ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

کورونا پہلے سے زیادہ سنگین ، کئی ممالک میں لاک ڈاون کا نفاذ     سرینگر//.

ڈاکٹرفاروق عبداللہ سمیت دوسرے بیماروں کی جلدصحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی.

ہائی اسکول لاجورہ پلوامہ کے 14طلباء نے ڈسٹنکشنز حاصل کیں پلوامہ/تنہا ایاز/.

افسانہ………………….بویا ہوا پــل

   6 Views   |      |   Thursday, April, 15, 2021

افسانہ......................بویا ہوا پــل

افسانہ نگار: پرویز مانوس

لمبا سفید ریش ،سر پر گول سفید ٹوپی،جسم پر سبز رنگ کا خان سوٹ ، اُس کے ذہن پر چھائے ہوئے خوف میں بتدریج اضافے کا سسب بن رہے تھے ،وہ اپنے خزاں رسیدہ لبوّں پر مصنوعی مُسکراہٹ بکھیر کر بیگم ارو دو جوان بیٹیوں کو اس خوف کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا لیکن انر سے وہ ہمت ہار چُکا تھا اور کسی انجانے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کر رہا تھا ۔۔۔۔،، وہ بیگم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ،اور اُس گھڑی کو کوس رہا تھا جب وہ گھر سے اس منحوس سفر کے لئے نکلے تھے ۔۔۔۔ یہ بھی بیگم کی ہی ضد تھی کہ پھوپھی کو اکلوتے بھتیجے کی شادی میں نہ دیکھ کر لوگ طرح طرح کے طعنے دے کر بھائی جان کی ناک میں دم کر دیں گے۔۔۔۔بڑی بہن ہونے کے ناطے ان کے تئیں میری بھی تو کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ، میں انہیں کیسے فراموش کر دوں ،،، طویل تقریر سُننے کے بعد حاجی صاحب نے “مرتا کیا نہ کرتا “کے مصداق بیگم کے آگے سرینڈر کردیا ،،حالانکہ شادی کی تقریب کو ابھی پورا ایک ہفتہ باقی تھا ، لیکن بیگم صاحبہ کو سب سے پہلے پہنچ کر یہ باور کرانا تھا کہ اس شادی کی سب سے ذیادہ خوشی اسی کو ہوئی ہے تبھی تو وہ اتنے دور سے آ پہنچی ۔۔۔۔،،،
گُزشتہ کئی روز سے شہر کی فِضا میں بدامنی کی بوُ محسوس ہو رہی تھی جو کہ کسی ان دیکھے فرقہ وارانہ طوفان کا پیش خیمہ تھا ۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی بیگم نے حاجی صاحب کو اس سفر کے لئے مجبور کیا ،،،، انہوں نے بس میں بیٹھے ہوئے تمام سواروں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تو ان کے ماتھے پر پسینے کی چند ٹھنڈی بوندیں پھوٹ پڑیں ۔۔۔۔ پوری بس میں فقط وہی چار لوگ مسلمان تھے ۔۔۔۔ یونہی کوئی شخص ان کی طرف دھیان لگا کر دیکھتا تو وہ سہم جاتے۔۔۔۔،،
یہ مذہبی فسادات ایک شہر سے دوسرے شہر میں پھیل کر اسقدر زور پکڑ لیں گے ، کسی کو بھی اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔شہر میں جگہ جگہ رُکاو۔۔۔۔ چھوٹی بڑی سڑکوں پر جلتے ہوئے ٹائروں کا دُھواں ۔۔۔۔ سنگ بازی ۔۔۔۔ توڑ پھوڑ ۔۔۔۔ اور آتش ذدگی سے سارا شہر خوف کی چادر میں لپٹا کراہ رہا تھا۔۔۔۔ ،،، کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس لئے انتظامیہ نے دوسرے شہر سے آنے والی تمام گاڑیوں کو شہر سے بیس کلو میٹر پہلے ہی روک دیا تھا جہاں سیکورٹی کا زبردست بندوبست کیا گیا تھا اور پولیس کی گاڑیاں گشت کر رہی تھیں ۔۔۔۔،،
