ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

کورونا پہلے سے زیادہ سنگین ، کئی ممالک میں لاک ڈاون کا نفاذ     سرینگر//.

ڈاکٹرفاروق عبداللہ سمیت دوسرے بیماروں کی جلدصحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی.

ہائی اسکول لاجورہ پلوامہ کے 14طلباء نے ڈسٹنکشنز حاصل کیں پلوامہ/تنہا ایاز/.

روشنی اراضی اسکنڈل : فائدہ اْٹھانے والوں کے نام ظاہر

   251 Views   |      |   Sunday, April, 18, 2021

روشنی اراضی اسکنڈل : فائدہ اْٹھانے والوں کے نام ظاہر

سابق وزیر خزانہ حسیب درابو سمیت کئی اہم شخصیات کے نام شامل
سرینگر؍24،نومبر ؍ ؍ جموں و کشمیر انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے مبینہ طور غیرقانونی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی پہلی فہرست جاری کی ہے جس میں سابق وزیر خزانہ اور پی ڈی پی کے سابق ممبر حسیب درابو سمیت کئی اہم سیاسی وکاروباری شخصیات کے نام شامل ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے مبینہ طور غیرقانونی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی پہلی فہرست جاری کی ہے جس میں سابق وزیر خزانہ اور پی ڈی پی کے سابق ممبر حسیب درابو اور ان کے کنبہ کے3 افراد، کانگریس کے ممبر اور سرینگر میں براڈوے ہوٹل کے مالک کے کے آملہ، ریٹائرڈ ائی اے ایس افسر محمد شفیع پنڈت اور ان کی اہلیہ، اور ہوٹل کاروباری مشتاق احمد اور ان کا بیٹا شامل ہے۔جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ اس فہرست میں سابق وزراء ، تاجر اور نوکرشاہ بھی شامل ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ محکمہ مال نے پہلے سے ہی اس معاملے میں’ موٹیشن ‘کو خارج کیا ہے،ہم اس وقت فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔ یہ فہرست بعد میں ویب سائٹ پر شائع کی جائے گی۔‘اْن کا مزید کہنا تھا ’ اس وقت تک ہم نے15ہزار سے زائد افراد کی تفصیلات اکھٹا کی ہے اور مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس کاروائی کے بعد کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی بازیاب کی جائے گی۔‘تفصیلات فراہم کرتے ہوئی اْنہوں نے کہا’روشنی ایکٹ کے تحت تقریباً 3لاکھ48ہزار200کنال اراضی لوگوں کو دی گئی ہے، تاہم اس میں سے3لاکھ40ہزار100 کنال جو کہ زرعی زمین تھی کو مفت میں تقسیم کیا گیا ہے۔‘سرینگر ضلع انتظامیہ نے ایک سابق وزیر، ایک کانگریس لیڈر اور ایک تاجر کا نام اپنی فہرست میں درج کیا ہے۔سابق وزیر خزانہ حسیب درابو اور ان کے تین رشتہ دار شہزادہ بانو، اعجاز درابو، افتخار درابو، معروف تاجر اور کانگریس لیڈر کے کے آملا، رچنا آملہ، وینا آملہ، مشتاق احمد، سابق بیوروکریٹ محمد شفیع پنڈت اور ان کی اہلیہ نگہت پنڈت، سید مظفر آغا روشنی ایک سے فائدہ اٹھانے والے افراد میں شامل ہیں۔وہیں جموں میں، روشنی ایکٹ کے علاوہ دیگر تجاوزات والی اراضی کی فہرست جس میں تجاوزات ہیں لیکن محصولات کے ریکارڈ میں نہیں دکھایا گیا، سید آخون نیشنل کانفرنس (این سی) لیڈر، ایم وائی خان، عبدالماجد وانی، سابق وزیر کانگریس، اسلم گونی، ہارون چودھری۔ این سی لیڈر، سابق وزیر سجاد کیچلو کے نام اس فہرست میں درج کیے گئے ہیں۔جموں میں جن کے نام فہرست میں شامل کیا گیا ہے ،اُن میں نارو رام ،بیلی رام ،شالو رام داس اور رام لال شامل ہیں ۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے سابق ریاست جموں کشمیرکے11اراضی قوانین کو منسوخ کیا ہے جوقدیم ،رجعت پسندانہ اور زائدالمعیاد تھے اوران کی جگہ نئے ،جدید،ترقی پسند اور عوام دوست قوانین لائے گئے۔نئے اراضی قوانین سے 90فیصد اراضی کو بیرون لوگوں کے نام منتقل کرنے سے تحفظ حاصل ہوگابلکہ ان سے زرعی شعبے کو بھی فروغ حاصل ہوگااور تیزتر صنعت کاری ،اقتصادی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیداہوں گے۔ان باتوں کااظہار پرنسپل سیکریٹری اطلاعات اور سرکاری ترجمان روہت کنسل نے جموں میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔کنسل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر تشکیل نو قانون کے پانچویں حکم2020سے متعلق سوالات کے جواب دیئے تھے۔انہوں نے کہا کہ منسوخ کئے گئے قوانین زراعت پر مشتمل قدیم اقتصادیات کے فروغ کیلئے تھے اور جدیداقتصادی ضروریات کیلئے انہیں اصلاح کرنالازمی تھا۔