ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

کورونا پہلے سے زیادہ سنگین ، کئی ممالک میں لاک ڈاون کا نفاذ     سرینگر//.

ڈاکٹرفاروق عبداللہ سمیت دوسرے بیماروں کی جلدصحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی.

ہائی اسکول لاجورہ پلوامہ کے 14طلباء نے ڈسٹنکشنز حاصل کیں پلوامہ/تنہا ایاز/.

اپنے بچے کو سہارا دیجئے

   9 Views   |      |   Thursday, April, 15, 2021

اپنے بچے کو سہارا دیجئے

تحریر : ڈاکٹر نذیر مشتاق

بچوں اور والدین کی سوچ اوربرتائو میں موجود خلیج سے پیدا ہونے والے Child depression کے مسئلے سے کیسے نمٹا جاسکتاہے ۔ کچھ ایسے نکتے ضرور ہیں، جن پر عمل کرکے ہم اپنے بچے یا بچو ں کو نہ صرف زندگی میں کامیابیوں سے ہمکنار کروانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں بلکہ انہیں نفسیاتی طور زیادہ تندرست اور توانا شخصیت عطا کرسکتے ہیں۔
٭جب بھی آپ کے بچہ کو کسی ’’ناکامی ‘‘ کا سامنا ہوتوبناسوچے سمجھے اس کا ذمہ دار مت ٹھہرائیے ، اسے مارنے ، جھڑکنے ، طعنہ دینے سے احتراز کریں۔ اس پر بددعائوں اور گالیوں کی بوجھاڑ نہ کریں۔ اس کے سامنے اپنا غصہ ظاہر نہ کریں(خاص کر گھر کے کسی فرد یا کسی اجنبی کے سامنے) ۔ صبر سے کام لیجئے ، خاموشی اختیار کریں اور سوچیں ’’آپ کا بچہ ابھی ایک ’’شناخت‘‘ بنانے کی کوشش کررہاہے۔ اور اس نازک موڑ پر اسکی تذلیل کرکے اس کی شخصیت پر انتہائی مضر اثرات ڈالنے کی بجائے ، اس کی ناکامی کے اسباب وعوامل کا بغور جائزہ لیں اور اسے سہارا دیں تاکہ وہ ناکامی کا غیر متوقع بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا سکے اور ہاں یہ ضرور دیکھیں کہ کہیں اس کی ناکامی کی وجہ والدین کی کوتاہی اور عدم توجہی ہی تو نہیں مثلاً اگر آپ کا بچہ امتحان میں توقع سے کہیں کم نمبرات حاصل کرتاہے تو اور وجوہات جاننے کے علاوہ اپنے آپ سے بھی پوچھیں کہ سال بھر آپ نے اس کی پڑھائی میں کتنی مدد کی ہے ؟ آپ کے بچے نے ناکامی کا منھ دیکھا ہے،اس لئے وہ گم صم اور اُداس ہوگا وہ خاموش رہے گا ۔ اسے بولنے کیلئے مجبور نہ کریں ، انتظار کریں وہ خود بولے گا اور جب وہ بولنے لگے تو اُسے اپنی ناکامی کے محرکات وجوہات اور احساسات پر تفصیل سے اظہار رائے کا موقع دیجئے ۔ اس کی ناکامی پر اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہ کریں ۔ بسا اوقات بچے کی ناکامی کے وجوہات کے بارے میں والدین خود اپنے احساسات کی چکّی میں پسنے لگتے ہیں اور وہ بچے کی طرف خاص توجہ دینے کی بجائے اپنے احساس کے دائرے کے اِرد گرد چکر لگانے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور وہ بچے کا سہارابننے کی بجائے اپنے لئے سہارے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ذرا سوچئے ، ناکامی کوئی بھی ہو کہیں بھی ہو ، بہرحال عارضی ہوتی ہے ۔ زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر ناکامی کا سامنا کرنا ہی پڑتاہے اور ناکامی ہی انسان کو مستحکم بنیادوں پر سوچنے کے لئے مجبور کرتی ہے ۔ آپ مثبت انداز میں سوچئے اور اپنی سوچ کا ساز اپنے بچے کی سوچ کی آواز کے ساتھ ملا کر ایک ایسا حسین گیت چھیڑئیے کہ آپ کا بچہ اپنی ناکامی کو آئندہ کامیابیو ں کے لئے ایک مضبوط بنیاد بنانے میں کامیاب ہو…چند روز بعد کسی حسین شام کو اپنے لختِ جگر کے ساتھ بیٹھئے اور اِدھراُدھر کی باتیں چھیڑنے کے بعد اپنی زندگی میں کسی ناکامی کا سامنا کرنے کا واقعہ اپنے بچے کے سامنے تفصیل سے بیان کیجئے …… آپ کی ناکامی کا واقعہ سن کر اُسے یک گونہ سکون ملے گا اور وہ سوچے گا کہ’’صرف ایک وہ نہیں جو ناکام ہو اہے، اس کے والدین بھی کبھی ناکامی کا منھ دیکھ چکے ہیں‘‘۔ اس طرح وہ اپنی ناکامی کو ایک چیلنج کی صورت میں قبول کرے گا اور دوبارہ کامیابی کو اپنی منزل بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا ۔
