ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

زمین کا قانون نوٹیفائی

   182 Views   |      |   Tuesday, January, 26, 2021

اب جموں کشمیر میں کوئی بھی غیر مقامی شہری خرید سکتا ہے زمین
عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی نے برہمی کا کیا اظہار ،کہا’ جموں وکشمیر اب فروخت کے لئے تیار ‘
سرینگر؍27، اکتوبر ؍؍ مرکزی سرکار نے منگل کے روززمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے۔تاہم اس میںزرعی زمین شامل نہیں ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق اس قانون کا دائرہ لداخ تک نہیں ہوگا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ایک اہم اقدام کے تحت مرکزی حکومت نے زمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیا جس سے کسی بھی شہری کے لئے جموں و کشمیر اور لداخ میں زمین خریدنے کی راہ ہموار ہوگی۔ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو ’مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن2020‘کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسرا حکمنامہ ہے۔بیان کے مطابق اس حکمنامہ کو فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جانا چاہئے۔حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ جنرل کلاز ایکٹ ،1897 اس آرڈر کی ترجمانی کے لئے لاگو ہوتا ہے کیونکہ یہ ہندوستان کے علاقے میں نافذ قوانین کی ترجمانی پر لاگو ہوتا ہے۔حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ نے ان ترامیم پر برہمی کا اظہار کیا۔ ایک طنزیہ تبصرہ میں عبد اللہ نے کہا کہ’جے اینڈ کے اب فروخت کے لئے تیار ہے‘۔اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا ’جموں و کشمیر کے زمینی ملکیت کے قوانین میں ترامیم ناقابل قبول ہے۔ یہاں تک کہ غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا دیا گیا ہے، یہاں تک کہ ڈومیسائل کی تھوڑی بہت رعایت کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر اب بیچنے کے لئے ہے اور غریب چھوٹی زمین رکھنے والے مالکان مشکلات سے دوچار ہوں گے ‘۔ادھر محبوبہ مفتی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو روٹی اور روزگار کی فراہمی میں تمام محاذوں پر ناکام ہونے کے بعد بی جے پی ووٹروں کی بھوک مٹانے کے لئے ایسے قوانین تشکیل دے رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات جموں و کشمیر کے تینوں صوبوں کے لوگوں کو متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت کو تقویت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا ایک اور ٹوئیٹ میں کہا’حکومت ہند کا ایک اور قدم جموں و کشمیر کے لوگوں کو تقسیم اور اُنہیں محروم رکھنے کے لئے مذموم ڈیزائن کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 370 کو غیر آئینی طور ختم کرنے سے لے کر ہمارے قدرتی وسائل کی لوٹ مار میں آسانیاں پیدا کرنے اور آخر کار جموں و کشمیر میں اراضی کو فروخت کیلئے رکھا۔‘آرٹیکل370 کے خاتمے کے ساتھ اس ایکٹ نے سابق ریاست جموں وکشمیر کو دو مرکزی علاقوں ’جموں و کشمیر‘ اور’لداخ‘کو دوبارہ تشکیل دے دیا۔قابل ذکر ہے کہ اگست2019میں جموں کشمیر کو مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنانے اور اس کو تقسیم کرنے کے بعد سے اس کے اندر مرکزی قوانین نافذ کرنے کا عمل جاری ہے۔نئے قانون کے تحت جموں وکشمیر میں اب کوئی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے جبکہ اس قانون کے تحت اُسے جموں وکشمیر کا باشندہ ہونا لازمی نہیں ہے ۔تاہم زمین سے متعلق قانون کے تحت کوئی بھی غیر مقامی شہری زرعی زمین نہیں خرید سکتا ہے ۔ادھر آؤٹ لک کی ایک رپورٹ کے مطابق نئے اراضی قوانین جو جموں وکشمیر میں غیر ڈومیسائلوں کو زمین خریدنے اور حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اس کا دائرہ لداخ تک نہیں ہے۔پچھلے سال ، نئی دہلی نے اگست میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا جس نے سرکاری ملازمتوں اور زمین کی ملکیت سے قبل ریاست کے مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق دیئے تھے۔ ایک سینئر سرکاری اہلکار نے میگزین کو بتایا کہ قوانین کی تیسری موافقت صرف جموں و کشمیر کے لئے ہے ، لداخ کے لئے نہیں۔ اور سابقہ سرکاری احکامات کے برعکس ، اس میں لداخ خطے میں موافقت میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.