ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

افسانچے

   7 Views   |      |   Sunday, January, 24, 2021

افسانچے

افسانہ نگار: ڈاکٹر نذیر مشتاق
قدرت
‏ میں کچھ نہیں جانتا میرے بیٹے ساحل
‏ کو ابھی اسی وقت وینٹیلیٹر پر ڈال دو وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اگر اسے کچھ ہوا تو تم سب۔۔۔۔ وزیر صحت نے اسپتال کے ڈائریکٹر سے فون پر کہا ڈائریکٹر نے ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر کو حکم دیا کہ بیڑ نمبر دس کے مریض کو وینٹیلیٹر پر ڈال دو مگر سر ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔ایسا کیسے ۔۔سر مطلب یہ کہ ۔۔۔ ڈاکٹر نے احتجاج کیا ۔۔۔ جو میں نے کہا وہ کرو ڈائریکٹر نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔۔۔ڈاکٹر چند لمحے سوچتا رہا پھر اس نے نرس کو سمجھایا کہ بیڈ نمبر دس کو وینٹیلیٹر پر ڈال دو
‏نرس نے ہچکچاتے ہوئے ڈاکٹر کے حکم پر عمل کیا نرس نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ڈاکٹر نے نظریں جھکا لیں اور بے چینی کے عالم میں کرسی پر بیٹھ گیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا
‏ دوسرے دن بیڈ نمبر دس پر وزیر کے بیٹے ساحل کی لاش پڑی تھی اور بیڑ نمبر گیارہ پر ایک غریب اور بی سہارا کووڑ پازیٹیو نوجوان مریض بیٹھا پانی پی ریا تھا وہ ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ جانتا تھا کل رات اس کو وینٹیلیٹرسے۔ ہٹاکر ساحل
‏ کو وینٹیلیتر پر ڈال دیا گیا تھا کیونکہ کووڈ ایمرجنسی وارڈ میں کوئ وینٹیلیٹر نہیں بچا تھا تھا ۔۔۔۔۔
حقیقت
لو سنو۔۔میں نے اپنے دوست سلیم سےکہا۔۔اسٹیٹ اسپتال کے گیٹ کی سیڑھیوں پر ایک بد حال نوجوان زارو قطار رو رہا تھااس کا باپ ایک گھنٹہ پہلے کووڑ وارڑ میں فوت ہوا تھا ۔اس سے کہا گیا تھا کہ لاش نہیں ملے گی لاش کو اسپتال کے کرمچاری خود دفن کریں گے اسلیے وہ سر پیٹ رہا تھا کہ وہ بدنصیب اپنے باپ کے جنازے کو کاندھا بھی نہیں دے سکے گا۔۔۔۔۔
گیٹ ‌سے تھوڑی دور ایک نوجوان اپنے چھوٹے بھائی سے کہہ رہا تھا۔۔۔ڈیڈی کی لاش کو کیوں گھر لے جایں وہ کرونا پازیٹیو ہے اسپتال والے اس کی لاش کو خود ٹھکانے‌لگایں گے۔۔۔چھوٹا بھائی کہہ رہا تھا۔۔۔۔مگر بھیا مما ‌نے کسی سیکرٹری سے فون کروایا ہے اور کووڈ وارڈ کے ڈاکٹر نے اسے پازیٹیو کے بجائے نیگیٹیو دکھایا ہے اس لیے اب‌لاش کو گھر لے جانا ہوگا اور۔۔۔۔۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔بڑے بھائی نے دانت چیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دوست سلیم نے غور سے سننے کے بعد کہا۔۔۔۔‌۔‌
یہ افسانچہ نہیں ہے۔۔۔اور میں نے فوری جواب دیا
میں نے کب کہا کہ یہ افسانچہ ہے یہ تو آنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔۔۔۔
ماں
ڈاکٹر دلاور خان اپنے کلینک سے واپس آکر چاے پینے کے بعد آرام کرسی پر نیم دراز ہوگیے۔ان کی شریک حیات وحیدہ پاس ہی بیٹھی سویٹر بننے میں مشغول تھی ان کا ننھا منا اکلوتا بیٹا اصغر اپنی سایکل چلا رہا تھا ‌‌اچانک وحیدہ بیگم کے کانوں سے چوں چوں کی آواز ٹکرای۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔چھت کے ایک حصے میں چڑا اپنا گھونسلا نوچ رہا تھا۔اور چڑیا اس کی مدد کررہی تھی وحیدہ کءی دنوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔چڑے اور چڑیا نے گھونسلہ بنایا تھا ۔چڑیا نے انڑے دیے تھے۔پھر بچوں کی چوں چوں سننے میں آی تھی لیکن دو دن پہلے چڑیا کو بلی نے پکڑ کر کھا لیا۔چڑا ادھر ادھر سے دانا دنکا لا کر بچوں کو کھلا رہا تھا اور خود اکیلا اداس بیٹھا رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج صبح کے وقت چڑا ایک نءی چڑیا کو ساتھ لےکر آیا۔اورخوشی کے مارے ادھر ادھر پھدکنے لگا چڑیا بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ‌۔بچے گھونسلے میں چیں چیں کر رہے تھے مگر چڑا اور چڑیا اپنی دنیا میں مگن تھے۔کچھ دیر بعد دونوں مل کر گھونسلہ نوچ رہے تھے۔دیکھتے دیکھتے گھونسلہ زمین پر گر پڑا گھونسلے کے تنکے ادھر ادھر بکھر گئے۔اور ننھے ننھے کمزور بچے زمین پر گر پڑے۔دونوں تھر تھرا نے لگے۔چڑیا نے ان کو دیکھ کر آنکھیں پھیر لیں۔اور چڑے کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔۔۔
وحیدہ بیگم نے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔اسکی ہچکیاں سن کر ڈاکٹر دلاور نے اس کی طرف دیکھا اور حیران ہو کر کہا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحیدہ بیگم نے ساری کہانی سنائی
ڈاکٹر دلاور ہنس پڑا۔ اس میں رونے کی کیا بات ہوئی
وحیدہ بیگم نے ضبط کی کوشش کی مگر وہ اپنے۔آنسووں کو روک نہیں سکی آنسو پونچھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔‌‌۔۔۔۔آپ نہیں سمجھ سکتے آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

تحریر:صوفی یوسف وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامورسینئر صحافی،قلمکار اور روزنامہ وادی کشمیر کے مدیر اعلیٰ غلام.

’’گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو‘‘ تحریر: رشید پروین ؔ سوپور   اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں.

افسانہ نگار: رئیس احمد کمار
بری گام قاضی گنڈ وہ صبح سے شام تک فون پہ لگی رہتی تھی ۔ میکے والوں سے گھنٹوں فون پر.

سید رشید جوہر …ونیل قاضی آباد ضلع کپوارہ میرے شہر میں صاف دِل کوئی بشر نہیں
اس بھیڑ میں کوئی بھی میرا ہمسفر.

افسانہ نگار:ڈاکتر نذیر مشتاق شبانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پٹ.