اس کے علاوہ یہ مبہم قوانین تضادات سے بھرپور تھے اور متعدد معاملوں میں یہ واضح طور رجعت پسند تھے۔مثال کے طور پرمتعدد قوانین میں تضادات تھے جس کی وجہ سے ان کی تشریح میں صوابدیدی کاامکان تھا۔مختلف قوانین میں ’’کنبے‘‘کو مختلف اندازمیں بیان کیا گیاتھااوربڑی جاگیروں میں زمین کی حد182کنال ہونے کو1976کے زرعی اصلاحات قانون میں 100کنال کیاگیاتھاتب بھی دونوں قواعد ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے اورابہام اور تضاد پیداکررہے تھے۔ اراضی کو تبدیل کرنے پرروک اور انتقال باغات قانون1975نہ صرف باغات کی اراضی کے انتقال پر منع کرتے تھے ،یہ حیرت انگیز طور نئے باغات کووجود میں لانے سے بھی روک رہے تھے۔اِسی طرح زرعی اصلاحات قانون کے تحت کاشت کار کو دی گئی اراضی کو44سال بعد بھی فروخت کرنے پر پابندی تھی۔پہلے ہی خریدنے کے حق کا قانون مالک کو اْس کی جائیداد فروخت کرنے سے روک رہے تھے۔ نئے اراضی قوانین جدید اور ترقی یافتہ ہیں۔نئے اراضی قوانین میں دیگر ریاستوں جن میں ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ بھی شامل ہے،کے خطوط پر کئی حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ کسی بھی قسم کی زرعی اراضی جموں کشمیر کے باہر کسی بھی شخص کے نام پر منتقل نہیں ہوسکتی،بلکہ جموں کشمیر کے اندر ہی زمیندار کو ہی کاشتکاری کیلئے فروخت کی جاسکتی ہے۔کسی بھی زرعی اراضی کو غیر زرعی کام کیلئے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ زرعی اراضی اور زمیندار کی اصطلاح میں نہ صرف زراعت بلکہ باغبانی اور زرعی سرگرمیوں سے متعلق دیگر چیزیں بھی شامل ہے۔ زمیندار کی اصطلاح۔۔۔ وہ شخص جو ذاتی طور پر جموں کشمیر میں کاشتکاری کرتا ہو۔ زرعی اراضی کے تحفظ کو صرف اس صورت میں یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر میں90 فیصد سے زائد اراضی،زرعی زمین ہے،اور یہ جموں کشمیر کے لوگوں کے پاس محفوظ رہے گی۔ نئے قوانین نہ صرف پرانے کمزور قوانین کے مسائل کا ازالہ کریں گے بلکہ جموں کشمیر میں زرعی اور صنعتی فروغ کی جدیدیت کو بھی فروغ بخشیں گے۔ منسوخ شدہ قوانین کے ترقی یافتہ دفعات کو ترمیم شدہ اراضی قوانین میں شامل کیا گیا ہے،جبکہ نئے اور موجودہ قوانین میں نئے اور جدید دفعات شامل کئے گئے ہیں۔ اب بورڈ برائے مال کے قیام،اراضی کے استعمال کے نفاذ کیلئے علاقائی منصوبہ بندی،تحفظ،پٹے پر اراضی،معاہدوں پر کاشتکاری کے نئے دفعات شامل کئے گئے ہیں۔بورڈ برائے مال میں اب نہ صرف علاقائی منصوبہ بندی کیلئے ڈیولپنگ اٹھارٹی کے سنیئر افسران تک محدود رہے گی،بلکہ اراضی کی حصولیابی کی شراکت د اری کیلئے اسکیم کو بھی نوٹیفائی کریں گے۔پرانے قوانین فرسودہ تھے:جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کا پانچواں آرڈر2020۔ موجودہ قوانین میں خاص طور پر زمین کے انتظام سے متعلق قوانین میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔11 پرانے قوانین منسوخ کردیئے گئے اور 4 بڑے قوانین میں ترمیم کی گئی۔ پہلے ہمیں پرانے ؍ موجودہ قوانین میں سے بہت سے لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درحقیقت یہ قوانین پرانی زرعی معیشت پر مبنی معیشت کے لئے بنائے گئے تھے۔ وہ فرسودہ تھے اور ابہامات اور تضادات کا شکار تھے۔بہت سے معاملات میں یہ قوانین واضح طور پر رجعت پسندانہ تھے۔صوابدیدی تشریح اور بدعنوانی کی بہت گنجائش موجود تھی۔

متعلقہ خبریں

کورونا پہلے سے زیادہ سنگین ، کئی ممالک میں لاک ڈاون کا نفاذ     سرینگر// بھارت میں پیر کے روز کورونا وائرس کے.

دہلی/ پی آئی بی/ تعریفی سماجی و تکنیکی ماہرین ڈاکٹر چنتن وشنو کو این ٹی آئی آیوگ کے زیراہتمام حکومت ہند کا پرچم.

دہلی/ پی آئی بی/ہندوستانی بحریہ کے جہاز آئی این ایس ست پورہ (ایک اٹوٹ ہیلی کاپٹر کے ساتھ لگے ہوئے) اور آئی ۔ مشرقی.

ڈاکٹرفاروق عبداللہ سمیت دوسرے بیماروں کی جلدصحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی گئی   سرینگر// کرونا وائرس کی وبائی بیماری.

کہا ہندوستان کے بہادرکنبے کے اَفراد حب الوطنی اور قربانی کی زندہ مثال ہیں   سری نگر// لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا.