ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

وادی میں جشن میلادالنبی ﷺمذہبی عقیدت و احترام سے منایاگیا

   140 Views   |      |   Tuesday, January, 26, 2021

وادی میں جشن میلادالنبی ﷺمذہبی عقیدت و احترام سے منایاگیا

آثار شریف حضرت بل میں سب سے بڑی تقریب منعقد
سرینگر؍30، اکتوبر ؍دنیا کے مختلف حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی جمعہ کے روز پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیﷺکی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منائے جانے والے جشن میلادالنبی ﷺکی تقریب سعید نہایت ہی عقیدت واحترام اور تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔اس دن کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے عاشقان رسول ﷺ نے شب خوانی کی روح پرور مجالس میں حصہ لیا۔ درگاہ حضرت بل میں عاشقان رسولﷺ موئے مقدس کے دیدار سے بھی فیضیاب ہوئے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جشن عید میلادالنبی ﷺدنیا بھر کی طرح جمعہ کو وادی میں بھی مذہبی جوش و جذبے سے منا یا جارہا ہے۔وادی کی فضا آج ختم النبیین ﷺ کے نام اور درود و سلام سے گونجے گی۔سرور کائنات ختم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد آمد ہے جبکہ شہر ودیہات میں عاشقانِ رسول نے گھروں اور گلیوں ،سڑکوں ،بازاروں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے جبکہ ہر طرف توصیف رسولﷺ کو اشعار کی صورت میں بیان کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔جشن عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں دارالحکومت سرینگر سمیت وادی بھرکی مساجد، عمارتوں اور شاہراہوں کوبرقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔اس دوران درجنوں مقامات سے جلوس برآمد ہونے کے علاوہ سینکڑوں مساجد، زیارت گاہوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں عید میلاد النبی ﷺکی مناسبت سے خصوصی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ نماز جمعہ کے خطبات میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد نے پیغمبر اسلام ﷺکی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔وادی کی مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں رات بھر جاری رہنے والی پرنور اور پروقار شب خوانی کی تقریبات میں سردی کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں عاشقان رسول ﷺ وعظ و تبلیغ، درود و اذکار ، ختمات المعظمات اور نعت و منقبت میں محو رہے جبکہ دن کے دوران وادی کے اطراف و اکناف میں جشن میلاد کے عظیم الشان جلوس برآمد ہوئے جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ جلوسوں کے راستوں پر جگہ جگہ چائے ، گرم دودھ اور روٹی کا انتظام رکھا گیا تھا۔اس دن کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب شہرہ آفاق جھیل ڈ ل کے کناروں پر واقع آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے عاشقان رسول ﷺ نے شب خوانی کی روح پرور مجالس میں حصہ لیا۔ درگاہ حضرت بل میں عاشقان رسول ﷺ موئے مقدس کے دیدار سے بھی فیضیاب ہوئے۔ درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ کے اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اور موئے پاک کا دیدار کیا۔ شب خوانی کی مجالس آثار شریف شہری کلاش پورہ، پنجورہ، صورہ، حضرت مخدوم صاحب اور دوسری عبادگاہوں میں بھی منعقد ہوئیں۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں بھی لوگوں کی ایک خاصی تعداد نے یہاں منعقدہ روح پرو ر مجلس میں شرکت کی جبکہ خطہ لداخ کے لیہہ، کرگل اور دراس میں بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے ضمن میں منائے جانے والے جشن میلادالنبی کے سلسلے میں خصوصی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ وادی کشمیر جہاں جشن عید میلاد النبیﷺ کی تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی، شہر کے تقریباً تمام تجارتی مراکز، مساجد، زیارت گاہوں اور اور دیگر عبادت گاہوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ادھر زائرین کی سہولیات کے لئے ٹرانسپورٹ سے لیکر ہر طرح کی سہولیات میسر رکھی گئی تھیں ۔محکمہ صحت کی جانب سے حضرتبل جانے والے راستوں پر جگہ جگہ طبی کیمپ منعقد کئے گئے تھے ۔سیکیورٹی کے کڑے انتظامات تھے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے فائر اینڈ ایمر جنسی سروسزکے عملے کو بھی تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا ۔رضاکار وں کی جانب سے زائرین کے لئے جگہ جگہ چائے ، گرم دودھ اور روٹی کا انتظام رکھا گیا تھا۔یاد رہے کہ عید میلادلنبی ﷺ کی تقریب سعید کے سلسلے میں ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے لئے روٹ پلان پہلے ہی مرتب کیا تھا ۔ عید میلادلنبی ﷺ کے موقعہ پر ٹریفک پولیس سرینگر نے درگاہ حضرتبل میں گاڑیوں کیلئے جن جگہوں کا انتخاب کیا گیا تھا اس کے مطابق شمالی اور وسطی کشمیر سے آنے والی گاڑیاں کشمیر یونیورسٹی میں انہیں سرسید گیٹ سے داخل ہوناتھا، جنوبی کشمیر اور گاندربل سے آنے والی گاڑیوں کو نسیم باغ یونیورسٹی کیمپس میں بڈشاہ گیٹ سے داخل ہونا تھا جبکہ رعناواری علاقہ سے آنے والی گاڑیوں کیلئے این آئی ٹی میں پارکنگ مقرر کی گئی تھی۔عید میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ٹریفک پولیس نے سرینگر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور زائیرین کو حضرت بل لے جانے والی گاڑیوں کیلئے باضابطہ طورپر روٹ پلان مرتب کیا تھا تاکہ عقید ت مندوں کے علاوہ عام شہریوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ٹریفک جام سے بچاجاسکے ۔ ٹریفک پولیس کی طرف سے اس سلسلے میں جو پلان مرتب کیاگیا تھا اس کے مطابق شمالی ، جنوبی او ر وسطی کشمیر سے آنے والی گاڑیوں کو مختلف روٹ الاٹ کئے گئے تھے ۔ شمالی کشمیر سے درگاہ حضرت بل آنے والے عقید مندوں کی گاڑیوں کو شالہ ٹینگ سے پارمپورہ ، قمر واری ، سمنٹ کدل اور نورباغ کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جبکہ وہاں سے سکہ ڈافر عید گاہ، عالی مسجد ، سازگری پورہ ، حول ، علمگری بازار سے مل اسٹاپ اور مولوی اسٹاپ لال بازار سے ہوتے ہوئے بٹہ شاہ محلہ اور کنہ تار سے ہوتے ہوئے سرسید گیٹ کشمیر یونیورسٹی سے داخل ہو کر گاڑیوں کو کھڑا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ واپسی پر ان گاڑیوں کو عشائی باغ کراسنگ سے ہوتے ہوئے رعناواری ، خانیار ، نوپورہ ، ڈلگیٹ ، مولاناآزاد روڑ سے ہوتے ہوئے بڈشاہ پل ، فلائی اور بٹہ مالو مومن آباد ٹینگہ پورہ سے گزر کر بمنہ بائی پاس ، پارمپورہ اور شالہ ٹینگ سے آگے کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔جنوبی کشمیر سے آنی والی گاڑیوں کو پانتہ چھوک ، اتھوجن ، بٹوارہ ، سونہ وار، رام منشی باغ سے ہوتے ہوئے گپکار گرینڈ پیلس کاراستہ اختیارکرنے اور بعد میں زیٹھ یار گھاٹ ، نشاط ، فور شور روڑ سے ہوتے ہوئے حبک کراسنگ پہنچ کر نسیم باغ میں یونیورسٹی پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ روٹ پلان کے مطابق زائرین سے بھری ان گاڑیوں کو واپسی پر نسیم باغ ، حبک کراسنگ ، فورشو روڑ ، رام منشی باغ سے گزر کرسونہ وار ، بٹوارہ اور پانتھ چوک کا روٹ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.