ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی.

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ.

انتظامیہ کامحرم جلو سوں پر پابندی کا فیصلہ یکطرفہ

   76 Views   |      |   Monday, October, 26, 2020

جلوسوں کو بند کرنے کے اعلانات سمجھ سے باہر، کوئی مذہبی اور اخلاقی جواز نہیں تھا: انصاری

سرینگر؍3،ستمبر ؍جموں وکشمیر اتحادالمسلمین کے رہنمامسرور عباس انصاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے رواں برس یکطرفہ فیصلہ کرکے محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کردی ۔کے این ایس کے مطابق ایوان صحافت کشمیر (کشمیر پریس کلب) میں جموں وکشمیر اتحادالمسلمین کے رہنمامسرور عباس انصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں بتایا کہ ماضی کے حالات گواہ ہیں کہ محرم الحرام شروع ہونے سے پہلے ہی ریاستی انتظامیہ اپنے متعلقہ اداروں اور شیعہ فرقے سے وابستہ تمام تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس بلاتی رہی ہے لیکن اس سال کروناوبا کے پیش نظر انتظامیہ نے یہ اجلاس بلانے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اور یکطرفہ طور فیصلہ لیا کہ وہ محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کررہی ہے، حالانکہ جموں وکشمیر اتحادلمسلمین نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ محرم کے عزاداری کے بڑے اور مرکزی مجالس اور جلوس اگرچہ اس سال منسوخ کئے جائیں گے لیکن مقامی سطح کے چھوٹے چھوٹے جلوس اور مجالس بند نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اس بارے میںدنیائے شیعت کے معتد د مجتہدین کرام نے پہلے ہی حکم جاری کیا تھا کہ اگر جلوسوں کے دوران متعلقہ(ایس او پیز) کا خیال رکھا جائے تو جلوس اور مجالس بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا’ ہم نے 6محرم کو عجلت میں بلائی گئی صوبائی کمشنر اور دیگرسرکاری میٹنگوں میں بھی اس بات کو واضح کیا کہ عزاداری کے یہ مقامی جلوس بند نہیں ہونگے لیکن طبی ماہرین کے مشورے پر عمل کرکے(ایس او پیز) کا خیال رکھا جائے گا۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کی چند مذہبی جماعتوں نے اپنے بیانات کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ عزاداری کے جلوس نہیں نکالے جائیں گے جس کا اظہار ان جماعتوں کے ذمہ داروں نے ذرائع ابلاغ ، سوشل میڈیا اور اشتہارات چھپواکر کیااور اس طرح ان جماعتوں نے ایک طرف امام حسین ؑ کے تئیں مسلمانوں کی جذبات و محبت کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف حکومت کی ان پالیسیوں کی تائید کی جن کے تحت وہ یہاں عزادری کے جلوسوں اور مجالس کو کسی نہ کسی بہانے بند کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے‘۔مسرور عباس انصاری نے کہا کہ انتظامیہ نے گذشتہ تیس(30) برسوں سے کشمیر میں آٹھ (8) محر م اور عاشورہ کے تاریخی جلوسوں پر بلا جواز پابندی کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں مختلف ادوار میں مختلف بہانے تراشے جاتے ہیں، کبھی ملٹینسی، کبھی یہاں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہونے اور کبھی ٹریفک بند ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ حالانکہ حکومت امر ناتھ یاترا اور دیگر مذہبی و سیاسی پروگراموں کو باضابطہ تحفظ فراہم کررہی ہے اور ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کشمیر میں ہر طرح کی سرگرمیوں کی اجازت تو ہے مگر محرم الحرام کے عزاداری کے خالصتاً مذہبی جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ جب یہاں کے عوام اور ہمارے نوجوانوں نے اس برس مجتہدین کرام اور طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق SOP’s کا خیال رکھتے ہوئے پرامن طور عزاداری کے جلوس نکالے تو ان پر طاقت کا بے تحاشہ اور وحشیانہ استعمال کیا گیا۔ ٹئیر گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے ذریعے سینکڑوں عزاداروں کو شدید زخمی کیا گیا جن میں کچھ نوجوانوں کی حالت نازک ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ انتظامیہ بیان بازی کررہی ہے کہ کرونا وبا سے بچانے کیلئے ایسا کیا جارہا ہے جو کہ سراسر جھوٹ، من گھڑت، عوام کُش اور حد درجہ قابل مذمت ہے۔جموںوکشمیر اتحادالمسلمین واضح کرنا چاہتی ہے کہ آٹھ (8) اور دس (10) محرم کے جلوسوں پر حکومتی پابندی بلا جواز اور ہماری مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی طاقت عزاداری کے جلوسوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی اور حالات جیسے بھی ہوں تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ جلوس برآمد ہوتے رہینگے۔ عزاداروں پرطاقت کا استعمال، پلیٹ گن اور لاٹھی چارج جیسے آمرانہ حربے ہر لحاظ سے قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے جن کی تحقیقات ہونی چاہئے اور جن عزاداروں کو بلا وجہ حراست میں رکھا گیا یا ان پر ایکٹ عائد کئے گئے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کو فوری طور رہا کیا جائے اور ان مراسم میں شمولیت پر لوگوں کو ہراسان اور تنگ طلب کرنے کی کاروائیاں بند کی جائیں۔ اتحادالمسلمین واضح کرتی ہے کہ عزاداری کے جلوس اور مجالس کے سلسلے میں ہمارے متعدد مجتہدین کرام اور طبی ماہرین کی وضع کردہ ہر بات پرعمل پیرا ہوکر اور(ایس او پیز) کا خیال رکھ کر یہ پرامن جلوس نکالے جاسکتے تھے اور اس ضمن میں کشمیر کی چند مذہبی جماعتوں کے بیانات اور جلوسوں کو بند کرنے کے اعلانات سمجھ سے باہر ہیں اور ان کا کوئی مذہبی اور اخلاقی جواز نہیں تھا اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں عوام میں ایک انتشاری کیفیت پیدا ہوئی وہاں حکومت کو بھی ایک بہانہ میسر کیا گیا کہ وہ جلوسوں پر پابندی عائد کردے اورعزاداروں کے خلاف طاقت اور تشدد کے استعمال کو ایک طرح سے جواز عطا کیا گیا۔ اتحادالمسلمین قوم سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے حلقوں میں اتحاد قائم رکھیں اور شر پسند عناصر اور عزاداری کے خلاف کئے جارہے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں۔ امام حسین ؑ سے عقیدت اور مودت کا اظہار ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس جذبے کو کسی بھی صورت میں کم کرنے اور عزاداری کو محدود کرنے کی کوششوں کا بہرصورت مقابلہ کیا جائے گا۔ ہم یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ لوگ آیندہ ایام میں منعقد ہونے والی مجالس کے دوران مجتہدین اور مراجع کرام کے احکامات کومدنظر رکھیں۔ ساتھ ہی ہم انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پلیٹ متاثرین کے بہتر علاج کو یقینی بنائے اور غیور عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ افراد کی ہر طرح سے مدد اور تعاون کریں۔ ہم ملت کے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام اور اسلامی شعائر کے خلاف ہورہی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے آگے آئیں اور ملتِ اسلامیہ کے صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔

متعلقہ خبریں

محبوبہ مفتی کو ملک سے بغاوت کرنے کی پادائش میں فوری طورپر گرفتار کیا جانا چاہئے /رویندر رینا
سرینگر24//اکتوبر///.

محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی بولی بول رہی ہیں۔ پیپلز الائنس کی کوئی عوامی اہمیت نہیں ہے /مرکزی وزیر جتندر سنگھ

عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ترنگا ریلی نکال کر بھاجپا نے کی ترنگے کی توہین:محبوبہ مفتی سرینگر؍24، اکتوبر ؍ ؍ پی.

تنظیمی ڈھانچہ تشکیل ،ڈاکٹر فاروق سربراہ ،سجاد غنی لون ترجمان مقرر ، جموں وکشمیرکا پرچم اتحاد کی علامت ہوگا
عوامی.

افسر شاہی لوگوں کیلئے وبال جان ، انتظامیہ کا زمینی سطح پر کوئی نام و نشان نہیں: ساگر
سرینگر؍23، اکتوبر ؍ ؍ جموں.