ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

افسانچے

   30 Views   |      |   Sunday, January, 24, 2021

افسانچے

ؕافسانہ نگار۔۔۔فلک ریاض

مو وی
فلم ڈایریکٹر ” دیکھو ڈیوڈ۔ زمین پہ مگر مچھوں کا حملہ۔۔سانپوں کا حملہ۔ٹڑیوں کا حملہ۔کیڑوں کا حملہ۔یہ سب دیکھ دیکھ کے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ہمیں کچھ نیا دکھانا چاہیے۔۔“
ڈیوڑ ” درست فرمایا آپ نے ڈایریکٹر صاحب۔۔لوگوں کو انٹرٹین کرنے کے لیے ہمارے رائٹر نے انوکھی کہانی لکھی ہے مرغیوں کا حملہ۔۔انسانوں پر۔۔۔لوگوں کو بہت پسند آئے گی مووی۔۔۔“
ڈایریکٹر ” ہاں سکرپٹ میں نے پڑھ لی ۔مجھے بھی لگتا ہے کہانی ہٹ کے ہے اس بار ۔۔۔۔“ آپس میں یہی باتیں چل رہی تھی ۔۔۔۔تو دوسری طرف آسمان کے ایک دور دراز ستارے پہ رہ رہیں مخلوق ایلینس بھی وہاں مووی کی کہانی لکھ رہے تھے۔۔کہانی کا نام تجویز ہوا ”نیچے زمین پہ انسانوں کی یلگار“۔۔کہانی میں دکھایا گیا تھا ۔۔چیختے چلاتے دریا اور جھیل۔۔۔کٹتے گرتے باگتے اشجار۔۔سہمے ہوئے جنگلی جانور۔۔۔ لرزتے ہوے پہاڈ۔گرد وغبار ۔۔کیڑوں کی طرح پھہلتے کاٹتے ہوئے انسان۔۔۔ایلینس باقی جانداروں اور نباتات کو بچانے کے لیے زمیں پر آتے ہیں اور انسانوں کو روکنے کی کوششیں کرتے ہیں۔۔۔ انسان حملہ آور۔۔۔اور باقی جانداروں کی چیخ و پکار۔۔۔ بچائو بچائوآدمیوں سے بچاو۔۔۔“
اور وہاں موجود سبھی ایلینس کو یقین تھا کہ موئی بلاک بسٹر جائے گی۔۔۔۔سانپ۔۔۔۔۔
اس کی یہ عادت تھی کہ وہ پیٹھ پیچھے سب کی غیبت کرتا تھا۔۔دوستو کی،پڑوسیوں کی، رشتہ داروں کی سب کی۔جب وہ مرگیا تو قبر میں سانپ نمودار ہوئیں۔۔سات سات سروں والے بڑے بڑے سانپ تھے۔اسے دیکھتے ہی سب سے بڑا سانپ اس پہ حملہ کرنے کے لئے اس کی طرف آیا۔۔آدمی ڈر گیا۔۔پھر یہ ہوا کہ کاٹنے کا زخم گہرا تھا۔۔وہ تڑپ تڑپ کے مرگیا۔۔۔
دراصل اس نے سانپ کو پہلے ہی پکڑ لیا تھا۔اور سرعت کے ساتھ سانپ کو دانتوں سے کاٹ لیا۔۔۔سانپ دو ہی منٹ میں مرگیا۔۔۔
کیونہ اس انسان کا زہر کافی خطرناک تھا۔۔۔
کڑوی بات
ان کی چوتھی بیٹی ہوئی تو شوہر اور ساس کو سانپ سونگھ گیا۔اس کے شوہر نے اسپتال ہی سے رات کے دوران بچی کو اٹھایا اور اسپتال سے دور ایک کوڈا دان میں ڈال دیا ۔اور دبے پائوں وہاں سے نکل آیا۔کچھ دیر بعد بچی نے رونا شروع کیا۔ایک دوکان کی سیڑھی پہ سوئے ایک بے گھر بکاری نے آوازسنی اور آواز کا تعاقب کرتے ہوئے کوڈا دان کے پاس پہونچا ۔۔ننھی گول مٹول سی بچی کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔اورجلدی سے اسے بازئوں میں بھر لیا ۔۔اور واپس پلٹتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔” سالے ۔کمینے۔۔۔۔بستر پہ ہر رات عورت چاہتے ہیں۔۔ادھر عورت پسند ہے۔۔اور جب وہ عورت جنم لیتی ہے تو اسے کچرا سمجھ کے پھینک دیتے ہیں ادھر عورت پسند کیوں نہیں“۔۔ پاس ہی ایک کتیاں اپنے چھہ بچوں کو دودھ پلا رہی تھی۔۔تو بکاری کبھی اس کتیا کے بچوں کو کبھی اس انسانی بچی کو دیکھ رہا تھا ۔۔جو اس کے بازئو میں انگھوٹھا چوس رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جینے کی تمنا
