ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

سال2020 کے مختلف روپ

   17 Views   |      |   Sunday, January, 24, 2021

شوکت بڈھ نمبل کشمیری بڈھ نمبل کپوراہ کشمیر

سالِ گزشتہ عالم انسانیت کیلئے سبق اور آزمائشیوں کا سال اور کرہ ارض کیلئےسالِ مرمت

شوکت بڈھ نمبل کشمیری

بہت سارے لوگ یہ کہتے ہے یہ اچھا سال تھا وہ اچھا نہیں لیکن ایسا ہرگز صیح نہیں۔ وقت ہمیشہ بہتر اور پاک ہوتا ہے۔ اللّٰه پاک کا فرمان ہے کہ وقت مجھ سے منسوب ہے لہزا اسے ہرگز برا نہ کہو۔ دنیا میں صرف تغیر یعنی تبدیلی کو دوام حاصل ہے۔ دنیا میں مختلف تبدلیاں رُونما ہوتی ہے اور یہ تخلیق کائینات سے چلتا آ رہا ہے۔ وقت اللّٰه کی نعمت بھی ہے اور آزمائیش بھی۔ وقت انسان کیلئے اور انسان وقت کیلئے نہیں، بلکہ دونوں اللّٰه کے حکم کے تابع ہے۔ انسان وقت سے عاجز بھی ہے اور عاجز بھی نہیں۔ اگر صیح معنوں میں تفکر کیا جائے۔ اللّٰه کے حکم کے بغیر وقت انسان کا نہ بگاڑ سکتا ہے نہ بنا سکتا ہے۔ ہاں مگر یہ اللّٰه ہی ہے جس نے وقت کو انسانی زندگی پہ غالب فرمایا ہے تاکہ اسے آزمائیں۔ اسلئے انسان وقت کا غُلام قرار پاتا ہے جو کہ ربّ کا ہی منشہ ہے۔ انسان وقت سے نہ آگے اور نہ پیچھے جاسکتا ہے غرض انسان وقت کے قید میں ہے ہاں جب اللّٰه چاہے ۔ انسان سمجھتا ہے کہ وقت شاید چلاجاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کو وقت کی نعمت سے دور کیا جاتا ہے ۔ پھر بلا آپ نے اس میں کیا کچھ کیا ہاں مگر وہی کیا ہوگا جو ربّ کو آپ سے مقصود ہوتا۔ یہاں یہ بات غور کرنے کے لائق ہے کہ انسان خود کچھ بھی نہیں کرسکتا نہ نیکی نہ بدی ہاں جو اللّٰه چاہے وہی کرسکتا ہے توفیق الہٰی کے ساتھ اور اس کیلئے اللہ آپ کو وقت جیسی نعمت عطا فرماتے ہیں۔ غرض وقت سے سبھی عاجز ہے۔ لیکن وقت خود عاجز ہے اللہ کے حکم سے اور بنا حکم الہٰی یہ انسان کو عاجز نہیں کرسکتا لیکن اکثر ناداں ہے اس بھید کو نہیں سمجھ پاتے۔ جہاں تک سال گزشتہ کا تعلق ہے یہ بھی ہی وقت ہی تھا جسے بنی آدم اپنے نظریے سے مختلف صورت میں دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ اس بات سے چونکہ کائنات کا ذرہ تک بھی ناواقف نہیں کہ سال گزشتہ نے اس دنیا کو کیسے رنگ دکھائے۔ ہر ایک شے کیلئے یہ سال مختلف اور منفرد تھا اور پھر اول و آخر کائینات کے مالک کا بھی اپنا منشہ اور مقصد تھا۔ جہاں تک لوگوں کی اس بات کا تعلق ہے کہ کونسا سال ان کیلئے غم اور کونسا خوشی کا ہے۔ شاید یہ سال منفرد بھی تھا اور منفرد بھی نہیں۔ کیوں کہ روزِ اول سے ہی ہر وقت ہر لمہے بنی آدم اچھے اور بُرے، خوشی اور غم کا مزا چکھتا آرہا ہے۔ ہر سال میں امواتیں بھی ہوتی ہیں۔ جن کو وقت معینہ برابر ہوتا وہ اس عارضی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں اور جنہیں اس فانی دنیا پہ اللّٰه کو لانا مقصود ہوتا یے وہ جنم لیتے ہیں۔ اس سال بھی یہی موت اور حیات کا ہی سلسلہ چلا نہ کہ اس سے مختلف۔ وجوہاتِ موت پہ اگر انسان سوچتا ہے، وجہ تو موت کا کبھی خوشی دینے والا نہیں ہوتا۔ چاہے کوئی مرض سے مرے یا تندرست ہوکر یا اچانک کسی حادثے کے بغیر لیکن انجام تو جدائی اور غم ہی ہوتا ہے۔ اور پھر مرنے والا کس موسم میں مرے سرد ہو یا گرم، دنیاوی حالات کیسے ہوں جانے والے کی منزل صرف موت ہی ہوتی ہے اور حالات کا اس میں کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک انسانی جنم کا تعلق ہے آج تک دنیاوی نظر و فکر کے مالک اس انسان نے کبھی وجہ جاننے کی کوشش نہ کی اور وہ فقط اسے خوشی کہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ پھر بلا موت کے اَمر میں ایسا کیوں نہیں۔ غرض اس پوری دلیل کا مداع یہ ہے کہ سال گزشتہ پورے روئے زمین کیلئے لوگوں کی نظر سے غمناک اور قیامت خیز سال تھا۔ کیوں کہ پورے عالم کو اللّٰه کی ایک چھوٹی ذرہ نما مخلوق یعنی کرونا وائرس نے عاجز کیا اور اپنے لپیٹ میں لیا اور یہ انسانی نظروں سے چیٖن کے شہر وُہان میں جنم لیا اور پھر پوری دنیا پہ چھاگیا اور حکمران سے لے کر ایک آم آدمی تک پہنچ گیا۔ دنیا کی مغرور طاقتیں جنہیں اپنے دنیاوی بالادستی اور عروج پہ ناز تھا سب اسکے سامنے بے بس ہوکر رہ گئی۔ اور اُن کی ابھی تک کچھ بھی نہیں چلی اور بلا چلتا بھی کیسے یہ مخلوق کی جنگ تھوڑی تھی بلکہ کائینات کے ربّ کا منشہ جو اک ذرے سے مغرور انسان کو اپنا ظہور دکھاتا ہے۔ سال گزشتہ چونکہ اب کرونا کا سال ہی کہلاسکتا ہے۔ سال گزشتہ میں لاکھوں میں امواتیں ہوئی۔ تقریبا کسی نے ماں ،کسی نے باپ ،کسی نے بہن اور کسی نے بیٹا غرض کئی ساروں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور کسی نے خود کو کھودیا۔ غرض اُن کیلئے یہ سال غمناک قرار پایا۔ اب جبکہ جسے دہائیاں ہوئی دیکھتے ہوئے اپنوں کو بے گناہ مرتے ہوئے، قیدوں میں بند ہوتے ہوئے ظُلم و ستم میں پستے ہوئے اور بھوک سے مرتے ہوئے جنہوں نے بنا کسی مرض کے بلکہ تندرست اور جواں ہوکے بھی کھودیے جو کسی کے اکلوتے بیٹے اور اور کسی کے اکلوتے بھائی تھے۔ جنہوں نے غربت جیلتے ہوئے عمریں گزار دی۔ انہیں کیا بلا ہم سالوں میں فرق سکھائے اُن کیلئے تو ہر ایک سال اندھیرا اور قید خانہ ہے۔ یہ صیح ہے کہ کرونا پورے عالم کو موت کے رقس میں آ لپیٹا۔ معاشیت بالکل پامال ہوئی ،غربت آسماں چھوگئی، تعلیمی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا، غرض زندگی کا ہر پہلو بری طرح سے متاثر ہوا۔ قیامت کے منظر سے کم نہیں تھا۔ ماں بیٹے سے دور بھاگی اور بیٹا ماں سے۔۔ غرض جو کل تک اک دوسرے کیلئے جان دینے تک کو راضی تھے آج سبھی انکار اور ندارد۔ سبھی کو اک دوسرے میں موت کے فرشتے معلوم ہوتے تھے۔ ایک چھینک جسے کل تک ہم کوئی معمولی سمجھتے تھے آج یہ موت کی علامت بن گئی۔ بیٹے نے اپنے باپ کے جنازے کو کندہ دینے سے انکار کیا اور باپ نے بیٹے کے جنازے کو۔ ہر طرف نفسی نفسی کا عالم دیکھائی دینے لگا۔ غرض ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی جسے کل تک ہم خوابوں میں بھی سوچ نہیں سکتے تھے اور انسانی عقل اس سے بالکل نامحرم تھی۔ غرض جس سمت بھی دیکھیں اور سوچیں سال گزشتہ تاریک تر دیکھنے کو ملا۔ لیکن اس قیامت کے باوجود یہ سال ہمارے لیے چراغ کے مانند کچھ سبق دے کے چلاگیا۔
‏نتیجہ پھر وہی ہوگا سنا ہے سال بدلے گا
پرندے پھر وہی ہونگے شکاری جال بدلے گا
بدلناہےتو دن بدلو بدلتے کیوں ہو ہندسے کو
مہینے پھر وہی ہونگے سنا ہے سال بدلے گا
وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی ظالم
بتاؤ کتنے سالوں میں ہمـارا حـال بدلے گا ؟
طبعی اور صحت کے آئینے میں جب گزشتہ سال کو دیکھا جائے تو یہ سال محاسبہ اور حقائق کو آشکار کرنے کا سال معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ایسے امتحان اور فلٹر پیپر میں آگئی کہ پتا چلا کہ کون صحت کے معاملے میں آگے ہیں اور کون پیچھے۔ کل تک جو چاند پہ قدم رکھنے والے کہلاتے تھے اور ایٹم بمب کے وارث اور موجد تھے صحت کے معاملے میں ان کی بے بسی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوکر رہ گئی۔ جہاں پہ صحت کے اداروں کیلئے بڑی آزمائیش پیش آئی اور کئی سارے عظیم لوگ اپنی صلاحیتیں دکھاتے ہوئے داغِ مفارقت دے گئے وہیں صحت کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت سب سے بھاری رہی۔ جو قومیں جوہری اور فوجی طاقت کو ہی بڑا طاقت سجھتے تھے اور انسانی جانوں کو بمبوں سے لینا کمال سمجھتے تھے آج خود موت کے رقس میں آ پھنسے اور زندگی کی بھیک مانگنے لگے اور اب انسانی صحت اور فلاہ پہ سوچنے اور کام کرنے پہ مجبور ہوئے۔ سال گزشتہ پوری دنیا کی طاقتوں کو یہ پیغام دے گیا اور ثابت کرگیا کہ صحت کا نظام کتنا ضروری اور ناگزیر ہے اور حکمرانوں کو سمجھا دیا کہ آیا پہلے انسانی بہبود ضروری ہے یا جنگ و جدل کے مقابلوں میں مسروف عمل رہنا۔ لیکن یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کچھ طاقتیں ایسی بھی دیکھنے کو ملی جو اس نازک وقت میں بھی انسانی جانوں کو بچانے سے زیادہ انسانی جانوں کو لینے میں مسروف رہے اور اپنی کم ظرفی اور عداوت کے خمار میں دنیا کے امن کو بگاڑنے میں پیش پیش رہے۔ جہاں ایک طرف کروڑوں اور لاکھوں میں تیار کئے ہوئے ویکسین اور ادویات سے ایک جان بچائی جاتی تھی لیکن وہی گولیوں اور بمبوں سے آسانی سے کئی جانیں تلف کرنے میں کثر باقی نہیں چھوڑی جاتی تھی ۔ ایسے میں کبھی کبھی انسان کے سب سے بہتر اور طرقی یافتہ مخلوق ہونے میں شک معلوم ہوتا تھا۔
