ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

روشنیوں کا تہوار’’دیوالی‘‘جموں کشمیر میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا

   143 Views   |      |   Tuesday, January, 26, 2021

روشنیوں کا تہوار’’دیوالی‘‘جموں کشمیر میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا

مندروں میں پوجا پاٹ کا خصوصی اہتمام ،مکانوں و دکانوں پر چراغاں کیا گیا تھا
سرینگر 14 نومبر/ روشنیوں کا تہوار’’دیوالی‘‘سنیچروار کو پورے جموں کشمیر میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا جس کے دوران وادی کشمیر میں مقیم پنڈتوں،سکھوں،غیر ریاستی ہندوشہریوں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے پٹاخے سر کئے اور آتش بازیوں کا بھرپور مظاہرہ کیا جبکہ اس موقعہ پرمندروں میں پوجا پاٹ کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔ سی این آئی کے مطابق دیوالی کے موقعہ پر وادی کشمیر کے کئی علاقوں میںایک مرتبہ پھرمذہبی بھائی چارے کی روایات کو دہراتے ہوئے مسلمانوں نے ہندئووں کے گھر جاکر انہیں مبارکباد دی اور مٹھائیاں و تحائف تقسیم کئے۔ ہندو عقیدے کے مطابق دیوالی کا تہوار ہندئووں کے اوتار’رام چندرجی‘کی’ بنواس‘ سے 14سال بعد گھر(ایودھیا)واپسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔دیگر ریاستوں اور جموں صوبے کے ساتھ ساتھ دیوالی کے حوالے سے وادی میں رہنے والے ہندو برادری سے وابستہ لوگوں میں انتہائی جوش و خروش نظر آیا اور اب کی باربھی حسب روایات یہ تہوارمذہبی عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔اس سلسلے میں سنیچروار کی شب سے ہی وادی کے مختلف علاقوں بالخصوص سرینگر شہرمیں قائم مندروں میں پوجاپاٹ اور بجن کیرتن کی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوران ہندئووں نے آتش بازیوں کا مظاہرہ اور پٹاخے سر کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اپنے مکانوں و دکانوں پر چراغاں کیا۔ سٹی رپورٹر کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں قائم سیکورٹی فورسز کیمپوں اور چوکیوں پر بھی کل شام ہی چراغاں کیا گیا اور فورسز اہلکار بڑھ چڑھ کر آتش بازیوں کا مظاہرہ کرتے نظر آئے جس کے نتیجے میں پٹاخوں کی گھن گرج رات دیر گئے تک جاری رہی۔ شام کے وقت کئی علاقے ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے جہاں ہندو برادری سے وابستہ افراد نے اپنے مکانوں اور دکانوں کے آس پاس ہزاروں کی تعداد میںچراغ اور موم بتیاں جلا رکھی تھیں اور کئی عمارات پر چراغاں کیا تھا۔ہنومان مندر ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں دیوالی کے حوالے سے بجن کیرتن کی خصوصی محفل سجائی گئی ۔شام ہوتے ہی شہر میں پٹاخوں کی گھن گرج اور آتش بازیوں نے ایک نیا سماں باندھ لیا اور یہ سلسلہ رات دیر گئے تک جاری رہا۔ اُدھرسرحدی قصبہ اوڑی سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ کے ان علاقوں میں دیوالی کے سلسلے میں انتہائی جوش وخروش پایا گیا جہاں ہندو برادری سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔بارہمولہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ کے مین چوک میں واقعہ مندراور شلپتری مندر خانپورہ میں علی الصبح خصوصی تقاریب منعقد ہوئیں جن میں قصبے میں مقیم کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔وہاں بھی پنڈتوں نے اپنی دکانوں اور مندر کے باہر چراغ اور موم بتیاں جلاکر دیوالی منائی اور آتش بازیوں کا مظاہرہ کیا۔اسی طرح کی اطلاعات بڈگام ،گاندربل،اننت ناگ،پلوامہ اور دیگر اضلاع سے بھی موصول ہوئی ہیں جہاں پنڈت برادری کے لوگوںکے ساتھ ساتھ سکھ برادری، غیر ریاستی شہریوں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے مذہبی عقیدت اورجوش و خروش کے ساتھ پٹاخے سر کئے،آتش بازیوں کا مظاہرہ کیا اور مندروں میں بجن کیرتن و پوجا پاٹ کا اہتمام کیا۔بیہامہ گاندربل میں مقامی مسلمان پنڈتوں کے گھر گئے اور دیوالی کی مبارکباد دی۔ وادی کے مختلف اضلاع میں مقیم ان کشمیری پنڈتوں نے بھی دیوالی کا تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا ۔اُدھر جموں سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ دیوالی کے سلسلے میں پورے شہر کو چراغاں سے سجایا گیا تھا اور اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب رگھوناتھ مندر میں منعقد ہوئی۔جموں شہر کے کم و بیش تمام علاقوں میں دیوالی منانے کے لئے لوگ رات دیر گئے تک سڑکوں پر آتش بازیوں کامظاہرہ کرتے رہے اور یہ سلسلہ پورے آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.