کہاں کی تیاری ہے بڑے میاں ؟ حاجی صاحب کے کانوں سے یہ جُملہ ٹکراتے ہی وہ گھبرا گئے ، انہوں نے گردن گُھما کر دیکھا تو ماتھے پر لمبے تلک والا ایک شخص ان سے مخاطب تھا۔۔۔۔ ،،
ایک شادی میں! کہتے ہوئے حاجی صاحب نے اپنا مُنہ کھڑکی کی طرف پھیر لیا ،،آپ کو جب معلوم تھا کہ شہر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں تو عیال کو ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی ،، حاجی صاحب نے بیگم کو غُصے میں کہنی مار کر اپنی غلطی کا احساس کراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔،،جناب ہماری بیگم صاحبہ کے اکلوتے بھتیجے کی خانہ آبادی ہے _ اسی لئے مجبوراً گھر سے نکلنا پڑا ۔۔۔۔،،،دریں اثنا کہیں سے گولی چلنے کی آواز فِضا میں گونجی تو حاجی صاحب نے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے کھڑکی کا شیشہ بند کردیا اور دل ہی دل میں سوچنے لگے ۔۔۔۔ غیر علاقہ ۔۔۔۔ غیر لوگ ۔۔۔۔ اجنبی ماحول۔۔۔۔ پناہ مانگیں بھی تو کس سے ؟
کہتے ہیں فسادیوں نے شہر میں کچھ لوگوں کو زندہ جلادیا ہے ،،بس میں بیٹھے ایک مُسافر نے سوشل میڈیا پر آئی اس بُری خبر کو زبان پر لایا تو حاجی صاحب کو وہ دن یاد آگیا۔۔۔۔،، جب اُس کے شہر میں دیکھتے ہی دیکھتے فساد پھوٹ پڑا تھا اسی دوران وہ اپنی کار میں کہیں سے آرہے تھے کہ ایک چوک میں لڑکوں کے ایک ہجوم نے گاڑیوں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی۔۔۔۔ ان کی کار کے آگے بھی کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں اور ہجوم ان سے پوچھ تاچھ کر کے آگے جانے کی اجازت دے رہا تھا ۔۔۔۔وہ بھی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں لڑکوں نے اگلی کار والے سے بحث شروع کر دی ۔۔۔۔حاجی صاحب شور و غوغا سُن کر کار سے نیچے اُترے ، انہوں نے تھوڑا جُھک کر دیکھا ، کار میں ایک غیر مسلم جوڑا اور ان کے دو پھول جیسے معصوم بچےّ کسی مظلوم ہرنی کی مانند سہمے ہوئے تھے ۔۔۔۔،،ان کے چہرے اشکوں سے پوری طرح بھیگ چُکے تھے _ عورت لڑکوں کو واسطے ڈال رہی تھی لیکن لڑکے اس کے شوہر کو گریبان سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالنے کی کوشش کررہے تھے ، دراصل لڑکوں نے کار پر چسپاں مخصوص مذہب کا اسٹیکر دیکھ لیا تھا اسی لئے وہ ذیادہ بھڑک اُٹھے تھے ۔۔۔۔،،،یہ منظر دیکھ کر حاجی صاحب سے برداشت نہ ہوا تو انہوں نے مداخلت کرتے ہوئےکہا ،،ارے ارے کیا کر رہے ہو بیٹا ؟چھوڑ دو ان کا گریبان ، جانے دو ان پردیسیوں کو ،کسی شریف انسان کو اس طرح بیچ سڑک میں پریشان کرنا اچھی بات نہیں۔۔۔۔،، ارے چچا! آپ نہیں جانتے انہی لوگوں نے ہمارے لیڈر کے لئے نازیبا الفاظ استمعال کر کے ان کی تذلیل کی ہے ۔۔۔۔ ہجوم میں سے ایک آواز بلند ہوئی ،،،