سالِ گزشتہ کو اگر ہم تعلیمی اعتبار سے دیکھیں گے تو معلوم ہوتا ہے کہ سال گزشتہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دنیا کا تعلیمی نظام ہے۔ انسانی جانوں کے زیاں کے بعد سب سے بڑا نقصان تعلیمی نظام درہم برہم ہونا ہی ہے۔ دورِ حاضر میں پرانہ اور ناقس تعلیمی نظام لیے کئی علاقوں میں بالکل تعلیمی اعتبار سے تاریکی دیکھنے کو ملی۔ اسکولوں میں بچوں کو اچھے سے پڑھے بغیر اگے طرقی دے کر ہماری بڑی نادانی معلوم ہوتی ہے ۔ کیوں کہ جو قیمتی لمہے ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے اُن کی بھرپائی شاید ہی ممکن ہے۔ اور اپنے بچوں اگلے جماعتوں میں ہونے کو اصل طرقی سے تعبیر کرنا ہرگز صیح نہ ہوگا بلکہ صرف خود کو دلاسے اور فریب دینے کے مترادف۔ جہاں چند کاوشوںسے تعلیم کا نظام جاری رہا لیکن جو نقصانات حالات کی وجہ سے تعلیمی اعتبار سے بچوں کو ملے ان کی بھرپائی کرنا وقت سے ہی ممکن ہے۔ غرض ضرورت اس بات کی ہے جب تک آنے والے وقت میں تعلیمی نقصان کا بھرپائی نہ کیا جائے اور جو خلیج پیدا ہوا ہے بچوں کے تعلیم میں اُسے پورا نہ کیا جائے اس سفر کو مکمل کہنا غلط ہوگا اور دوسری سیڑھی پہ قدم رکھنا محض دھوکا ہوگا۔ لیکن جہان سال گزشتہ تعلیمی نظام کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا وہی یہ سال بیداری کے سال سے کم نہ تھا۔ اس نے ہماری تعلیمی نظام کو ہوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا اور ہمیں اس کی خامیوں سے روشناس کرایا۔سال گزشتہ نے ہمیں جدت پسندی اور زمانے کے اعتبار سے جستجو کرنے اور سمجھنے پہ مجبور کی۔
اس نے ہماری سائینس دانوں ، محققوں اور استادوں کو ان کے حصول کی پہچان کرائی جہاں دنیا یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ ہم نے تعلیم و تحقیق کا ہر باب رقم کیا ہے وہی ہمیں یہ معلوم ہوا کہ تعلیم اور تحقیق مکمل نہیں ہوسکتی ہے اور ہمیں وقت کےہر کروٹ پہ سیکھنے اور عملانے کی ضرورت ہے ۔
اگر سال گزشتہ کو ہم انسانی مزہبی اور اخلاقی آئینے میں دیکھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سال گزشتہ سبق اور آزمائیشوں کا سال تھا۔
بنی نوع انسان بالکل انسانی مزہبی اور اخلاقی تعلیمات اور اقدار سے غافل ہوچکا تھا۔ خوفِ خُدا سے دور یہ انسان ہر سوں سرکشی میں رقس کرتے دکھتا تھا۔ بےحیائی اور بے راہ روی آسماں چھوگئی تھی۔ انسانی ہمدردی اور عباداتِ الہٰی سے انسان دستبردار ہوچکا تھا۔ دنیا پہ ایسے انسانیت سوز واقعات سننے اور دیکھنے کو ملے کہ روحیں کانپ اٹھی۔ جہاں بڑے بڑے جرم ہوتے دیکھے وہاں عصمت دری اور مزہبی منافرت بھاری رہے۔ جہاں پردے کی اہمیت تو فراموش کی گئی تھی اور انسانی دل ازاری معمولی سی بات ہوگئی تھی۔ لیکن وہیں سالِ گزشتہ نے انسانوں کے ہوش ٹھکانے لائے۔ جہاں اپنی زباں کو دوسروں پہ تند کھوئی کیلئے چلانا انسان اچھا سمجھنے لگا تھا۔ اللّٰه پاک نے اسے اب بدن ہی نہیں بلکہ چہرہ تک کو ڈھانپنے پہ مجبور کیا۔ جسے شاید باشعور اور دانش مند لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ سال گزشتہ میں لوگوں کو ایسے حالات دیکھنے پڑے کہ جو کل تک شہنشائی کے گماں میں تھے انہیں اب گدائی کی صورت دیکھنی پڑی اور شاید اس کا غرور خاک میں مل گیا۔ کئی سارے لوگ سفر میں اور گھروں میں بھی دو وقت کی روٹی کیلئے عاجز ہوکر رہ گئے۔ لیکن ایسے میں یہ سال صاحب ثروت کیلئے ازمائیش آن کھڑی ہوئی کہ آیا وہ ضرورت مندوں، غریبوں اور محتاجوں تک پہنچ پائے یا نہیں ۔ اس طرح ان کی انسانی پیکر ہونے کی جانچ اور پرکھ واقع ہوئی۔ کئی سارے خوش قسمت آزمائیش کی اس گھڑی میں انسانیت کے واقعی ہمدرد اور علمبردار ثابت ہوئے اور کئی بدبخت انسانیت سے غافل ہوکر اپنے ذاتی من مانی اور اغراض میں ڈھوبے رہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ جو لوگ عباداتِ الہٰی سے غافل ہوچکے تھے یا یوں کہے کہ سرکش ہوچکے تھے اب فراعوں کی آخری لمہوں میں توبے کی علامت پیش کرتے تھے لیکن انہیں اللّٰه کے مبارک گھروں کے دروازے بند ہی دیکھنے کو ملے۔ایسے میں کل تک کے مغرور انسان عاجز ہوکر رہ گئے لیکن ہائے آگ لگنے پہ کنوا کھودنا۔ لیکن اللّٰه کی ذات رحیم ہے اور کریم ہے کہ جسے نادان سمجھ نہیں پاتے۔ خوش قسمت لوگ جن کے دل میں اللّٰه کے ہدایت کی رمق ہوتی ہے ہر وقت میں غفلت سے بچتے ہیں اور گناہوں اور لگزشوں کے فوراً بعد توبہ اور رجوع الہٰی کرتے ہیں اور نجات پالیتے ہیں۔ اللّٰه کے پیاروں کیلئے سالِ گزشتہ چونکہ آزمائیش کا سال تو تھا ہی لیکن ان کیلئے قربِ الہٰی کے سال سے بھی کم نہیں۔ انہوں نے اس نازک وقت میں بھی اللّٰه کی ذکر سے اور توبے میں آکر ایمان میں اظافہ پالیا۔ مومن کی یہ صفت رہی ہے کہ وہ دُکھی اور رنجیدہ ہوجاتا ہے لیکن مایوس ہر گز نہیں۔ کئی سارے اللّٰه کے پیارے بندے سال گزشتہ میں طاعون کے مرض سے شہادت پا گئے۔
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ سول اللّٰه صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا
وَمَنْ مَاتَ فی الطَّاعُونِ فَہُوَ شَہِیدٌ
ترجمہ: جو طاعون (کی بیماری )سے مر گیا وہ شہید ہے
