ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

افسانہ     لــت

   27 Views   |      |   Sunday, January, 24, 2021

افسانہ     لــت

افسانہ نگار: شائستہ مبارک بخاری
آروہ۔ بیروہ بڑگام
پچھلے دو گھنٹوں سے وہ مسلسل اسکو منانے کی کوشش میں لگی تھی لیکن کمبخت اسے اس قدر روٹھ چکی تھی کہ ایک لمحے کے لیے بھی اسکی آنکھوں کی اور رخ کرنے سے قاصر تھی۔
آج ماہین عشائیہ کے فوراََ بعد ہی جلدی سونے کی غرض سے کمرے میں داخل ہوئی لیکن سیل فون پر مختلف سوشیل میڑیا ایکنوٹس چیک کرتے کرتے اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ پورے دو گھنٹے سکرین کی نظر کر چکی ہے۔شاید اسے اب بھی ہوش نہیں رہتا اگر امی کمرے میں آ کر اسے نا ٹوکتی۔۔۔۔” تم ابھی تک سوئی نہیں ؟توبہ توبہ ! کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ جلدج سویا کر ، تبھی دیر سے جاگنے کی یہ منحوس عادت تمہارا پیچھا چھوڑے گی لگتا ہے سسرال میں بھی میرا نام خوب روشن۔کرنے کا ارادہ ہے”
“امی…! بس سونے ہی والی ہوں ۔کچھ امپورٹنٹ میسیجز چیک کر رہی تھی”۔
“ہاں ہاں پورا دن۔تو تمہارا امپورٹنٹ میسیجز چیک کرنے۔میں ہی گزر جاتا ہے۔۔۔جب دیکھو موبائیل پر ہی مصروف نظر آتی ہو۔”
“امی بس بھی کریں ۔۔آپ نا پھر۔شروع ہی ہوجاتی ہے”
“دیکھو ماہین میں تمہاری دشمن نہیں ہوں ۔تمہارے بھلے کے۔لیے ہی کہتی۔ہوں ۔۔زرا اپنی آنکھوں کے گرد ہلکوں پر نظر ڈالو۔۔باقی تو تسلی ہے کم ازکم اپنی صحت کا تو خیال کرو۔۔”
جہاں ماہین کو ایک طرف امی۔کی۔کڑوی باتوں۔پر غصہ آرہا تھا۔وہی اسے شدت سے شرمندگی بھی۔محسوس ہورہی تھی کیونکہ پہلے بھی وہ کئی بار امی اور خود سے وعدہ کر چکی تھی کہ دوبارہ شکایت کا موقعہ نہیں دے گی اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے سارے کام اپنے وقت پر مکمل کر کے پھر سے پہلے کی طرح امی کی مس لاڑلی کا لقب اپنے نام کر کے رہے گی۔۔لیکن افسوس وہ اپنے ساتھ کیئے ان۔وعدوں کو نبھانے میں ہمشیہ ناکام رہی…،،
آج۔بھی۔وہی ہوا۔اسنے فون محض یہ سوچ کر ہاتھ میں لیا تھا کہ بند کرکے سوجائے گی لیکن سکرین پر پیلی رنگ کی چند چمکتی ہوئی میسج نوٹیفکیشنز نے اسے ان کو چیک کرنے کے۔لئے اکسایا کہ شاید کوئی اہم۔پیغام ہو۔۔۔چیک کرتے کرتے اس نے سوچا رپلائی بھی کرتی چلوں وقت ہی کتنا لگےگا اور یوں ہے ,hi ,hello,hmmm,اورokz۔۔۔نما بے مقصد گفتگو کرتے کرتے وہ اپنا خاصا وقت گنوا چکی تھی ۔وٹس ایپ سے۔نکل کر پھراس نے فیسبک کا رخ کیا۔وہاں مختلف پوسٹس پر کومیینٹ کرتے کرتے ایک اور گھنٹہ بیت گیا۔۔جب اچانک اسکی نظر موبائیل سکرین کے بلکل اوپر کونے میں چمکتے ہوئے 12:30amکے ہندسوں پر پڑی وہ چونک گئی “ابھی دو منٹ پہلے ہی تو میں نے فون۔ھاتھ میں لیا ۔۔گھنٹہ کیسے گزر گیا!!!!”۔۔وہ حیران تھی کی۔فون کو ھاتھ میں لیتے ہی یہ وقت اتنی تیز رفتار سے کیوں بھاگا چلا جاتا ہے۔۔۔؟؟
امی کے ڈر سے اسنے فوراََ فون بند کر دیا اور دونوں ہاتھوں سے لحاف کھینچ کر سر کے اوپر لی اور گہری سانس لے کر سوگئی ۔۔
