ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

بیکری شعبے کو سال بھر میں300کروڑ کا نقصان

   199 Views   |      |   Saturday, January, 23, 2021

کارخانوں کو جدید ساز و سامان سے لیس کرنے کیلئے رعایت کا مطالبہ

سرینگر؍22،ستمبر ؍حکومت کی جانب سے معاشی پیکیج کے اعلان کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران بیکری سے وابستہ شعبے کو300کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔بیکری کے کاروبار میں گزشتہ3برسوں کے دوران آئی انقلابی تبدیلی سے روزگار کا یہ شعبہ منظم ہوچکا ہے،جس کی وجہ سے اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔ وادی میں بیکری کا کاروبار زائد از500کروڑ روپے کا ہے،جبکہ شہر اور قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بیکری خارخانوں کی تعداد700کے قریب ہے،جن میں سے480راجسٹرڈ(تسلیم شدہ) بھی ہیں۔ بیکری شعبہ قریب10ہزار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے،جبکہ دیگر ہزاروں کو بلاواسطہ بھی اس شعبے سے وابستہ ہے جنہیں روزگار فراہم ہوتا ہے۔ وادی میں جہاں ہر شعبے میں تبدیلی رونما آئی ہیں وہی بیکری شعبہ بھی ان سے پیچھے نہیں رہا،بلکہ دیگر شعبوں کی نسبت دو قدم آگے ہی رہا۔ گزشتہ3برسوں کے دوران وادی میں جہاں اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنے خارخانوں کو لیس کیا،وہی بیکری تیار کرنے کیلئے جدید ساز و سامان اور مشینری کو بھی نصب کیا۔خارخانوں کو جاذوب نظر بنانے کے علاوہ حفظان صحت کے حوالے سے موثر طریقے پر تیار کیا گیا اور ان خارخانوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بھی جدید طرز کے ساز و سامان کا استعمال لایا گیا۔ مورثی بیکری تاجر ہو یا اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجر،دونوں طبقوں کی آواز گزشتہ3برسوں میں پہلی بار با اثر طریقے سے حکام اور انتظامیہ کے سامنے پیش ہوچکی ہے،اور ترجیجی بنیادوں پر انکے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں۔بیکری ایسو سی ایشن کا قیام یوں تو1970کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ہے تاہم2018کے بعد اس کو ایک نئی آواز اور سمت ملی،جبکہ ایسو سی ایشن نے با ضابطہ طور پر اپنا دفتر بھی قائم کیا،اور آئین کو بھی ترتیب دیا گیا۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر عمر مختار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں سے انہیں کم از کم اس بات سے نجات ملی کہ اب ہر کوئی محکمہ ان کے دکانات اور کارخانہ جات پر نمودار ہوکر انہیں تنگ و طلب اور ہراساں نہیں کرتا،بلکہ قوانین کے تحت محکمہ ناپ تول اور فوڑ سیفٹی اینڈ اسٹنڈاڈس اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کو اب اس کا اختیار ہے،جس کی وجہ سے بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے نامساعد صورتحال کی وجہ سے جہاں اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،وہی روزگار کی فراہمی میں بھی50فیصد کمی واقع ہوئی۔ عمر حیات کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران انہیں قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ ہے اور بیکری کارخانوں اور دکانوں کو نقصانات لگاتار برداشت کرنے پڑے۔کشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرئز ایسو سی ایشن کے صدر کامزید کہنا ہے کہ موجودہ لاک ڈاون کے نتیجے میں بھی انہیں نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالابہ کیا کہ بیکری شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کیلئے حکومت رعایتی قیمتوں پر مشینری فراہم کریں۔عمر حیات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے کافی عرصے سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیکری شعبے کیلئے ایک علیحدہ فوڑ پارک کا قیام عمل میں لایا جائے،جوبیکری کاروبارسے ہی وابستہ لوگ کیلئے مخصوص ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا دور میں بھی اس شعبے سے وابستہ انجمن نے لاکھوں روپے مالیت کے حفاظتی پوشاک،سینی ٹایزار اور ماسکیں انتظامیہ کو فراہم کی،جبجکہ کویڈ ٹیسٹ کرانے میں بھی پیش پیش رہیں۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ معیشی پیکیج میں بیکری شعبے کو نہیں لایاق گیا،جبکہ انہوں نے اس شعبے کی بحاقلی کیلئے علیحدہ پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

تحریر: رشید پروین ؔسوپور سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر.

بہ گلشن بدرنی چھس پننہ تہ پننہ انجمن گلشن کلچرل فورم کشمیرکین تمام ارکانن ہندہ طرفہ کشیر ہندین سرکردہ تہ نمایندہ.

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور.

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
قوم کے غم.

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی نشست بزم فریاد منعقد ہوئ۔ کئ مہینوں کے.