ایک شخص خودکشی کرنے کے لئے جھیل ڈل میں کود گیا۔۔کودتے ہی وہ تہہ تک پہونچا تو رونے کی آواز کانوں میں گونجی۔۔۔سسکیاں ۔۔اور آہیں ”ارے کوئی مجھے بچائو۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتا۔۔میں جینا چاہتا ہوں۔۔میں سِمٹ رہا ہوں، سُکڑ رہا ہوں، گندہ ہورہا ہوں۔۔۔کوئی بچائو۔۔۔۔“
آدمی نے گھبراتے ہوئے آواز دی ”۔۔۔ک ۔۔ک کون ہے ۔۔۔کون ہو تم ۔۔“
تو جواب آیا۔۔۔۔بھائی میں ڈل ہوں۔۔۔ مجھے بچائو۔۔۔مجھے بچائو۔۔۔۔۔“
آدمی تیزی سے اوپر آیا اور کناے پہ آگیا۔۔۔” کیا زندگی اتنی پیاری ہے۔۔۔کہ ڈل بھی بے موت نہیں مرنا چاہتا۔۔“ یہ بولتے ہوئے وہ پانی پہ تیر رہے کوڈا کرکٹ کو پانی سے جدا کرنے لگا۔۔۔وہ ڈل کو بچانا چاہتا تھا اب۔۔۔۔
انسانیت
اس کی اچھی آمدنی تھی۔مگر اس کا پڑوسی غریب۔اس نے اپنے بچوں کے لئے نِت نئے پوشاک خریدے۔مگر گلی میں پڑوسی کے بچوں کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھ لیا تو اس کا دل پسیج کے رہ گیا۔وہ ان کی مدد کرنا چاہتا تھا مگر ۔۔ان کی خود داری کو بھی جانتا تھا۔وہ ان کو نیچا نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔تو اس نے ایک لفافہ کے اندر آٹھ ہزار روپہہ رکھ دئیے اور ایک چھوٹا سا خط ۔جس پہ لکھا ۔۔۔آپ کے خدا اور پیارے رسولﷺ کی طرف سے آپ کو تحفہ۔۔۔قبول کیجئے گا۔۔۔آپ کا حق ہے یہ۔۔۔۔رد نہیں کرنا ۔۔۔“ شہر جاکر لفافہ سپیڈ پوسٹ کردیا پڑوسی کے ایڈریس پہ۔۔بیجھنے والے کا ایڈریس لکھ لیا پیچھے سے ”نوکر خدا کے“۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانہ نگار۔۔۔فلک ریاض
۔ حسینی کالونی چھتر گام کشمیر۔۔۔
فون .۔۔۔6005513109

متعلقہ خبریں

تحریر:صوفی یوسف وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامورسینئر صحافی،قلمکار اور روزنامہ وادی کشمیر کے مدیر اعلیٰ غلام.

’’گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو‘‘ تحریر: رشید پروین ؔ سوپور   اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں.

افسانہ نگار: رئیس احمد کمار
بری گام قاضی گنڈ وہ صبح سے شام تک فون پہ لگی رہتی تھی ۔ میکے والوں سے گھنٹوں فون پر.

سید رشید جوہر …ونیل قاضی آباد ضلع کپوارہ میرے شہر میں صاف دِل کوئی بشر نہیں
اس بھیڑ میں کوئی بھی میرا ہمسفر.

افسانہ نگار:ڈاکتر نذیر مشتاق شبانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پٹ.