ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ.

شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی.

کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر.

لداخ میں دونوں ملکوں کی افواج نے توپوں کو آگے کیا

   66 Views   |      |   Thursday, September, 24, 2020

 حالات انتہائی کشیدہ اور پُر تنائو

مشرقی لداخ کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی قیادت میں میٹنگ

سرینگریکم//ستمبر//لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہند چین افواج کے درمیان کشیدگی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ دونوں ملکوں کے افواج نے ایک دوسرے کے خلاف جدید توپیں نصب کیں جس وجہ سے کسی بھی وقت صورتحال ہاتھ سے باہر نکلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ چینی افواج پینگ گانگ جھیل کو چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں جبکہ بھارتی افواج اُنہیں فوری طورپر اراضی خالی کرانے کے بارے میں آگاہی فراہم کر کریں۔ اس بیچ وزیر دفاع کی سربراہی میں نئی دہلی میں ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران لداخ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لداخ میں ہند چین افواج کے درمیان زبردست کشیدگی کا ماحول ہے اور دونوںملکوں کی افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی افواج نے توپوں کو آگے کیا ہے اور فوجیں پیچھے چلی گئی ہیں جو اس بات کی اور اشارہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں۔ معلو م ہوا ہے کہ چینی حکومت نے اضافی فوج کو لداخ کی اور روانہ کیا ہے جبکہ جدید آرٹیلری کو بھی لداخ کے پینگ گانگ جھیل میں ڈمپ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ ترجمان کے مطابق بھارت چین کے ساتھ سبھی مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہیں تاہم چین کی جانب سے پھر سے شرارت کی گئی ہے جس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں چین کی فوج نے بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے پیر کو 4200 میٹر بلندی پر واقع جھیل کے قریب پینگونگ تسو کے مقام پر سرحد عبور کی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے سرحد پر صورتحال میں تناؤ پیدا کردیا۔پیپلز لبریشن آرمی ریجنل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ چینی فوج اس تمام کارروائی کے انسداد کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے اور چین کی علاقائی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام کیا اور کبھی بھی اسے عبور نہیں کیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان ڑاؤ لیجیان نے کہا کہ دونوں اطراف کے سرحدی فوجی دستوں نے زمینی مسائل پر مواصلاتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔خیال رہے کہ کئی ماہ سے مغربی ہمالیائی حصے میں فوجیں موجود ہیں جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف وزری کا الزام لگاتے ہیں۔قبل ازیں 20 جون کو گالوان وادی میں کشیدگی کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹنے پر رضامند ہوئے تھے۔تاہم مذاکرات کے کئی دور کے باوجود مختلف مقامات پر فوجیں آمنے سامنے ہیں جس میں انتہائی بلندی کا مقام پیانگونگ تسو جھیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی جھیل کے ساتھ پیش آئی۔واضح رہے کہ بھارت اور چین اپنے تقریباً 3500 کلومیٹر (2 ہزار میل) طویل سرحد پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں اور اس کے لیے 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوئی تھی تاہم نصف صدی کے دوران رواں موسم گرما میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔بھارتی فوج نے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام نے حالیہ بحران کو حل کرنے کے لیے سرحدی پوائنٹ پر ملاقاتیں کی تھیں۔ادھر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے سلسلے میں حالیہ سرگرمیوں کے پیش نظر یہاں ایک اعلی سطح کی میٹنگ میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق مسٹر راجناتھ سنگھ نے لائن آف ایکچول کنٹرول کی تازہ صورتحال پر آرمی چیف اور قومی سلامتی سے وابستہ عہدیداروں سے بات چیت کی اور آئندہ کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں آرمی چیف جنرل منوج مِکونڈ نارونے نے 29 اور 30اگست کی درمیانی شب پیگانگ جھیل کے جنوبی کنارے پر چینی فوج کی سرگرمیوں سے وزیر دفاع کو آگاہ کیا۔ وزارت دفاع نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ چینی فوجی دستوں نے پھر سے مشرقی لداخ میں مذموم حرکت کی اور 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب دونوں ممالک کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوں کی توں صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کا ہندوستانی فوجی دستے نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔آرمی چیف نے انہیں چین کے ساتھ اس معاملے میں کمانڈر سطح پر ہونے والی بات چیت سے بھی مطلع کیا۔واضح رہے کہ تازہ ترین پیشرفت کی وجہ سے، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تین مہینے سے بھی زائد عرصہ سے جاری تعطل کے مزید طول پکڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ اس سے سرحدی کشیدگی پھر سے بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کی فوج سرحد پر اپنی موجودگی بڑھانے میں مصروف ہے۔

متعلقہ خبریں

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکان آئی میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی ماں لفظ سنتے ہی دنیا بھر.

پلوامہ جم خانہ نے شوپیان کو شکست دی، میچ دیکھنے کیلئے پورا ضلع اُمڈ آیا پلوامہ / تنہا ایاز/ لانتھورہ کرکٹ لیگ شوپیان.

شاذونادرہی ملکی وغیرملکی سیاحوں کی آمد ،مقامی سیلانی ہی شکارہ والوں کی روزی روٹی کاذریعہ سری نگر:۲۲،ستمبر/فروٹ.

کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے.

اکھنور میں حد متارکہ کے نزدیک اسلحہ وگولی بارود برآمد کیا گیا :فوج
سرینگر؍22،ستمبر ؍ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے.