ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

آج یہاں سنور کلی پورہ ماگام میں گلشن کلچرل فورم کشمیرکے اہتمام سے ایک ادبی.

جدید دور میں گرمی دینے والے آلات کے باوجود بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار

آٹھ زونوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے حصہ لیا
پلوامہ/ تنہا ایاز /
یوتھ سروسز.

اردو روزنامہ آفتاب کے بانی خواجہ ثنا اللہ بٹ کی11ویں برسی

   143 Views   |      |   Tuesday, January, 26, 2021

اردو روزنامہ آفتاب کے بانی خواجہ ثنا اللہ بٹ کی11ویں برسی

ادبیوں، شاعروں،قلمکاروں اورصحافیوں کی جانب سے شاندار خراج عقیدت
سرینگر؍24،نومبر ؍با بائے صحافت اردو روزنامہ آفتاب کے بانی مرحوم خواجہ ثنا اللہ بٹ کی11ویں برسی کے موقعے پر سیاسی ،سماجی ،صحافتی اور ادبی تنظیموں نے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔اس سلسلے میں وادی کے کئی علاقوں میں ادبی حلقوں کی جانب سے تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) مطابق جموں و کشمیر کے معرف ولولہ انگیز اور انقلابی صحافی جنہیں کشمیر میں با بائے صحافت خواجہ ثنا اللہ بٹ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کی11ویں برسی پر وادی کے تمام ادبی تنظیموں اورصحافت سے وابستہ افراد قلمکاروں ، شاعروں نے مرحوم کو یاد کر کے شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ ادھر ورکنگ جنرل لسٹ پلوامہ کے صدر شاہ ارشاد نے خواجہ ثنا اللہ بٹ کو11ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ مرحوم اپنے قلم سے کشمیری قوم کی بے لوث خدمت کی جس کے لئے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔اس دوران یمبر زل یو تھ کلب کے صدرخورشید میر نے روز نامہ آفتاب کے بانی مرحوم خواجہ ثنا اللہ بٹ کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہاکہ مرحوم نے ساری زند گی شعبہ صحافت میں گذاری مرحوم کو مرتے دم تک یاد رکھا جائے گا۔ ادھر سیرت کشمیر کے چیف ایڈیٹر بشیر احمد وانی نے مرحوم کو صحافت کا ستارہ قرار دیتے ہوئے مرحوم کے حق میں مغفرت کی دعا کی۔ تفصیلات کے مطابق 24نومبر2009 کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا جب بابائے صحافت ریاست کے لوگوں کو چھوڑ کر ابدی زندگی گزارنے کیلئے عالم برزخ میں چلے گئے، خواجہ ثناء اللہ بٹ کشمیر کی صحافت کا وہ درخشان ستارہ تھا جس کے ڈوب جانے کے ساتھ ہی ریاستی صحافت میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا جسے پر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ مرحوم نے جس وقت کشمیر میں صحافت کی داغ بیل ڈالی لوگ اخبار بینی سے ناواقف تھے اور ان کے جذبات و احساسات کی کہیں پر تو نہ ترجمانی ہوتی تھی اور نہ ہی قدر۔ بے سروسامانگی میں کشمیر وادی سے آفتاب اخبار کی بنیاد ڈالی اور اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کی ترجمانی کرنے کا بیڑا اٹھایا اخبار نکالنے کے دوران مرحوم کو طرح طرح کے مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ انہیں سرکار کی جانب سے ایجنٹ بھی قرار دیا گیا تاہم مرحوم نے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف اخبار آفتاب کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے اس کے معیار کو بلند کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ دی بلکہ اخبار آفتاب نے ریاست میں جو مقام حاصل کیا وہ بہت کم اخباروں کو حاصل ہوا۔ مرحوم نے اپنے50سالہ صحافت میں نہ صرف کشمیر کے لوگوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کاحق ادا کیا بلکہ یہاں کی سماجی، سیاسی حالت کو تبدیل کرنے کیلئے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔۔ آج ہم بابائے صحافت کو ان کی11ویں پر سی کے موقعے پر یاد کرنے جارہے ہیں الفاظ نہیں مل رہے ہیں کم مانگی اور کم علمیت کے باعث بابائے صحافت کو خراج عقیدت ادا کرنا ہم جیسے چھوٹے لوگوں کو کا کام نہیں تاہم انہیں خراج عقیدت ادا کرنے کا بہتر طریقہ یہی ہوگا کہ ہم ان کے مشن کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔ نمائندے کے مطابق اردو روزنامہ آفتاب کے بانی خواجہ ثنا اللہ بٹ کے11ویں برسی پر کئی ادبی تنظیموں ، ڈسڑکٹ کلچرل سو سائٹی پلوامہ، یمبر زل یو تھ کلب سرینگر ، نو ادبی کاروان پلوامہ ، مراز ادبی سنگم سمیت وادی کشمیر کے تمام صحافتی حلقوں نے انہیں یاد کر کے شاندارخراج عقیدت پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

تحریر:صوفی یوسف وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامورسینئر صحافی،قلمکار اور روزنامہ وادی کشمیر کے مدیر اعلیٰ غلام.

’’گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو‘‘ تحریر: رشید پروین ؔ سوپور   اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں.

افسانہ نگار: رئیس احمد کمار
بری گام قاضی گنڈ وہ صبح سے شام تک فون پہ لگی رہتی تھی ۔ میکے والوں سے گھنٹوں فون پر.

سید رشید جوہر …ونیل قاضی آباد ضلع کپوارہ میرے شہر میں صاف دِل کوئی بشر نہیں
اس بھیڑ میں کوئی بھی میرا ہمسفر.

افسانہ نگار:ڈاکتر نذیر مشتاق شبانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس نے کھڑکی کے پٹ.