٭جب بھی وقت ملے ، اپنے بچے کو سمجھائیں کہ غلطی ہر انسانی سے ہوتی ہے اور انسان غلطیوں ہی سے سیکھتاہے ،مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قدم پر ، ہر روز غلطیاں ہوں…اسے سمجھائیں کہ معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر بڑی بڑی غلطیاں کرنا زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں اور پھر اس کی غلطیوں پر نظر رکھیں اور سمجھنے پرکھنے کی کوشش کریں کہ اس سے وہ غلطی کیوں سرزد ہوئی ۔ مثلاً آپ کے بچے نے گھر میں رکھی ہوئی دوائی کی ساری بوتل حلق سے اُتار ی ہے ۔یہ ایک غلطی ہے ، اس سے بچے کی زندگی پر نہ سہی صحت پر مضر اثرات پڑ سکتے ہیں …ایسی حالت میں بچے کو طعنہ دینا اور اس پر غصہ ہونا کہ اس نے ایسی حماقت کیوں کی اور اسے نالائق ، احمق ، بے وقوف ، پاگل وغیرہ جیسے الفاظ سے نوازنا والدین کی بھی غلطی ہے ۔سوال یہ ہے کہ اس نے وہ دوائی کی پوری بوتل حلق سے کیوں اُتاری …کیا وہ کسی عمل کا ردّعمل تھایا وہ ماں باپ کی توجہ چاہتا ہے…یعنی اس عمل سے وہ کوئی ایسی بات والدین تک پہنچانا چاہتاہے جس سے وہ دونوں بے خبر ہیں…بسا اوقات ایسا عمل ایک ’’وارننگ‘‘ ہوتی ہے اور والدین کو بچے کی اِس وارننگ کو فوری طور سمجھنا چاہئے اور بچے کے ساتھ مل کر ’’کسی خاص مسئلہ‘‘ کا حل ڈھونڈنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے ۔ اس لئے اپنے بچے کی ہر بات دھیان سے سنئے، اگر اس کی آنکھوں میں اُداسی اور مایوسی کے سائے لہرارہے ہیں تو ان کی وجہ تلاش کیجئے نہ کہ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تلاش کریں…اس کے دل کو کرید یئے اور اگر وہ رو پڑے تو اپنے مضبوط کاندھے کا سہار اپیش کریں اور پیارسے اس کے آنسو پونچھ کر اسے سینے سے لگائیے اور پھر دونوں (ماں باپ) مل کر اس کے مسائل کا حل تلاش کریں ۔
آپ کا بچہ ایک الگ ہرخاص اور منفرد شخصیت کا مالک ہے اسے اپنی شخصیت کو سنوارنے نکھارنے دیجئے ، اسے ہمیشہ خاص اور دوسروں سے ’’جداگانہ‘‘ہی رہنے دیجئے ، کسی بھی وقت ،کسی بھی صورت میں اس کا موازنہ کسی اور بچے سے نہ کریں ۔ حتیٰ کہ اپنے ہی گھر میں بھی اُس کا موازنہ اپنے بہن بھائیوں سے بھی نہ کریں ۔ یا د رکھیں ’’ہر ذرّہ اپنی جگہ آفتاب ہوتاہے‘‘۔ہربچہ اپنی شخصیت کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنا چاہتاہے ، اس لئے اپنے بچے کی شخصیت کو پہچانئے اور اسی طرح اس کے ساتھ سلوک کیجئے ،جس طرح وہ چاہتا ہو اور جو اس شخصیت کے لئے مناسب وموزوں ہو …اگر آپ کے دو بچے ہیں ، ایک تعلیمی میدان میں آگے ہے اور دوسرا آرٹ کے میدان میں دلچسپی لے رہاہے …یہ کہنا بچے کے لئے سِم قاتل ہے کہ ’’تمہارا بھائی ہر امتحان میں اوّل آتاہے اور تم کاغذ پر ٹیڑھی شکلیں بنا کر وقت ضائع کررہے ہو…اپنے بچے کے سامنے ایسے الفاظ کہنے سے پہلے سوچئے کہ کہیں آپ آنے والے کل کے ایک بہترین اور نامور آرٹسٹ کا گلا اپنے ہی ہاتھوں سے تو گھونٹ نہیں رہے ہیں ۔
