ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

بیک ٹو ولیج کا پہلا مرحلہ ناکام

   170 Views   |      |   Friday, January, 15, 2021

افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفارہ

جموںوکشمیر انتظامیہ کے تمام تر اقدامات صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود

ماضی کے مالی پیکیجوں کا کیا ہوا؟ ایک ہی انشورنس پالیسی کا اعلان 4بار کیوں ؟:این سی

سرینگر؍17،ستمبر ؍نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کے تعمیر و ترقی ،عوام کی راحت رسانی اور مالی پیکیج کے دعوے صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود ہے جبکہ زمینی سطح پر تمام تر دعوے سراب ثابت ہوجاتے ہیں۔کے این ایس کے مطابق پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انتظامیہ بڑے زو ر شور سے بیک ٹو ولیج پروگرام کی تشہیر کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پروگرام کے پہلے دو مراحل سرے سے ہی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ان مرحلوں کے دوران منظور کئے گئے کاموں کیلئے نہ تو ابھی تک رقومات واگذار کئے گئے اور نہ ہی مجوزہ پروجیکٹوںکا فالو اَپ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بیک ٹو ولیج محض ایک ڈرامہ ہے اور یہ باہری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک حربہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ اب مالی پیکیج کا ڈنڈورہ بھی پیٹنے لگی ہے جبکہ ماضی کی پیکیجوں کا کوئی حساب نہیں۔ نئی دلی نے جموں و کشمیر کیلئے 80ہزار کروڑ پیکیج کا اعلان کیا لیکن زمینی سطح پر ایک پیسہ کا کام بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے جموں وکشمیر سے متعلق پیکیج صرف اعداد و شمار کی ہیرا پھیری ثابت ہوئے ہیں۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ پنچایتی نظام کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جیسے جموں و کشمیر میں پہلے پنچایتی الیکشن ہوئے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی نے جموں وکشمیر میں دکھاوے کیلئے پنچایتی الیکشن کروائے۔ پنچایتی الیکشن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی تک 11,639پنچوں اور 1,011سرپنچوں کی نشستیں خالی پڑی ہیں جبکہ جن نشستوں پر الیکشن کروائے گئے وہاں بھی بیشتر جگہوں پر باہر سے اُمیدوار لائے گئے جنہوں عوام جانتے تک نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے جب جموں و کشمیر میں پنچایتی نظام کی داغ بیل ڈالی اُس وقت پورے برصغیر میں اس قسم کے نظام کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت ہی تھی جس نے یہاں 2011میں 21برس بعد حقیقی معنوں میں پنچایتی الیکشن کروائے جس میں 80فیصد لوگوں نے شرکت کی اور حکومت کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔ بدقسمتی سے پنچایتی راج پر ایسا پروپیگنڈا چلایا جارہاہے کہ جیسے دفعہ370کے خاتمے سے پہلے یہاں ایسا کوئی نظام ہی نہیں تھا۔ این سی ترجمان نے کہا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ میں زبانی جمع خرچ کا رجحان اس قدر وسیع ہوگیا ہے کہ 2018سے یہاں تعینات 4گورنروں نے ایک ہی انشورنس پالیسی کا اعلان 4بار کیا گیا اور ابھی تک ایک بار بھی عملی طور پر اس کا اطلاق عمل میں نہیں لایا گیا۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.