ٹھیک ہے بیٹا! لیکن کسی کے قصور کی سزا ان بے گناہوں کو کیوں دی جائے ؟ چچا یہ بھی تو اُنہی کی ذات کے ہیں! ایک لڑکے نے آستین چڑھاتے ہوئے کہا، اور ایک لاٹھی کار پر دے ماری تو کار کے اندر سے ایک دلخراش چیخ بلند ہوئی ۔۔۔۔، ،دیکھو بیٹا انسان بُرا ہو سکتا ہے ،اُس کی سوچ بُری ہو سکتی ہے لیکن مذہب کبھی بُرا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔،ذرا سوچو! اس وقت جو کچھ آپ کر رہے ہو ،،کیا آپ کا مذہب آپ کو یہ سب کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟نہیں نا؟کیونکہ انسانیت کا درجہ سب سے بلند ہے ۔۔۔۔،،ہم کچھ نہیں جانتے! دوسرے لڑکے نے ہوا میں لاٹھی لہراتے ہوئے کہا ،،،عورت اب بھی ہاتھ جوڑ کر اُن لڑکوں سے زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن لڑکے اُس کی بےبسی دیکھ کر قہقہے لگا رہے تھے اُن کے سر پر اپنے لیڈر کے انتقام کا جنون سوار تھا۔۔۔۔ اب تک تو اُس شخص نے نہایت ہی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اب پانی سر سے اوپر ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔ تنہا ہوتا تو ضرور کچھ کر بیٹھا لیکن بیوی اور بچےّ اُس کی کمزوری کا نا جائز فائدہ اُٹھا رہے تھے ۔۔۔۔ فِضا میں ایک نعرہ گونجنے کے ساتھ ہی ایک لڑکا کار پر پیٹرول چھڑکتے ہوئے بولا ،، نہیں ۔۔۔۔، آج ہم ان کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ،ان کو جلا دیں گے ۔۔۔۔ اس دوران پیٹرول کے چند قطرے حاجی صاحب کے کپڑوں پر بھی گرے ۔۔۔۔ میرے ہاتھوں کی طرف دیکھو ! یہ ظُلم مت کرو ۔۔۔۔،، اس سے حالات مزید بگڑ جائیں گے ۔۔۔۔ حاجی صاحب ہاتھ جوڑتے ہوئے لڑکوں کی منت سماجت کر رہے تھے لیکن لڑکوں نے کار کو گھیر رکھا تھا اور کسی بات میں نہیں آرہے تھے ۔۔۔۔،،حاجی صاحب نے اپنی عُمر میں ایک چیونٹی تک نہیں ماری تھی پھر بھلا انسانوں کو زندہ جلتے کیسے دیکھ سکتے تھے ، وہ جھٹ سے کار کے بانٹ پر لیٹ گئے ،،آؤ جلاؤ۔۔۔۔،،لگاؤ اب آگ ،اگر ان بے گناہوں اور بے بسوں کو جلانے سے تمہارا مذہب معتبر ہو جاتا ہے تو جلاؤ دیا سلائی ۔۔۔۔آؤ ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی جلا ڈالو ۔۔۔۔،،حاجی صاحب زور زور سے چِلا رہے تھے ، یہ دیکھ کر لڑکے گھبرا گئے اور ایک دوسرے کی طرف تکنے لگے ،،ارے یہ بُڈھا پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔۔یہ نہیں مانے گا ۔۔۔۔،، دفعہ کرو جانے دو ان کو ۔۔۔۔،،،پیراپٹ پر کھڑے ایک لڑکے نے کہا جو شاید ان کا لیڈر تھا ،تو لڑکوں کا ہجوم پیچھے ہٹنے لگا ۔۔۔۔،،حاجی صاحب نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اجنبی کو کار آگے بڑھانے کا اشارہ کیا تو کار میں بیٹھی عورت نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اُن کا شکریہ ادا کیا اور کار آگے بڑھ گئی۔۔۔۔،،،،
بڑے میاں اپنا سامان لے کر نیچے آئیے! سپاہی کی آواز نے اُس کی یادوں کی ڈور کاٹ دی۔۔۔۔ حاجی صاحب نے کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھا جہاں ایک پولیس آفیسر سپاہیوں کو کچھ ہدایت دے رہا تھا ۔۔۔۔ وہ عیال سمیت بس سے اتر کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔۔۔۔ کچھ دیر بعد پولیس کے چند سپاہی انہیں جپسی میں بٹھا کر ایک سرکاری گیسٹ ہاوس میں لے گئے ۔۔۔۔حاجی صاحب نے پولیس اہلکاروں سے دریافت کیا کہ انہیں اس طرح یہاں کیوں لایا گیا تو ایک اہلکار نے بتایا کہ شہر میں حالات ذیادہ خراب ہوگئے ہیں نہ جانے بہتر ہونے میں کتنا وقت لگ جائے اسی لئے بڑے صاحب نے کہا ہے کہ تب تک آپ لوگ یہیں رہیں گے کیوں کہ یہ جگہ پوری طرح محفوظ ہے ،،