٭اپنے بچے کی قابلیت کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے اُس پر اعتماد کیجئے ۔ جب ایک بچہ اپنے والدین کی آنکھوں میں اپنے لئے اعتماد کی لہریں دیکھتاہے تو وہ زندگی میں کسی اونچے مقام پر پہنچنے کا عہد کرتاہے اور اس کے دل ودماغ میں ’’میں کچھ کرسکتاہوں‘‘ روّیہ زندہ ہونے لگتاہے ۔
٭جب بھی آپ کا بچہ کامیابی کا کوئی جھنڈا گاڑتاہے یا کوئی ’’کارنامہ‘‘انجام دیتاہے تو دل کھول کر اس کی تعریف کیجئے اس کے لئے شاباش ’’مرحبا، آفرین ، کیپ اِٹ اَپ ول ڈن‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کریں اور اگر وہ کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے تو بھی اسکی حوصلہ افزائی کریں اور اس کی نکتہ چینی نہ کریں ، اسے طعنہ نہ دیں اورناراضگی کا اظہار نہ کریں ۔ کبھی بھی اس سے یہ مت کہئے’’تم نکمے نالائق ہو، تم کچھ نہیں کرسکتے…تم سے کوئی امید رکھنا فضول ہے …‘‘کبھی اپنے منفی خیالات کا اظہار نہ کریں بلکہ اسے شاباشی دیں ،حوصلہ دیں ، تاکہ وہ آئندہ ’’کارنامہ ‘‘انجام دے سکے ۔
٭آ پ کا بچہ ہر پل ،ہرلمحہ آپ کی محبت ، چاہت اور توجہ کا طلبگار ہوتاہے ، وہ ہمیشہ آپکی آنکھوں کا تارا بنا رہنا چاہتاہے ۔ اس لئے جب بھی آپ اپنے بچے کے ساتھ ’’کچھ‘‘ کررہے ہوں تو یہ ضروری ہے کہ آپ کے بچے کو پوری طرح احساس ہو کہ آپ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس کے ساتھ ہیں۔ اسے وہ ہر وقت محسوس کرسکتاہے کہ آپ جسمانی اور ذہنی طور اس کے ساتھ ہیں…آپ اس بات کا خیال رکھئے کہ آپ کم سے کم وقت میں اسے زیادہ سے زیادہ کیا دے سکتے ہیں…اگر آپ اپنے بچے کے ساتھ شام کے وقت آدھ گھنٹہ گذارنا چاہتے ہیں تو اس وقت اپنی ساری مصروفیات اپنے سارے دُکھ در د اور اپنی ساری پریشانیاں بھول کر اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کریں تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ آپ کے لئے کتنا اہم اور غیر معمولی ہے ۔ بچے کے ساتھ گفتگو کرتے وقت کبھی بھی چہرے سے بیزاری کے تاثرات نمایاں نہ کریں…ایسے میں بچہ آپ کے ساتھ کھل کر بات نہیں کرسکتا ۔ کوشش کریں جب آپ کا بچہ آپ کو کچھ بتانے کی کوشش کر رہا ہو تو اس کی بات نہ کاٹیں ، اسے کھل کر بات کرنے دیں خود کم بولیں اس کی بات زیادہ سنیں۔
٭ دن کے اختتام پر ، اپنے بچے کے ساتھ دن کے معاملات پر بحث کریں ۔ اس نے دن بھر جو کچھ کیا ہو (چاہے اچھا یا بُرا) اس کے بارے میں غور سے سنیں اور وہ خاموش ہی رہنا چاہتا ہو تو اسے مجبور نہ کریں ، ہاں اگر آپ کو شک ہو تو دوسرے دن اسکول جاکر حالات وواقعات کا پتہ لگائیں مگر اسے اسکی خبر نہ ہونے دیں ۔ اگر آپ اس کے اسکول کی کارکردگی رپورٹ اور اس کے روّیہ سے مطمئن نہیں ہیں تو ایسے میں اس پر مزیدتوجہ دینے ،اس کی باتیں سننے اور اس کی جائز خواہشات پوری کرنے کی اَشد ضرورت ہے۔
٭سونے سے پہلے اپنے بچے کو کوئی اخلاقی کہانی ضرور سنائیے اور اگر وہ خود پڑھنا چاہتا ہو تواُسے پڑھنے کی اجازت دیں ۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں کو سونے سے قبل اخلاقی کہانیاں سنانے سے ان کی شخصیت نکھرتی ہے اور ان کا لاشعور صاف ستھرا اور پاکیزہ رہتاہے۔
٭اپنے بچے سے اس کی عمر اور ذہنی قوت کے مطابق ہی توقعات وابستہ کیجئے ، اگر آپ کی توقعات اور اُمیدیں بہت کم ہیں تو آپ کا بچہ احساس کمتری کا شکار ہو سکتاہے اور اگر توقعات (جو آپ اس کے سامنے بیان کر رہے ہیں) حد سے زیادہ ہوں تو وہ احساس برتری کا شکار ہوسکتاہے یا وہ آپ کے توقعات پر پورا نہ اُترنے کی صورت میں ڈپریشن میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔ ضروری نہیں جو صفات یا خوبیاں آپ اپنے بچے میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس میں ہوں اور یہ بھی ضروری نہیں اگر آپ کسی چیز میں مہارت حاصل کرچکے ہیں تو بچہ بھی ایسا ہوگا ۔
