایسے کمپارٹمنٹوںمیں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو انہیں مختصر مدت کیلئے الاٹ کئے گئے تھے ۔ ان کمپارٹمنٹوںمیں نہ تو درختوں کی شماری کیلئے کوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور نہ ہی ٹھیکیداروں سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ اگر انہیں ایک یا دو برسوں سے ٹھیکہ الاٹ کیا گیا تھا وہ کن قواعد وضوابط کے تحت ان جنگلوںمیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی ایک ذیلی ونگ جسے سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کا نام دیا گیا ہے ہاتھی کے دانت کی طرح ہیں جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں ۔ اربوں روپیہ مالیت کی عمارتی لکڑی مختلف سیل ڈیپوئوںمیں بوسیدہ ہوتی جار ہی ہے اور سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن ہمیشہ کروڑوں روپیہ فائدے کے دعوئے کرکے سرکار کی آنکھوںمیں دھول جھونک رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں ریاست خاص کر وادی کشمیر کے قدرتی مناظروں کو صفہ ہستی سے مٹانے کیلئے طرح طرح کی کاروائیاں عمل میں لائی جار ہی ہیں اگر کشمیر کو جنت بے نظیر کہا جاتا تھا تو اس میں سب سے بڑا عمل دخل چنار کے درختوں کا تھا چنار ڈیلوپمنٹ اتھارٹی کی جان بسے جو اعداد و شمار ظاہر کئے گئے ہیں ان کے مطابق 1970میں وادی کشمیر میں 42ہزا رکے قریب چنار کے درخت موجود تھے جبکہ 2007کی سروے کے مطابق اب ان کی تعداد 38ہزار تک رہ گئی ہے اور اس طرح چار ہزار کے قریب درختوں کو صفہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ۔ اگر چہ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں تاہم عوامی حلقوں کے مطابق دور دراز اور سنسان جگہوں پر جو چنار کے درخت تہیہ تیغ کئے گئے ہیں وہ سرکار کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل تھے اور آج بھی ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق چنار کے درختوں کے بارے میں جو دعوئے کئے جا رہے ہیں حقیقت کے ساتھ ان کا دور کا بھی واسط نہیں ہے اور جو بیان اور جن خیالات کا اظہار کیا گیا وہ ریاست کے لوگوں کی آنکھوںمیں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار
روایتی فیرن میں تبدیلی،بازاروں میں کوٹ.

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز انیڈ سپورٹس کی مجانب سے میکس ویل کالج.