وہ بستر میں اُتر تو چکی تھی لیکن اُس کا ذہن ابھی بھی سوشل میڈیا میں اُلجھا ہوا تھا …”نہ جانے علیم نے کیا رپلائی کیا ہوگا۔۔۔نہ جانے میرے پوسٹ پر کتنے کومنٹس اور لائکس آئے ہوں گے…”زہن میں رقص کرتے یہ خیالات نیند کسی بھی صورت اسکی آنکھوں میں دآخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔کچھ دیر بعد جب اس کا زہن مصنوعی دنیا سے بور ہوکر تھکا ہارا حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا ااسے.اپنے امتحانات یاد آگئے “ہائے …!! محض20 دن رہ گئے ہے اور میرا نصاب ابھی تک۔نامکمل ہے۔۔اب کیا کروں ؟؟؟؟
اسنے پریشانی میں کروٹ بدلی اسکی enxiety مزید بڑھ گئی ۔خیالوں ہی خیالوں میں اسنے پھر ایک بار خود سے وعدہ کیا کہ کل فجر کے بعد ہی امتحان کی تیاری شروع کرے گی۔۔۔لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ آج بھی اسکی آنکھ عین فجر کے۔وقت ہی لگ جائے گی ۔۔اور اسے پڑھائی کے بجائے گھروالوں کی ڈانٹ سے بچنے کا منصوبہ تیار کرنا ڑے گا……،،
اسنے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اسے نیند آجائے لیکن بے سود ۔نیند نہ آنے کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ محسوس کر رہی تھی۔۔۔ تنگ آکر اسنے پھر سے فون تکیے کے نیچے سے نکالا اور یو ٹیوب پر غزلیں سننے لگی۔۔۔لیکن اس بار مہدی حسن کی سریلی آواز بھی نیند کو منانے میں ناکام رہی۔۔۔سب تدابیر اپنانے کے بعد اسے سیما کا خیال آیا اسنے فوراََ اس کا نمبر ڈایل کیا۔۔۔سیما نے پہلی ہی گھنٹی پر فون اٹھایا۔۔ہیلو۔۔۔السلام علیکم ”
وعلیکم سلام۔۔۔ماہین خیریت ؟آپ ابھی تک جاگی ہو؟
“یار کیا بتاؤں ۔۔نیند نہیں آرہی تھی سوچا آپ سے بات کرکے من تھوڑا ہلکا کر لوں ۔۔پر تو بتا تو کیوں نہیں سوئی ؟؟
“بس یہی حال میرا بھی سمجھو۔۔مجھے بھی نیند نے پریشان کر رکھا ہے اسلئے یو ٹیوب پر مووی دیکھ رہی تھی۔۔”
پھر کچھ دیر بعد اسنے فون۔رکھا اور پھر سے سونے کی ناکام کوشش میں لگ گئی ۔۔
اسے اچانک اپنا ماضی یاد آگیا۔۔ماضی میں وہ کس طرح کمبھ کرن کی طرح سکون۔کی نیند سویا کرتی تھی۔۔۔نیند بھی اتنی گہری کہ جب۔تک بھائی جان پانی چھڑکنے کی دھمکی نہ ریتے مہارانی کی نیند نہیں جاتی ۔۔۔وہ یاد کرنے لگی کہ کس طرح تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بڑے مزے سے ناول پڑھتے پڑھتے وہ نیند کا سفر طے کر لیا کرتی تھی۔اور صبح فجر کی ازان سننے پر جب آنکھ کھلتی تو پتہ چلتا کہ کسطرح نرم ملائم بستر کے۔بنا بھی گہری اور میٹھی نیند سویا جاسکتا ہے۔۔
ہائے کہاں گئے وہ دن … کہاں گئی وہ نیند کہاں گیا وہ سکون۔۔۔۔۔وہ تصور میں اس میٹھی گہری اور پرسکون نیند کو للچائی ہوئی نظروں سے غورنے لگی۔۔۔۔وہ ماضی کے ان۔پر سکون لمحوں سے کچھ لمحے چرانا چاہتی تھی۔۔۔اسے یاد آیا کہ کیسے وہ voa اور ریڈیو پاکستان پر “ورتل قران ترتیلا” اور شب کی دہلیز پر اور صدارنگ جیسے پسندیدہ شوز سننے کے۔لئے بیدار رہنے کی پوری تیاری کرتی اور پھر نیند عین وقت پر اسے اپنی آغوش میں لے کر دھوکہ دے جاتی۔۔۔۔اپنے فورٹ شوز مس ہونے پر وہ نیند کو خوب کوستی۔۔۔۔ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ان۔دنوں کو یاد کرتے کرتے اچانک اسکی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں ۔۔۔”یا الله مجھے نیند کیوں نہیں آتی۔۔؟؟؟ “وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔”ماہین یاد کرو کیسے سب لوگ تمہاری طعریفیں کیا کرتے تھے ۔۔۔تمہاری مثالیں دیا کرتے تھے۔۔۔ماہین ایسی ہے ماہین ویسی ہے۔۔۔ماہین سے۔ کچھ سیکھو۔اب کیا ہوگیا ہے۔۔۔کیوں تم۔سے سب خفا رہتے ہیں کیوں کوئی تم۔سے راضی نہیں ۔۔۔۔