اگر آپ اپنے تعلیمی میدان میں اوّل نمبر کے کھلاڑی رہ چکے ہیں تو یہ اُمیدمت رکھیں کہ آپ کا بچہ بھی اتنا ہی ذہین ہونا چاہئے جتنا آپ تھے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے کاموں میں آپ سے زیادہ مہارت رکھتا ہو ، اسے انفرادی طور ، اپنی سوچ کے مطابق آزادانہ طور کام کرنے کاموقع دیں اور اس کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں اس میں جوش او رلگن پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ مستقبل میں جس میدان میں جائے وہاں وہ کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔
٭اپنے بچے سے کبھی یہ توقع نہ کریں کہ وہ بڑوں کی طرح سوچے ، سمجھے اور محسوس کرے ، ہر وقت اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ وہ ابھی بچہ ہے ۔ بحیثیت والدین آپ صرف نگہبان ہیں اور آپ بچے کے لئے حدود مقرر کرتے ہیں کہ کب وہ بڑوں کی طرح سوچے سمجھے اور محسوس کرے ۔
٭جب بھی آ پ اپنے بچے کو کچھ سمجھانا چاہیں تو اسے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے آگاہ کریں ، اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت بچے کے تاثرات پر بھی نظر رکھیں ۔ اس کی غلطیوں اور خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت پہلوئوں کو مدنظر رکھیں ۔
اپنے بچے کی ’’آزادی‘‘کو سمجھیں ۔ ہمارے ہاں ماں باپ بچوں کے بہت قریب ہوتے ہیں اور اکثر یہ بھول جاتے ہیں جیسے جیسے بچے زندگی کے ایام گذارتے ،بڑے ہوجاتے ہیں ، ان کی زندگی میں تبدیلیاں آتی ہیں ، وہ آزادی چاہتے ہیں ، وہ نئے نئے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں اور اُن کے میل ملاپ میں اضافہ ہوتاہے ،ایسے حالات میں والدین بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ۔ بچوں کو دوستانہ انداز میں معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں سے آگاہ کرتے ہیں ، ان کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں معاشرے کے ذمہ دار افراد بنانے کی کوششیں کرتے ہیں ۔ بچے کی جسمانی اور ذہنی نشونما کے لئے آزادی بے حد ضروری ہے لیکن بچے کو ’’آزادی ‘‘دینے سے پہلے اسے لفظ آزادی کا مطلب سمجھانا، بھی ضروری ہے ۔ آپ کو اپنے بچے کی آزادی سلب کرنے کا حق تو نہیں مگر یہ حق ضرور ہے کہ آپ جان لیں کہ آپ کا بچہ آزادی کے میدان میں کون سا کھیل ،کھیل رہاہے ۔
٭اپنے بچے سے توقعات اور اُمیدیں کم کریں ۔ اپنے بچے کا دل جیتنے کے لئے اور مثالی ماں باپ بننے کے لئے اُس کے قریب ،اس کے دوست بنے رہیں ۔ اس کی ناکامیوں اور کامیابیوں میں اس کا ساتھ دیں،اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذاریں اور اس کے مسائل میں ہر وقت دلچسپی کا اظہار کریں ۔اُسے ہر پل یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ وہ آپ کی آنکھوں کا نور ہے اور کبھی بھی اس کی نکتہ چینی نہ کریں بلکہ ایک ہمدرد ہمراز ، دوست اور غمخواربن کر ، زندگی کے ہر قدم پر اس کا ساتھ دیں تاکہ وہ آپ کو آئیڈیل ماں/باپ سمجھ کر آپ کے جائز احکام کی پیروی کرے اور آپ کے سپنوں کو پورا کرے، آپ کا نام روشن کرے اور اپنے معاشرہ کے لئے ایک ایسا فرد بنے جس پر جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے۔
ماں اپنے بچے کو لوری ضرورسنائے