کچھ دیر بعد پولیس کی ایک گاڑی اُن کے لئے کھانا لے کر آئی پھر کھانا کھلاکر وہ واپس لوٹ گئے ۔۔۔۔اُن کے جانے کے بعد حاجی صاحب بیگم سے مخاطب ہوئے ،،شُکر ہے پولیس والے ہمیں یہاں لے آئے ورنہ بس میں تو ہم خوف سے مر ہی جاتے ،،
سچ مُچ یہ پولیس والے ہی ہیں ؟ بیگم نے حاجی صاحب سے دریافت کیا! کیوں ؟حاجی صاحب نے تعجب سے دیکھتے ہوئے پوچھا ،،میں نے تو پولیس والوں کا یہ روپ پہلی بار دیکھا ،، اتنی خاطر تو کوئی اپنوں کی بھی نہیں کرتا ۔۔۔۔،،بیگم نے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے کہا،، اری خُدا کی بندی! جس طرح ہاتھ کی پانچ اُنگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں ،اسی طرح سب پولیس والے بھی ایک جیسے نہیں ہوتے ۔۔۔۔،،آخر یہ بھی تو انسان ہی ہیں ،، یہ تو تمہاری فطرت ہے کہ تم سب کو مشکوک نظروں سے دیکھتی ہو ۔۔۔۔بس میں تو تمہارا دم گھُٹ رہا تھا۔۔۔۔غذا کے چند نِوالے حلق میں کیا اُترے تو باتیں نکلنے لگیں ۔۔۔۔ یہ بھی تو سوچ کہ انہی کی بدولت ہمارے سروں سے خطرے اور خوف کے بادل چھٹ گئے ۔۔۔۔،،،چلو سوجاؤ !حاجی صاحب نے بیڈ پر دراز ہوتے ہوئے کہا ،،بیگم نے جونہی کمرے کی لائٹ بُجھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو گیسٹ ہاوس کے باہر گاڑی رُکنے کی آواز آئی تو سب کے کان قدموں کی آہٹ پر لگ گئے ،،، دستک سُن کر حاجی صاحب بستر سے اُٹھے ،، دروازہ کھولا تو سامنے ایک دراز قد شخص وردی میں ملبوس کھڑا آداب بجا لا رہا تھا ،حاجی صاحب نے اُس کے سراپا کا بغور جائزہ لینے کے بعد کہا،، جی فرمائیے ؟
میں ڈی ایس پی وشال ! آپ نے پہچانا نہیں۔۔۔۔؟ حاجی صاحب نے اپنی موٹے شیشے والی عینک دُرست کرتے ہوئے پوچھا ،،کون وشال ؟ شریمان! وہی وشال جس کے عیال کی جان ایک دن آپ نے اپنی جان کی پر واہ نہ کرتے ہوئے فسادیوں سے بچائی تھی ،،
کیا تم ؟
جی میں ! اور یہ ہے میری وائف اور بچےّ! فرطِ جذبات سے حاجی صاحب کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں اور انہوں نے آگے بڑھ کر وشال کو سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔،،،
���������

متعلقہ خبریں

گل گلشن ۔۔ممبئی وہ تقریبا آٹھ سالوں سے ہمارا پڑوسی تھا۔شاید روزگار کے لئے یہاں اکیلا رہتا تھا۔ہمیشہ چپ چاپ اور.

غزل ذکی طارق بارہ بنکوی چاہتوں کے پُر کشش آغاز کی باتیں کریں
پھر کسی سلمیٰ کسی شہناز کی باتیں کریں
یہ بیانِ.

ظفر صدیقی۔۔۔لکھنؤ دور ہم سے وہ دیوانی چلی گئی
لب چُم دیکر نشانی چلی گئی
دوریاں اس قدر بڑھائی ہمسے
نزدیکیاں.

نعت مصطفٰے ﷺ محمد زاہد رضا بنارسی   مجھ بھی چشم کرم میرے خدا ہوجائے
یعنی دیدار مدینے کا عطا ہوجائے
ہیچ.

غزل بلال صہبا جام خالی ہے صراحی دوٗر ہے
نوش کی ہے نا نشے میں چوٗر ہے
گِر رہا ہے اشک پیہم آنکھ سے
درد سے دل.