آخر کیوں ؟؟”وہ خود سے ہم۔کلام ہوکر ان۔سوالات کے جوابات تلاش کر رہی تھی ۔۔کس کی۔نظر لگ۔گئی ہے مجھے۔۔۔یا الله وہ وقت پھر سے لوٹا دے۔۔۔۔اس نے آہ بھر کر پھر سے خیالات کا سوچ آف کرنے کی کوشش کی اور کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش میں لگ۔گئی ۔۔۔لیکن وہ جس قدر ترستی نگاہوں سے نیند کو بلا رہی تھی نیند اسقدر اسے دور بھاگ رہی تھی ۔۔۔انجانے میں ہی پھر سے اسکے ہاتھوں نے فون اپنی گرفت میں لے لیا۔۔اور ڑیٹا آن۔کر کے پہلے وٹس ایپ پر ایک دورہ مکمل کیا اور پھر فیس بک پر وہ بنا کسی مقصد کے اوپر نیچے سکرال۔ کر نے لگی۔۔۔ اسکی انگلیا موبائیل سکرین پر گھوم۔رہی تھی لیکن اسکا زہن ماضی میں گم اپنے حسین اود پر سکون پل یاد کر رہا تھا۔۔ اسکا ماضی جیسے اسے کچھ بتانا چاہ رہا تھا۔۔
“میں نے ناول پڑنا کیوں چھوڑ دیا؟؟میں اب ریڑیو کیوں نہیں سنتی۔؟؟؟۔سوالات کی یہ صدائیں کانوں میں گونجتے ہوے اسنے بے قراری کے عالم میں بیڑ کے بائیں جانب سائیڈ ٹیبل پر نظر دوڑائی ۔۔۔جہاں ماضی میں کبھی کتابیں ۔قلم کاغز اور ریڈیو ہوا کرتا تھا۔۔۔۔اسکی نظریں دیوانہ وار ان چیزوں کو تلاش کر رہی تھی۔۔۔لیکن وہاں موبائیل چارجر۔ایر فون۔سپیکس اور دوائی کی چند ٹکیوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔۔اسنے فوراََ سائڑ ٹیبل سے نظریں ہٹا کر اپنے ھاتھوں میں لئے سیل فون۔پر مرکوز کی۔۔۔”تو تم۔ہو میری مشکلوں کو دعوت دینے والے؟ میرے سب سے بڑے دشمن۔۔ “اسنے نفرت بھری نگاہ سیل فون۔پر ڈالی اور اسے پوری قوت کے ساتھ سامنے کی دیوار پر دے مارا۔۔”دفعہ ہوجاو “امی سچ کہتی ہے تم نے ہی میری زندگی کو جہنم بنا ڑالا ہے۔۔۔۔میری نینداور میرا چین چھین لیا ۔۔جا دفعہ …،،مجھے اپنی منحوس شکل کبھی مت دکھانا۔
اسنے پھر ایک بار خود سے وعدہ کیا کہ دوبارہ فون۔کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گی۔۔۔۔فون اور فضول خیالات کو خود سے دور کرتے ہی اسنے کچھ سکون۔سا محسوس کیا۔۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نیند اسکی آنکھوں پر دستک دے چکی تھی۔۔۔
وہ شاید کسی حسین خواب کی سیر پر تھی کہ اچانک گھنٹی بجی۔۔۔اور وہ بیدار ہوگئی ۔۔۔نیم خوابی کی۔حالت میں وو ہاتھ سے اُسی فون۔کو ٹٹولنے لگی جسے وہ رات کو جانی دشمن قرار دے چکی تھی۔۔تاکہ وقت کا جائزہ لے سکے۔۔۔۔لیکن فون وہاں نہ پا کر وہ پریشان ہوگئی نہ چاہتے ہوئے بھی اسنے دروازے کی جانب قدم بڑھا ئے جہاں اسکا فون مسلسل الارام بجا رھا تھا۔۔۔۔۔۔
سیدہ شائستہ مبارک بخاری۔۔۔۔۔آروہ بیروہ بڑگام.. shaistamubark@gmail.com

متعلقہ خبریں

تحریر:صوفی یوسف وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامورسینئر صحافی،قلمکار اور روزنامہ وادی کشمیر کے مدیر اعلیٰ غلام.

’’گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو‘‘ تحریر: رشید پروین ؔ سوپور   اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں.

افسانہ نگار: رئیس احمد کمار
بری گام قاضی گنڈ وہ صبح سے شام تک فون پہ لگی رہتی تھی ۔ میکے والوں سے گھنٹوں فون پر.

سید رشید جوہر …ونیل قاضی آباد ضلع کپوارہ میرے شہر میں صاف دِل کوئی بشر نہیں
اس بھیڑ میں کوئی بھی میرا ہمسفر.

افسانہ نگار:ڈاکتر نذیر مشتاق شبانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پٹ.