ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

وزارت تعمیرات نے 550 غیر ملکی ملازمین کی نوکریاں ختم کرنے اعلان کر دیا
کویت//کویت.

دونوں ریاستوں کے درمیان انٹر سٹی بس سروس بحال کر دی گئی دُبئی/ دُبئی اور شارجہ.

ریاض/سعودی عرب نے تین زمروں سے تعلق رکھنے والے عام افراد اور سرکاری ملازمین.

جھیل ڈل کا’ 200سال پراناتاریخی تیرتاسبزی بازار‘

   55 Views   |      |   Tuesday, September, 29, 2020

صبح کی پہلی کرن پھوٹ پڑتے ہی بیچ ڈل پُررونق کاروباری سرگرمیاں
سری نگر:8،اگست/روشنی کی پہلی کرنیں شب کی تاریکی کو چیرنے کی جدو جہد میں ہی ہوتی ہیں کہ ڈل جھیل کے اندر تازہ اور رنگ برنگی سبزیوں سے لدی کشتیوں کی آمد شروع ہوجاتی ہے۔ چند منٹوں کے اندر ہی جھیل کے اندر ایک مخصوص حصے پر 100 کے قریب کشتیاں جمع ہوجاتی ہیں،جن میں مختلف قسم کی سبزیاں بھری اورلدی ہوئی ہوتی ہیں۔مشہور زمانہ جھیل ڈل میں ہرصبح سجنے والا یہ اپنی نوعیت کامنفردبازار ہے اوراسکی اپنی ایک تاریخ نیزاہمیت بھی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق ڈل جھیل میں اپنی نوعیت کے اس تیرتے سبزی بازارکی رونق تب دوبالاہوجاتی ہے،جب سوج کی پہلی کرن کشتیوں میں لدی سبزیوں پرپڑجاتی ہے۔یہاں پر خرید و فروخت کشتیوں میں گھومتے گھومتے ہی ہوجاتی ہے۔ سرینگر کے مختلف علاقوں سے سبزی فروش صبح سویرے ہی یہاں پہنچ جاتے ہیں تاکہ ڈل جھیل کے ان کسانوں سے سبزی خرید کر مختلف بازاروں میں اچھے منافع کے ساتھ فروخت کرسکیں۔ایک چھوٹے سے حصہ میں کسان اور خریدار کشتیاں لے کر گھومتے ہیں لیکن بھیڑ کے باوجود بھی مجال ہے کہ کوئی کشتی دوسری سے ٹکرائے۔ اس تیرتے بازار کی یہ بھی ایک خاصیت ہے کہ یہاں پر جھیل کے ایک مخصوص خشک اورنیم خشک رقبے میں اگائی جارہی سبزیاں ہی لائی جاتی ہیں۔جھیل کے معروف کسان غلام رسول نے ایک میڈیاادارے کوبتایاکہ کسان صبح چار بجے ہی اپنے کھیتوں میں جاکر سبزی کشتیوں میں لاد کر یہاں پہنچ جاتے ہیں اور یہاں خرید و فروخت کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ مارکیٹ صرف ڈیڑھ سے2گھنٹے تک رہتا ہے اور اس کے بعد یہاں سے کشتیاں بھی غائب اور کشتی بان بھی۔ایک اور کسان عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ یہ سبزی تھوک میں فروخت کی جاتی ہے۔ ان کیمطابق یہ بازار تقریبا200 سال پرانا ہے اور ڈوگرہ دور حکومت میں ڈوگرہ بادشاہ اس سبزی مارکیٹ کا نظارہ کرنے آتے تھے اور تب سے ہی یہ بازار کاروباری مرکز کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ پچھلے ایک سال سے سیاح تو نہیں آتے لیکن اس بازار کی رونق قائم ہے۔ یہ سبزی بازار کب اور کیسے شروع ہوا اس کے بارے میں مختلف کہانیاں ہیں لیکن کہتے ہیں کہ 1960 میں ڈل جھیل کا تیرتا سبزی بازار اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب جاپان کے ایک فوٹو گرافر نے اس بازار کی ایک تصویر کھینچی اور ایک میگزین میں چھاپ دی۔کسانوں کے مطابق اس بار سبزی کی فصل کافی اچھی ہے لیکن کووڈ 19کے چلتے خریداری کم ہے۔ ایک کسان نے بتایا کہ یہاں سے سبزی شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں جاتی تھی لیکن پچھلے2سال سے پہلے سرکاری لاک ڈاون اور اب کووڈ19 کے چلتے انھیں پیداوار کے صحیح دام نہیں مل پاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان کسانوں کے پاس کولڈ اسٹوریج یا دوسری ایسی کوئی سہولت میسر نہیں، لہذا انھیں سبزی خراب ہونے کے اندیشے سے اسی دن بیچنی پڑتی ہے اور شہر کے سبزی بیوپاری اس کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق اس سبزی بازار میں سبزی کا سالانہ کاروبار 45 سے 50 کروڑ تک ہوجاتا ہے۔ سبزی کے علاوہ یہاں کچھ پھل اور پھولوں کے اقسام بھی پیدا ہوتے ہیں اور نارمل حالات میں یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔

متعلقہ خبریں

  ترال/شبیر بٹ بیک ٹو ولیج کے تیسرے مرحلے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے.

وزارت تعمیرات نے 550 غیر ملکی ملازمین کی نوکریاں ختم کرنے اعلان کر دیا
کویت//کویت کی جانب سے لاکھوں تارکین کی ملازمتیں.

دونوں ریاستوں کے درمیان انٹر سٹی بس سروس بحال کر دی گئی دُبئی/ دُبئی اور شارجہ متحدہ عرب امارات کی انتہائی اہم ترین.

ریاض/سعودی عرب نے تین زمروں سے تعلق رکھنے والے عام افراد اور سرکاری ملازمین وحکام کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے.

سرینگر؍26،ستمبر ؍سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا سے مطالبہ کیا.