سالِ گزشتہ میں ہمیں ایسے بھی لمہے دیکھنے پڑے کہ کئی ایسے بھی لوگ جو دینِ اسلام سے چونکہ دور تھے اسلام کی تعلیمات اور عظمت کا اعتراف کرگئے لیکن کچھ اسلام دشمن، بدبخت اور لعین ایسے دیکھنے کو ملے کہ جنہوں نے پوری امتِ مسلمہ کو مجروح کردیا۔ لیکن مُسلم دنیا کیلئے یہ بڑی آزمائیش تھی کہ آیا مسلماں باطل کی مخالفت اور مزمت میں پیش پیش رہیں گے یا دنیاوی لزتوں میں مست رہتے ہوئے خاموش بن بیٹھیں گے۔ اُمت مُسلمہ کیلئے اسے بڑی دُکھ اور آزمائیش کی گھڑی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کے محو و مرکز اور جانوں سے بھی پیارے دوجہاں کے سردار اور اللّٰه کے نبیﷺ کی شان میں کوئی ناشاہستہ نا معقول اور گستاخانہ بات کہے۔ اور پھر مسلمانوں کیلئے تو یہ بات ہرگز ناقابلِ برداشت تھی۔ لیکن اللّٰه کے خالص بندوں نے اس کا بھرپور مقابلہ کیا۔ لیکن کچھ بے غیرت ایسے بھی ٹھہرے کہ اس نازک وقت میں بھی غافل رہے اور دنیاوی بالادستی اور مالی اغراض کو مزہب اور آخرت پر ترجیح دیتے رہے۔ جہاں ایک جانب مسلمان ظالم کے ہاتھوں کُچلے جارہے تھے وہی یہ لوگ ان ظالموں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے باز نہ آئے بلکہ طاغوت کی غلامی اختیار کیے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ غیرت مند قومیں ہمیشہ غیرت کو ہاتھوں سے جانے نہیں دیتے۔ انہوں نے اس بات کا مزاہرہ ٹاکار کیا اور باطل کی برپور مخالفت کی۔ لیکن کہیں لوگ فانی دنیا کی چند پل کی بالادستی کیلئے مضلوموں کی پروا کیے بغیر ان کے جزبات پہ شب خون مارتے رہے اور ظالموں سے ناتے بناتے رہے۔ غرض سال گزشتہ کئی لوگوں کیلئے سرخ روحی اور کئی لوگوں کیلئے روح سیاہی کا سامان معلوم ہوا۔
سال گزشتہ کو ہم سماجی بحالی کا سال بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ جہاں ایک انسان اتنا ظالم بن چکا تھا کہ نزدیک تک کے رشتوں کو فراموش کرکے بے مروت اور بے لہاظ بن چکا تھا۔ اسے اپنوں اور پیاروں سے ملنے کی فرصت میسر نہ تھی ۔ دنیا طلبی اور دولت کی لت میں گرفتار یہ انسان اگرچہ مجبور تھا لیکن اتنا بے مروت بن چکا تھا کہ اپنے بچوں تک سے اچھے سے بات کرنے کا وقت اسے میسر نہ تھا۔ صبح کو کام اور ڈیوٹی نکل کر یا وہی پہ قیام فرمائے اس انسان کو گھر پہ انے کا موقع ملتا تھا تو گھر آکر بھی یہ اپنے کاروباری اور دفتری کاموں میں الجھتا رہتا تھا۔ ایسے میں شاید ہی کبھی اسے بچوں کے جزبات اور احساسات سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا تھا۔ اور پھر باقی رشتہ داروں کی بات تو دور کی بات تھی۔ لیکن وقت نے ایسی کروٹ دکھائی اس کی گلوبل دنیا اس کے کمرے تک محدود ہوکر رہ گئی اور اسے ساری کائینات صرف اپنے کنبے اور اپنے کمرے میں دکھائی دینے لگی۔ اس نے اپنے اہل و عیال کے معاملات سننے اور سمجھنے شروع کیے۔ بچوں کو اپنے والدین کا پیار اور ساتھ تھوڑا نصیب ہونے لگا اور بوڑھے ماں باپ کو اپنے جواں لخت جگر کے دیدار ہونے لگے۔ گھر میں بیٹھ کر مشینی دنیا کی نت نئی پریشانیوں سے تھوڑی راہت محسوس ہونے لگی۔ اب وقت کی دستیابی نے اسے اپنی تارخ اور تمدن کو پڑھنے کا موقع فرہم کیا۔ سال گزشتہ میں ہم نے دیکھا کہ کئی لوگ قلمکار، شاعر اور فنکار کچھ زیادہ ہی بن کے ابھر آئے۔ غرض حالات نے انسان کو اپنے تمدن اور ثقافت کے بارے میں پڑھنے اور سوچنے پر اُکسایا۔ ورنہ یہ انسان اتنا مسروف بن چکا تھا کہ اسے صرف ایک ہی کام کرنا زندگی کا مقصد معلوم ہوتا تھا اور اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر منجمند ہوگئی تھی۔ لیکن حالات نے اب اس کے دل میں انسان اور انسانی محبت کی پیاس جگادی۔ اپنوں سے دور رشتوں کی فکر نہ کرنے والا یہ انسان اب رشتہ داروں سے ملنے کی آرزو کرنے لگا۔ اسے اپنے کیے ہوئے اچھے برے سبھی تصویریں سامنے آنے لگے اور رشتوں کو استوار کرنے کے متعلق سوچنے لگا۔ لیکن بد ضمیر لوگ اس نازک دور میں بھی اپنی بد ضمیری اور عداوت سے باز نہ آئے اور سماجی ماحول کو متاثر کرتے رہے۔
اگر سال گزشتہ کو سیاسی اور حکمرانی کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ کسی حد تک انقلابی سال اور کئی ضمیر فروشی کا سال اور کئی ماضی کی طرح پھر وہی ظلم و تشدد کا سال معلوم ہوتا ہے۔ سالِ گزشتہ میں ہمیں ماضی کی طرح ظلم وتشدد کا تسلسل دیکھنے کو ملا۔ مضلوم وہی آہ فغاں کرتے رہے اور قاتل مقتل میں محوہ رقص رہے۔ کئی بے باک حق پرست اور امن کے داعی ہمیشہ کیلئے خاموش کردیے گئے۔ معصوم بچے اپنے پیاروں کے لاشوں پر پکارتے دیکھنے کو ملے۔ جہاں لوگ عالمی وباہ سے بچنے کی کشمکش میں تھے وہی دوسری جانب بمبوں اور گولیوں سے ہارتے ہوئے دیکھنے کو ملے۔ جہاں ایک جانب حقائق کو اجاگر کرنے والے نام وقتی اعزازات سے نوازے گئے تو دوسری جانب انہیں کے کئی ساتھیوں کو زندان کے دن دیکھنے پڑے۔ غرض پھر وہی ظلم و ستم اور تشدد کے نظارے آنکھوں سے دیکھنے کو ملے۔ کئی پہ با شعور لوگوں نے اپنی وسعتِ نظر سے ذات پات رنگ و نسل اور مزہبی منافرت کو ہرا کر سیاسی کامیابی رقم کی جو شاید آساں نہیں تھی اور جن کے خیالات پوری سیاسی دنیا پہ چھاگئے۔ وہیں کئی پہ حکمرانوں کے ساحری میں گرفتار ضمیر فروشی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے جہاں نادان انسان اپنے زخم بھول کر سیاسی فریبوں کو مداوا سمجھ بیٹھے اور اپنی پَل بھر کی سیاسی مفادات کے عوض عظیم مقاصد کو فراموش کردیے اور فطرت غلامی کے آثار پیش کیے جو شاید کسی حد تک ان کیلئے مجبوری بھی تھی لیکن زندہ اور باشعور قومیں وقتی مجبوریوں سے عاجز نہیں ہوا کرتی ہیں بلکہ ہر وقت ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے بلند مقاصد کیلئے رواں دواں رہتی ہیں۔ لیکن روشن خیال لوگوں نے ایسے میں اگر انقلاب تو بھرپا نہیں کیا لیکن انقلابی سوچ کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی۔ غرض سال گزشتہ ضمیروں اور سرشتوں کو پرکھنے کا سال معلوم ہوتا ہے۔
سالِ گزشتہ سالِ اکالوجی بھی کہلا سکتا ہے اور اگر ہم اسے کرہ ارض کیلئے سال مرمت کہے گے تو غلط نہ ہوگا۔ جہاں ظالم انسان نے اپنے ذاتی اور حقیر اغراض کیلئے فطرت کے اس نظام کو بکھرا کر چھوڑا تھا وہی اس سال نے فطرت کے نظام کو انسانی شر سے بچنے کا سامنان مہیا کیا۔ چونکہ ایک ناگہانی وباہ نے انسانوں کو چار دیواری کے اندر ہی محدود اور بے بس کردیا۔ اس سال روئے زمیں پہ مختلف خوش آئندہ تبدیلیاں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں آج تک اس زمیں پہ سبزے کی چادر نہیں ملتی تھی اس سال وہاں پہ بھی سبزہ لہلانے لگا۔ ایک تحقیق کے مطابق زمیں کی تھرتھراہٹ میں میں بہت کمی واقع ہوئی۔ جیسے کہ پوری دنیا کا ٹریفک نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا اور فکٹریاں بھی بہت حد تک سنسان پڑی۔ ایسے میں گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والے زہریلی گیسوں سے ماحولیات کو نجات ملی۔ فضا میں گرد و غبار کم دیکھنے کو ملا اور ماحول نے شور وگل سے تھوڑی رہائی پا لی۔ انسان مختلف قدرتی مقام کا رخ نہ کرسکا جس کی وجہ سے سرسبز باغات اور پارکوں کو پولیتھین اور پلاسٹک بوتلیں دیکھنے کو نہ ملی۔ جس طرح کچھ وقت کے بعد زخم بھر جاتے ہیں ٹھیک ایسے ہی کہیں مقامات سبزے سے بھر گئے ۔ لیکن ظالم انسان کے شر سے ماحولیات کو پھر بھی رہائی نہیں مل سکی۔ اس نازک وقت میں بھی یہ ظالم جنگلات کا سفایا کرتا رہا۔سال گزشتہ میں جہاں لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود ہوکر رہ گئے انہیں مشینوں سے تھوڑی دوری میسر ہوئی ۔ لوگوں نے ایسے میں کھیتی باڑی کی طرف رحجان دیکھنا شروع کیا۔ اس طرح ماحولیات کے اعتبار سے سال گزشتہ کرہ ارض کیلئے سال مرمت معلوم ہوا۔ لہزا جب ہم مجموعی جائزہ لیتے ہیں سال گزشتہ کا تو یہ سال جہاں بہت غمناک اور آزمایشوں والا سال معلوم ہوتا ہے وہی یہ سال عالمِ انسانیت کیلئے تفکر، محاسبہ اور بیداری کا سال اور کرہ ارض کیلئے سالِ مرمت معلوم ہوتا ہے۔
شوکت بڈھ نمبل کشمیری :تحریر
Web : www.showkatbudnumbal.com
Email: showkatbudnumbal786@gmail.com

متعلقہ خبریں

تحریر:سیفی سرونجی
(بشکریہ استوتی اگروال) صلاح الدین پرویز اور حقانی القاسمی کی دوستی سے کون واقف نہیں ہے ۔ حقانی.

تحریر: سبزار احمد بٹ۔۔اویل نورآباد نوید کا باپ سبحان کھڑکی پر بیٹھ کر زور زور سے حقہ پی رہا تھا اور دھواں اس قدر.

اردو کی 16 سالہ قلمکار اور”انتساب عالمی“کی نائب مدیرہ   تحریر: انیس جاوید اردو زبان وہ زبان ہے جو اپنی سلاست،.

تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں تاریخ کے.

افسانہ نگار:الف عاجزؔ کلسٹر یونیورسٹی سرینگر  امی جان میں نکل رہا ہوں ، واپسی پر وہ ساری چیزیں لے کر آؤں گا جن.