ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

ملک میں چینی اشیا کا بائیکاٹ قابل عمل نہیں ہوگا

   200 Views   |      |   Saturday, January, 16, 2021

نئی دہلی: بھارت کے اعلی برآمدی فروغ گروپ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا چینی اشیا کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہونے کی وجہ سے چینی اشیا کا بائیکاٹ کرنا قابل عمل نہیں تاہم نئی دہلی کو ان پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔مانیٹرنگکے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے اہم ترین چنائی پورٹ پر چین سے آنے والی کھیپ کو کسٹمز حکام نے اضافی چیکنگ کے لیے روک دیا ہے۔فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کے صدر شرد کمار کا کہنا تھا کہ ’ہم چین کے ساتھ حالیہ جھڑپ کے پیش نظر بھارت کو خود انحصار کرنے کے لیے حکومت کی حمایت کرتے ہیں تاہم ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم بہت سارے اہم خام مال کے لیے چین پر انحصار کرتے ہیں‘۔بھارت کے جنوبی پورٹ چنائی پر چین سے آنے والی کھیپ کی سخت جانچ پڑتال سے سپلائی چین میں خلل پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات انتہائی کم ہیں البتہ کشیدگی میں کمی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔چین دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کا 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ بھارت میں واقع ہے جس کے جواب میں بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ چین کی حدود میں اکسائی چن کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔بھارت نے یکطرفہ طور پر اقدامات کرتے ہوئے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ کے متنازع علاقے کو بھی اپنی وفاقی حدود میں شامل کر لیا تھا۔چین نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام اہم فورمز پر اٹھایا تھا۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار
روایتی فیرن میں تبدیلی،بازاروں میں کوٹ.

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز انیڈ سپورٹس کی مجانب سے میکس ویل کالج.