ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

کورونا پہلے سے زیادہ سنگین ، کئی ممالک میں لاک ڈاون کا نفاذ     سرینگر//.

ڈاکٹرفاروق عبداللہ سمیت دوسرے بیماروں کی جلدصحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی.

ہائی اسکول لاجورہ پلوامہ کے 14طلباء نے ڈسٹنکشنز حاصل کیں پلوامہ/تنہا ایاز/.

احسان فراموش

   5 Views   |      |   Thursday, April, 15, 2021

احسان فراموش

افسانہ نگار: ملک منظور قصبہ کھُل کولگام
رحمان اور اس کی بیوی شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتے تھے ۔کام کاج نہ ملنے کی وجہ سے غربت نے فاقہ کشی پر مجبور کیا تھا مفلسی کے اس عالم میں ایک دن بیوی نے رحمان سے کہا ۔۔۔۔۔میں اس روزمرہ کی فاقہ کشی سے اب تنگ آگئی ہوں ۔۔۔۔تم شہر جاکے محنت مزدوری کر کے کچھ کما کے لاو۔۔۔مجھے ڈر ہے کہ یہ مفلسی ہمیں مار نہ ڈالے ۔۔ ۔۔رحمان نے بیوی کی بات مان کر شہر جاکر کام کاج کرکے پیسے کمانے کی ٹھان لی۔ ۔۔شہر گاؤں سے بہت دور تھا ۔جیب میں پیسے بھی نہیں تھے ۔لہزا رحمان جنگل کے راستے پیدل شہر کی طرف نکل پڑا ۔لمبا سفر طے کرنے کے بعد وہ تھک ہار کر ایک درخت کے سائے میں آرام کرنے کے لئے بیٹھ گیا ۔بیٹھتے ہی اس نے عجیب و غریب آوازیں سنیں ۔وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن کچھ نظر نہیں آیا ۔۔۔۔وہ سوچنے لگا کیا ہوسکتا ہے ؟۔۔اچانک اس کی نظر ایک کنویں پر پڑی ۔وہ دھبے پاؤں چل کرکنویں کی طرف گیا اور جھانکنے لگا ۔۔۔۔وہاں شیر ،سانپ ،بندر اور ایک آدمی مدد کے لئے پکار رہے تھے ۔رحمان نے ہمت جٹا ئی اور کھڑے ہو کر جونہی دیکھا تو شیر نے آواز دی ۔۔۔۔۔رحمدل آدمی ۔۔مجھے اس کنویں سے نکال لو ۔۔۔۔۔۔رحمان نے کہا ۔۔۔۔نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا ۔۔۔تم‌خونخوار ہو۔۔۔تم بعد میں مجھے کھاؤ گے میں تجھے باہر نہیں نکال سکتا ۔۔۔۔شیر نے منت سماجت کی اور بھروسہ دلایا کہ وہ اس کا کچھ نہیں بگاڈے گا ۔۔۔۔۔رحمان نے ترس کھا کر شیر کو کنویں سے باہر نکالا ۔۔۔۔
شیر نے باہر نکلتے ہی رحمان سے کہا ۔۔۔۔دیکھو اس آدمی کو باہر مت نکالنا ۔۔۔۔یہ ناشکرا ہے ۔۔۔۔۔میں پاس میں ہی ایک غار میں رہتا ہوں ۔اگرکبھی میری ضرورت پڑے تو آجانا ۔یہ کہہ کر شیر چلا گیا ۔۔
رحمان نے پھر دیکھا تو بندر نے ہاتھ جوڑ کر رحمان سے بنتی کی ۔۔۔۔مہربانی کر کے مجھے اس گھڑے سے نکال لو ۔۔۔۔رحمان نے بندر کو بھی نکالا اور بندر نے گھڑے سے نکل کر فوراً کہا ۔۔۔۔اس آدمی کو مت نکالنا ۔یہ احسان فراموش ہے ۔۔اور ہاں میں وہاں دریا کے کنارے آم کے پیڑ پر رہتا ہوں ۔اگر کبھی بھوک لگے تو آجانا ۔میں وہیں ملوں گا ۔۔یہ کہہ کر بندر بھی چلا گیا ۔۔۔
اس کے بعد سانپ نے بڑی عاجزی اور انکساری سے رحمان سے کہا ۔۔۔خدا کے واسطے مجھے بھی نکالو ۔۔
رحمان ڈر گیا ۔۔اس نے سانپ سے کہا ۔۔۔تم سانپ ہو اور تمہاری خصلت ڈسنا ہے ۔۔۔اگر میں نے تجھے کنویں سے نکالا تو تم مجھے ڈس لو گے اور میں مر جاؤں گا ۔میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔
سانپ نے قسم کھا کھا کر یقین دلایا کہ وہ اس کا کچھ نہیں بگاڈے گا ۔۔۔رحمان نے رحم کھا کر سانپ کو بھی باہر نکالا ۔
سانپ نے شکریہ ادا کر کے بتایا ۔۔۔دیکھو نیک دل آدمی ۔۔۔۔۔۔اس شخص کو کنویں سے باہر مت نکالنا ۔۔۔وہ انتہائی گرا ہوا ظالم اور غدار انسان ہے ۔۔۔اس پر کبھی بھروسہ مت کرنا ۔۔
اور ہاں اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو پکار لینا ۔۔میں حاضر ہوجاؤں گا ۔۔۔۔سانپ چلا گیا تو رحمان نے سوچا ۔۔۔۔یہ آدمی میرا کیا بگاڑے گا ۔۔۔بیچارہ رو رو کے منت سماجت کر رہا ہے ۔۔۔۔چلو اس کو بھی نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔
رحمان نے آدمی کو بھی نکالا اور اس نے شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا ۔۔۔۔۔میں ایک صراف ہوں ۔۔۔۔میری پاس کے قصبے میں زیورات کی بڑی دکان ہے ۔۔۔کبھی کسی چیز کی ضرورت پڑے ۔تو بلا جھجک آجانا‌۔۔۔میں احسان مند رہوں گا۔۔۔۔یہ کہہ کر آدمی چلا گیا اور رحمان بھی شہر کی جانب چل پڑا ۔۔۔شہر میں کئی دن تک مسلسل کام نہ ملنے کی وجہ سے رحمان خالی ہاتھ واپس گھر کی‌جانب اسی راستے سے نکلا ۔۔راستے میں بھوک کی وجہ سے بے حال ہوکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا ۔۔اچانک اس کے زہن میں بندر کا خیال آیا ۔۔۔وہ فوراً دریا کے کنارے چلا گیا اور بندر کو آواز دی ۔۔۔بندر نے رحمان کو پہچانا اور خوشی خوشی اس کا‌ سواگت کیا ۔۔۔بندر آم کے درخت پر چڑھ گیا ۔۔۔وہاں سے پکے رسیلے آم اتار کر رحمان کو دیے ۔۔رحمان نے پیٹ بھر کر آم کھائے اور شکریہ ادا کر کے چل دیا ۔۔۔۔چلتے چلتے اس کو شیر کی غار کا خیال آیا اور سوچا ۔۔۔۔کیوں نہ شیر سے بھی مل لوں ۔۔۔۔۔وہ شیر کی غار کے منہ پر پہنچا اور آواز دی ۔۔۔شیر نے باہر آکر رحمان کے پاؤں پر سجدہ کیا ۔۔۔خیریت پوچھی۔۔۔اور ایک سونے کا ہار بطور تحفہ دے کر کہا ۔۔۔۔۔کئی برس پہلے میں نے ایک شہزادے کی جان دوسرے شیر سے بچائی تھی ۔۔اس نے مجھے یہ ہار دیا ۔۔۔۔یہ میرے کام کا نہیں ہے ۔۔۔۔شاید تیرے کام آجائے ۔۔۔رحمان ہار لے کر وہاں سے گھر کی جانب نکل پڑا ۔ قصبے کے قریب پہنچ کر اس کو صراف کا خیال آیا اور اس سے ملنے کے لئے گیا ۔۔۔صراف نے بڑی خوشامد کی ۔۔حال چال پوچھا ۔۔۔رحمان نے جیب سے ہار نکال کر صراف سے کہا ۔۔۔۔بھائی یہ دیکھو ۔۔۔اس کی کیا قیمت ملے گی ۔۔۔مجھے بیچنا ہے ۔۔۔
سونار نے جب غور سے دیکھا تو وہ پہچان گیا ۔یہ ہار اس نے شہزادے کے لئے بنایا تھا اور شہزادے کا کسی نے قتل کیا تھا ۔۔صراف نے رحمان سے کہا ۔۔۔ بھائی یہاں آکراس کرسی پر بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔تجھے بھوک لگی ہوگی ۔۔۔چائے پیو ۔۔میں گیا اور آیا ۔۔۔ ۔۔ اسی اثنا میں وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا ۔۔۔۔جناب یہ ہار میں نے شہزادے کے لئے بنایا تھا ۔۔۔اور آج ایک آدمی یہ ہار لے کر میرے دکان پر بیچنے کے لئے آیا ہے ۔۔۔۔جناب مجھے شک ہے کہ شہزادے کا قتل اسی شخص نے کیا ہوگا۔۔۔۔۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ رحمان کو گرفتارکر لیا جائے۔۔۔۔سپاہیوں نے رحمان کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ۔۔۔
رحمان حیران و پریشان سب سپاہیوں سے پوچھنے لگا کہ اس کو کس جرم‌ میں گرفتار کیا گیا ۔۔۔
ایک سپاہی نے کہا۔۔۔۔تم نے شہزادے کا قتل کیا ہے ۔۔۔اب تجھے پھانسی دی جائے گی ۔۔۔
رحمان ہکا بکا ششدر ہوکر رہ گیا ۔۔۔وہ اپنے نصیب کو کوسنے لگا ۔۔۔وہ صراف کی احسان فراموشی پر نالاں تھا ۔۔۔
اسی اثنا میں اس کو سانپ کا خیال آیا اور اس نے آواز دی تو سانپ رینگتے رینگتے حاضر ہوگیا ۔۔۔۔رحمان نے سانپ کو سارا واقعہ سنایا تو سانپ نے کہا ۔۔۔فکر مت کرو ۔۔۔۔۔ میرے پاس ایک ترکیب ہے ۔۔۔میں ملکہ کے کمرے میں جاکر اس کو ڈسوں گا ۔وہ بے ہوش ہوجائیے گی اور تیرے چھونے کے بغیر ٹھیک نہیں ہوگی ۔۔۔سانپ چلا گیا اور ترکیب کے مطابق اس نے ملکہ کو ڈس لیا ۔۔وہ بیہوش ہوگئی ۔۔۔۔۔بادشاہ کو خبر ہوئی تو وہ بہت پریشان ہوگیا ۔۔۔اس نے اعلان کروایا کہ جو مہارانی کا علاج کرے گا ۔۔۔اس کو بڑا انعام دیا جائے گا ۔۔۔۔قید خانے میں بھی اعلان کروایا گیا ۔۔۔رحمان نے علاج کرنے کی درخواست دی ۔۔۔رحمان کو بلایا گیا اور مہارانی کے خوابگاہ میں پہنچایا گیا ۔۔۔اس نے جونہی مہارانی کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ دھیرے دھیرے ہوش میں آگئی ۔۔۔۔بادشاہ خوش ہوا ۔۔۔۔اس نے رحمان سے پوچھا ۔۔۔تم قید خانے میں کیسے پہنچے ؟
رحمان نے اپنی دکھ بھری کہانی سنائی کہ کس طرح صراف نے اس کو پھنسایا ۔۔۔۔
بادشاہ نے فوراً صراف کو گرفتارکرنے کا حکم دیا اور احسان فراموشی ،غداری اور جھوٹے الزام لگانے کے جرم میں عمر قید کی سزا بھی سنائی ۔۔۔اس کے بعد رحمان کو بڑے اعزاز اور انعامات کے ساتھ گھر پہنچایا گیا ۔۔جہاں وہ خوشحال زندگی گزارنے لگا ۔ایک دن اس نے بیوی سے کہا۔۔۔شیر سے زیادہ خونخوار اور سانپ سے زیادہ زہریلا انسان ہے کیوں کہ اس کو کچھ بھی یاد نہیں رہتا نہ اپنا خالق اور نہ ہی کسی کا احسان ‌۔۔۔
ملک منظور قصبہ کھُل کولگام
9906598163

متعلقہ خبریں

سبزار احمد بٹ ۔۔۔اویل نورآباد شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

تحریر : ڈاکٹر نذیر مشتاق بچوں اور والدین کی سوچ اوربرتائو میں موجود خلیج سے پیدا ہونے والے Child depression کے مسئلے سے.

تحریر: عابد حسین راتھر جب سے کائنات وجود میں آئی ہے اور انسان اس کائنات میں ارتقاء پذیر ہوا تب سے بہت سارے اقوام.

اداریہ پچھلے دنوں حکومت کی جانب سے کرایہ میں 19فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ ایسے تو لگتا ہے کہ صرف ایک.

مارچ کے آخر تک گُل پوری طرح سے کھلیں گے جس کا نظارہ ہزاروں مقامی و غیر مقامی کرسکیں گے سرینگر/جموں کشمیر کی گرمائی.