سمجھ دار اور ذہین مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو ہر رات لوری سناتی ہیں ۔ شاید وہ جانتی ہیں کہ لوری سنانے سے نوزائیدہ بچے کی ذہنی صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں اور لوری سنتے سنتے وہ گہری اور میٹھی نیند کی باہوں میں جھولنے لگتاہے ۔ ایک تازہ ترین تحقیق سے ماہرین امراض اطفال نے ثابت کیاہے کہ موسیقی ، انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں بستری نوزائیدہ بچوں کی ذہنی صحت پر مثبت گہرے اور دُور دَرس اثرات مرتب کرتی ہے ۔ موسیقی یا لوری سننے کے بعد نوزائیدہ بچے بالکل کم چیختے چلاتے ہیں اور ان کی بے چینی میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ تین برس تک جاری ایک تحقیق میں چالیس نوزائیدہ بچوں کو شامل کیا گیا ۔ انہیں نوزائیدہ یونٹوں میں رکھ کر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ گروپ اے میں شامل نوزائیدہ بچوں کو اسپتال میں میوزک تھراپی دی گئی ۔دوسرے گرو پ کو میوزک تھراپی نہیں دی گئی اور تیسرے گروپ کو اسپتال کی بجائے ان کے گھروں میں والدین کی نگہداشت میں بغیر میوزک تھراپی کے رکھا گیا۔ ڈاکٹر کیرول نیون ہیم (ماہرنفسیات ) نے ان نوزائیدہ بچوں کی نفسیاتی آزمائشیں انجام دیں اور ثابت کیا کہ جن بچوں کو میوزک تھراپی دی گئی ان میں اضطراب اور چیخنا چلانا اسی درجہ پر رہا جس دن سے وہ اسپتال میں بھرتی ہوئے تھے یعنی اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ جن بچوں کو میوزک تھراپی بالکل نہیں دی گئی ان کی بے چینی اور چیخوں میں خاصا اضافہ ہوا …اور جن بچوں کو گھروں میں والدین کی نگرانی میں رکھا گیا ان میں سے ان بچوں کے ذہنوں پر مرتب اثرات نمایاں تھے جن کی مائوں نے اپنے بچوں کو میوزک کی بجائے لوریاں سنائی تھیں ۔ جن بچوں کو میوزک تھراپی یا سننے کو لوری نہیں ملی انہیں صحت مند ہونے میں زیادہ دیر لگی اور ان کے اجسام میں زیادہ توانائی کا استعمال ہوا۔اگر ایک نوزائیدہ بچہ بے چینی کا شکار نہیں اور کم چیختا چلاتا ہے تو اسکے صحت مند ہونے میں کم وقت لگتاہے ۔او ر اسکا وزن بھی تیزی سے بڑھنے لگتاہے ۔ اسلئے اب ڈاکٹر سوچ رہے ہیں کہ وہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں خاص قسم کی موسیقی کا انتظام کریں گے تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پرمثبت اثرات پڑیں ۔ ماہرین نفسیات کی رائے ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کوسونے سے پہلے لوری سناتی رہے تاکہ بچے کی ذہنی صحت پر صحت مند اثرات مرتب ہوں ۔ اسلئے اگر آپ ماں بن چکی ہیں تو لوری گانے کی مشق شروع کریں اور پھر اپنے نوزائیدہ بچے کو ہر رات سونے سے قبل اپنی مدُھر آواز میں کوئی مدُھر گیت سنائیں اور دیکھیں کہ نتاثج کیا نکلتے ہیں ۔
����

متعلقہ خبریں

سبزار احمد بٹ ۔۔۔اویل نورآباد شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

تحریر: عابد حسین راتھر جب سے کائنات وجود میں آئی ہے اور انسان اس کائنات میں ارتقاء پذیر ہوا تب سے بہت سارے اقوام.

افسانہ نگار: ملک منظور قصبہ کھُل کولگام
رحمان اور اس کی بیوی شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتے تھے ۔کام کاج نہ ملنے.

اداریہ پچھلے دنوں حکومت کی جانب سے کرایہ میں 19فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ ایسے تو لگتا ہے کہ صرف ایک.

مارچ کے آخر تک گُل پوری طرح سے کھلیں گے جس کا نظارہ ہزاروں مقامی و غیر مقامی کرسکیں گے سرینگر/جموں کشمیر کی گرمائی.